صبح کے ۸ بجے خاموش سڑک کے ایک کونے سے ٹھک ٹھک کی تیز آواز نکلتی ہے۔ بلپّا چندر دھوترے بڑے بڑے پتھروں سے گھرے ہوئے فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے ہیں اور انھیں توڑ کر الگ کر رہے ہیں۔ ان کے عارضی ’ورکشاپ‘ کے پیچھے کھڑے رکشہ اور اسکوٹر کے مالک جلد ہی اپنے کام پر لگ جائیں گے۔ دھوترے بھی کچھ گھنٹوں میں یہاں سے چلے جائیں گے – اُن اوکھل موسل کو لے کر جو انھوں نے شمالی ممبئی کے مضافات، کاندیولی مشرق کے اُس فٹ پاتھ پر بیٹھ کر بنائے ہیں۔

ایک سل بٹہ – یا اوکھل اور موسل – بنانے میں انھیں تقریباً ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ اس کا استعمال چٹنی اور مسالا پیسنے میں کیا جاتا ہے۔ وہ اسے کلّو ربّو، کنڑ میں موٹے طور پر اوکھل موسل، یا مراٹھی میں کھل بٹّہ کہتے ہیں۔ یہ جب بن کر تیار ہو جاتا ہے، تو وہ انھیں ریگزین کے ایک مضبوط تھیلے میں رکھتے ہیں – عام طور پر ۲ سے ۳ سل بٹّے، جن میں سے ہر ایک کا وزن ۱ سے ۴ کلو کے درمیان ہوتا ہے – اور اپنی فٹ پاتھ والی ’ورکشاپ‘ کے ارد گرد کے علاقوں میں چلنا شروع کرتے ہیں۔ وہاں، مصروف سڑکوں کے کونوں پر، وہ ’دکان‘ لگاتے ہیں۔ وہ کبھی کبھی کچھ کالا پتھر سنبھال کر رکھتے ہیں۔ اگر کوئی گراہک سل بٹّہ مانگنے کے لیے آتا ہے، تو وہ پتھر کو موقع پر ہی کوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔

’’وہ مجھے صرف پتھر والا کہتے ہیں،‘‘ دھوترے بتاتے ہیں۔

وہ چھوٹے اوکھل موسل کو ۲۰۰ روپے میں بچیتے ہیں اور بڑے کو ۳۵۰-۴۰۰ روپے میں۔ ’’کچھ ہفتے میں ۱۰۰۰-۱۲۰۰ روپے کماتا ہوں۔ کبھی کبھی میں کچھ بھی نہیں کما پاتا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ خریدار عام طور سے ایسے لوگ ہوتے ہیں، جو بجلی کی چکی نہیں خرید سکتے، یا اپنے لیونگ روم میں اسے سجانے کے لیے رکھنا چاہتے ہیں، یا، جیسے کہ بلپا کی بیوی ناگوبائی، جو پتھر کا سل بٹہ استعمال کرنا پسند کرتی ہیں۔ ’’مجھے مکسی [الیکٹرک مکسر] پسند نہیں ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’اس میں کوئی ذائقہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ [کلو] کھانے کو ایک اچھا ذائقہ دیتا ہے، یہ تازہ ہوتا ہے۔‘‘

Women buying stone pestle on the road
PHOTO • Aakanksha
Women grinding on stone pestle
PHOTO • Aakanksha

مصروف مضافاتی سڑکوں کے کونوں پر، دھوترے ’دکان‘ لگاتے ہیں؛ ان کے گراہک عام طور سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو بجلی کی چکی نہیں خرید سکتے ہیں، یا اپنے گھروں میں پرانے طرز کے اوکھل موسل کی نمائش کرنا چاہتے ہیں، یا اس کھانے کا ذائقہ لینا چاہتے ہیں، جو پتھر سے ملتا ہے

دھوترے کو اپنی عمر یاد نہیں ہے، لیکن ان کے بیٹے اشوک، جو ۳۰ سال کے ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کے والد ۶۶ سال کے ہیں۔ حالانکہ دھوترے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سے ایک جھاڑو لگانے والے کے طور پر ۲۰۱۱ میں ریٹائر ہوئے تھے، لیکن وہ خود کو ایک ’کاریگر‘ کہلانا پسند کرتے ہیں۔ پتھر کا کام لمبے عرصے سے ان کا خاندانی پیشہ رہا ہے۔ ان کے والد اور دادا، سبھی نے شمالی کرناٹک کے بیدر ضلع کے ہومن آباد تعلقہ میں ان کے گاؤں، منّائے کھلّی میں پتھر کا کام کیا۔ اس خاندان کا تعلق کلو وڈّار برادری سے ہے (کرناٹک میں اوبی سی کے طور پر فہرست بند، پتھر کرنے والی وڈّار برادری کی ذیلی برادری)۔

۱۹۴۰ اور ۱۹۵۰ کی دہائی میں، بہت سے گھروں میں پتھر کے اوکھل موسل کا استعمال کیا جاتا تھا، اور بلپا کے والد اور دادا ایک اچھی آمدنی حاصل کرنے میں کامیاب تھے – اس وقت، وہ ایک سل بٹّہ ۵ سے ۱۵ پیسے میں بیچتے تھے، وہ یاد کرتے ہیں۔ یا وہ اسے بارٹر پر دے دیتے تھے۔ ’’اس [کلو] کے بدلے میں، ہمیں سب کچھ ملتا تھا – گیہوں، جوار، چاول، سب کچھ۔‘‘

بلپّا جب ۱۸ سال کے تھے، تو وہ مہاراشٹر کے گاؤوں میں کئی سالوں تک گھوم گھوم کر سل بٹّہ بیچنے کے بعد ناگوبائی کے ساتھ ممبئی آ گئے۔ ’’ میں اپنے دادا اور والد کے ساتھ بیڈ اور اورنگ آباد ضلعوں کا سفر کرتا تھا،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔ ’’ہمارے ساتھ ایک گدھا ہوتا تھا۔ ہم اپنا سامان اس کی پیٹھ پر لاد دیتے اور گاؤں گاؤں گھوم کر کلو بیچتے۔‘‘

On left A man sitting on a sofa, on right side - man is hammering stone
PHOTO • Aakanksha

’’وہ مجھے صرف پتھر والا کہتے ہیں،’’ ۶۶ سال کے دھوترے کہتے ہیں

ایک قحط نے آخرکار انھیں ممبئی پہنچا دیا۔ ’’ہمارا گاؤں ایک خراب دور سے گزرا،‘‘ بلپا یاد کرتے ہیں، ۱۹۷۰ کی دہائی کی شروعات میں پڑنے والے قحط کا ذکر کرتے ہوئے۔ فصلیں مرجھا گئیں اور کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا۔ ’’جنگل ویران ہو گئے، کوئی گھاس نہیں تھی۔ مویشی کیا کھاتے؟ پانی نہیں تھا، کھانا نہیں تھا، پیسہ نہیں تھا، کچھ بھی نہیں بچا تھا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ لوگ باہر نکلنے لگے۔ کچھ نے اپنی زمین بیچ دی اور شہروں کی جانب ہجرت کر گئے۔ اس کا مطلب پتھر کے اوکھل موسل خریدنے والے بہت کم لوگ بچے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی فیملی کے پاس کھیت نہیں تھا، ان کے پاس صرف ایک جھونپڑی تھی جس میں انھوں نے اپنا بچپن گزارا تھا۔ (یہ ابھی بھی وہاں پر ہے، اور دوسری فیملی کو کرایے پر دی گئی ہے۔)

بلپا اس بڑے شہر میں اوکھل موسل بنانے کے لیے اپنے والد اور دادا کے اوزار – ہتھوڑے، چھینی اور کدال لے آئے۔

جب وہ پہلی بار ممبئی پہنچے، تو بلپا اور ناگوبائی چادر سے بنے ایک ٹھکانہ میں دادر ریلوے اسٹیشن کے قریب رہے۔ بعد کے برسوں میں، وہ ممبئی کے الگ الگ حصوں – لوور پریل، باندرہ، اندھیری میں رہے – اس بنیاد پر کہ ان کا کام انھیں کہاں لے جاتا ہے، انھیں جہاں پر بھی کوئی خالہ جگہ ملتی وہ اس پر اپنی ایک جھونپڑی بنا لیتے۔

اوکھل موسل بیچنے کے لیے ناگوبائی ان کے ساتھ جگہ جگہ جاتی تھیں۔ ’’میرے والد بھی کلو بناتے تھے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’میں اور میری ماں اسے بیچتے۔ شادی کے بعد، میں ان کے [بلپا کے] ساتھ بیچا کرتی تھی۔ اب میری پیٹھ میں درد رہتا ہے، اس لیے میں یہ نہیں کر سکتی۔‘‘

Balappa Chandar Dhotre's family members sitting together in their house
PHOTO • Aakanksha
PHOTO • Aakanksha

جب وہ پہلی بار ممبئی آئے، تو بلپا کی بیوی ناگوبائی (بائیں، ان کے بیٹے اشوک، ان کی بیوی کاجل اور ان کے بچے) اوکھل موسل بیچنے کے لیے ان کے ساتھ جاتی تھیں

لیکن وقت کے ساتھ، الیکٹرک مسکر گرائنڈر زیادہ مقبول ہو گئے، پتھر کے اوکھل موسل کی مانگ گھٹنے لگی۔ منّائے کھلّی لوٹنا – جہاں ان کے لیے کوئی کام نہیں تھا – کوئی متبادل نہیں تھا۔ اس لیے بلپّا دھوترے ناگوبائی کے ساتھ ممبئی میں ہی رہے (وقت کے ساتھ، ان کے سات بچے ہوئے – تین لڑکے اور چار لڑکیاں)۔ انھوں نے الگ الگ کام کرنا شروع کیا، کبھی کبھی ممبئی میں فلم کی شوٹنگ کے لیے۔ ساز و سامان لے جانے اور سیٹ کو صاف کرنے کے لیے ’’اس وقت، وہ ایک دن کے ۱۵ روپے دیتے تھے،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔

ایک دوپہر کو، جب یہ فیملی اندھیری ریلوے اسٹیشن کے پاس ٹھہری ہوئی تھی، تو بی ایم سی نے انھیں اور دیگر لوگوں کو بوریولی میں صفائی کا کام سونپا۔ ’’انھیں عارضی بنیاد پر سڑکوں کو صاف کرنے کے لیے لے جایا گیا۔ بعد میں، آجروں نے انھیں مستقل ملازم بنانے کے بارے میں سوچا،‘’ دھوترے کے سب سے بڑے بیٹے تلسی رام بتاتے ہیں، جو ۳۰ سال کے ہیں۔

بی ایم سی کے ملازم کا کارڈ ملنے کے بعد، دھوترے کو کاندیولی مشرق کا ایک علاقہ سونپا گیا، جس کی انھیں صفائی کرنی ہوتی تھی۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ دیوی پاڑہ میں بس گئے، اس وقت یہ پاس کے بوریولی مشرق میں بانس کے ستون اور پلاسٹک کی چادر سے بنے کچے گھروں کی ایک کالونی ہوا کرتی تھی۔ بی ایم سی ملازم کی شکل میں، انھوں نے شروع میں ۵۰۰ روپے ماہانہ کمائے۔

ان سب کے درمیان، انھوں نے پتھر کے سل بٹّے بنانا اور بیچنا جاری رکھا۔ ’’وہ صبح چھ بجے [بی ایم سی] کام کے لیے نکل جاتے تھے،‘‘ تلسی رام یاد کرتے ہیں۔ ’’دوپہر ڈیڑھ بجے کے آس پاس، ماں اپنا ڈبہ لاتی تھیں،‘‘ تھیلے میں رکھے ڈبہ میں ان کے دوپہر کے کھانے کے ساتھ اوزار بھی ہوتے تھے – الگ الگ سائز کے ہتھوڑے اور کئی چھینی۔ اپنے کام کی شفٹ کے بعد، وہ پتھروں کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے، اور پھر ۵ یا ۶ بجے تک گھر لوٹتے تھے۔

Stone hammering tools
PHOTO • Aakanksha

بلپّا اوکھل موسل بنانے کے لیے اس بڑے شہر میں اپنے والد اور دادا کے اوزار بھی لے آئے

واحد کچا مال جس کی انھیں ضرورت تھی، وہ تھا کالا پتھر۔ ’’آپ اسے [ماضی میں] زمین میں [کدال اور بڑے ہتھوڑے کا استعمال کرکے] کھدائی کرکے حاصل کر سکتے تھے،‘‘ دھوترے کہتے ہیں۔ اب وہ شہر کے تعمیراتی مقامات سے پتھر حاصل کرتے ہیں۔

دھوترے بی ایم سی میں صفائی ملازم کے طور پر تین دہائی سے زیادہ وقت تک کام کرنے کے بعد ۲۰۱۱ میں ریٹائر ہوئے۔ ان کے بیٹے اشوک کہتے ہیں کہ جب ان کے والد ریٹائر ہوئے، تو ان کی آمدنی تقریباً ۱۸-۲۰ ہزار روپے تھی۔ اب انھیں ۸۰۰۰ روپے کی ماہانہ پنشن ملتی ہے۔

اشوک کو صفائی ملازم کے طور پر اپنے والد کی نوکری وراثت میں ملی۔ تلسی رام کو جب بھی یومیہ مزدوری کا کام ملتا ہے، تو وہ اسے کرتے ہیں۔ دھوترے کا تیسرا بیٹا بھی ایسا ہی کرتا ہے۔ ان کی اور ناگوبائی کی چار بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور ممبئی کے مختلف علاقوں میں رہتی ہیں۔ بھائی بہنوں میں سے کوئی بھی فیملی کے روایتی پتھر کا کام نہیں کرتا ہے۔ ’’مجھے یہ پسند نہیں ہے، لیکن کیا کیا جائے؟ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے ہیں، تو وہ ایسا نہیں کریں گے،‘‘ دھوترے اپنے بیٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

تین سال پہلے، دھوترے اور ناگوبائی کو دیوی پاڑہ کو چھوڑنا پڑا تھا، جب ایک بلڈر نے انھیں عمارت تیار ہونے کے بعد اس میں ایک فلیٹ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس درمیان، وہ پاس کے ایک چال میں رہ رہے ہیں۔

دھوترے اوکھل موسل بنانا جاری رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ خریداروں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ ’’میرے والد اور دادا یہی کام کرتے تھے؛ میں بھی ایک کاریگر ہوں، میں یہی ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’انہیں یہ کرنا پسند ہے، اور مجھے بھی یہ پسند ہے کہ بوڑھا [ابھی بھی] کچھ کام کر رہا ہے،‘‘ ناگوبائی کہتی ہیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Aakanksha

آکانشا (وہ صرف اپنا پہلا نام استعمال کرنا پسند کرتی ہیں) پاری کی کانٹینٹ کوآرڈی نیٹر ہیں۔

Other stories by Aakanksha