سخت مٹی کے ایک چھوٹے سے سوراخ میں ایک مردہ کیکڑا پڑا ہے، جس کے پیر اس کے جسم سے الگ ہو چکے ہیں۔ ’’وہ گرمی سے مر رہے ہیں،‘‘ دیوندر بھونگاڈے اپنے پانچ ایکڑ میں پھیلے دھان کے کھیت میں سوراخوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

اگر بارش ہوئی ہوتی، تو آپ کھیت کے پانی میں کیکڑوں کے گروہ کو انڈے سینکتے ہوئے دیکھ رہے ہوتے، وہ خشک ہوتے جا رہے پیلے-ہرے دھان کے بیچ کھڑے ہوکر کہتے ہیں۔ ’’میرے پودے زندہ نہیں بچیں گے،‘‘ ابتدائی ۳۰ سال کی عمر کے اس کسان کی یہی تشویش ہے۔

۵۴۲ لوگوں کے ان کے گاؤں (مردم شماری ۲۰۱۱)، راون واڈی میں کسان مانسون کی آمد کے لیے، جون کی پہلی شش ماہی میں نرسری – اپنی زمین کے چھوٹے ٹکڑے – میں بیچ بوتے ہیں۔ کچھ دنوں کی بھاری بارش کے بعد، جب ہل سے بنی کیاریوں میں کیچڑ کے ساتھ پانی جمع ہو جاتا ہے، تو وہ ۳ سے ۴ ہفتے کے دھان کے پودوں کو اکھاڑ کر اپنے کھیتوں میں روپائی کر دیتے ہیں۔

لیکن مانسون کی عام شروعات کے چھ ہفتے بعد بھی، اس سال ۲۰ جولائی تک، راون واڈی میں بارش نہیں ہوئی تھی۔ بھونگاڈے بتاتے ہیں کہ دو بار چھینٹیں پڑی تھیں، لیکن وافر مقدار میں بارش نہیں ہوئی۔ جن کسانوں کے پاس کنویں ہیں، وہ دھان کے پودوں کو پانی دینے کا انتظار کر رہے تھے۔ زیادہ تر کھیتوں پر کام نہ ہونے کے سبب، بے زمین مزدوروں نے یومیہ مزدوری کی تلاش میں گاؤں چھوڑ دیا تھا۔

*****

تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور، گرڈا جنگلی گاؤں میں، لکشمن بانٹے بھی کچھ وقت سے اس کمی کو دیکھ رہے ہیں۔ جون اور جولائی بغیر کسی بارش کے چلے جاتے ہیں، وہ کہتے ہیں۔ وہاں موجود دیگر کسانوں نے رضامندی میں سر ہلایا۔ اور ۲ سے ۳ سال میں ایک بار وہ اپنی خریف کی فصل کھو دیتے ہیں۔

بانٹے، جو تقریباً ۵۰ سال کے ہیں، یاد کرتے ہیں کہ ان کے بچپن میں یہ پیٹرن نہیں تھا۔ بارش لگاتار ہوتی تھی، دھان لگاتار ہوتا تھا۔

لیکن ۲۰۱۹ خسارے کا ایک اور سال رہا، نئے پیٹرن کا حصہ۔ کسان فکرمند ہیں۔ ’’میری زمین خریف میں پرتی رہے گی،‘‘ خوفزدہ نارائن اوئیکے (فرش پر بیٹھے ہوئے: کور فوٹو دیکھیں) کہتے ہیں۔ وہ ۷۰ سال کے ہیں اور ڈیڑھ ایکڑ کھیت پر پانچ دہائیوں سے زیادہ وقت تک کھیتی کر چکے ہیں، اور اپنی زندگی میں زیادہ تر وقت مزدور کی شکل میں بھی کام کر چکے ہیں۔ ’’یہ ۲۰۱۷ میں پرتی رہا، ۲۰۱۵ میں رہا...‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔ ’’پچھلے سال بھی، بارش کے دیر سے آنے کے سبب میری بوائی میں تاخیر ہوئی تھی۔‘‘ اوئیکے کہتے ہیں کہ یہ دیری پیداوار اور عمر میں کمی کر دیتی ہے۔ جب کسان بوائی کے لیے مزدوروں کو نہیں رکھ سکتے، تو زرعی مزدور کا کام بھی کم ہو جاتا ہے۔

PHOTO • Jaideep Hardikar

دیوندر بھونگاڈے (اوپر بائیں)، راون واڈی میں مرجھاتے دھان کے پودوں والے اپنے خشک ہوتے کھیت پر، کیکڑے کے بلوں (اوپر دائیں) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے۔ نارائن اوئیکے (نیچے بائیں) کہتے ہیں، ’اگر بارش نہیں ہوئی، تو کھیتی بھی نہیں ہوگی‘۔ گرڈا جنگلی کے کسان اور سابق سرپنچ، لکشمن بانٹے، اپنے گاؤں کے خشک ہوتے کھیتوں کے کنارے انتظار کرتے ہوئے

بھنڈارا شہر سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر کی دوری پر واقع، بھنڈارا تعلقہ اور ضلع کا گرڈا جنگلی ۴۹۶ لوگوں کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ راون واڈی کی طرح ہی، یہاں کے زیادہ تر کسانوں کے پاس زمین کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں – ایک اور چار ایکڑ کے بیچ – اور سینچائی کے لیے بارش پر منحصر ہیں۔ گونڈ آدیواسی اوئیکے کا کہنا ہے کہ اگر بارش نہیں ہوئی، تو کھیتی بھی نہیں ہوگی۔

اس سال ۲۰ جولائی تک، ان کے گاؤں کے تقریباً سبھی کھیتوں پر بوائی نہیں ہو سکی، جب کہ نرسریوں میں لگے پودے سوکھنے لگے تھے۔

لیکن دُرگا بائی دِگھورے کے کھیت میں، آدھے ادھورے پودوں کو روپنے کے لیے کافی بے چینی تھی۔ ان کی فیملی کے کھیت پر ایک بورویل ہے۔ گرڈا میں صرف چار پانچ کسانوں کےے پاس ہی یہ سہولت ہے۔ ان کے ۸۰ فٹ گہرے کوئیں کے خشک ہو جانے کے بعد، دِگھورے فیملی نے دو سال پہلے کنویں کے اندر ایک بورویل کھودا جو ۱۵۰ فٹ گہرا تھا۔ لیکن جب ۲۰۱۸ میں یہ بھی سوکھ گیا، تو انہوں نے ایک نیا کھودا۔

بانٹے کہتے ہیں کہ بورویل یہاں پر نئی چیز ہیں، کچھ سالوں پہلے تک یہ ان علاقوں میں دکھائی نہیں دیتے تھے۔ ’’ماضی میں، بورویل کھودنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’اب پانی ملنا مشکل ہے، بارش بے ترتیب ہو رہی ہے، اس لیے لوگ انہیں [بورویل] کھود رہے ہیں۔‘‘

مارچ ۲۰۱۹ سے گاؤں کے آس پاس کے دو چھوٹے مال گزاری تالاب بھی سوکھ چکے ہیں، بانٹے آگے کہتے ہیں۔ عام طور پر، ان میں خشک مہینوں میں بھی کچھ نہ کچھ پانی رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورویلوں کی بڑھتی تعداد تالابوں سے زیر زمین کھینچ رہی ہے۔

ان محفوظ شدہ تالابوں کی تعمیر مقامی راجاؤں کی نگرانی میں ۱۷ویں صدی کے آخر سے ۱۸ویں صدی کے وسط تک وِدربھ کے مشرقی دھان اُگانے والے ضلعوں میں کی گئی تھی۔ مہاراشٹر بننے کے بعد، ریاست کے محکمہ آبپاشی نے بڑے تالابوں کے نظم و ضبط اور نگرانی کا ذمہ سنبھالا، جب کہ ضلع پریشد نے چھوٹے تالابوں کو سنبھالا۔ یہ آبی ذخائر مقامی برادریوں کے ذریعے محفوظ کیے جاتے ہیں۔ بھنڈارا، چندرپور، گڑھ چرولی، گوندیا اور ناگپور ضلعوں میں ایسے تقریباً ۷۰۰۰ تالاب ہیں، لیکن طوی عرصے سے ان میں سے زیادہ کی اندیکھی کی گئی ہے اور وہ بدانتظامی کی حالت میں ہیں۔

After their dug-well dried up (left), Durgabai Dighore’s family sank a borewell within the well two years ago. Borewells, people here say, are a new phenomenon in these parts.
PHOTO • Jaideep Hardikar
Durgabai Dighore’s farm where transplantation is being done on borewell water
PHOTO • Jaideep Hardikar

ان کے کنویں جب خشک ہو گئے (بائیں)، تو اس کے بعد دُرگابائی دِگھورے کی فیملی نے دو سال پہلے کنویں کے اندر ہی ایک بورویل کی کھدائی کی۔ یہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ بورویل ان علاقوں میں ایک نئی چیز ہیں۔ دِگھورے فیملی کے کھیت (دائیں) پر کام کرنے والے مزدور جولائی میں بورویل کے پانی کے سبب دھان کی روپائی کر سکے تھے

بانٹے کہتے ہیں کہ یہاں کے کئی نوجوان ہجرت کر چکے ہیں – بھنڈارا شہر، ناگپور، ممبئی، پونہ، حیدرآباد، رائے پور اور دیگر مقامات پر – ٹرکوں پر صفائی ملازمین کے طور پر، دورہ کرنے والے مزدوروں، زرعی مزدوروں کی شکل میں، یا جو بھی کام انہیں مل سکتا ہے اسے کرنے کے لیے۔

یہ بڑھتی ہوئی مہاجرت آبادی کی تعداد میں ظاہر ہوتی ہے: مہاراشٹر کی آبادی میں جہاں ۲۰۰۱ کی مردم شماری سے ۱۵ء۹۹ فیصد کا اضافہ ہوا، وہیں بھنڈارا میں اس مدت میں صرف ۵ء۶۶ فیصد کا ہی اضافہ ہوا۔ یہاں بات چیت کے دوران بار بار آنے والی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ زراعت کی بڑھتی غیر یقینیت، زرعی کاموں میں کمی اور گھریلو اخراجات کو پورا کرنے میں نااہلی کے سبب کہیں اور جا رہے ہیں۔

*****

بھنڈارا بنیادی طور پر ایک دھان اُگانے والا ضلع ہے، یہاں کے کھیت جنگلوں سے گھرے ہوئے ہیں۔ یہاں کی اوسط سالانہ بارش ۱۲۵۰ ملی میٹر سے لے کر ۱۵۰۰ ملی میٹر تک ہے (سینٹرل انڈر گراؤنڈ واٹر بورڈ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے)۔ بارہ ماسی وین گنگا ندی سات تعلقوں کے اس ضلع سے ہو کر بہتی ہے۔ بھنڈارا میں موسمی ندیاں اور تقریباً ۱۵۰۰ مال گزاری تالاب بھی ہیں، جیسا کہ ودربھ کے فروغِ آبپاشی کارپوریشن کا دعوی ہے۔ یہاں پر حالانکہ موسمی مہاجرت کی ایک لمبی تاریخ رہی ہے، لیکن مغربی ودربھ کے کچھ ضلعوں کے برعکس – بھنڈارا میں کسانوں کی بڑے پیمانے پر خودکشی دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔

صرف ۱۹ء۴۸ فیصد شہرکاری کے ساتھ، یہ چھوٹے اور معمولی کسانوں کا ایک دھان کی بہتات والا ضلع ہے، جو خود اپنی زمین اور زرعی مزدوری سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ لیکن سینچائی کے مضبوط نظام کے بغیر، یہاں کی کھیتی بڑے پیمانے پر بارش پر منحصر ہے؛ تالابوں کا پانی صرف مانسون کے اختتام پر، اکتوبر کے بعد، کچھ کھیتوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔

کئی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ مرکزی ہندوستان، جہاں بھنڈارا واقع ہے، جون سے ستمبر تک مانسون کے کمزور ہونے اور بھاری سے انتہائی بارش کے بڑھتے واقعات کا گواہ بن رہا ہے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹریولوجی، پونہ کے ۲۰۰۹ کے ایک مطالعہ میں اس فطرت کی بات کہی گئی ہے۔ عالمی بینک کا ۲۰۱۸ کا ایک مطالعہ بھنڈارا ضلع کو ہندوستان کے سرفہرست ۱۰ ماحولیاتی ہاٹ اسپاٹ میں پاتا ہے، دیگر نو متعلقہ اضلاع، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں ہیں، جن میں سے سبھی مرکزی ہندوستان میں ہیں۔ مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ ’ماحولیاتی ہاٹ اسپاٹ‘ ایک ایسا مقام ہے جہاں اوسط موسم میں تبدیلی کا معیارِ زندگی پر منفی اثر پڑے گا۔ مطالعہ میں وارننگ دی گئی ہے کہ اگر موجودہ منظرنامہ جاری رہتا ہے، تو ان ہاٹ اسپاٹ کے لوگ بڑے اقتصادی جھٹکوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

ریوائٹلائزنگ رین فیڈ ایگریکلچر نیٹ ورک نے ۲۰۱۸ میں، ہندوستانی محکمہ موسمیات کے بارش کے اعداد و شمار کی بنیاد پر، مہاراشٹر کے بارے میں ایک فیکٹ شیٹ جمع کی۔ یہ بتاتی ہے: ایک، ودربھ کے تقریباً سبھی ضلعوں میں سال ۲۰۰۰ سے ۲۰۱۷ کے درمیان خشک دنوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہوا۔ دو: بارش کے دنوں میں کمی ہوئی، حالانکہ لمبے وقت تک سالانہ اوسط بارش تقریباً مستحکم رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس علاقے میں کچھ ہی دنوں میں اتنی بارش ہو رہی ہے – اور اس سے فصلوں کی افزودگی متاثر ہو رہی ہے۔

Many of Bhandara’s farms, where paddy is usually transplanted by July, remained barren during that month this year
PHOTO • Jaideep Hardikar
Many of Bhandara’s farms, where paddy is usually transplanted by July, remained barren during that month this year
PHOTO • Jaideep Hardikar

بھنڈارا کے بہت سے کھیت، جہاں عام طور پر جولائی میں دھان کی روپائی ہو جاتی ہے، اس سال اُس مہینے میں بنجر رہے

ایک اور مطالعہ، جسے ٹی آر آئی (دی اِنرجی اینڈ رِسورسز انسٹی ٹیوٹ) نے ۲۰۱۴ میں کیا تھا، کہتا ہے: ’’۱۹۰۱-۲۰۰۳ کی مدت کے بارش کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جولائی میں مانسون کی بارش کا حصہ [ریاست بھر میں] کم ہو رہا ہے، جب کہ اگست میں بارش بڑھتی جا رہی ہے... اس کے علاوہ، مانسون کے دوران انتہائی بارش کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور سے موسم کے پہلے نصف (جون اور جولائی) کے دوران۔‘‘

یہ مطالعہ، جس کا عنوان ہے، مہاراشٹر کے لیے ماحولیاتی تبدیلی کی ضرب پذیری اور توافق کی حکمت عملیوں کا تعین: ماحولیاتی تبدیلی کا مہاراشٹر ریاست توافق ایکشن پلان، ودربھ کے لیے اہم ضرب پذیریوں کو اس طرح نمایاں کرتا ہے، ’’لمبے خشک دن، حال ہی میں بارش کی تنوع پذیر میں اضافہ اور [بارش کی] مقدار میں کمی۔‘‘

یہ کہتا ہے کہ بھنڈارا ان ضلعوں کے گروپ میں شامل ہے جہاں انتہائی بارش میں ۱۴ سے ۱۸ فیصد (بیس لائن کے متناسب) اضافہ ہو سکتا ہے، اور مانسون کے دوران خشک دنوں کے بھی بڑھنے کا امکان ہے۔ مطالعہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ناگپور ڈویژن (جہاں بھنڈارا واقع ہے) کے لیے اوسط اضافہ (۲۷ء۱۹ ڈگری کے سالانہ اوسط درجہ حرارت پر) ۱ء۱۸ سے ۱ء۴ ڈگری تک (۲۰۳۰ تک)، ۱ء۹۵ سے ۲ء۲ ڈگری تک (۲۰۵۰ تک) اور ۲ء۸۸ سے ۳ء۱۶ ڈگری تک (۲۰۷۰ تک) ہوگا۔ یہ ریاست کے کسی بھی علاقے کے لیے اعلیٰ ترین ہے۔

بھنڈارا کے زرعی افسروں نے بھی بڑے پیمانے پر بارش پر منحصر اپنے ضلع میں ان ابتدائی تبدیلیوں کو دیکھا ہے جو اپنے روایتی تالابوں، ندیوں اور وافر بارش کے سبب سرکاری لٹریچر اور ضلع کی اسکیموں کو ابھی بھی ایک ’بہتر آبپاشی شدہ‘ علاقے کے طور پر درج فہرست کرتا ہے۔ ’’ہم ضلع میں بارش میں تاخیر کی ایک لگاتار فطرت دیکھ رہے ہیں، جو بوائی اور پیداوار کو نقصان پہنچاتی ہے،‘‘ بھنڈارا کے ڈویژنل زرعی نگرانی افسر، ملند لاڈ کہتے ہیں۔ ’’ہمارے پاس برسات کے ۶۰-۶۵ دن ہوا کرتے تھے، لیکن گزشتہ ایک دہائی میں، یہ جون-ستمبر کی مدت میں ۴۰-۴۵ تک نیچے آ گئی ہے۔‘‘ بھنڈارا کے کچھ علاقوں – مالیت والے ۲۰ گاؤوں کے گروپ – نے اس سال جون اور جولائی میں بارش کے مشکل سے ۶ یا ۷ دن ہی دیکھے، وہ بتاتے ہیں۔

’’اگر مانسون میں تاخیر ہوئی، تو آپ اچھی کوالٹی والے چاول نہیں اُگا سکتے،‘‘ لاڈ آگے کہتے ہیں۔ ’’دھان کی روپائی میں نرسری کی ۲۱ دنوں کی مدت کے بعد تاخیر ہونے پر پیداوار یومیہ فی ہیکٹیئر ۱۰ کلو کم ہو جاتی ہے۔‘‘

بیجوں کو چھینٹنے کا روایتی طریقہ – پہلے نرسری لگانے پھر پودوں کی روپائی کرنے کے بجائے مٹی میں بیج پھینکنا – ضلع میں تیزی سے لوٹ رہا ہے۔ لیکن روپائی کے طریقے کے برعکس چھینٹائی سے، نُمود کی کم شرح کے سبب اُپج خراب ہو سکتی ہے۔ پھر بھی، اگر پہلی بارشوں کے بغیر پودے نرسری میں نہیں اُگتے ہیں، تو پوری فصل کو کھونے کے بجائے، کسانوں کو چھینٹائی سے صرف جزوی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 Durgabai Dighore’s farm where transplantation is being done on borewell water.
PHOTO • Jaideep Hardikar

خریف کے موسم میں بھنڈارا کے زیادہ کھیتوں میں دھان رہتا ہے

’’دھان کو نرسری اور روپائی کے لیے جون-جولائی میں اچھی بارش کی ضرورت ہوتی ہے،‘‘ مشرقی ودربھ میں دیسی بیجوں کے تحفظ پر دھان کے کسانوں کے ساتھ کام کرنے والی ایک رضاکار تنظیم، گرامین یُوا پرگتِک منڈل، بھنڈارا کے صدر، اوِل بورکر کہتے ہیں۔ اور مانسون بدل رہا ہے، وہ نوٹ کرتے ہیں۔ چھوٹی تبدیلی سے لوگ نمٹ سکتے ہیں۔ ’’لیکن مانسون کی ناکامی – وہ اس سے نہیں نمٹ سکتے۔‘‘

*****

جولائی کے آخر میں، بھنڈارا میں بارش شروع ہو گئی ہے۔ لیکن تب تک دھان کی خریف کی بوائی متاثر ہو چکی ہے – جولائی کے آخر تک ضلع میں صرف ۱۲ فیصد ہی بوائی ہوئی تھی، بھنڈارا کے ڈویژنل زرعی نگرانی افسر، ملند لاڈ کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خریف میں بھنڈارا کی ۱ء۲۵ لاکھ ہیکٹیئر قابل کاشت زمین میں سے تقریباً سبھی پر دھان کا قبضہ ہے۔

بہت سے مال گزاری تالاب جو ماہی گیروں کو سہارا فراہم کرتے ہیں، وہ بھی خشک ہو چکے ہیں۔ گاؤوں والوں کے درمیان صرف پانی کی بات چل رہی ہے۔ کھیت اب روزگار کا واحد ذریعہ ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ مانسون کے پہلے دو مہینوں میں بھنڈارا میں بے زمینوں کے لیے کوئی کام نہیں تھا، اور اب بھلے ہی بارش ہونے لگی ہے، اس سے خریف کی روپائی کو ناتلافی نقصان پہنچا ہے۔

ایکڑ در ایکڑ آپ کو زمین کے خالی ٹکڑے دیکھنے کو ملتے ہیں – بھوری، جُتائی کی گئی مٹی، گرمی سے سخت ہو چکی اور نمی کی کمی، نرسری کے جلے ہوئے پیلے-ہرے پودوں کے ساتھ بیچ بیچ میں خالی، جہاں نُمو برباد ہو رہی ہے۔ کچھ نرسریاں جو ہرے رنگ کی نظر آ رہی ہیں، ان میں کھاد کی چھینٹائی کی گئی ہے جس سے پودے تیزی سے اُگ آئے ہیں۔

لاڈ کے مطابق، گرڈا اور راون واڈی کے علاوہ بھنڈارا کے دھرگاؤں سرکل کے تقریباً ۲۰ گاؤوں میں اس سال اچھی بارش نہیں ہوئی – اور گزشتہ چند سالوں میں بھی نہیں ہوئی تھی۔ بارش کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بھنڈارا میں جون سے ۱۵ اگست، ۲۰۱۹ تک ۲۰ فیصد کم بارش ہوئی، اور یہاں ۷۳۶ ملی میٹر کی جو کُل بارش درج کی گئی (اُس مدت کے ۸۵۲ طویل مدتی اوسط میں سے) وہ ۲۵ جولائی کے بعد ہوئی تھی۔ یعنی اگست کے پہلے پندرہ دنوں میں، ضلع نے ایک بڑی کمی کی تلافی کر لی۔

اس کے علاوہ، یہ بارش بھلے ہی غیر یکساں رہی، ہندوستانی محکمہ موسمیات کے سرکل وار اعداد و شمار دکھاتے ہیں: شمال میں، تُمسر میں اچھی بارش ہوئی؛ وسط میں، دھرگاؤں میں کمی دیکھی گئی؛ اور جنوب میں، پَوَنی کو کچھ اچھی بارش ملی۔

Maroti and Nirmala Mhaske (left) speak of the changing monsoon trends in their village, Wakeshwar
PHOTO • Jaideep Hardikar
Maroti working on the plot where he has planted a nursery of indigenous rice varieties
PHOTO • Jaideep Hardikar

ماروتی اور نرملا مہسکے (بائیں) اپنے گاؤں واکیشور میں بدلتے مانسون کے رحجان کی بات کرتے ہیں۔ ماروتی زمین کے اُس ٹکڑے پر کام کر رہے ہیں جہاں انہوں نے چاول کی دیسی قسموں کی نرسری لگائی ہے

حالانکہ، محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار زمینی لوگوں کے باریک مشاہدوں کی عکاسی نہیں کرتے: کہ بارش تیزی سے آتی ہے اور بہت ہی کم وقت کے لیے آتی ہے، کبھی تو کچھ ہی منٹوں کے لیے، حالانکہ بارش کو ناپنے والے اسٹیشن پر پورے ایک دن کی بارش رجسٹر کی جاتی ہے۔ متعلقہ درجہ حرارت، گرمی یا نمی کے بارے میں گاؤں کی سطح کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

۱۴ اگست کو، ضلع کلکٹر ڈاکٹر نریش گیتے نے بیمہ کمپنی کو حکم دیا کہ وہ ان سبھی کسانوں کو معاوضہ دے، جنہوں نے اس سال اپنی ۷۵ فیصد زمین پر بوائی نہیں کی ہے۔ ابتدائی تخمینوں میں کہا گیا کہ ایسے کسانوں کی تعداد ۱ء۶۷ لاکھ، اور بغیر بوائی والے کھیت ۷۵۴۴۰ ہوں گے۔

ستمبر تک، بھنڈارا نے ۱۲۳۴ء۴ ملی میٹر بارش (جون سے شروع کرکے) یا اس مدت کے لیے اپنے طویل مدتی سالانہ اوسط کا ۹۶ء۷ فیصد (۱۲۸۰ء۲ ملی میٹر) درج کیا تھا۔ اس میں سے زیادہ تر بارش اگست اور ستمبر میں ہوئی تھی، جب جون-جولائی کی بارش پر منحصر خریف کی بوائی پہلے ہی متاثر ہو چکی تھی۔ بارش نے راون واڈی، گرڈا جنگلی اور واکیشور کے مال گزاری تالابوں کو بھر دیا۔ کئی کسانوں نے اگست کے پہلے ہفتے میں پھر سے بوائی کی کوشش کی، کچھ نے جلدی اُپج دینے والی قسموں کے بیج کی چھینٹائی کرکے۔ حالانکہ پیداوار کم ہو سکتی ہے، اور فصل کٹائی کا موسم ایک مہینہ آگے، نومبر کے آخر تک، بڑھ سکتا ہے۔

*****

واپس جولائی میں، ۶۶ سالہ ماروتی اور ۶۲ سالہ نرمل مہسکے پریشان ہیں۔ غیر یقینی بارش کے ساتھ جینا مشکل ہے، وہ کہتے ہیں۔ لمبے عرصے تک ہونے والی بارش کے پہلے پیٹرن – جو لگاتار ۴ یا ۵ دنوں تک یا ۷ دنوں تک ہوتی تھی، اب موجود نہیں ہے۔ اب، وہ کہتے ہیں، بارش تیزی سے ہوتی ہے – کچھ گھنٹوں کے لیے بھاری بارش ہوتی ہے اور پھر بیچ بیچ میں خشک اور گرمی والے لمبے دن ہوتے ہیں۔

تقریباً ایک دہائی تک، انہوں نے مرگ نکشتر، یا جون کی شروعات سے جولائی کی شروعات تک، اچھی بارش کا مشاہدہ نہیں کیا۔ یہی وہ وقت ہوتا تھا، جب وہ اپنی دھان کی نرسری کی بوائی کرتے تھے اور ۲۱ دن کے پودے کی روپائی پانی میں ڈوبے ہوئے کھیتوں پر کرتے تھے۔ اکتوبر کے آخر تک، ان کا دھان کٹائی کے لیے تیار ہو جایا کرتا تھا۔ اب، وہ فصل کی کٹائی کے لیے نومبر تک اور کبھی کبھی دسمبر تک انتظار کرتے ہیں۔ دیر سے ہوئی بارش فی ایکڑ پیداوار کو متاثر کرتی ہے اور لمبی مدت کی اعلیٰ کوالٹی والی چاول کی قسموں کی کھیتی کے ان کے متبادل کو محدود کر دیتی ہے۔

’’اس وقت [جولائی کے آخر تک] ہم اپنی روپائی کو پورا کر لیتے تھے،‘‘ نرملا کہتی ہیں، جب میں نے ان کے گاؤں، واکیشور کا دورہ کیا تھا۔ بہت سے دیگر کسانوں کی طرح، مہسکے فیملی بھی بارش کا انتظار کر رہی ہے تاکہ پودوں کی روپائی ان کے کھیت پر کی جا سکے۔ دو مہینوں کے لیے، عملی طور پر ان سات مزدوروں کے لیے کوئی کام نہیں تھا جو ان کی زمین پر کام کرتے ہیں، وہ بتاتے ہیں۔

مہسکے فیملی کا پرانا گھر ان کے دو ایکڑ کے کھیت پر بنا ہے، جہاں وہ سبزیاں اور دھان کی مقامی قسمیں اُگاتے ہیں۔ فیملی کے پاس ۱۵ ایکڑ زمین ہے۔ ماروتی مہسکے کو اپنے گاؤں میں، فصل کی اپنی محتاط منصوبہ بندی اور اعلیٰ پیداوار کے لیے جانا جاتا ہے۔ لیکن بارش کے پیٹرن میں تبدیلی، اس کی اُگنے کی غیر یقینیت، اس کے غیر یکساں پھیلاؤ نے انہیں پریشانی میں ڈال دیا ہے، وہ کہتے ہیں: ’’آپ اپنی فصل کا منصوبہ کیسے بنائیں گے اگر آپ کو یہ نہیں معلوم کہ کب اور کتنی بارش ہوگی؟‘‘

موسمیاتی تبدیلی پر پاری کی ملک گیر رپورٹنگ، عام لوگوں کی آوازوں اور زندگی کے تجربہ کے توسط سے اس واقعہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے یو این ڈی پی سے امداد شدہ پہل کا ایک حصہ ہے۔

اس مضمون کو شائع کرنا چاہتے ہیں؟ براہِ کرم [email protected] کو لکھیں اور اس کی ایک کاپی[email protected]  کو بھیج دیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jaideep Hardikar

جے دیپ ہرڈیکر ناگپور میں مقیم صحافی اور قلم کار، اور پاری کے کور ٹیم ممبر ہیں۔

Other stories by Jaideep Hardikar