جھیل سے بمشکل ۸-۱۰ فٹ کی دوری پر واقع کُٹّ منگلم سروس کوآپریٹو بینک ابھی بھی، کیرالہ میں اگست میں آنے والے سیلاب کی تباہی سے نبرد آزما ہے۔ اس کی اشیاء کے انبار اسی نہر کے کنارے پڑے ہیں جس نے اس برانچ کو سیلاب زدہ کر دیا تھا۔ کیناکری پنچایت میں ہر کوئی یہی کرتا ہے – اپنے سامان کو خشک کرنے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بینک کے ساتھ، اس سامان میں بہی کھاتہ، فائلیں، ریکارڈ، اہم دستاویز شامل ہیں۔

چاروں طرف دیکھتے ہوئے، ہم امید کرتے ہیں کہ بینک کے سبھی ریکارڈ کمپیوٹرائز ہو گئے ہیں۔ کمپیوٹر کی جگہ بھی سوکھ رہی ہے اور اسے صاف کرنا کام نہیں آ رہا ہے۔ الپوژہ ضلع کے نچلے کُٹّ ناڈ علاقے کا یہ حصہ زیادہ تر سمندری سطح سے نیچے ہے۔ اگست میں بارش اور طغیانی ندیوں سے سیلاب کا مطلب تھا ہزاروں لوگوں کو کہیں اور راحت کیمپوں میں پہنچانا۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ دو ہفتے یا اس سے زیادہ وقت کے بعد، اپنے تباہ ہو چکے گھروں میں لوٹ آئے۔ صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ ان میں سے کئی کے گھر ابھی بھی سیلاب زدہ ہیں۔

’’پانی ہماری عمارت کے داخلی دروازے کی اونچائی تک آ گیا تھا،‘‘ بینک کے کیشیئر، گریش کمار ایچ بتاتے ہیں۔ اور ایسا کرتے ہوئے، وہ اس کے اندر رکھی تمام چیزوں کو بہا لے گیا اور پانی میں ڈبو دیا۔ بینک کی تجوری چونکہ نچلی سطح پر ہے، آدھے تہہ خانے کی طرح، اس لیے اور برا حال ہوا۔ تجوری کا دروازہ بے حد جام لگتا ہے – آدھی کھلی حالت میں۔ اندر، دو پرانے زمانے کی طرح نظر آنے والے خام لوہے کی الماری میں پانی سے گھرے ہونے کے سبب زنگ، خستہ حالی اور نشانات ہیں۔

کیناکری گاؤں کی نہروں کے تنگ کناروں کے ساتھ، لوگوں نے صفائی کرنے اور خشک کرنے کے لیے جو کچھ رکھا ہوا ہے اس کے درمیان ہم احتیاط سے قدم رکھ رہے ہیں۔ فرنیچر، گدّے، ریفریجریٹر، اسکول کی کتابیں، بچوں کا ہوم ورک، کمبل اور کپڑے۔ یہاں ایک بائبل، وہاں ایک بھگود گیتا – کسان کریڈٹ کارڈ بھی۔

لیکن بد انتظامی کے تئیں لچیلا ردِ عمل ہے۔ ہر کوئی گڑبڑی کو درست کرنے اور زندگی کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بینک کے اندر، اس کے ملازمین نے چیزوں کو دوبارہ کچھ حد تک ٹھیک کرنے کے لیے لامحدود گھنٹے ضائع کیے ہوں گے۔ انہوں نے تجوری کے اندر کے پانی کو باہر نکالا، کئی کھاتہ بہی اور ریکارڈ کو خشک کیا اور دفتر کو دوبارہ ترتیب دیا۔ ان حالات میں وہ جتنا اچھا کر سکتے تھے اتنا کیا۔ یہ ایک مشکل لڑائی ہے۔ کئی فائلوں اور کھاتہ بہی سے بدبو آ رہی ہے، اور نظر آ رہا ہے کہ فنگس اور پھپھوند نے انہیں بیکار کیا ہے۔

پھر بھی، سیلاب کی مدت کے دوران، بینک کے ملازمین جتنا بچا سکتے تھے بچایا۔ وہ الپوژہ شہر میں واقع اپنے ضلع ہیڈکوارٹر میں ۵ء۵ کلوگرام سونا، کافی نقدی، اور مختلف اثاثوں کی ملکیت والے ریکارڈ کو منتقل کرنے میں ناکام رہے۔ بینک کے چیئرمین، پی جی سنل کمار نے میرے معاون (اور پاری فیلو) ششی کمار وی کو فون پر بتایا کہ ان کے سبھی کھاتوں اور سب سے قیمتی دستاویزوں کا بیک اَپ لے لیا گیا تھا اور انہیں محفوظ طریقے سے بنگلورو کے ایک سروَر میں جمع کیا گیا ہے۔

یہ جان کر اچھا لگا۔ خاص کر تب، جب کیرالہ میں ایک اور دور کی بھاری بارش کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

Girish Kumar H, the cashier, standing next to records full of fungus and mould
PHOTO • P. Sainath

کُٹّمنگلم سروِس کوآپریٹو بینک کے کیشیئر، گریش کمار ان لوگوں میں سے تھے، جو سیلاب کے بعد چیلنج سے بھری صفائی کا کام کر رہے تھے

Documents and books stacked up on shelves
PHOTO • P. Sainath

اسٹیلی کی کھلی رَیک میں سب سے اوپر والے خانے میں بے شمار بہی کھاتے اور فائلیں ابھی بھی سوکھ رہی ہیں

Two cast-iron safes bear the rust, corrosion and marks wrought by the waters that engulfed them.
PHOTO • P. Sainath

یہ دو لوہے کی الماریاں، بینک کی تجوری میں، اُن دنوں کے واضح اثرات کی نمائش کر رہی ہیں جتنے دن وہ پانی میں رہیں

Fungus and mould on records
PHOTO • P. Sainath

فنگس اور پھپھوند نے ان پرانے بہی کھاتوں کے ڈھیر پر اپنی چھاپ چھوڑی ہے

Documents and books stacked in a cupboard
PHOTO • P. Sainath
Documents and books stacked on a shelf
PHOTO • P. Sainath
Documents and books drying on the banks of the river outside the bank
PHOTO • P. Sainath

دستاویز، فائلیں، کتابیں اور ریکارڈ، اسٹیل کی الماریوں میں بھرے ہوئے، رَیک کے اوپر اور بینک کے باہر، جھیل سے بمشکل کچھ فٹ کی دوری پر سوکھ رہے ہیں

People's belongings lining the banks

کینکاکری کا ایک باشندہ بینک سے کچھ ہی دوری پر، نہروں کے کنارے انبار لگائے گئے گھریلو سامانوں کے قریب سے بے رخے پن سے کشتی کھیتے ہوئے گزر رہا ہے

Books, including a Kisan Credit Card
PHOTO • P. Sainath

کسان کریڈٹ کارڈ پاس بُک دھوپ میں سوکھ رہا ہے۔ پاس ہی ایک بائبل اور ایک بھگود گیتا بھی سوکھ رہی ہیں

People's belongings lining the banks
PHOTO • P. Sainath

سمندری سطح سے نیچے والے اس علاقے کا ایک اور باشندہ گھریلو سامانوں کے بڑے انبار کو دیکھتا ہے جب وہ نہر سے جھیل کی طرف کشتی سے جا رہا ہے

مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath