یہ درخت ان کے دادا نے لگایا تھا۔ ’’عمر میں یہ مجھ سے بڑا ہے،‘‘ اس کے سایہ میں بیٹھے مہادیو کامبلے کہتے ہیں۔ اور یہ واحد درخت ہے جو اب ان کے دو ایکڑ کے بنجر آمرائی (آم کے باغ) پر کھڑا ہے۔

یہ اکیلا درخت بتا رہا ہے کہ موکاسا گاؤں میں کامبلے اور دیگر لوگ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ۱۱ اپریل کو وہ مشرقی مہاراشٹر کے چندرپور ضلع سے چار بار لوک سبھا کے رکن اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد سرکار میں امورِ داخلہ کے ریاستی وزیر ہنس رام اہیر کو ووٹ نہیں دیں گے۔

کامبلے کے باغ میں دیگر سبھی درختوں کو اس وقت کاٹ دیا گیا تھا، جب ان کی زمین کوئلہ کان کے لیے تحویل میں لی گئی تھی۔ اس پروجیکٹ نے، جو کہ پچھلی ایک دہائی میں اس علاقہ میں شروع کیے جانے والے مختلف پروجیکٹوں میں سے ایک ہے، ساری زمین اور اثاثہ، ساتھ ہی ذریعہ معاش کو اپنے قبضے میں لے کر بارنج موکاسا (مردم شماری میں بارنگ موکاسا کے طور پر فہرست بند) کو تباہ کر دیا ہے۔

اور اس نے گاؤں کے تقریباً ۱۸۰۰ باشندوں کو غیر یقینی کی حالت میں چھوڑ دیا ہے – حالانکہ بارنج موکاسا کو تو اس پروجیکٹ کے لیے تحویل میں لے لیا گیا تھا، لیکن یہاں کے لوگوں کی بازآبادکاری نہیں کی گئی ہے۔

Group of villagers assembled near a Temple.
PHOTO • Jaideep Hardikar
Three men sitting near a lamp post in a village.
PHOTO • Jaideep Hardikar
Men assembled near a temple.
PHOTO • Jaideep Hardikar

بارنج موکاسا کو کوئلے کی کان سے ۵۰۰ ہیکٹیئر زمین کا نقصان ہوا۔ کئی لوگ اب کسی کام کی کمی میں اپنا وقت گزار رہے ہیں

سال ۲۰۰۳ میں ریاستی حکومت کی اکائی، کرناٹک پاور کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی سی ایل) نے محدود استعمال کے لیے بارنج کوئلہ کانوں کا پٹّہ حاصل کیا تھا – یعنی کانکنی کیے گئے کوئلے کا استعمال صرف اپنے مقصد کے لیے کیا جائے گا – اس معاملہ میں، صرف کرناٹک میں بجلی کی پیداوار کے لیے۔ کے پی سی ایل نے ہندوستان کی سب سے بڑی پرائیویٹ کوئلہ کان کمپنیوں میں سے ایک، ایسٹرن مائننگ اینڈ ٹریڈنگ ایجنسی (ای ایم ٹی اے) کو آپریشن کا پٹّہ دیا تھا، جس کے لیے کرناٹک-ای ایم ٹی اے کمپنی لمیٹڈ (کے ای سی ایل) نامی ایک مشترکہ کارپوریشن کی تشکیل کی گئی۔

سال ۲۰۰۸ تک، کے ای سی ایل نے بارنج موکاسا اور پڑوسی چیک بارنج سمیت سات گاؤوں میں پھیلی ۱۴۵۷ء۲ ہیکٹیئر زمین کی تحویل کر لی تھی۔ بارنج موکاسا نے تقریباً ۵۵۰ ہیکٹیئر زمین کھو دی، جس میں سے ۵۰۰ ہیکٹیئر میں کوئلہ کان ہے، اور بقیہ زمین سڑک، کچرے کا نمٹارہ، دفتر اور دیگر استعمال کے لیے تحویل میں لی گئی تھی۔ ان کانوں میں تقریباً ۶۸ ملین میٹرک ٹن کوئلہ ہے – یا سالانہ ۲ء۵ ملین ٹن کی امکانی نکاسی ہونے والی تھی۔

ناگپور واقع سینٹر فار پیپلز کلیکٹو کے پروین موٹے کے ذریعہ جمع کیے گئے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ پچھلے ۱۵ برسوں میں چندرپور ضلع میں عوامی اور نجی شعبہ کی کانوں کے ذریعہ ۷۵۰۰۰-۱۰۰۰۰۰ کی کل آبادی والے تقریباً ۵۰ گاؤوں کو بے گھر کیا گیا ہے۔

ویڈیو دیکھیں: ’یہاں کے لوگ اس بار بی جے پی کے خلاف ہیں‘

’پیسے بانٹے گئے۔ ہماری زمین اور مکان حاصل کے لیے انھوں نے ہم میں سے کچھ کو رشوت دی۔ رشتہ داروں اور کنبوں نے آپس میں لڑائی کی۔ گاؤں میں خون بہا‘

کے ای سی ایل نے ریاست کی ثالثی کے بغیر، سیدھے زمین خریدنے کا متبادل اختیار کیا۔ بارنج موکاسا میں، گاؤں والوں کو ۴ سے ۵ لاکھ فی ایکڑ کے حساب سے پیسے ملے، جو ان کی زمینوں کے محل وقوع اور معیار کی بنیاد پر طے کیا گیا، اور گھر اور دیگر اثاثوں کے لیے ۷۵۰ فی مربع فٹ کے حساب سے پیسے ملے۔

لیکن انھوں نے مناسب بازآبادکاری پیکیج کا مطالبہ کیا – یعنی زمین کے لیے بہتر قیمت، کان سے دور ایک نئے گاؤں میں بازآبادکاری اور بے گھر فیملی کے کم از کم ایک رکن کو مستقل نوکری۔ ای ایم ٹی اے ویسے تو ایک پرائیویٹ کمپنی ہے، لیکن یہ ریاستی اکائی کے ساتھ ایک جوائنٹ وینچر تھا، اور سرکار مناسب معاوضہ کو یقینی بنانے کے لیے ثالثی کر سکتی ہے۔

اس لیے، گاؤں والوں کو امید تھی کہ ان کے رکن پارلیمنٹ اہیر یہ یقینی بنائیں گے کہ ان کے مطالبات پورے ہوں۔ ’’لیکن ہمیں بغیر کسی سہولت کے، بہت دور ایک بازآبادکاری مقام دکھایا گیا۔ ہم نے اس جگہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا،‘‘ اپنے چھوڑے گئے گھر کی طرف جاتی ہوئی گلی میں چلتے ہوئے، نوجوان دلت کارکن سچن چالکھورے کہتے ہیں۔ چالکھورے نجی اور عوامی شعبے کی کانوں سے متاثر اپنے گاؤں اور اس علاقے کے دیگر گاؤوں کے لیے بازآبادکاری کا مطالبہ کرنے میں سب سے آگے رہے ہیں۔

کئی میٹنگیں ہوئیں۔ کئی احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔ لیکن لوگ بٹے ہوئے تھے۔ سب سے پہلے دو بڑے زمینداروں نے اپنی زمین بیچی۔ وہ دونوں اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور ان کی فیملی نے گاؤں چھوڑ دیا ہے۔ ’’آنجہانی رام کرشن پارکر اور آنجہانی نارائن کالے پہلے زمیندار تھے، جنہوں نے اپنی زمین ایم ٹی اے کو بیچی تھی،‘‘ سابق سرپنچ بابا مہاکولکر غصے سے کہتے ہیں۔

Vinod Meshram, the village development officer, sitting in the modest gram panchayat office of Baranj Mokasa.
PHOTO • Jaideep Hardikar
Sachin Chalkhure, a young Dalit activist, standing near his abandoned house.
PHOTO • Jaideep Hardikar

’یہاں کا[اب] ہر ایک انچ کمپنی کا ہے،‘ ونود میش رام (بائیں) کہتے ہیں۔ ’مزدوروں کی اکثریت ہے، کام کی کمی ہے،‘ سچن چالکھورے (دائیں) کہتے ہیں

’’پیسے تقسیم ہوئے،‘‘ چالکھورے آگے کہتے ہیں۔ ’’ہماری زمین اور مکان حاصل کرنے کے لیے انھوں نے ہمارے ہی کچھ لوگوں کو رشوت دی۔ رشتہ داروں اور کنبوں نے آپس میں لڑائی کی۔ گاؤں میں خون بہا۔ اس کے علاوہ، کچھ لوگوں نے شروع میں اپنی مرضی سے زمین دی، یہ سوچ کر کہ انھیں کوئلہ کان میں کام ملے گا۔‘‘

کانکنی شروع ہوتے ہی – پہلے چھوٹے سی زمین پر، پھر بڑی زمینوں پر – جو لوگ یہاں ڈٹے ہوئے تھے، ان کے پاس اپنی زمین چھوڑنے کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں بچا۔ ’’یہاں کا [اب] ہر ایک اِنچ کوئلے کی کانکنی کرنے والی کمپنی کا ہے،‘‘ بارنج موکاسا کے گرام پنچایت دفتر میں بیٹھے دیہی ترقیاتی افسر، ونود میش رام کہتے ہیں۔ ’’یہ دفتر بھی۔‘‘

اس کارروائی میں، گاؤں نے اپنا بنیادی پیشہ – زراعت – کھو دیا۔ بے زمینوں کو کچھ نہیں ملا اور انھوں نے اپنا بنیادی ذریعۂ معاش – زرعی مزدوری – کھو دیا۔ ’’کان نے کچھ لوگوں کو نوکریاں دیں، لیکن جب اس کا کام بند ہوا تو نوکریاں بھی ختم ہو گئیں،‘‘ چالکھورے کہتے ہیں۔

کان کے ایک سابق کلرک، رام مٹّے بتاتے ہیں کہ کچھ وقت کے لیے کان میں تقریباً ۴۵۰ لوگوں کو کلرک، گارڈ یا مزدوروں کے طور پر روزگار ملا، ان میں سے ۱۲۲ لوگ بارنج موکاسا کے تھے۔ اپنی نوکری کھونے کے بعد، مٹّے نے تین سال تک راج مستری کے طور پر کام کیا، اور پچھلے سال گاؤں سے تقریباً چار کلومیٹر دور، بھدراوتی شہر میں ناگپور-چندرپور روڈ پر ایک ’سیتو‘ سیوا کیندر (سرکاری فارموں، ۷/۱۲ نکاسی اور دیگر دستاویزوں کے لیے ایک ریاست سے منظور شدہ دفتر) قائم کیا۔ ان کے جیسے کئی لوگ جنہوں نے کان کی اپنی نوکری کھو دی تھی، وہ اب یومیہ مزدور یا راج مستری کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ’’ہمارے کھیت آبپاشی والے تھے، تین فصلی زمین تھی،‘‘ مٹّے بتاتے ہیں۔

PHOTO • Jaideep Hardikar
An abandoned coal mine
PHOTO • Jaideep Hardikar

بہت سے کنبے کان کی آلودگی اور دھماکوں کے درمیان وہیں ٹھہرے ہوئے تھے۔ اب، چار خاموش کانیں گاؤں کو گھیرے ہوئی ہیں، مشینوں میں زنگ لگ رہا ہے

کانیں ۴-۵ سالوں تک کام کرتی رہیں۔ اگست ۲۰۱۴ میں، سپریم کورٹ نے اس تاریخ تک کانکنی کیے گئے کوئلے پر جرمانہ لگاتے ہوئے ہندوستان بھر میں پرائیویٹ ذاتی استعمال کی کانوں کے سبھی الاٹمنٹ ردّ کر دیے۔ کے پی سی ایل نے بعد میں پھر سے بولی جیتی، لیکن اس نے ایم ٹی اے کے خلاف کورٹ میں جو ایک کیس دائر کیا تھا کہ جرمانہ کون بھرے گا، ابھی بھی زیر التوا ہے۔ بارنج موکاسا کان شروع نہیں ہو پائی ہے، کیوں کہ کے پی سی ایل کو کوئی نیا آپریٹر نہیں مل سکا ہے۔ ’’ہماری زمین کمپنی کی ہے اور کان میں کام نہیں ہو رہا ہے،‘‘ سابق سرپنچ مہاکولکر کہتے ہیں۔ ’’اگر کبھی عدالت میں کیس کا نمٹارہ ہو جاتا ہے اور پٹّہ مالک آپریشن شروع کر دیتا ہے، تو ہمیں باہر جانا ہوگا۔‘‘

جب تک یہ کام کر رہا تھا، تب تک کئی کنبے کان کے شور، آلودگی اور دھماکوں کے باوجود گاؤں میں ہی ٹھہرے ہوئے تھے۔ حالانکہ یہ گاؤں ختم ہو چکے کام اور خاموش پڑے کھیتوں کی بنجر زمین میں بدل گیا ہے۔ چونکہ اسے تحویل میں لیا جا چکا ہے، اس لیے لوگ کسی بھی سرکاری اسکیم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے؛ گھروں کی مرمت نہیں کی جا سکتی، سڑکوں کو دوبارہ بنایا نہیں جا سکتا ہے۔

’’ہم نے شروع میں جو غلطی کی تھی، اسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں،‘‘ اس گاؤں کی موجودہ سرپنچ مایاتائی مہاکولکر کہتی ہیں۔ ’’ہم کہیں کے نہیں رہے۔ بوڑھے لوگوں کو کافی پریشانی جھیلنی پڑ رہی ہے۔‘‘ بے زمین سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ انھوں نے کھیتوں کا اپنا کام کھو دیا اور انھیں کوئی معاوضہ یا نوکری بھی نہیں ملی، مایاتائی آگے کہتی ہیں۔ کچھ کسانوں نے دور دراز کے گاؤوں میں معاوضہ کے پیسے سے زمین خرید لی۔ ’’میں نے بارنج سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور کے ایک گاؤں میں دس ایکڑ زمین خریدی، میں روزانہ وہاں جاتی ہوں... یہ ترقی نہیں ہے۔‘‘

کان کے چار بڑے گڑھے گاؤں کو گھیرے ہوئے ہیں، جو اب بنجر ہو چکے کھیتوں کا بدصورت پس منظر ہے۔ سب سے پرانا گڑھا بارش کے جمع پانی سے بھرا ہوا ہے۔ کانکنی کمپنی کے ذریعہ پہاڑیوں پر چھوڑی گئی مشینری زنگ کھا رہی ہے۔ ’’بارنج موکاسا نے اپنی روح کھو دی ہے،‘‘ مہادیو کامبلے کہتے ہیں، جو اپنی عمر کے ۸۰ویں سال میں ہیں، اور اُس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں جو کبھی ہرا بھرا آم کا باغ ہوا کرتا تھا۔ ’’اب صرف کمزور ہوتا جا رہا جسم ہی بچا ہے۔‘‘

Rama Matte at his office desk working.
PHOTO • Jaideep Hardikar

راما مٹّے نے کان میں ایک کلرک کے طور پر کام کیا، پھر ان کی وہ نوکری چلی گئی

بے روزگار نوجوانوں نے کام کی تلاش میں اپنے گھر چھوڑ دیے ہیں۔ کئی لوگ اپنے گھروں کو بند کرکے بھدراوتی شہر چلے گئے۔ ان میں ونود میش رام کے تین بیٹے بھی تھے، جو فیملی کے ذریعہ ۲۰۰۵ میں اپنا ۱۱ ایکڑ کھیت چھوڑنے کے بعد ہجرت کر گئے۔ چونکہ میش رام صرف بارنج موکاسا کے ہی نہیں، بلکہ مختلف گاؤوں کے ایک گروپ کے بھی دیہی ترقیاتی افسر ہیں، اس لیے انھیں ریاست سے ابھی بھی تنخواہ مل رہی ہے۔

کچھ لوگ کام کے لیے روزانہ بھدراوتی جاتے ہیں، جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہاں آنا مشکل ہے۔ ’’تحصیل میں کانوں سے بے گھر ہوئے کئی باشندے اس شہر میں کام کے لیے آتے ہیں،‘‘ سچن چالکھورے کہتے ہیں۔ ’’مزدوروں کی اکثریت ہے، اور کام کی کمی ہے۔‘‘ سچن بھی بھدراوتی میں ہی رہتے ہیں، اور مقامی این جی او کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

’’ہمیں اس پروجیکٹ سے کوئی فائدہ نہیں ہوا،‘‘ ان کی دادی، اہلیا بائی پاٹل کہتی ہیں، جو گاؤں میں تنہا رہتی ہیں۔ ’’زیادہ تر نوجوانوں کو کام کے لیے باہر جانا پڑا؛ ہم یہیں پر چھوٹ گئے ہیں۔‘‘

پنچ پھُلا بائی ویلیکر کے دو بیٹوں کو بھی گاؤں چھوڑنا پڑا۔ کان کے لیے ان کی فیملی کو دو ایکڑ زمین کھونی پڑی۔ ’’ہم یہیں رہتے ہیں۔ میرے بیٹے اور ان کی فیملی بھدراوتی میں رہتی ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔

ریاستی حکومت کی یقین دہانی کے باوجود بارنج موکاسا کا غیرجانبدار بازآبادکاری کا مطالبہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے اس بار گاؤں والے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے رکن پارلیمنٹ ہنس راج اہیر کے خلاف ووٹ کریں گے۔

اہیر نے پہلی بار ۱۹۹۶ میں لوک سبھا الیکشن جیتا تھا، لیکن ۱۹۹۸ اور ۱۹۹۹ کے الیکشن میں کانگریس امیدوار سے ہار گئے تھے۔ پھر ۲۰۰۴ کے بعد سے لگاتار تین بار، بارنج موکاسا نے مختلف کانگریسی امیدواروں کے خلاف اہیر کو اپنی حمایت دی۔

چندرپور لوک سبھا سیٹ کے چھ اسمبلی حلقوں – جن میں سے چار چندرپور ضلع میں جب کہ دو پڑوسی ضلع یوتمال میں ہیں – میں تقریباً ۱۹ لاکھ ووٹر ہیں۔

Ahilyabai Patil sitting outside her house
PHOTO • Jaideep Hardikar
Panchfulabai Velekar standing outside her house
PHOTO • Jaideep Hardikar

’اس پروجیکٹ سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا،‘ اہلیا بائی پاٹل (بائیں) کہتی ہیں۔ پنچ پھُلا بائی ویلیکر (دائیں) کے بیٹوں کو کام کے لیے بھدراوتی شہر جانے پر مجبور ہونا پڑا

کانگریس نے سریش (بالو) دھنورکر کو کھڑا کیا ہے، جو ذات سے ایک کُنبی اور وارورا (بھدراوتی) انتخابی حلقہ سے منتخب رکنِ اسمبلی (ایم ایل اے) ہیں۔ دھنورکر مارچ ۲۰۱۹ میں شیو سینا چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہو گئے۔ بارنج موکاسا کی غلبہ والی برادری ہے کُنبی، ایک او بی سی؛ اہیر یادو ہیں، یہ بھی ایک او بی سی برادری ہے، لیکن ہر ذات کی حمایت حاصل کرنے والے امیدوار رہے ہیں۔

کوئی تیسرا اہم امیدوار نہیں ہے۔ پچھلے تین انتخابات میں شیتکری کامگار پکش کے ایک سابق ایم ایل اے، وامن راؤ چاٹپ نے اسے سہ رخی لڑائی بنا دیا تھا، جس سے ووٹ تقسیم ہوئے اور اہیر کو اس سے فائدہ ہوا۔

’’اس بات کا کوئی بھی امکان نہیں ہے کہ کان سے متاثر [گاؤں] اہیر کو پھر سے ووٹ دے گا،‘‘ چالکھورے کہتے ہیں۔ انھوں نے اور ان کے کئی ساتھی کارکنوں نے پچھلے لوک سبھا انتخابات میں اہیر کو ووٹ دیا تھا، اس امید کے ساتھ کہ وہ اعلیٰ معاوضے اور بہتر بازآباد کاری کے لیے لڑیں گے۔ ’’ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ان گاؤوں میں الیکشن کے دوران وہ غصہ سامنے آئے گا۔‘‘

اپنے باغ کے اکیلے درخت کے نیچے بیٹھے، کامبلے بھی یہی کہتے ہیں: ’’ہم اہیر کے لیے ووٹ نہیں کریں گے، چاہے جو ہو جائے؛ انھوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہے۔‘‘ اس اُجڑے گاؤں میں، لگتا ہے کہ یہی لوگوں کا عہد ہے: ’تم بھی اس لیڈر کو چھوڑ دو جس نے تمہیں چھوڑ دیا ہے‘۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jaideep Hardikar

جے دیپ ہرڈیکر ناگپور میں مقیم صحافی اور قلم کار، اور پاری کے کور ٹیم ممبر ہیں۔

Other stories by Jaideep Hardikar