01-collecting_water_3-MM-Bhangaddih's Women.jpg

صبح کے دھندلکے میں، جب سرخ سورج کی شعاعیں نمودار ہو رہی ہیں، بھنگڈ ڈیہہ کی یہ عورتیں دن کے لیے پانی بھر رہی ہیں


مغربی بنگال کے پرولیا کا بھنگڈ ڈیہہ، صوبہ کے روایتی سنٹال گاؤوں میں سے ایک ہے۔ کانکنی ابھی اس علاقے تک نہیں پہنچی ہے، جس کی وجہ سے گاؤوں والوں کو آس پاس کے کھیتوں، جنگلات اور تالابوں تک رسائی حاصل ہے، اور وہ اپنے کھانے کا زیادہ تر اناج خود ہی اُگاتے ہیں۔

دن کی شروعات تبھی سے ہو جاتی ہے، جب سرخ سورج صبح کے دھندلکے میں باہر نکلنے کی جدوجہد کر رہا ہوتا ہے۔ نوجوان عورتیں اپنی جھونپڑیوں کے دروازے کھول دیتی ہیں، پیروں کے نیچے پڑی اُن ٹوکریوں میں سے مرغیوں اور ان کے بچوں کو باہر نکالتی ہیں، جہاں انھوں نے رات گزاری تھی۔ یہ نومبر کے آخری دن ہیں، اور وہ عورتیں جنھیں گھریلو کام سے سبک دوش کیا جاسکتا ہے، کھیتوں کا رخ کرتی ہیں، جہاں پر وہ کاشت کاری میں مردوں کی مدد کریں گی۔ دوسری عورتیں جلدی سے بکریوں کو اندرونی کمرے سے نکال کر جھونپڑی کے سامنے کھونٹے سے باندھ دیتی ہیں، چھوٹے بچوں کو اپنی ماؤں کے آس پاس کھیلنے کے لیے چھوڑ تی ہیں، اور بھیڑوں اور بھینسوں کو ان کے باڑے سے باہر نکال دیتی ہیں۔ اگر فیملی میں کوئی دادی یا دادا ہے، تو وہ اِن مویشیوں کو چرانے میدان کی طرف لے جاتے ہیں۔

اس کے بعد یہ عورتیں جھاڑو لگانے کا کام شروع کر تی ہیں، مویشیوں کے باڑے، جھونپڑیوں، اندر اور باہر کے دالان، یہاں تک کہ گاؤں کے بیچ سے ہوکر جو راستہ گزرتا ہے، اسے بھی جھاڑ سے صاف کرتی ہیں، ہر چیز کو جھاڑ کر صاف ستھرا کر دیتی ہیں۔


02-Purulia-MM-Bhangaddih's Women.jpg

سنٹال کے بعض گھروں کی پینٹنگ اور نگرانی عورتیں ہی کرتی ہیں


عورتیں جھونپڑیوں کی نگرانی بھی کرتی ہیں اور انھیں پینٹ بھی کرتی ہیں، لیکن یہ کام اکتوبر میں، مانسون کی بارش کے بعد کیا جاتا ہے۔ جھاڑو لگانے کا کام ختم ہونے کے بعد، وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتی ہیں، برتن اٹھاکر ٹیوب ویل سے پانی لانے چلی جاتی ہیں۔ اتفاق سے یہ ٹیوب ویل گاؤں کے بیچ میں ہی واقع ہے۔


03-purulia_076_2-MM-Bhangaddih's Women.jpg

ٹیوب ویل وہاں ہے، جہاں صبح کے وقت یہ عورتیں جمع ہوتی ہیں، صرف پانی لینے کے لیے نہیں


04-collecting_water_2-MM-Bhangaddih's Women.jpg

۔۔۔۔ بلکہ بات کرنے اور کھیتوں سے لائی گئی تازہ سبزیوں کو دھونے کے لیے بھی


دریں اثنا، بچے جاگ چکے ہیں اور خود کو کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھے ہوئے ہیں۔ ڈرمس، جو کہ گاؤں کے بیچ میں ایک مخصوص جھونپڑی کے اندر رکھے ہوئے ہیں، کا استعمال بغل کے سنٹال گاؤوں کو مشترکہ خطرے سے آگاہ کرنے میں کیا جاتا ہے، اور پاس سے گزرتا ہوا ایک بڑا آدمی اِن لڑکیوں سے کہتا ہے کہ یہ کھلونے نہیں ہیں۔ لیکن کھلونا چھلنی سے بھوسی کے بجائے مٹی کو چھاننے کی اجازت ہے۔ مرد و خواتین بچے کی شرارتوں کو مکمل طور پر برداشت کرتے ہیں، یہاں تک کہ اگر ان کے کام میں رکاوٹ آ رہی ہو، تب بھی وہ غصہ نہیں کرتے۔

 

05-purulia_108_4-MM-Bhangaddih's Women.jpg

ایک سنٹال لڑکی روایتی ڈرم پر ہاتھ آزماتے ہوئے


06-child's_play_5-MM-Bhangaddih's Women.jpg

اور دوسری چلھنی کے ساتھ کھیلتے ہوئے


دریں اثنا، بوڑھی عورتوں، یہاں پر مراد سونا مونی مُرمو اور ان کی ماں سے ہے، نے دوپہر کا کھانا بنانا شروع کر دیا ہے۔ چاول جب پک جاتا ہے، تو اس کے کاڑھے کو احتیاط سے چھان کر ٹھنڈا ہونے کے لیے کنارے رکھ دیا جاتا ہے۔ بھیڑ اس کو پی جائے گی۔


07-Cooking-MM-Bhangaddih's Women.jpg

سونامونی مُرمو اور ان کی ماں دوپہر کا کھانا پکا رہی ہیں


چاول، دال اور بھُنے ہوئے بیگن کا دوپہر کا کھانا دیر سے ہوتا ہے، تب کھایا جاتا ہے جب بچے اسکول سے گھر لوٹتے ہیں۔ آج بچوں کو تحفہ کے طور پر انڈوں کی بھجیا بھی ملی۔ کھانے کے بعد، عورتیں ٹیوب ویل پر چھوٹے برتن دھوتی ہیں۔ پلیٹوں سے جو بھی دانہ دھوتے وقت گرتا ہے، ان میں سے ہر ایک کو مرغیاں چُگ لیتی ہیں، اِس گاؤں میں کوئی بھی چیز برباد نہیں ہوتی۔ اس کے بعد یہ عورتیں بچوں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں اور دیر تک آرام کرتی ہیں۔

کیونجھار، اڈیشہ کی سومترا مردی، اپنے سسرال کو چلانے کے لیے اتنی ضروری ہو چکی ہیں کہ وہ ایک سال سے اپنے میکے نہیں جا سکی ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ چڑچڑی ہو چکی ہیں، ان کے شوہر کی شکایت ہے، لیکن ان کی ساس ان کے دُکھ کو سمجھتی ہیں۔ ’’وہ ہر وقت کام کرتی رہتی ہے،‘‘ بزرگ خاتون بتاتی ہیں۔ امسال، چونکہ گھر میں کئی لوگ بیمار پڑے، اس لیے ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے تھے۔ پھر بھی، میں کہتی ہوں کہ اسے جلد ہی گھر جانا چاہیے۔‘‘ فیملی کی سب سے بڑی لڑکی، سونا مونی کی شادی ہو چکی ہے، لیکن وہ اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ میکے آئی ہوئی ہے، تاکہ لمبے دماغی بخار سے افاقہ کے بعد اپنی صحت کو بحال کر سکے۔


08-purulia_060_7-MM-Bhangaddih's Women.jpg

کیونجھار، اڈیشہ کی سومترا مردی: ’’یہ ہر وقت کام کرتی رہتی ہے،‘‘ ان کی ساس پیار سے کہتی ہیں


سونامونی کو ادویاتی پودوں کی تھوڑی بہت جانکاری ہے، جو انھیں اپنی دادی سے ملی ہے۔ وہ دوپہر کے خالی وقت کا استعمال ان جڑی بوٹیوں کو پاس کے جنگل سے جمع کرنے میں استعمال کرتی ہیں، ساتھ ہی وہ ایسے بہت سے پودے بھی اکٹھا کرتی ہیں، جن کا استعمال ’بکھور‘ بنانے میں کیا جاتا ہے۔ یہ سنٹال کی الکوحل مشروبات مہوا کا ایک عنصر ہے۔ مہوا کے درخت سے حاصل کیے گئے پھولوں سے بنائی جانے والی شراب میں ادویاتی عناصر پائے جاتے ہیں۔


09-Collecting medicinal herbs-MM-Bhangaddih's Women.jpg

سونامونی دوپہر کے وقت پاس کے جنگل سے جڑی بوٹیاں جمع کرتی ہیں


10-Purulia-MM-Bhangaddih's Women.jpg

شام کے وقت، سونامونی کا بیٹا اور اس کی چچیری بہن ٹہلنے جاتے ہیں۔ وہ گاؤں سے ہوکر نکلتے ہیں


11-harvesting_10-MM-Bhangaddih's Women.jpg

۔۔۔ اور ایک ایسے کھیت سے گزرتے ہیں جہاں عورتوں اور مردوں نے ابھی ابھی اناج کاٹا ہے

 

12-bringing_home_the_harvest_10-MM-Bhangaddih's Women.jpg

دوسری عورتیں سروں پر اناج کا بوجھ اٹھائے ہوئے پاس سے گزرتی ہیں۔۔۔۔


13-fetching_firewood_2_11-MM-Bhangaddih's Women.jpg

۔۔۔ ان کے سروں پر لکڑی کے گٹھر بھی ہیں


14-washing_dishes_2_12-MM-Bhangaddih's Women.jpg

سورج ڈوبتے وقت، عورتیں مقامی تالاب میں اپنے برتن دھوتی ہیں۔ برتن سے دھلے ہوئے دانوں کو بطخیں کھا جاتی ہیں۔ ان سے جو چھوٹ جاتا ہے، اسے مچھلیاں اور کیکڑے کھا جاتے ہیں


جلد ہی آگ پھر جلائی جائے گی، اور رات کا کھانا پکایا جائے گا۔ مویشی اپنے گھروں میں لوٹ آئیں گے، فصلوں سے جو ڈنٹھل نکالے گئے ہیں وہ انھیں چبائیں گے، اور مرغیاں اپنے پروں کے نیچے بچوں کو چھپائے ہوئے بیٹھیں گی، اس بات کا انتظار کرتے ہوئے کہ ان کے اوپر ٹوکری ڈالی جائے گی۔ بچے سو جائیں گے، پھر انھیں جگا کر کھانا کھلایا جائے گا اور بستر پر لیٹایا جائے گا۔ سب سے اخیر میں عورتیں سونے جائیں گی، ہاتھ سے بنائی ہوئی سوت کی رضائیوں کو اوڑھ کر، جو مشکل سے سردی دور کر پائے گی، جنھیں لمبی دوپہروں میں دادیوں نے سیا ہے۔ تاکہ اگلی صبح وہ سب سے پہلے جاگ سکیں۔

دیہی اقتصادیات کے لیے عورتیں نہایت اہم ہوتی ہیں۔ روایتی طور پر ایک سنٹال عورت کی اقتصادی قدر کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے، جب شادی کے وقت لڑکے والے اس کے والدین کو اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ عورتوں کے رتبہ کو جانچنے کا آسان طریقہ مردوں کے مقابلے عورتوں کا تناسب ہے: ان معاشروں میں جہاں عورت کو کم تر مانا جاتا ہے، جیسا کہ عام ہندوستان میں ہوتا ہے، جہاں جنسی تناسب کم ہے۔ آدیواسیوں کے درمیان جنسی تناسب ہندوستان میں سب سے زیادہ ہے۔

تاہم، اس تناسب میں کمی آ رہی ہے، ساتھ ہی گھر میں عورتوں کی قدر و قیمت بھی گھٹ رہی ہے، کیوں کہ زیادہ تر گاؤں میں پہلے کھانے کا اناج کھیتوں پر ہی اُگا لیا جاتا تھا، لیکن اب کمائے ہوئے پیسوں سے یہی کھانا بازار سے خریدا جا رہا ہے۔ مالی اقتصادیات میں عورتوں کی بہ نسبت مردوں کی کافی اہمیت اس لیے ہے، کیوں کہ وہ اپنے گھر سے دور جاکر بھی آسانی سے کام کر سکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بیویوں کو اپنے شوہروں سے کھانے اور دواؤں کے لیے پیسے مانگنے پڑتے ہیں۔ ان کا نہ صرف آمدنی پر کم اختیار ہوتا ہے، بلکہ بازار کی قیمتوں پر بھی ان کا کوئی بس نہیں چلتا ۔ حالانکہ وہ بچوں کو کھلانے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری نبھاتی ہیں۔ اس بے اختیاری کا اثر یہ ہو رہا ہے کہ جن آدیواسی گھرانوں نے مالی اقتصادیات کو اپنا لیا ہے، وہ شادی کے وقت دلہن کی قیمت دینے کی بجائے اب جہیز لینا پسند کرتے ہیں، یہ ایک تباہ کن رسم ہے جو لڑکیوں کو اپنے والدین پر بوجھ بنا رہی ہیں اور اس کے نتیجہ میں جنسی تناسب بھی گھٹتا جا رہا ہے۔

تاہم، اس وقت بھنگڈ ڈیہہ کی عورتیں محفوظ ہیں، مضبوط اور قیمتی ہیں۔ یہ بات سونامونی کی موجودگی سے اس کے بھائی بہنوں اور والدین کو جو خوشی حاصل ہوتی ہے، اس سے ظاہر ہوتی ہے؛ بوجھ سے بہت دور، وہ اپنی فیملی کی ایک قابل احترام رکن ہیں اور وہ یہاں جتنے دن چاہے، رُک سکتی ہیں۔


15-purulia_079_13-MM-Bhangaddih's Women.jpg

مسکراتی ہوئی سونامونی، اپنی فیملی کی ایک قابل احترام رکن


 (مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig

مدھو شری مکھرجی ایک قلم کار، ایڈیٹر، محقق اور ’چرچِلس سیکریٹ وار‘ نامی کتاب کی مصنفہ ہیں۔ آپ اُن سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں:  @Madhusree1984

 Dr. M.Q. Tabrez is an award-winning Delhi-based Urdu journalist who has been associated with newspapers like Rashtria Sahara, Chauthi Duniya and Avadhnama. He has worked with the news agency ANI. A history graduate from Aligarh Muslim University and a PhD from JNU, Tabrez has authored two books, hundreds of articles, and also translated many books from English and Hindi to Urdu. You can contact him at: @Tabrez_Alig 

Madhusree Mukerjee

مدھو شری مکھرجی ایک قلم کار، ایڈیٹر، محقق اور ’چرچِلس سیکریٹ وار‘ نامی کتاب کی مصنفہ ہیں۔ آپ اُن سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Madhusree1984

Other stories by Madhusree Mukerjee