/media/uploads/Articles/Chitrangada/Debal-Deb/debaldeb1.jpg



جولائی میں اتوار کی صبح کو، مغربی اڑیسہ کے رائے گڑھ ضلع کے نیام گیری پہاڑی سلسلہ میں گزشتہ پانچ دنوں سے لگاتار بارش ہو رہی ہے۔ دیر سے ہوئی اس بارش نے ماہر ماحولیات دیبل دیب اور ان کے داہنے ہاتھ مانے جانے والے دُلال کے لیے سال کے سب سے مصروف دنوں کی شروعات کر دی ہے، کیوں کہ انھوں نے ہندوستان میں کسی اور کے برعکس، ۲ ایکڑ کھیت پر بڑی مشکل سے بوائی کے مربوط موسم کے لیے بسودھا کو تیار کر لیا ہے۔

اپنے ذہن کو اس کے لیے تیار کر لیں: آنے والے دنوں میں، اس کھیت میں چاول کی دیسی ۱۰۲۰ قسمیں بوئی جائیں گی، یہ کام ۱۹۹۶ سے چل رہا ہے، جو کہ ہندوستانی کی جینیاتی کثرت کے ایک حصہ کو ختم ہونے سے بچانے کی کوشش ہے۔

اس کا مطلب ممبئی کے اوول میدان کے دسویں حصے کے برابر کھیت میں صرف چاول کی ایک ہزار قسموں کی بوائی اور انھیں بڑھتے ہوئے دیکھنا ہی نہیں ہے۔ ان نسلی قسموں میں سے ہر ایک کی جینیاتی اصلیت کو سال در سال برقرار رکھنے نے، بُوائی کے ایک پیچیدہ طریقہ کو جنم دیا، جسے دیب اور ان کے ساتھیوں نے تیار کیا ہے، تاکہ دو پڑوسی قسمیں ایک ساتھ پھل نہ دیں اور اس طرح وہ کراس۔پولی نیشن سے بچ جائیں۔ (دیب نے اپنے اس نئے طریقہ کو چھ برسوں تک کھیت میں تجربہ کرنے کے بعد، ’کرینٹ سائنس‘ میگزین کے جولائی ۲۰۰۶ کے شمارہ میں شائع کیا۔) دیب چاول کی جن ختم ہوتی قسموں کو اُگا رہے ہیں، ان کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پچھلے سال ان کی تعداد ۹۶۰ تھی۔ لہٰذا، اس کے لیے دیب کو موسم کے حساب سے ہر بار نیا طریقہ ایجاد کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

ہندوستان کا جینیاتی خاتمہ

چاول، جسے ہندوستان کے بیشتر لوگ اپنے روزمرہ کے کھانے میں استعمال کرتے ہیں، گھاس کی قسموں میں سے ایک ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے پہلے ۱۰ ہزار سال پہلے شمال مشرقی ہمالیائی پہاڑی علاقوں سے لے کر جنوبی چین اور جنوب مشرقی ایشیا میں اُگا کرتے تھے۔ گزرتی ہوئی صدیوں کے دوران، انسانی ہاتھوں نے ان میں سے ہزاروں قسم کی مختلف نسلوں کو چُنا، جو کہ خصوصی ماحولیاتی تبدیلی کے سبب پیدا ہوئے تھے۔ مغربی اڑیسہ کا لہردار علاقہ، جسے جیپور قطعہ کہا جاتا ہے، دنیا کا سر فہرست رنگارنگی والا علاقہ تھا، جہاں پر بڑی تعداد میں چاول کی قسمیں، جنہیں ’لینڈ ریسز‘ بھی کہا جاتا ہے، کسانوں کے ذریعہ تیار کی گئیں۔ دیب انھیں ’’ماضی کے گمنام، نامعلوم، اور نہایت ہی با صلاحیت سائنس داں‘‘ کہتے ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/Chitrangada/Debal-Deb/img_5998.jpg


۱۹۶۰ کی دہائی میں، جب دیب کولکاتا میں بڑے ہو رہے تھے، ہندوستان میں اس قسم کے ۷۰ ہزار سے زائد ’لینڈ ریسز‘ ہوا کرتے تھے۔ نیشنل جیوگرافک کے ۱۹۹۱ کے ایک مضمون کے مطابق، صرف ۲۰ برسوں بعد، جب سائنس دانوں اور پالیسی سازوں نے جدید اور اِن پُٹ والی ہائی برڈ کے ذریعہ اونچی پیداوار پر زور دینا شروع کیا، تو ہندوستان میں چاول کی ۷۵ فیصد پیداوار صرف ۱۰ قسم کی نسلوں سے آتی تھی۔

ہندوستانی کھیتوں سے تباہ کن اور ناقابل تلافی جینیاتی خاتمہ کا سلسلہ جاری ہے: مثال کے طور پر، مغربی بنگال سے چاول کی قسمیں، جنھیں دیب نے صرف پانچ سال پہلے جمع کیا تھا، اب ان کی کھیتی کہیں نہیں ہوتی۔ یہ داخلی اسباب کی بناپر غائب ہو رہی ہے۔ ’’یہ ٹھیک ویسا ہی ہے، جیسے کوئی کسان مر جائے اور اس کا بیٹا اس قسم کو اُگانا چھوڑ دے،‘‘ دیب بتاتے ہیں۔ ’’میں نے اس کا مشاہدہ بیربھوم کے ایک کھیت پر کیا تھا، جہاں جُگل نام کی دو نایاب قسمیں اُگائی جاتی تھیں۔‘‘


/static/media/uploads/Articles/Chitrangada/Debal-Deb/debaldeb8b.jpg


انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے سابق طالب علم اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا بریکلی کے سابق فل برائٹ اسکالر، دیب نے ۱۹۹۰ کی دہائی کے وسط میں ’ورلڈ وائڈ وائلڈ لائف فنڈ‘ کی نوکری اس لیے چھوڑ دی تھی کہ وہ اپنے ساتھیوں کو بنگال میں چاول کی غائب ہوتی قسموں کی دستاویزکاری کے لیے فنڈ مہیا کرنے کے لیے تیار نہیں کر پائے تھے۔ ’’تحفظاتی ادارے، میرے خیال سے کرشمائی میگا فانا اسپیسیز سنڈروم میں مبتلا ہیں،‘‘ وہ ترش روئی سے کہتے ہیں۔ ’’چیتے ۔ ہاں، گینڈے ۔ ہاں۔ لیکن اگر کینچوے یا بھنورے کسی کھیت پر کیمیاوی آلودگی کے سبب ختم ہو جائیں، تو اس کی پروا کون کرتا ہے؟‘‘

دیب دیسی چاول کی تلاش میں گاؤوں کی طرف کوچ کرتے ہیں، اکثر بس کی چھتوں پر بیٹھ کر یا پھر پیدل، وہ فطرتاً ایک روایت شکن انسان ہیں۔ چھوٹے قد کے اور نہایت مضبوط قسم کے دیب اب بھی ادارہ جاتی روابط سے دور رہتے ہیں اور بسودھا کو برقرار رکھنے کے لیے یوروپی اور امریکی یونیورسٹی میں ٹیچنگ کے کاموں اور دوستوں سے ملنے والے عطیوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ وہ خاص کر ایسے علاقوں کی تلاش میں رہتے ہیں، جو دور دراز ہوں، جہاں سینچائی کا انتظام نہ ہو، اور جہاں غریب کسان رہتے ہوں، جو بازار سے کیمیاوی کھاد اور بیج خریدنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔ ’’ہندوستان کے امیر حضرات جن علاقوں کو ’پس ماندہ‘ کہنا پسند کرتے ہیں، جیسے قبائلی علاقے، وہاں اس قسم کی نسلیں ملنے کے امکان بہت زیادہ ہوتے ہیں،‘‘ دیب کہتے ہیں۔ ’’مجھے جب اس قسم کی نسل یا قسم ملتی ہے، تو میں کسان کی فیملی سے مٹھی بھر مانگتا ہوں، ان کو بتاتا ہوں کہ مجھے یہ کیوں چاہیے، اپنی وراثت کے ایک اہم حصے کو بچا کر رکھنے کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اسے اُگانا نہ چھوڑیں۔‘‘

پیدل چلنے کے اس طریقے کو اختیار کرکے، دیب نے گزشتہ ۱۸ برسوں کے دوران چاول کی ۱۰۲۰ قسمیں جمع کی ہیں۔ یہ ساری قسمیں شمال مشرقی، مشرقی اور جنوبی ہندوستان کی کل ۱۳ ریاستوں سے جمع کی گئی ہیں۔ حال ہی میں اپنے بیجوں کے بینک میں انھوں نے کشمیر سے ۲ دیسی قسموں کو جمع کیا ہے، جنہیں دیب نے چاول کے لیے وِریہی اور سنسکرت نام دیا ہے۔ ایسے بھی بیج ہیں جو اس زمین میں اُگتے ہیں، جو کھارے یا نمکین ہوں، یا پھر غرقابی کی حالت میں ہوں؛ دوسرے بیج قحط یا سیلاب کو برداشت کرنے والے ہیں، کچھ ایسے ہیں جو مرض پھیلانے والے جرثوموں کا مقابلہ کر سکتے ہیں، جب کہ کچھ کو خشک علاقوں میں بہتر طریقے سے اُگایا جا سکتا ہے۔ ادویاتی قسمیں بھی ہیں اور ساتھ ہی ۸۸ خوشبودار قسمیں بھی۔


/static/media/uploads/Articles/Chitrangada/Debal-Deb/debaldeb6.jpg


یہ لینڈ ریسیز، جو صدیوں سے جمع کی گئی جانکاری پر مبنی ہیں، اور وہ کسان جو ان کے ساتھ کام کر سکتے ہیں، وہ قابل استقامت ماحولیاتی زراعت کے لیے نہایت ضروری ہیں، دیب دلیل دیتے ہوئے کہتے ہیں۔ بیج کو بچانے کی سالانہ ٹریننگ اور ایک چھوٹے کسان پر مرکوز تقسیم کرنے کی کوشش نے ان کے تحفظاتی پروجیکٹ کو تقویت عطا کی ہے، جس کی وجہ سے وہ چاول کی فصل اُگانے والے ۳۰۰۰ کسانوں کا ایک ذاتی نیٹ ورک تیار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وہ کسان جو بیجوں کے لیے بسودھا سے رابطہ کرتے ہیں، انھیں یہ مفت میں ملتا ہے۔ ان سے صرف اتنی سی التجا کی جاتی ہے کہ وہ ان بیجوں کو اپنے کھیتوں پر اُگائیں اور بدلے میں اسے دوسرے کسانوں میں بھی تقسیم کریں، تاکہ بیج کی اس نایاب قسم کو گم ہونے سے بچایا جا سکے۔

پچھلے سال دسمبر میں، اس بیج بینک کے بارے میں سننے کے بعد ملکان گیری کے ۴۰ کسان ۲۰۰ کلومیٹر کی دوری طے کرکے بسودھا کے دروازے پر پہنچے، اور انہوں نے اپنے کھیتوں کے لیے دیسی بیج مانگے۔ ’’کسی نے بھی پیداوار کی مقدار یا ان کی بازار میں قیمت کے بارے میں نہیں پوچھا،‘‘ دیب نے بتایا۔ ’’یہ ہمارے لیے نہایت خوشی کا مقام تھا۔‘‘ دیب کو اس بات پر بھی فخر ہے کہ ان کا کھیت رائے گڑھ کے آدیواسی کھیت، کیرانڈی گوڈا کے ایک عام پراپرٹی لینڈ پر واقع ہے۔ یہاں کے باشندوں نے بینک سے بیج لینے اور یہ سننے کے بعد کہ دیب اپنے پروجیکٹ کے لیے ایک جگہ تلاش کر رہے ہیں، انھیں یہاں مدعو کیا تھا۔

دیب کے کام کی اشتراکی خصوصیات زرعی پالیسی بنانے کے عمل سے پوری طرح مختلف ہیں، جہاں چھوٹے کسانوں کی آوازوں، جو کہ ہندوستان کی اکثریت ہیں، کا پتہ لگانا اکثر ناممکن ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، رائس جین بینک کو ہی لے لیجیے، جسے ریاستی حکومت نے حالیہ برسوں میں بنایا ہے۔ یہ بھونیشور کی ایک سرکاری عمارت میں واقع ہے، جہاں اڑیسہ بھر سے جمع کی گئی چاول کی ۹۰۰ قسموں کو المونیم کے فوائل پیکٹس میں سیل کرکے رکھا گیا ہے، اور زیرو ڈگری کے درجہ حرارت پر نہایت مؤثر طریقے سے محفوظ کرکے رکھا گیا ہے۔ یہ ایک قابل تعریف کوشش ہے۔ لیکن سوال صرف اتنا ہے کہ ایک عام کسان کی پہنچ وہاں تک کیسے ہو؟

جمع کیے گئے ان بیجوں کی دیکھ بھال پر مامور اہل کار کہتے ہیں کہ وہ بیجوں کے نمونے کسانوں کو بونے کے لیے نہیں دے سکتے، کیوں کہ یہ غلط ہاتھوں میں جا سکتے ہیں (پڑھیں: بیج کمپنیاں، جو جینیات کا استعمال نئے قسم کے بیج پیدا کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں)۔ خیر، یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ سارے ہی بیج ریاست بھر کے کسانوں سے لے کر ہی جمع کیے گئے ہیں۔ ریاست سرکاری طور پر چاول کی ان دیسی قسموں کو بازار میں کیوں نہیں لا رہی ہے اور اس طرح ان کے استعمال اور ان کی بقا کی حوصلہ افزائی کیوں نہیں کر رہی ہے؟ نوکرشاہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بیجوں کی جدید، کاروباری قسم کے بیجوں کو ہی جاری کرنے پر زیادہ زور ہے، جنہیں یا تو سرکاری تجربہ گاہوں میں تیار کیا گیا ہے یا پھر پرائیویٹ بیج کمپنیوں کے ذریعہ۔

دیب کے مطابق، عام کسانوں کی ان بیجوں تک پہنچ نہ ہونے کے علاوہ، مذکورہ بالا بیج بینک کی طرح ہی دیگر سرکاری بیج بینکوں میں زندگی کے فطری ارتقا کا عمل ناپید ہے، کیوں کہ ان بیجوں کو صحیح وقت پر فریز نہیں کیا جاتا۔ ’’پیسٹ سے اپنا دفاع کرنے والے بیجوں کو ۳۰۔۴۰ سال بعد لائیے۔ ان میں سے کچھ کی مدافعاتی قوت ختم ہو چکی ہوگی، کیوں کہ اس درمیان پیسٹ آگے بڑھ چکا ہوگا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’وہ ریسرچ کے لیے بھلے ہی فائدہ مند ہو سکتے ہیں، لیکن کسانوں کے لیے اپنے کھیت پر فائدہ مند نہیں ہو سکتے۔‘‘ دیب سرکاری دلیل کو بھی خارج کرتے ہیں کہ دیسی قسموں کا مطلب ہے کم تر پیداوار: ’’میرے پاس ایسی بہت سی قسمیں ہیں، جو نام نہاد اعلیٰ پیداوار والی قسموں سے زیادہ اُپج دیتی ہیں۔‘‘ وہ یاد دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ زیادہ پیداوار فوڈ سیکورٹی کی گارنٹی نہیں دیتی۔ وہ اس طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ ہندوستان میں چاول اور گیہوں کے ریکارڈ انبار ہیں، ساتھ ہی یہاں پر پوری دنیا میں کم غذائیت کے شکار لوگوں کا ایک چوتھائی حصہ رہتا ہے۔


/static/media/uploads/Articles/Chitrangada/Debal-Deb/debaldeb9.jpg.jpg


دوپہر کے کھانے پر اناج، سبزیوں، دال اور چاول کی کل ملا کر کھیت سے آٹھ قسمیں موجود ہیں۔ دیب سے ہم نے سوال کیا کہ کیا ہم اپنی اس وراثت کی قیمت لگا سکتے ہیں۔ ’’کسی انوکھی پینٹنگ، ساڑی کے بارے میں تصور کیجیے۔۔ ایک زیور جو آپ کی فیملی کے پاس پچھلے ۲۰۰ سالوں سے ہو۔ کیا آپ پیسہ حاصل کرنے کے لیے اسے بیچنا پسند کریں گے؟‘‘ انھوں نے ہم سے سوال کیا۔ ’’ویسے ہی چاول کی یہ دیسی قسمیں ہیں، یہ ہماری ثقافت ہیں۔‘‘

 

اس مضمون کو سب سے پہلے ’مِنٹ لاؤنج‘ کے اگست ۲۰۱۴ یومِ آزادی کے شمارہ میں شائع کیا گیا تھا: http://www.livemint.com/Leisure/bmr5i8vBw06RDiNFms2swK/Debal-Deb--The-barefoot-conservator.html

 

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Chitrangada Choudhury

چترانگدا چودھری اڈیشہ میں رہائش پذیر ملٹی میڈیا صحافی اور ریسرچر، اور اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ کی ایک فیلو ہیں۔ آپ مضمون نگار سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں:  

Other stories by Chitrangada Choudhury