uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market1.jpg

                                                                           

یہ صحیح معنوں میں ہاٹ (دیہی بازار) ہیں۔ اور یہ بازار دہلی میں، ہفتہ میں ہر روز کہیں نہ کہیں لگتے ہیں۔ سامان اور انھیں بیچنے والے ایک ہی ہوتے ہیں، صرف اس شہر میں جگہ بدلتی رہتی ہے۔ اسٹائل پوری طرح سے شہری ہے، لیکن اس میں شامل لوگ عام طور پر اتر پردیش یا دوسری جگہوں سے یہاں آکر بسنے والے لوگ ہیں، جو راجدھانی میں تیزی سے دیہی روایت کو عروج دینے میں مصروف ہیں۔

نوئیڈا۔ کوٹا۔ اینٹا۔ رشی کیش۔ شملہ۔ چنڈی گڑھ۔ ڈھینکنال۔ ممبئی۔ لندن۔ دہلی۔ میری اب تک کی زندگی ان شہروں کا چکر کاٹتے گزری ہے۔ یہ سبھی جگہیں کبھی نہ کبھی میرا گھر ہوا کرتی تھیں، صرف انھیں گھر کہنے کا سلسلہ بدلتا رہا۔


/static/media/uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market2.jpg


ہر بار جب میں ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہوئی، مجھے اپنے گھر کی یاد ستاتی رہی، حالانکہ یہ وہ گھر تھے، جہاں میں دوبارہ کبھی واپس نہیں لوٹ سکتی تھی۔


/static/media/uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market3.jpg


چھوٹے قصبوں کے اپنے گھروں سے دور ہونے کے بعد، اب مجھے یہ احساس ہو رہا ہے کہ میرے لیے وہ کتنے اہم تھے، مجھے ان کی یاد کتنی ستا رہی ہے اور اب میں جن بڑے شہروں میں رہ رہی ہوں، وہاں کے ماحول میں خود کو ڈھالنا کتنا مشکل ہو رہا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market4.jpg


مجھے یہاں ایسا مسحوس ہو رہا ہے گویا بڑے شہروں کے اونچے اونچے مالس میری یادداشت میں محفوظ ماضی کے بازاروں کا گرہن ہیں، ماضی کے وہ بازار جہاں میں بچپن میں اکثر جایا کرتی تھی؛ ہفتہ وار بازار، جنھیں عرفِ عام میں ہاٹ کہا جاتا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market5.jpg


یہ ہاٹ شہر کی متعدد رہائشی کالونیوں میں کسی نہ کسی طے شدہ دن لگتے ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market6.jpg


کاروباری ایک ہیں، سامان ایک ہیں، صرف جگہیں بدلتی رہتی ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market7.jpg


ان سفری بازاروں کے کچھ کاروباریوں سے دوستانہ بات چیت کے دوران، مجھے اس بات کا علم ہوا کہ وہ اپنی تجارت کو زندہ رکھنے کے لیے کتنی جدوجہد کر رہے ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market8.jpg


۶۴ سالہ معز الحق مدنگیر کا رہنے والا ہے، جو پیسہ کمانے کے لیے ہفتہ بھر سفر کرتا رہتا ہے۔ ’’میں یہ کام پچھلے تیس سال سے کر رہا ہوں، اور میں نے یہاں چیزوں کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے،‘‘ حق تفصیل بتاتا ہے۔


uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market1.jpg


وہ اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ کیسے پہلے کے مقابلے اس کے سامانوں کی فروخت میں ۶۰ سے ۷۰ فیصد کی کمی آئی ہے۔ پیر کی شام کو، جنوبی دہلی کے پشپ وِہار میں ۸ بائی ۱۸ فٹ کی اپنی چلتی پھرتی دکان کے لوہے کے سریوں کو بغیر تھکے ہوئے فٹ کرتے ہوئے، حق گہری سانس بھرتا ہے اور پاس کے مال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے، ’’اس نے میرے ۶۰ فیصد صارفین کو چھین لیا ہے۔‘‘


/static/media/uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market10.jpg


دوسرے کاروباری بھی حق کی اس تشویش کو دوہراتے ہیں۔ ’’نئی نسل برانڈ کے پیچھے پاگل ہوئی پڑی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ان کے ’اسٹیٹس سمبل‘ میں اضافہ کرتا ہے،‘‘ کاسمیٹک کی دکان چلانے والا مہیش بتاتا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market11.jpg


اس بات کا یقین دلانے کے لیے اس کے سامان اصلی ہیں، اس نے اپنی دکان کا نام ’مہیش کاسمیٹکس‘ سے بدل کر ’ہالی ووڈ۔ بالی ووڈ کاسمیٹکس شاپ‘ کر دیا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market12.jpg


مختلف قسم کی ڈھیر ساری اشیاء ہونے کے باوجود، خریدار اِن بازاروں میں کم آتے ہیں۔ ’’ہم سڑک کے کنارے اپنی دُکانیں لگاتے ہیں اور مال کی دُکانوں سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ہم صرف یہ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے صارفین کو کیسے چُرا رہے ہیں،‘‘ احمد اپنے احساس کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے، جو مناسب قیمت پر خوبصورت کمبل بیچ رہا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market13.jpg


نوجوانوں کی قوتِ خرید جیسے جیسے بڑھ رہی ہیں، وہ خریداری کے لیے اچھی جگہوں کی تلاش میں ہیں، ایسی جگہ جہاں میٹل ڈٹیکٹر لگے ہوں، مجسموں کو مختلف قسم کے کپڑے وغیرہ پہناکر نمائش کے لیے لگائے گئے ہوں اور ہائی برانڈ کے شاپنگ بیگ سے گھرے ہوئے ہوں۔


/static/media/uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market14.jpg


ان بازاروں میں چہل قدمی کرنے کے بعد آپ کو یہ محسوس ہو جائے گا کہ ان روایتی بازاروں کو محفوظ رکھنے کی ضرورت کیوں ہے۔ دہلی پر لکھی گئی کتابوں میں درج ہے کہ ان بازاروں کو لازمی طور پر بچائے رکھنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ یہ ہماری تاریخ، روایت اور ثقافت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن میں، ذاتی طور پر انھیں اس لیے برقرار رہتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں، کیوں کہ میں اپنی ماضی کو تازہ رکھنا چاہتی ہوں۔


/static/media/uploads/Articles/Baya Agarwal/Capital gains/delhi-rural-market15.jpg


بازار:

اتوار ۔ آر کے پورم؛ دریا گنج

پیر ۔ پشپ وہار؛ قرول باغ؛ وکاس پوری

منگل ۔ سیکٹر ۔۲ نوئیڈا؛ تلک نگر

بدھ ۔ صادق نگر؛ گووند پوری؛ وسنت وہار؛ شیام پتھ؛ موتی نگر؛ رانی باغ

جمعرات ۔ مسجد موٹھ؛ میور وِہار؛ راجندر نگر؛ رمیش نگر

جمعہ ۔ ویسٹ پٹیل نگر؛ وکرم انکلیو؛ سنجے نگر؛ محمدپور؛ راجوری

ہفتہ ۔ سریتا وِہار؛ ایسٹ آف کیلاش؛ لاجپت نگر؛ وجے نگر؛ کرم پورہ

تمام تصویریں: بایا اگروال

یہ مضمون سب سے پہلے لونلی پلینٹ پر شائع ہوا:

http://www.lonelyplanet.in/articles/7468/colourful-bazaars-of-delhi-in-moving-images

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Baya Agarwal

مضمون نگار: بایا اگروال

Other stories by Baya Agarwal