دیباشیش مونڈل نے اپنے گھر کی ٹوٹی ہوئی دیواروں پر خالی نظروں سے دیکھا۔ وہ ۳۵ سال قبل جس گھر میں پیدا ہوئے تھے، اس میں صرف ٹوٹی ہوئی اینٹیں، سیمنٹ کے ٹکڑے اور ٹوٹی ہوئی چھت بچی تھی۔

شمالی کولکاتا کے تلّاہ پُل کے نیچے، تقریباً ۶۰ کنبوں کے مکان والی جس کالونی میں وہ رہتے تھے، اسے ۱۱ نومبر کو توڑ کر ملبے میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ مقامی میونسپل کونسل کے اہلکار اور پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کے ملازم پولس دستہ کے ساتھ اس دن صبح کو ساڑھے دس بجے آئے۔ وہ اسے توڑنے کے لیے مزدوروں کو ساتھ لائے تھے، اور دو دن بعد سیمنٹ کے کچھ ڈھانچوں کو توڑنے کے لیے بلڈوزر بھی منگوایا۔ بستی کو پوری طرح ڈھانے میں تقریباً ایک ہفتہ کا وقت لگا۔ دو نیم مسمار گھر ابھی بھی کھڑے ہیں، جب کہ یومیہ مزدور (دسمبر میں) زمین کو مسطح کرنے، ملبہ کو صاف کرنے میں مصروف ہیں۔

تلّاہ پل بی ٹی روڈ کے نظرل پلّی روڈ پر واقع ہے۔ بستی کے باشندوں کا اندازہ ہے کہ ان کی کالونی – جو پی ڈبلیو ڈی کی زمین پر بنائی گئی تھی – ۷۰ سال سے زیادہ پرانی تھی۔

’’یہ بجلی کا جھٹکا تھا!‘‘ دیباشیش کہتے ہیں، جو ایک ایمبولینس ڈرائیور ہیں اور ۹۰۰۰ روپے ماہانہ کماتے ہیں۔ جس جھونپڑی میں ان کے والد کی پیدائش ہوئی تھی، وہا پختہ گھر بنانے کے لیے انہوں نے مقامی ساہوکاروں اور دوستوں سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے قرض لیے تھے۔ ان کے دادا دادی کئی عشرے قبل شمالی ۲۴ پرگنہ ضلع کے سندیش کھالی دوئم بلاک کے داؤد پور گاؤں – جو کہ سندربن کا حصہ ہے – سے کام کی تلاش میں کولکاتا آئے تھے۔

دیباشیش کے ذریعے بنائے گئے گھر کو توڑ دیا گیا ہے۔ ان کے اعلیٰ شرحِ سود والے قرض کا زیادہ تر حصہ ابھی تک چُکایا نہیں گیا ہے۔

تلّاہ کالونی کے باشندوں کی پریشانی ۲۴ ستمبر کو شروع ہوئی، جب پی ڈبلیو ڈی اور میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں نے انہیں زبانی طور پر بتایا کہ پل کی مرمت کی جانی ہے۔ انہیں اپنے کچھ سامانوں کے ساتھ یہ جگہ خالی کرنی ہوگی، اور وہ مرمت کا کام پورا ہو جانے کے بعد واپس لوٹ سکتے ہیں۔ ۲۵ ستمبر کی شام کو، ۶۰ کنبوں کو پاس کے دو ٹرانزٹ کیمپوں میں لے جایا گیا – ایک ریلوے کی زمین پر، دوسرا ریاست کے محکمہ آبپاشی کی ملکیت والی زمین پر ایک نہر کے پاس۔

PHOTO • Smita Khator

ملبے میں ڈھیر: زمین بوس تلّاہ پُل بستی اور دیباشیش مونڈل (اوپر دائیں) ٹوٹے ہوئے گھر پر، جسے انہوں نے پیسے بچا کر اور قرض لے کر بنایا تھا

تقریباً ۱۰ دیگر فیملی سڑک کے اُس پار، تلّاہ بستی کے ہی دوسرے حصے میں رہتے ہیں اور بازآبادکاری کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان ۱۰ کنبوں میں پارول کرن کی بھی فیملی ہے۔ وہ ایک سابق گھریلو ملازمہ ہیں، جن کی عمر اب تقریباً ۷۰ سال ہو چکی ہے۔ وہ پُل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’یہ بنیادی طور پر لکڑی کا بنا ہوا تھا۔ کئی سال پہلے ایک ڈبل ڈیکر بس وہاں سے نیچے گر گئی تھی۔ لکڑی کے پل کو جب کنکریٹ کا بنایا گیا، تو کسی کو بھی یہاں سے نہیں نکالا گیا تھا۔‘‘ پارول ایک بیوہ اور ذیابیطس کی مریض ہیں؛ ان کی بیٹی گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرکے ان کا خرچ برداشت کرتی ہیں۔

کرن کی فیملی بھی تقریباً ۵۰ سال قبل داؤدپور گاؤں سے کولکاتا آئی تھی، وہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں۔ ’’سندربن میں سانپ اور مینڈکوں کے درمیان کیچڑ اور پانی میں زندہ رہنا آسان نہیں تھا۔ ہم جب گاؤں سے آئے تھے، تو یہ جگہ جھاڑیوں اور گھاس سے بھری ہوئی تھی، غنڈے اور بدمعاش یہاں اکثر آیا کرتے تھے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’بابو کے گھروں میں کام کرنے کے فوراً بعد ہمیں دوپہر کو سیدھے گھر واپس آنا پڑتا تھا۔‘‘

پارول کے پڑوسی جن عارضی کیمپوں میں ٹھہرے ہوئے ہیں، وہ لمبے چوڑے بانس کے ڈھانچے ہیں جو کالے ترپال سے ڈھکے ہوئے ہیں، جنہیں میونسپل کارپوریشن کے ذریعے بنوایا گیا ہے۔ ہر ایک ڈھانچہ ۱۰۰ مربع فٹ کے کمرے میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بجلی صرف شام کے ۵ بجے سے صبح کے ۵ بجے تک رہتی ہے۔ دن کے وقت، کالے ترپال کے سبب کمروں میں اندھیرا رہتا ہے۔ ریلوے کی زمین پر بنایا ہوا یہ کیمپ نچلے علاقے میں ہے، جہاں ۹ نومبر کو سمندری طوفان، بلبل کی وجہ سے سیلاب آ گیا تھا۔

’’جس دن طوفان آیا، یہ جگہ پانی سے لبالب بھر گئی تھی،‘‘ ۱۰ سالہ شریا مونڈل کہتی ہیں، جو قریب کے ایک سرکاری اسکول میں ۵ویں کلاس میں پڑھتی ہے۔ میں نے جس وقت کیمپ کا دورہ کیا، وہ اور بستی کے کچھ اور بچے ریلوے یارڈ سے سٹے ایک میدان میں کھیل رہے تھے۔ ’’ہمارے کمروں میں گھنٹوں تک پانی بھر گیا تھا۔ ہم اپنی کتابیں بہت مشکل سے بچا سکے۔ گھروں کو توڑنے کے دوران ہم نے اپنے کئی کھلونے، کودنے کی رسیاں اور گُڈّے گڑیا کھو دیے...‘‘

PHOTO • Smita Khator

اوپر بائیں: پارول کرون، پارول مونڈل (درمیان میں) اور ان کی بھابھی کا کہنا ہے کہ وہ ۵۰ سال پہلے پل کے نیچے آکر بسے تھے۔ اوپر دائیں: کرن اور ان کی بیٹی، جو ابھی تک یہاں سے نہیں گئی ہیں، اپنا بجلی بل دکھاتی ہیں، یہ ثابت کرنے کی امید کرتے ہوئے کہ وہ یہاں کی قانونی باشندہ ہیں۔ نیچے کی قطار: ریلوے یارڈ (بائیں) اور چِتپور نہر (دائیں) کے پاس ’ٹرانزٹ کیمپ‘

دونوں کیمپوں میں لوگ اسی ٹوائلیٹ بلاک (ابھی بھی کھڑے ہیں) کا استعمال کر رہے ہیں جو انہوں نے پُل والی بستی میں بنایا تھا۔ نہر کے پاس ٹرانزٹ کیمپ – ریلوے یارڈ والے کیمپ کے مقابلے تلّاہ پُل سے تھوڑا آگے واقع – کے ساکن پیسے دے کر استعمال کیے جانے والے پبلک ٹوائلیٹ میں جانے پر مجبور ہیں، جو ۸ بجے رات میں بند ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد، انہیں توڑی جاچکی بستی میں موجود ٹوائلیٹ تک چل کر جانا پڑتا ہے – اور عورتوں کی شکایت ہے کہ رات میں وہاں جانا ان کے لیے غیر محفوظ ہے۔

نہر کے پاس میری ملاقات ۳۲ سالہ نیلم مہتہ سے ہوئی۔ ان کے شوہر، جو بہار کے جموئی ضلع کے ایک گاؤں سے کولکاتا آئے تھے، سڑکوں پر گھوم کر ستّو بیچتے ہیں۔ نیلم ایک گھریلو ملازمہ ہیں۔ ’’ہم کہاں جائیں گے؟‘‘ وہ سوال کرتی ہیں۔ ’’ہم کسی طرح سے گزارہ چلا رہے ہیں۔ ہم یہاں کئی سالوں سے رہتے آئے ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ میری بیٹی کا مستقبل بہتر ہو۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ لوگوں کے گھروں میں کام کرے۔ میرا بیٹا بھی پڑھائی کر رہا ہے۔ مجھے بتائیے، ہم اس حالت میں کیسے گزارہ کر سکتے ہیں؟‘‘

وہ بتاتی ہیں کہ ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ نہر والے کیمپ کے پاس ٹوائلیٹ بنایا جائے گا۔ تب تک، انہیں اور کئی دیگر لوگوں کو پبلک ٹوائلیٹ میں ہر بار جانے پر ۲ روپے خرچ کرنے پڑیں گے۔ ’’ہم ٹوائلیٹ کا خرچ کیسے اٹھا سکتے ہیں؟ عورتیں اور نوجوان لڑکیاں رات میں کہاں جائیں گی؟ اگر کچھ ہو جاتا ہے، تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟‘‘ وہ سوال کرتی ہیں۔

ان کی ۱۵ سالہ بیٹی، نیہا، ٹرانزٹ کیمپ کے کمرے میں اپنی ماں کے بغل میں فرش پر بیٹھ کر پڑھائی کر رہی ہے۔ ’’اس طرح سے مطالعہ کرنا بہت مشکل ہے،‘‘ وہ کہتی ہے۔ ’’دن بھر بجلی نہیں رہتی ہے۔ ہم اپنی پڑھائی کیسے پوری کریں گے؟‘‘

Left: 'Where will we go?' asks Neelam Mehta, while her daughter Neha struggles to study. Right: Dhiren Mondo asks, 'Tell me, where should we go?'
PHOTO • Smita Khator
Left: 'Where will we go?' asks Neelam Mehta, while her daughter Neha struggles to study. Right: Dhiren Mondo asks, 'Tell me, where should we go?'
PHOTO • Smita Khator

بائیں: ’ہم کہاں جائیں گے؟‘ نیلم مہتہ سوال کرتی ہیں، جب کہ ان کی بیٹی نیہا پڑھائی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ دائیں: دھیرن مونڈل پوچھتے ہیں، ’مجھے بتاؤ، ہم کہاں جائیں گے؟‘

کیمپ کے راستے میں دیوی دُرگا کا ایک مندر ہے۔ یہاں شام کی پوجا ۸۰ سالہ دھیرن مونڈل کے ذریعے کرائی جاتی ہے، جو اب ریلوے یارڈ کے ٹرانزٹ کیمپ کے ایک کمرے میں رہ رہے ہیں۔ ’’میں نے یہاں ۵۰ سال سے زیادہ گزارے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’میں سندربن کے سندیش کھالی علاقے سے ہوں۔ ہمیں یہاں کام کھوجنے کے لیے سب کچھ چھوڑنا پڑا تھا۔ ہمارے گاؤں کو ندی نے نگل لیا تھا۔‘‘ مونڈل نے دن کے وقت بوجھ سے بھرے ٹھیلے کو کھینچتے ہوئے، تلّاہ بستی میں بانس سے بنے گھر میں اپنے تین بچوں کی پرورش کی۔ اس گھر کو فیملی نے بعد میں کنکریٹ کے گھر میں بدل دیا تھا۔

’’[میونسپل کونسل کے] کونسلر نے پوچھا کہ کیا ہم نے اپنا گھر بنانے کے لیے ان کی اجازت لی تھی!‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’میں نے ان سے کہا کہ ہم یہاں ۵۰ سال سے رہ رہے ہیں، وہ ہم سے بغیر کسی مناسب متبادل کے یہ سب چھوڑنے کے لیے کیسے کہہ سکتے تھے؟ وہ اس طرح سے لوگوں کو کیسے نکال سکتے تھے؟ مجھے بتاؤ، ہم کہاں جائیں؟‘‘

پولس ۲۵ ستمبر کی شام کو جب یہاں آئی اور لوگوں کو چلنے کے لیے کہا، ۲۲ سالہ ٹُمپا الزام لگاتی ہیں، ’’تو انہوں نے میری ساس کے ساتھ برا سلوک شروع کر دیا، میرے دیور کو کالر سے گھسیٹتے ہوئے کیمپ تک لے گئی۔ میں جب انہیں روکنے گئی، تو میرے ساتھ دھکّا مُکّی کی گئی۔ میں حاملہ ہوں، لیکن انہوں نے اس کی بھی پرواہ نہیں کی۔ انہوں نے عورتوں کے بال پکڑ کر کھینچے۔ ایک بھی خاتون پولس نہیں تھی۔ وہ بدزبانی کر رہے تھے، گالیاں دے رہے تھے۔‘‘

(حالانکہ، اس رپورٹر کے ساتھ ایک انٹرویو میں، تلّاہ بستی سے تقریباً ۲ء۵ کلومیٹر دور چِترپور پولس اسٹیشن کے آفیسر انچارج، ایان گوسوامی نے کسی بھی طرح کی بدتمیزی یا زور زبردستی سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں تمام کنبوں سے ہمدردی ہے، لیکن اُس جگہ کو خالی کرانا ضروری تھا کیوں کہ قابل معماروں نے اس پُل کو خطرناک قرار دے دیا تھا۔ اگر پُل کا کوئی بھی حصہ گرتا، تو اس کی چپیٹ میں سب سے پہلے بستی والے ہی آئے ہوتے، انہوں نے کہا۔)

PHOTO • Smita Khator

توڑی جا چکی تلّاہ کالونی میں جھونپڑی کے نیچے کھانا بناتیں سُلیکھا مونڈل۔ اوپر دائیں: ’غریب لوگ ہمیشہ سے ہی سرکاری زمین پر رہتے آئے ہیں، نہیں تو ہم کہاں رہیں گے؟‘ لکھی داس سوال کرتی ہیں۔ نیچے کی قطار: ٹرانزٹ کیمپوں کی عورتوں کو خاص کر اپنی پرانی بستی کے ٹوائلیٹ تک کی لمبی دوری طے کرنے میں کافی پریشانی ہوتی ہے

ترنمول کانگریس کے مقامی کونسلر، ترون ساہا نے مجھ سے فون پر کہا، ’’وہ غاصب ہیں۔ انہیں وہاں رہنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔ وہ جھونپڑیوں میں رہتے تھے۔ ہم نے [تلّاہ بستی میں] انسانی بنیاد پر پانی اور صاف صفائی کا انتظام کیا۔ لیکن انہوں نے جھونپڑیوں کو پختہ مکانوں میں بدل دیا،‘‘ پُل خطرناک حالت میں ہے، انہوں نے کہا۔ ’’اسے فوری طور پر دوبارہ بنانے کی ضرورت ہے۔ مرمت نہیں ہونے پر لوگوں کی جان جا سکتی ہے۔ انہیں وہاں سے ہٹانا ہی تھا۔‘‘

ساہا کہتے ہیں کہ سرکار نے ابھی تک تلّاہ کے کنبوں کی مستقل بازآبادکاری کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ’’فی الحال، ہم انہیں ٹرانزٹ کیمپوں میں رہنے دے رہے ہیں۔ آگے جاکر کیمپوں کو ٹن کی چھتوں سے ڈھکنے کا انتظام ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم کوئی بھی پختہ ڈھانچہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ان کے گھر کہیں اور ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں، ان کے گاؤوں کا، اور کچھ کنبوں نے ادھر ادھر جو زمینیں خریدی ہیں اس کا ذکر کرتے ہوئے۔ ’’انہوں نے اپنے کام کے لیے اس جگہ پر ناجائز قبضہ کیا ہے۔ وہ یہاں کافی لمبے عرصے سے ہیں۔ وہ اپنی فیملی کو بھی لاتے رہے۔ ان میں سے کئی اب خوشحال ہیں۔‘‘

’’غریب لوگ ہمیشہ سے سرکاری زمین پر رہتے آئے ہیں، نہیں تو ہم کہاں رہیں گے؟‘‘ ۲۳ سالہ لکھی داس سوال کرتی ہیں، جن کے شوہر آفس اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ، وہ بھی تلّاہ بستی سے باہر کر دیے گئے تھے۔ ’’ہم غریب ہیں۔ ہم اپنی محنت سے کماتے ہیں،‘‘ لکھی آگے کہتی ہیں۔ ’’میں صرف اپنی بیٹیوں کے لیے ان سبھی پریشانیوں کا سامنا کر رہی ہوں۔‘‘

توڑی جا چکی بستی کے باشندے کونسلر سے تحریری طور پر یقین دہانی چاہتے ہیں کہ پل کی مرمت ہو جانے کے بعد، انہیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ابھی تک ایسی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے۔

Left: The eviction notice, pasted on November 6. A poster calling for a meeting on November 18 to demand proper and permanent rehabilitation of evicted families. Right: The Tallah basti residents at a protest march on November 11
PHOTO • Soumya
Left: The eviction notice, pasted on November 6. A poster calling for a meeting on November 18 to demand proper and permanent rehabilitation of evicted families. Right: The Tallah basti residents at a protest march on November 11
PHOTO • Smita Khator
Left: The eviction notice, pasted on November 6. A poster calling for a meeting on November 18 to demand proper and permanent rehabilitation of evicted families. Right: The Tallah basti residents at a protest march on November 11
PHOTO • Soumya

بائیں: گھر خالی کرنے کا نوٹس، جسے ۶ نومبر کو چپکایا گیا تھا۔ ۱۸ نومبر کو ایک میٹنگ بلاکر بے گھر کیے گئے کنبوں کو مناسب اور مستقل بازآبادکاری کا مطالبہ کیا گیا۔ دائیں: تلّاہ بستی کے باشندے ۱۱ نومبر کو ایک احتجاجی مظاہرہ میں

چھوٹی موٹی مخالفت بھی ہوئی – ۲۵ ستمبر کو، جب انہیں اپنے گھروں کو چھوڑنا پڑا تھا، تلّاہ کالونی کے باشندوں نے تقریباً ۱۰ بجے رات میں ایک گھنٹے کے لیے پل کو بند کر دیا تھا۔ ۱۱ نومبر کو انہوں نے ایک مورچہ نکالا۔ ۱۸ نومبر کو، انہوں نے اپنے مطالبات کو لے کر ایک عوامی میٹنگ کی۔ بستی واسی شرم جیوی ادھیکار رکشا کمیٹی کے بینر تلے متحد ہوکر، وہ ٹوائلیٹ اور بجلی کی مسلسل فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور ایک اجتماعی باورچی خانہ کی تعمیر کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جو ہر ایک فیملی کے خرچے کو کم کرے گی۔

سڑکوں پر سامان بیچنے والے راجا ہزرے – اِن کی فیملی بھی بے گھر کر دی گئی تھی – نے ۲۵ نومبر کو جھُگی سے بے دخل کیے گئے کنبوں کی طرف سے کولکاتا ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی۔ ان کی بنیادی مانگ مناسب بازآبادکاری ہے – یعنی رہنے کے لیے ایک مستقل جگہ، جہاں سے انہیں بے دخل نہیں کیا جائے گا، جو کہ ان کی توڑی گئی بستی (جو اُن کے کام کرنے کی جگہوں اور اسکولوں کے قریب تھی) سے زیادہ دور نہ ہو، اور وہاں بجلی، پانی اور صاف صفائی جیسی بنیادی سہولیات دستیاب ہوں۔

واپس ٹرانزٹ کیمپ میں، سُلیکھا مونڈل نے مٹی کا چولہا جلایا۔ دوپہر کے ڈھائی بج چکے ہیں، وہ ابھی ابھی پاس کے گھروں میں کام کرکے لوٹی ہیں – وہ شام کو دوبارہ کام کرنے کے لیے اُن گھروں میں جائیں گی۔ برتن میں بینگن، آلو اور گوبھی ڈالتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’’کونسلر نے ہمیں گاؤں واپس جانے کے لیے کہا تھا! چار نسل قبل ہم نے داؤد پور چھوڑ دیا تھا۔ اب ہمیں واپس جانے کے لیے کہا جا رہا ہے؟ سندربن کی حالت کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے۔ [سمندری طوفان] آئیلا کے دوران کم ہی لوگ تباہ ہوئے تھے۔ ہم کسی کو چوٹ نہیں پہنچا رہے ہیں۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ پل کی مرمت کی جائے۔ لیکن سرکار کو ہمیں دوبارہ بسانا چاہیے۔‘‘

رپورٹر سومیا، رایا اور آؤرکو کے ذریعے مدد فراہم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Smita Khator

اسمِتا کھاتور کولکاتا میں مقیم، پاری کی ترجمہ معاون ہونے کے ساتھ ساتھ بنگالی مترجم بھی ہیں۔

Other stories by Smita Khator