/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Vidya Vanam /rescaled/1024/07-p1030235.jpg



اِن میں سب سے بڑے بچے کی عمر ۱۳ سال اور باقی کی عمر ۱۰ سے ۱۲ سال کے درمیان تھی۔ اور انگریزی ٹی وی چینلوں پر بحثوں کو چھوڑ دیں تو، اسکول ’ڈِبیٹ‘ سے زیادہ کچھ ہی چیزیں بورنگ ہوتی ہیں۔ عام طور پر آپ کو ’گاندھی اب بھی بامعنی ہیں‘ جیسے موضوع پر چودھ سے سولہ سال کی عمر کے بہت اچھے انگریزی مقرر بحث و مباحثہ کرتے مل جائیں گے۔ ساتھ ہی ایسے رَٹا مار مقررین سے بھی آپ کا واسطہ پڑ سکتا ہے، جو بیچ بیچ میں اٹک رہے ہوں۔ اگر آپ اسکولی بحث کے ایسے ہی ایک پروگرام میں مہمانِ خصوصی ہوں، تو آپ اپنی جمائی کو دباتے ہوئے پروگرام کے ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔

لیکن، یہاں میں اپنی کرسی پر محتاط ہوکر بیٹھا۔ ۱۰۔۱۳ سال کے یہ بچے جینیٹکلی موڈی فائیڈ فصلوں پر بحث کر رہے تھے۔ دونوں ہی فریق با صلاحیت تھے۔ ہر مقرر اپنے موضوع کے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا اور ایشو سے گہرائی کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ تقریر کا مواد، معیار اور جوش سننے اور دیکھنے کے لائق تھا۔ آپ خود ہی (اوپر دیے گئے) ویڈیو میں سن اور دیکھ سکتے ہیں۔ بحث و مباحثے اکثر تلخ و حجّتی تھے، لیکن بے حد شائستگی کے ساتھ۔ پیلے چاول (گولڈن رائس)، وِٹامن کی کمی، روئی کے ڈوڈے کو برباد کرنے والا کیڑا اور دیگر جراثیم، آرگینک فارمنگ، کرائی جینس، اُلٹی زیرہ پوشی (پولی نیشن) اور خراب فصلیں۔ آپ نے نام لیا نہیں کہ انھوں نے بتانا شروع کر دیا۔ اور کیسے۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Vidya Vanam /rescaled/1024/01-p1030258.jpg

وِدیا وَنم اسکول کے اسٹوڈنٹس جینیاتی طور پر ترمیم شدہ (جینیٹکلی موڈیفائیڈ) فصلوں پر بحث شروع کرتے ہوئے۔ اسکول کے آدھے سے زیادہ بچے آدیواسی اور دلت ہیں۔


بحث کی ناظم اعتدال پسند اور پختہ مزاج کی حامل تھی۔ وہ وہاں ایک اسٹاپ واچ کے ساتھ بیٹھی اور مقررین ابھی اپنا جملہ ختم بھی نہیں کر پاتے تھے کہ بیچ میں ہی وقت کے ختم ہونے کا اعلان کر دیتی تھی۔ ہم اسکول کی پرنسپل سے یہ سوال پوچھنے پر غور کرتے رہے کہ اگر اُن کے اسکول کے طالب علم از سر نو تعلیم کا کوئی کیمپ لگاتے ہیں، تو کیا اس میں ٹی وی اینکرس کو داخلہ مل سکتا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Vidya Vanam /rescaled/1024/02-p1030262.jpg

ماڈریٹر (ناظم) اسٹاپ واچ کے طور پر استعمال کر رہی گھڑی کو دیکھ رہی ہے، جب کہ بحث میں حصہ لینے والی (ڈِبیٹر) ایک لڑکی اپنی بات رکھنے میں مصروف ہے-


یہاں پر بحث و مباحثے میں شامل زیادہ تر مقررین پہلی نسل کے انگریزی بولنے والے ہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے اس زبان میں اپنے دلائل پوری روانی کے ساتھ رکھے (جینیٹکلی موڈیفائیڈ فصل پر بحث و مباحثے کا مکمل متن یہاں دیکھیں)۔

تمل ناڈو کے وِدیا وَنم اسکول میں ’پروجیکٹ ڈے‘ کا تھیم چاول تھا۔ اور میں نے ۸ سے ۱۳ سال کے اِن اسکولی بچوں سے ایسی ایسی باتیں سیکھیں، جو مجھے پہلے معلوم نہیں تھیں۔ میں نہیں جانتا تھا کہ آٹو موبائل کلچر کا علامتی لفظ ’ٹویوٹا‘ کشت و زراعت سے نکلا تھا۔ نہیں جانتا تھا کہ بنیادی لفظ ’ٹویوڈا‘ ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے ’زرخیز‘ یا ’دھان کے بہت سے کھیت۔‘ یا یہ کہ کمپنی کی شروعات کرنے والوں نے کھیتی کسانی کے اس سادگی بھرے لفظ سے خود کو الگ کرنے کے لیے ’ڈی‘ کو ’ٹی‘ سے بدل دیا تھا۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Vidya Vanam /rescaled/1024/03-poster_not_ps__toyota_img_0823.jpg

ٹویوٹا: ایک طالب علم کے ذریعہ بنایا گیا پوسٹر، جس میں بتایا گیا ہے کہ پہلے ’ٹویوٹا‘ کا اصلی معنی کیا ہوا کرتا تھا۔ یہ پروجیکٹ ڈے پر لگائی گئی نمائش کا ایک حصہ تھا۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Vidya Vanam /rescaled/1024/04-poster_not_ps_honda_img_0822.jpg

ہونڈا: ایک دوسرا پوسٹر، جس میں ’ہونڈا‘ کا مطلب بتایا گیا ہے


میں یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ ’ہونڈا‘ کا مطلب ہوتا ہے ’اصلی دھان کا کھیت‘۔ یا ’دھان کے کھیتوں کا ذریعہ‘۔ اور اگر آپ یہ دعویٰ کرنے جا رہے ہیں کہ آپ جانتے تھے کہ ’ناکا سون‘ کا مطلب ہوتا ہے ’جڑ کا درمیانی تنا‘ یا ’فوکودا‘ کا مطلب ہوتا ہے ’دھان سے بھرا کھیت‘ تو مجھے معاف کیجیے۔ میں یہ بھی نہیں جانتا تھا، حالانکہ بچے جانتے تھے۔ پروجیکٹ ڈے پر اپنی سالانہ نمائش میں اِن موضوعات پر انھوں نے پوسٹر اور اسکیچ بنا رکھے تھے۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Vidya Vanam /rescaled/1024/05-poster_not_ps_nakasone_img_0824.jpg

ناکاسون: جو یہ جانتے تھے کہ ان کے نام کا مطلب ہے ’جڑ کا درمیانی تنا


اِن چھوٹے بچوں نے ہمیں وہ پانچ چھوٹے کھیت بھی دکھائے، جن میں یہ دھان اُگا رہے تھے اور دھان کی تمام قسموں اور ان کے تیار ہونے کے مختلف مراحل کے بارے میں بھی بتایا۔ نہ تو کوئی ٹیچر ان کے ساتھ تھا اور نہ ہی انھیں کوئی بتا رہا تھا۔ ان میں سے کچھ غریب کسانوں اور بے زمین مزدوروں کے بچے تھے۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Vidya Vanam /rescaled/1024/06-p1030354.jpg

دو اسٹوڈنٹ گائڈ ہمیں کھیت کے وہ ٹکڑے دکھا رہے ہیں، جن پر وہ مختلف قسم کے دھان اُگاتے ہیں


پروجیکٹ ڈے بہت خاص ہوتا ہے۔ اس لیے بہت سے غریب اور ناخواندہ والدین یہ دیکھنے کے لیے آتے ہیں کہ ایسے اسکول میں ان کے بچوں نے کیا سیکھا، جہاں پر متعینہ نصابی کتابیں نہیں پڑھائی جاتیں۔

وِدیا وَنم کا مطلب ہے ’جنگل میں علم حاصل کرنا‘۔ اور یہاں یہی ہو رہا ہے۔ کویمبٹور سے تقریباً ۳۰ کلومیٹر دور، تمل ناڈو۔ کیرل کی سرحد سے لگی پہاڑیوں میں واقع اَنئی کَٹی کے اس اسکول میں تقریباً ۳۵۰ اسٹوڈنٹس پڑھتے ہیں۔ یہ سبھی بچے اِیرولا آدیواسی، آدی دَرَویدار اور غریب پس ماندہ طبقے سے آتے ہیں۔ ان کے لیے ایک اسکول بس ہے، لیکن دور دراز سے کچھ طلبہ سائیکل سے یا پیدل ہی اسکول آتے ہیں، کیوں کہ وہ ایسے گاؤوں میں رہتے ہیں، جہاں تک بسیں نہیں پہنچ سکتیں۔ وِدیا وَنم اِیرولاؤں کے درمیان اتنا مقبول ہو چکا ہے کہ کچھ کنبے تو اسکول کے پاس کے گاؤں میں آکر رہنے لگے ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Vidya Vanam /rescaled/1024/07-p1030235.jpg

اداکاری میں شریک ہونے والی کچھ طالبات اسٹیج پر جانے سے پہلے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے


نو سال قبل پریما رنگچاری کے ذریعہ قائم کیے گئے اس اسکول میں کِنڈرگارٹن (کے جی) سے لے کر آٹھویں کلاس تک کی پڑھائی ہوتی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ یہ دو لسانی اسکول ہے۔ ’’یہاں بچے آٹھ سال کی عمر تک تمل اور انگریزی، دونوں زبانوں میں پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد ہم انگریزی پر زیادہ دھیان دیتے ہیں۔ اس لیے کہ جب ہم نے یہاں ایک اسکول بنانے کو لے کر بات کی، تو ایرولا آدیواسیوں کا یہی مطالبہ تھا۔ انھیں لگتا تھا کہ انگریزی کی کمی کے سبب ان کے بچے، انگریزی میڈیم کے اسکولوں میں پڑھنے والے خوشحال گھرانوں کے بچوں سے پچھڑ جائیں گے۔‘‘ یہ والدین ایسے اسکولوں کے اخراجات کبھی نہیں برداشت کر سکتے۔ وِدیا وَنم آدیواسی اور دلت بچوں کے لیے پوری طرح مفت ہے۔ اسکول میں آدھے سے زیادہ طالب علم آدیواسی ہیں۔ باقی بچے ہر مہینے ۲۰۰ روپے فیس دیتے ہیں۔

۷۳ سالہ رنگا چاری اس اسکول کی بانی پرنسپل اور ڈائرکٹر ہیں۔ اسٹوڈنٹ انھیں پاٹی (دادی) کہہ کر پکارتے ہیں۔ اسکول کے احاطہ میں بنے ان کے گھر کی دیوار پر لگے سائن بورڈ پر لکھا ہے: پاٹی ویڈو (دادی کا گھر)۔

انھوں نے مجھے پروجیکٹ ڈے کی تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا تھا، تاکہ میں اسٹوڈنٹ اور ان کے والدین سے بات کروں اور نمائش دیکھوں۔ اپنے دل کی بات مانتے ہوئے، میں نے پہلے نمائش دیکھنے کی بات کہی اور دیکھا۔ یہ جانے بغیر کہ وہ کتنا جانتے ہیں، اُن بچوں سے بات کرنے کا مطلب تھا اپنا مذاق اُڑوانا۔

۱۵ سے ۲۰ الگ الگ سیکشن میں بٹی اور ایک بڑے ہال میں لگی اِس نمائش نے مجھے اِس مشکل سے بچا لیا۔ ہر میز، ہر دیوار کے ساتھ ایسے پرجوش طالب علموں کا گروپ موجود تھا، جو اپنے موضوع پر حاصل کیے گئے علم (صرف اطلاع نہیں) کو شیئر کرنے کے لیے بے چین تھے۔ ایک لمبی میز پر لوگوں کو طرح طرح سے پکائے گئے چاول کے نمونے دیے جا رہے تھے۔ (اور انھیں بچوں نے پکائے تھے۔)


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Vidya Vanam /rescaled/1024/08-p1030315.jpg

پروجیکٹ ڈے کے لیے بنائی گئی تصویروں میں سے میرے ذریعہ منتخب کردہ ایک تصویر۔ اسے نہایت چھوٹے بچوں کے ایک گروپ نے بنایا تھا۔


یہاں کے ٹیچر بھی دلچسپ ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر تو مقامی ہیں اور بہتوں کا تعلق تو خود ایرولا قبیلہ سے ہے۔ یہاں مغربی بنگال کے شانتی نکیتن سے بھی ٹیچر ہیں، جو آرٹس کی کلاسیں لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر ریاستوں اور دوسرے ممالک سے بھی رضاکار ٹیچر ہیں، جو وِدیا وَنم میں ایک سال تک کا وقت دیتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں طالب علموں کو مختلف تہذیبوں سے روبرو کراتی ہیں۔ وہ بچے، جن میں سے بیشتر نے کبھی کویمبٹور ضلع سے باہر قدم نہیں نکالا، انھوں نے گانا گایا، ڈانس کیا اور ہندوستان کے مختلف حصوں کے چھوٹے ناٹک پیش کیے۔ پروجیکٹ ڈے پر ناظرین کے درمیان زیادہ تر ایسے غریب والدین تھے، جنہوں نے یہاں آنے کے لیے شاید ایک دن کی اپنی مزدوری گنوا دی ہو۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Vidya Vanam /rescaled/1024/09-p1030252.jpg

سالانہ پروجیکٹ ڈے کے دوران ڈانس کا ایک منظر


یہ عجیب لگتا ہے کہ اس اسکول کو سرکار کی طرف سے منظوری نہیں ملی ہے۔ سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) سے الحاق کی کوششوں میں اڑچنیں آتی رہتی ہیں۔ حالانکہ یہ اسکول اپنے نویں تعلیمی سال میں داخل ہو چکا ہے، لیکن اس ادارہ کو سرکار کی جانب سے این او سی دینے سے ابھی تک انکار کیا جاتا رہا ہے۔ تعجب ہے۔ اور اس لیے تمل ناڈو کے جنگلوں میں واقع اس اسکول کو ابھی بھی ریاست کی نوکرشاہی کے جنگل میں اپنا راستہ تلاش کرنا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Vidya Vanam /rescaled/1024/10-p1030233.jpg

اور گانے بھی، ملک کے مختلف حصوں کے تھے


(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org You can contact the author here: