کیا گندھر نائک گھر پر ہیں، میں نے یہ سوال پڑوس کے ایک گھر کے باہر برتن مانجھتی ہوئی ایک عورت سے کیا۔

’’آپ کہاں سے آئے ہیں، اور آپ کو یہاں کیا چاہیے؟‘‘ اس عورت نے پلٹ کر سوال کیا۔

میں کھریار کا ایک صحافی ہوں، جس نے ماضی میں گندھر کے بارے میں اسٹوری لکھی تھی، میں نے تفصیل بتاتے ہوئے اس سے کہا۔ میں یہ پتہ کرنے آیا ہوں کہ اب ان کی زندگی کیسی چل رہی ہے۔

اس عورت نے مجھے غور سے دیکھا اور پوچھا، ’’کیا آپ ٹھاکر جی ہیں؟‘‘ جی ہاں، میں نے جواب دیا، اس بات سے خوش ہو کر کہ اتنے سالوں بعد بھی اس عورت نے مجھے پہچان لیا۔

میں نے سال ۹۷۔۱۹۹۶ کے دوران اڈیشہ کے بولانگیر ضلع کے بنگومُنڈا بلاک میں واقع برلا بہیلی گاؤں کا دورہ کئی بار کیا تھا۔ اب میں تقریباً دو دہائیوں بعد یہاں دوبارہ آیا ہوں۔

سال ۱۹۹۶ میں، بولانگیر، نواپاڑا اور مغربی اڈیشہ کے دیگر اضلاع میں زبردست قحط پڑا تھا، جس کی وجہ سے لوگ بھوکے رہنے پر مجبور ہوئے تھے اور اس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کی موت بھی ہوئی تھی۔ بہت سے لوگ دوسری جگہ ہجرت کرنے پر مجبور ہے۔ مثال کے طور پر کافی تعداد میں لوگ آندھرا پردیش میں اینٹ کی بھٹیوں پر مزدوری کرنے کے لیے چلے گئے تھے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہاں کے لیے یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا، بلکہ اس زمانے میں ہر ۳۔۲ سال بعد اس طرح کا قحط پڑتا تھا، جس کی وجہ سے حالات ہمیشہ خراب ہوجایا کرتے تھے۔

برلا بہیلی گاؤں کے ۳۰۰ باشندوں میں سے ایک بال متی نائک عرف ’گھمیلا‘ بھی تھیں، جن کی عمر اس وقت ۳۲ سال تھی۔ اس آدیواسی بیوہ کے شوہر زرعی مزدور کے طور پر کام کیا کرتے تھے۔ ان کے شوہر کے موت دو سال پہلے ہی ہو گئی تھی۔ قرض چکانے کے لیے گھمیلا کو اپنے کھیت کا چھوٹا سا ٹکڑا چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ وہ ایک ڈیلی ویج مزدور کے طور پر کام کرتی تھیں، لیکن قحط پڑنے کی وجہ سے گاؤں میں مزدوری کا کوئی کام نہیں بچا تھا۔ اس لیے اپنے چھ سالہ بیٹے گُندھر کے ساتھ انھیں بھوکا رہنا پڑا۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے گھمیلا کی موت سے پہلے ان کی خراب ہوتی حالت کے بارے میں بلاک ڈیولپمنٹ آفس کے اہل کاروں کو مطلع کر دیا تھا، لیکن انھوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔

۶ ستمبر، ۱۹۹۶ کو، تقریباً ۱۵ دنوں تک بھوکے رہنے کی وجہ سے گھمیلا کی موت ہو گئی۔ کئی گھنٹوں بعد، پڑوسیوں کو پتہ چلا کہ ان کا بیٹا لاش کے پاس بیٹھا ہوا زور زور سے رو رہا ہے۔

بھوک کی وجہ سے ہونے والی اس موت اور اس کے بعد کے حالات پر مبنی میری کئی اسٹوریز اکتوبر ۱۹۹۶ میں ’دینک بھاسکر‘ میں شائع ہوئیں۔ مقامی سماجی کارکن اور اپوزیشن کے کچھ لیڈروں نے اس گاؤں کا دورہ کیا اور اس مسئلہ کو اٹھایا۔ حقوقِ انسانی کمیشن کے ممبران بھی یہاں آئے اور نوٹ کیا کہ موت بھوک کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سیاسی لیڈروں سے لے کر بلاک ڈیولپمنٹ افسر، ڈسٹرکٹ کلکٹر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تک نے اس گاؤں کا دورہ کیا۔ یہاں تک کہ اُس وقت کے وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا بھی قحط زدہ علاقوں کے اپنے دورہ کے دوران وہاں آنے والے تھے، لیکن نہیں آسکے۔


02-IMG_3446-PT-The long aftermath of hunger.jpg

گھمیلا کی بھوک کی وجہ سے موت اور ان کے یتیم بیٹے گُندھر کی رپورٹ، جودینک بھاسکرمیں اکتوبر ۱۹۹۶ میں شائع ہوئی


گاؤں والوں نے سرکاری اہل کاروں سے کہا کہ انھیں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ ہے روزگار کے مواقع کی دستیابی۔ لیکن، گاؤں کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ جب انھوں نے اپنی مانگ کو لے کر دباؤ ڈالنا شروع کیا، تو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے انھیں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس پر سیاست نہ کریں اور نہ ہی اپنے احتجاج کو طول دیں، ورنہ گاؤں کو جو سہولیات مل رہی ہیں (جیسے راشن کارڈ) وہ روک دی جائیں گی۔

ماں کی موت کے بعد گُندھر کافی کمزور ہوگیا تھا۔ مقامی پنچایت کے لیڈر اسے کھریار مشن اسپتال لے کر گئے، جو کہ وہاں سے ۹ کلومیٹر دور ہے، جہاں اس کی حد سے زیادہ کم غذائیت اور ملیریا جیسی بیماریوں کا علاج کیا گیا۔ وہ حد سے زیادہ بیمار تھا، لیکن بچ گیا۔

صحت یاب ہونے کے بعد گُندھر کو اس کے گاؤں واپس بھیج دیا گیا۔ اس اسٹوری کو کور کرنے کے لیے نیشنل میڈیا بھی پہنچا۔ ضلع انتظامیہ نے اسے ۵۰۰۰ روپے کی مالی مدد فراہم کی، ۳ ہزار روپے فکسڈ ڈپوزٹ اور ۲ ہزار روپے بچت کھاتہ کی شکل میں۔ اور اس طرح انھوں نے ایک یتیم بچہ کے تئیں اپنی تمام تر ذمہ داریوں سے ہاتھ دھو لیا۔

اُنیس برسوں تک میں یہی سوچتا رہا کہ گُندھر کا کیا ہوا ہوگا۔

گھمیلا کے شوہر کے پاس ایک اور بیٹا، سشیل تھا، جو ان کی پہلی شادی سے تھا۔ جب گھمیلا کی موت ہوئی، تو وہ تقریباً ۲۰ سال کا تھا اور کھریار ۔ بھوانی پٹنہ روڈ پر سڑک کی تعمیر میں مزدوری کا کام کرتا تھا۔

پڑوسن نے مجھے بتایا کہ گُندھر اب ٹُکلا گاؤں کے پپّو رائس مِل میں کام کرتا ہے، جو کہ برلا بہیلی سے پانچ کلومیٹر سے بھی کم کے فاصلہ پر ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ گندھر کے سسرال والے ٹُکلا میں رہتے ہیں، اور اس کا دو مہینے کا ایک بچہ بھی ہے۔ اس کا سوتیلا بھائی پاس کے کھیت میں ہلیا (ہیلپر) کا کام کرتا ہے۔

اپنی موٹر سائیکل سے میں کھیتوں سے ہوتے ہوئے وہاں تک گیا، جہاں سشیل اپنے مالک کے کھیت کو جوتنے میں مصروف تھا۔ اس کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا پاس میں ہی موجود تھے۔ سشیل، جو اَب ۴۰ سال کا ہو چکا ہے، تب غیر شادی شدہ تھا، جب میں پہلی بار اس سے گندھر کی ماں کی موت کے وقت ملا تھا۔ اس نے مجھے پہچانا نہیں، لیکن جب میں نے اسے اپنی اسٹوری کے بارے میں بتایا جو میں نے تب لکھی تھی، تو اسے سب کچھ یاد آ گیا۔

سشیل کو ہر مہینہ کام کے ۴ ہزار روپے ملتے ہیں، یا ۱۳۰ روپے روزانہ، جس کے سہارے اس کی فیملی چلتی ہے۔ اس کے کچھ بچوں کے جسم پر کپڑے تھے، کچھ کے بدن پر نہیں تھے۔ ان کی غریبی عیاں تھی۔

میں وہاں سے ٹُکلا کے لیے روانہ ہو گیا، تاکہ گُندھر سے مل سکوں۔ پپّو رائس مل پر میری ملاقات اس کے مالک پپّو سے ہوئی، اور انھوں نے مجھے بتایا کہ اسی دن گُندھر اپنے گاؤں جا چکا ہے۔ میں اس کے سسرال گیا، جہاں میری ملاقات اس کی بیوی رشمیتا سے ہوئی، جس کی گود میں اس کا بیٹا شبھم موجود تھا۔ اس کا شوہر برلا بہیلی گھر کی صفائی کرنے گیا ہوا تھا اور اسے گئے ہوئے کافی وقت ہو چکا تھا، اس نے بتایا۔


03-DSC03627-Crop-PT-The long aftermath of hunger.jpg

04-DSC03633-PT-The long aftermath of hunger.jpg

اوپر: گُندھر کی بیوی رشمیتا (کھڑی ہوئی، بائیں)، اس کی نند، اور ساس سسر ٹُکلا گاؤں میں اپنے گھر کے باہر۔ نیچے: رشمیتا اور ان کا بیٹا شبھم


میں واپس برلا بہیلی پہنچا۔ گُندھر اپنے گھر میں ہی موجود تھا۔ اس نے ہنس کر میرا استقبال کیا۔ چھ سال کا بچہ اب بڑا ہو چکا تھا، ایک شوہر اور باپ بن چکا تھا۔ لیکن اس کی معصومیت اب بھی برقرار تھی۔ اور وہ کبھی بھی اپنے بچپن کی جسمانی کمزوری اور کم غذائیت سے باہر نہیں نکل پایا تھا۔

مٹی اور پتھر کا گھر پہلے جیسا ہی تھا۔ گُندھر کی فیملی ایک کمرہ میں رہتی تھی اور سشیل کی دوسرے کمرہ میں۔ گُندھر نے بتایا کہ وہ بچہ کی پیدائش ہونے کی وجہ سے اپنے سسرال میں رہ رہے ہیں۔ وہ جلد ہی برلا بہیلی واپس آ جائیں گے۔


05-DSC03611-PT-The long aftermath of hunger.jpg

سشیل کے دو بچے برلا بہیلی گاؤں کے اپنی فیملی کے خالی گھر میں


تمہیں ماضی کے بارے میں کتنا یاد ہے، میں نے گُندھر سے پوچھا۔

’’مجھے یاد ہے کہ میرے والدین کبھی ٹھیک سے نہیں رہے کیوں کہ وہ ہمیشہ بھوکے رہتے تھے،‘‘ اس نے کہا۔ ’’میری ماں کو بخار تھا۔ وہ کئی دنوں تک بھوکی رہیں اور اس کے بعد مر گئیں۔‘‘

وہ اسپتال سے جب گاؤں لوٹا، تو میری رپورٹنگ کی وجہ سے اسے جو کچھ شہرت ملی تھی، اس سے متاثر ہو کر انتظامیہ نے اس کا داخلہ آدیواسی طلبہ کے لیے مخصوص ایک مقامی آشرم (رہائشی) اسکول میں کرا دیا تھا۔

’’میں نے دوسری یا تیسری کلاس تک پڑھائی کی،‘‘ گُندھر بتاتا ہے۔ ’’لیکن جب میں گرمی کی چھٹیوں میں گھر آیا، تو کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ لہٰذا، میں نے لوگوں کی بکریاں اور بھیڑیں چَرانی شروع کردیں اور وہ جو کچھ بھی مجھے دے دیتے تھے، میں کھا لیتا تھا۔ میں اسکول دوبارہ کبھی نہیں گیا۔ اس کے بعد میں نے ٹُکلا کے قریب ایک ہوٹل میں کام کیا۔ وہ مجھے روزانہ کھانا اور ۵۰ روپے دیتے تھے۔ ایک بار میں اپنے ۳۔۲ دوستوں کے ساتھ مہا سمند میں اینٹ کی بھٹّی پر مزدوری کرنے گیا۔ ہم نے ۴۔۳ مہینے تک کام کیا، لیکن بھٹّہ مالک نے ہمیں پیسے نہیں دیے، ہمارے ساتھ گالی گلوج کرکے وہاں سے بھگا دیا۔ ہم واپس آ گئے اور گاؤں والوں کی گائیں اور بیل چَرانا شروع کر دیا۔‘‘

اس کے سالے اور سالی نے اس کی شادی کرائی۔ ’’میں ایک غریب آدمی ہوں۔ جس دن میں کماتا ہوں، اسی دن کھا پاتا ہوں۔ اس لیے میں نہ تو کوئی جشن منا سکتا ہوں اور نہ ہی دُلہن کو گھر لا سکتا ہوں۔‘‘

ٹُکلا کے پپّو مِل میں تم کتنا کما لیتے ہو، میں نے پوچھا۔

’’میں وہاں جوٹ کے بورے سیتا ہوں، جس کے لیے مجھے ہر روز ۸۰ روپے ملتے ہیں،‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’جو لوگ جوٹ کے بورا اٹھاتے ہیں انھیں روزانہ ۱۳۰ روپے ملتے ہیں۔ لیکن میں اتنی گرمی میں بوجھ نہیں اٹھا سکتا، اس لیے میں بورے سیتا ہوں۔‘‘

گُندھر کے پاس بی پی ایل (خطِ افلاس کے نیچے والا) کارڈ نہیں، لیکن اَنتیودیا کارڈ ہے، جس سے انھیں ہر مہینہ ۳۵ کلو چاول مل جاتا ہے۔

کیا تم اپنے بچوں کو پڑھاؤگے، میں نے اس سے سوال کیا۔

’’میں ایک غریب آدمی ہوں۔ میں جہاں تک انھیں پڑھا سکتا ہوں، اتنا پڑھاؤں گا۔ چونکہ ہمیں پیٹ بھر کھانا مشکل سے مل پاتا ہے، اس لیے میری بیوی بچہ کو اپنا دودھ نہیں پلا سکتی۔ اس لیے ہمیں امول دودھ خریدنا پڑتا ہے؛ اس میں ہمارا زیادہ تر پیسہ لگ جاتا ہے۔‘‘

ایک ماہ قبل جب میں دوبارہ اس کے گاؤں گیا، تو گُندھر اینٹ کے بھٹوں پر کام کرنے کے لیے آندھرا پردیش جا چکا تھا۔ اس کی پوری فیملی بھٹّہ پر کام کرنے جا چکی تھی، تاکہ اس کی سالی کی شادی کے لیے پیسوں کا انتظام کیا جا سکے۔ فی کس کے حساب سے ۱۸ ہزار روپے کی رقم ایڈوانس میں لینے کے بدلے انھیں اتنی محنت و مشقت سے کام کرنا پڑا کہ جب وہ برلا بہیری واپس لوٹے تو اپنی بیماریوں کا علاج کرانے میں دواؤں پر ہی شادی کے لیے بچائے کر رکھے گئے پیسوں میں زیادہ تر پیسہ خرچ ہو گیا۔

کچھ دنوں بعد، گُندھر اینٹ کے بھٹوں پر واپس لوٹ گیا۔ اب وہ وہاں پر لوڈر کا کام کرتا ہے، ٹریکٹروں پر اینٹیں لادتا ہے، تاکہ انھیں آگے لے جایا جا سکے۔

اُنیس سال ہو گئے، یہ نوجوان آدمی اور اس کی فیملی اس بھوک سے خود کو بچانے کے لیے اب بھی جدوجہد کر رہی ہے، جس نے اس کی ماں کی جان لے لی تھی اور خود اسے زندگی بھر کے لیے پریشان رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اس اسٹوری کا ایک ورژن ۱۴ اگست، ۲۰۱۶ کو امر اُجالا میں شائع ہوا تھا۔ اسے پاری کے لیے ہندی سے انگریزی میں روچی وارشنیہ نے ترجمہ کیا۔

روچی وارشنیہ کیلیفورنیا میں رہتی ہیں اور ایک ہیلتھ کیئر کمپنی کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان کے پاس آئی آئی ٹی روڑکی سے انجینئرنگ کی ڈگری ہے، ایکس ایل آر آئی، جمشید پور سے ایم بی اے، اور جوہنس ہاپکنس بالٹی مور، امریکہ سے پبلک ہیلتھ میں ماسٹر کی ڈگری ہے۔ وہ ’آشا فار ایجوکیشن‘ کے لیے پیسہ جمع کرنے اور پاری اور کاویالیہ ڈاٹ او آر جی کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرتی ہیں۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پرشوتم ٹھاکر ایک فری لانس جرنلسٹ، فوٹوگرافر اور ڈاکیومینٹری فلم میکر ہیں، جو چھتیس گڑھ اور اڈیشہ سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ وہ عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے لیے بھی کام کرتے ہیں اور ۲۰۱۵ میں پاری فیلو رہے ہیں۔

Other stories by Purusottam Thakur