DSC_0007_2.jpg chamni bai


DSC_0007_2.jpg chamni bai

چَمنی بائی اپنی عمر کو یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں


چمنی بائی کو اکثر اپنی عمر یاد نہیں رہتی، لیکن انھیں یہ ضرور یاد ہے کہ نوعمری کے دنوں میں انھوں نے جو کچھ کھایا تھا اس کا ذائقہ کیسا تھا۔ ’’آج کل کا ذائقہ الگ ہے۔ اب آپ کو پہلے جیسا ذائقہ نہیں ملتا۔ کوئی دیسی بیج بھی نہیں بچا ہے۔ مختلف اقسام کو حاصل کرنا تو بہت مشکل ہو گیا ہے۔‘‘

راجسھتان کے اُدے پور شہر کے مضافات میں واقع گھاٹی گاؤں میں رہنے والی چمنی بائی، جو بڑی مشکل سے یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ان کی عمر ۸۰ کے آس پاس ہے، تبھی سے بیجوں کو بچاکر رکھ رہی ہیں، جب وہ ایک چھوٹی لڑکی ہوا کرتی تھیں۔ چمنی بائی پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ کیسے انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اپنا گھر اور کھیت بنایا تھا اور ایک عام زندگی بسر کرنے میں کتنی محنت درکار ہوا کرتی تھی۔ پھر بھی، وہ کہتی ہیں کہ ان کی نوجوانی کے دنوں میں زندگی اور کھانا دونوں ہی بہتر ہوا کرتے تھے۔


DSC_1021.jpg desi mustard seeds

دیسی سرسوں کے بیج


چمنی بائی اور ان کی فیملی نے برسوں سے بیجوں کی درجنوں مقامی قسمیں محفوظ کرکے رکھی ہیں۔ اب انھوں نے اپنا یہ علم اپنی بہوؤں کو منتقل کر دیا ہے۔ ’’عورتیں بیجوں کو ٹھیک ڈھنگ سے رکھتی ہیں،‘‘ انھوں نے بتایا۔ ’’وہ ان کی دیکھ بھال کرتی ہیں، اور وہ انھیں بھرنا 

یاد رکھتی ہیں۔ یہ پورا عمل تفصیلات پر مبنی ہے۔‘‘ 


DSC_0008_2.jpg chamni bai

چمنی بائی بتاتی ہیں کہ بیج ایک کسان کے لیے کتنی اہمیت رکھتا ہے


DSC_1012.jpg horse gram seeds

آرگینک چنے کا بیج


شادی کے وقت چمنی بائی کی بہوؤں، چمپا بائی اور ڈولی بائی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ بیجوں کی کیسے نگرانی کی جاتی ہے اور انھیں سنبھال کر کیسے رکھا جاتا ہے۔ گزرتے ہوئے سالوں میں وہ اس بات کا مشاہدہ کرتی رہیں کہ ان کی ساس یہ کام کیسے کرتی ہیں، تب جاکر انھوں نے ان کے روایتی علم و ہنر کو سیکھا۔ اب، ایک دہائی کے تجربہ کے بعد وہ ہمیں یہ بتانے کے لیے بیتاب ہیں کہ انھوں نے کیا کچھ سیکھا۔


DSC_1032.jpg chamni bai and daughter in laws

چمنی بائی اپنی دونوں بہوؤں کے ساتھ بیٹھی ہوئی


ان بیجوں کو رکھنے کے لیے یہ فیملی مٹی کے ایک بڑے برتن کا استعمال کرتی ہے۔ قدرتی اور مقامی مادّوں سے بنے ہوئے یہ برتن، بیجوں کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔


DSC_0925.JPG saving women seeds

گھر پر مٹی کو گوندھ کر بنائے گئے برتن بیج کو صحیح سلامت رکھتے ہیں


بیجوں کو خشک رکھنے کے لیے، وہ مکئی (بھُٹّے) کے پرانے ٹھسکے سے برتن میں ایک بڑا سوراخ کر دیتی ہیں۔ کیڑوں کو دور رکھنے کے لیے باہری سطح پر مٹی کے تیل، نیم اور راکھ کا لیپ لگا دیا جاتا ہے۔


DSC_0977.jpg old corn husk sd saving women seeds

مکئی کے خشک ٹھسکے حفاظت کا کام کرتے ہیں


DSC_1037.JPG saving women seeds gourd photo

اچھے کدو کے بیج اگلے موسم کے لیے رکھے جاتے ہیں


مینا فیملی بھی بیجوں والے بڑے کدوؤں کو بچاکر رکھ لیتی ہے۔ بعض دفعہ وہ بیجوں کو خاص طور سے بنائی گئی دیوار، جسے کوٹھی کہتے ہیں، کے پیچھے رکھ دیتے ہیں۔ اس جگہ یہ بیج پوری طرح محفوظ رہتے ہیں۔


DSC_0994.jpg panalal patel sd saving women seeds

مقامی کارکن پنّا لال، فیملی کے اسٹوریج سسٹم کا معائنہ کرتے ہوئے


’’مجھے وہ دن یاد ہے، جب گاؤں میں سیلاب آیا تھا،‘‘ چمنی بائی یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں۔ ’’وہ سال ۱۹۷۳ کا تھا، اور گاؤں کے سارے گھر ٹوٹ گئے تھے۔ ہماری تمام چیزیں برباد ہوگئیں، لیکن مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے بیجوں کی تھی۔ وہی میری ترجیح تھی، اور وہ بیج ہمارے پاس اب بھی موجود ہیں۔ یہ ایک کسان کی زندگی کا سب سے اہم حصہ ہوتے ہیں۔‘‘

کئی سال پہلے، اس فیملی نے بیجوں کو بچاکر رکھنے اور پھر انھیں تقسیم کرنے کی پہل شروع کی، جس سے انھیں مقامی باشندوں کے درمیان بیجوں کی ختم ہو رہی ان اقسام کو بانٹنے کا موقع ملا۔ اس قرض کے بدلے میں کسان، انھیں اِن بیجوں کا ڈیڑھ گنا واپس کرتے ہیں۔


DSC_1015.jpg green gram seeds

دیسی مونگ


چمنی بائی کی فیملی اپنی گھریلو ضروریات کے لیے اب بھی آرگینک کھیتی ہی کرتی ہے، لیکن موجودہ بازار کے ٹرینڈ کا دباؤ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ’’گاؤں کے زیادہ تر دوسرے کسان ہم سے پوچتھے ہیں کہ ہم حکومت کے ذریعے فراہم کردہ مفت بیج یا کھاد کیوں نہیں لیتے۔ وہ مجھے بیوقوف کہتے ہیں۔ لیکن وہ فصلیں ویسی نہیں ہیں۔ ہم انھیں گھر پر نہیں کھاتے،‘‘ ان کے بیٹے کیسا رام نے بتایا۔


DSC_0021_2.jpg chamni bai's son

چمنی بائی کا بیٹا، کیسا رام اپنے چھوٹے کھیت کے بارے میں بتاتے ہوئے مسکراتا ہے


کئی دہائیوں سے یہ فیملی کثیر فصلی کھیتی کرتی رہی ہے۔ آج بھی، یہ ہر تین مہینے میں اپنی فصل بدل لیتے ہیں۔ تاہم، بازار پر بڑھتے ہوئے انحصار کا گاؤں پر برا اثر پڑا ہے۔ بہت سے گھرانے خود اپنی ضروریات کا اناج نہیں اُگا پا رہے ہیں، اور اپنی غذا کے لیے بازار کا رخ کر رہے ہیں۔ چمنی بائی نے بتایا کہ جب وہ نوجوان تھیں، تو ہر چیز ان کے کھیت پر ہی اُگائی جاتی تھی۔ وہ بازار صرف نمک خریدنے کے لیے جایا کرتے تھے۔


DSC_0984.jpg desi maize sd saving women seeds

فیملی کے اپنے استعمال کے لیے جمع کرکے رکھی گئی دیسی مکئی


وہ بتاتی ہیں کہ جب ان کے شوہر زندہ تھے، تو ان کے آس پاس کا منظر بالکل مختلف تھا۔ ’’تب اچھی برسات ہوا کرتی تھی، لہٰذا ہمیں پانی کی کوئی دقت نہیں ہوتی تھی۔ لیکن، اب اس کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اس پر مزید طرہ یہ کہ موسم بھی زیادہ گرم ہو گیا ہے۔‘‘ ہندوستان میں زیادہ تر عورتیں کسان ہیں، لیکن ان کے کاموں کو تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔ دیہی ہندوستان میں، بیجوں کو بعض دفعہ ان کی اقتصادی اہمیت کے لحاظ سے ’’نر‘‘ یا ’’مادہ‘‘ کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ نر بیج زیادہ پنپتے ہیں، جیسے کاٹن (روئی)، تمباکو اور کافی کے بیج۔ سبزیوں اور کچھ ترکاری کو مادہ بیج تصور کیا جاتا ہے، کیوں کہ یہ فیملی کی پرورش کرتے ہیں۔


DSC_0073.jpg saving women seeds

اپنے کام پر جاتی ہوئی ایک کسان: زیادہ تر خواتین ہیں، لیکن انھیں ان کے کام کی وجہ سے پہچان نہیں ملتی


پنّا لال پٹیل، جو ایک کسان اور کارکن ہیں، میواڑ کے علاقے میں خواتین کسانوں کے ساتھ مل کر بیجوں کے تحفظ اور کھیتی کے طریقوں پر کام کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ آرگینک کھیتی پر زندہ رہنا کتنا مشکل ہے۔ ’’ہم نے میواڑ میں عورتوں کے اس گروپ کی مدد کی، جنھوں نے اپنی فصلوں سے بازار میں بیچنے لائق مال تیار کیے۔ لیکن پیداوار کو برقرار رکھنا مشکل تھا۔ پیسے کی دستیابی اور فصلوں کو لے کر ہمیں چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ عورتوں کے لیے تجارتی کام کرنا مشکل ہوتا ہے، کیوں کہ انھیں ہمیشہ اپنے گھر والوں کی حمایت نہیں ملتی۔ انھیں اپنے گھر والوں اور پیسوں کا انتظام ساتھ ساتھ کرنا پڑتا ہے۔ مقامی بیج غائب ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘


DSC_0003_2.JPG saving women seeds panji patel

مینا فیملی، پنّا لال کے ساتھ بات کرتی ہوئی


خوش قسمتی سے، چمنی بائی کے پوتے آرگینک کھیتی کی اپنی خاندانی روایت کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی دادی کے کام اور علم میں فائدہ دیکھتے ہیں، لیکن یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے لیے اس میں آگے بڑھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔


DSC_0057_2.jpg saving women seeds field shot

چمنی بائی کے اپنے کھیت، جہاں پر وہ گھریلو استعمال کے لیے آرگینک فصلیں اور بازار میں بیچنے کے لیے کمرشیل فصلیں اُگاتے ہیں


دریں اثنا، راجستھان میں جینیاتی طور پر ترمیم شدہ بیجوں کو متعارف کرنے پر زور، جس کی بہت سارے کارکن اور کسان مخالفت کر رہے ہیں، کسانوں کو یہ فیصلہ لینے کی جدوجہد میں مزید اضافہ کر سکتا ہے کہ وہ اپنے کھیتوں پر کیا اُگائیں۔ وہ انھیں نئی پالیسیوں کو اپنانے پر مجبور کر سکتا ہے، جو خود کو اور اپنے گھر والوں کو زندہ رکھنے کی ان کی صلاحیت کو ختم کر دے گا۔


 (مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز) 


ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig

شویتا ڈاگا بنگلور میں مقیم قلم کار اور فوٹوگرافر ہیں۔ وہ متعدد ملٹی میڈیا پروجیکٹوں پر کام کر رہی ہیں، جن میں ’پیپلز آرکائیو آف رورَل انڈیا‘ (پاری)، اور ’سنٹر فار سائنس اینڈ انوائرمینٹ‘ کے ساتھ فیلوشپ بھی شامل ہیں۔


 Dr. M.Q. Tabrez is an award-winning Delhi-based Urdu journalist who has been associated with newspapers like Rashtria Sahara, Chauthi Duniya and Avadhnama. He has worked with the news agency ANI. A history graduate from Aligarh Muslim University and a PhD from JNU, Tabrez has authored two books, hundreds of articles, and also translated many books from English and Hindi to Urdu. You can contact him at: @Tabrez_Alig 

مضمون نگار شویتا ڈاگا بنگلور میں مقیم قلم کار اور فوٹوگرافر ہیں۔ وہ متعدد ملٹی میڈیا پروجیکٹوں پر کام کر رہی ہیں، جن میں ’پیپلز آرکائیو آف رورَل انڈیا‘ (پاری)، اور ’سنٹر فار سائنس اینڈ انوائرمینٹ‘ کے ساتھ فیلوشپ بھی شامل ہیں۔