لمبی دوری تک دوڑنے والی (دوڑیہ)، ۲۵ سالہ للیتا بابر نے ایک جوڑی جوتے پہلی بار تب خریدے تھے، جب ۲۰۰۵ میں دوڑ کے ایک قومی مقابلے میں ان کو ننگے پاؤں دوڑنے سے منع کر دیا گیا تھا۔ وہ ستارا ضلع، جہاں ان کی پیدائش و پرداخت ہوئی تھی، میں جوتے کی ایک دکان پر گئیں۔ تب انھیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ایتھلیٹس کس برانڈ کے جوتے پہنتے ہیں، لہٰذا انھوں نے ۱،۲۰۰ روپے میں ایک جوڑی عام جوتے خریدے، جو اُن کی جیب پر بھاری پڑا۔

’’میں نے ایڈی ڈاس، پیوما اور ریبوک کا نام تک نہیں سنا تھا۔ مجھے وہ جوتے اب بھی یاد ہیں۔ وہ ایک لوکل کمپنی، پاما کے جوتے تھے۔ بہت بعد میں جاکر میں نے دوڑ کے لیے فِٹ، برانڈیڈ جوتے خریدنے شروع کیے،‘‘ بابر نے کہا، جنھوں نے کامیابی کے ساتھ اتوار کو (جنوری ۲۰۱۴ میں) ممبئی میراتھن میں ہیٹرک ٹائٹل حاصل کیے۔ انھوں نے ہندوستان کی خواتین ایتھلیٹس کے درمیان ۲ گھنٹے ۵۰ منٹ ۳۱ سیکنڈ کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔ لیکن ایک دن بعد، جب وہ مبارکبادیوں اور پیغامات کا جواب دے رہی تھیں، تب ان کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ ذلت و دکھ کو بیان کرتا ہے۔ وہ انعام کے پیسے کو اپنے سب سے چھوٹے بھائی کی تعلیم پر خرچ کرنا چاہتی ہیں۔

للیتا کی پیدائش ستارا ضلع کے قحط زدہ تعلقہ مان کے موہی گاؤں میں کسان فیملی میں ہوئی، اس لیے محنت کرنا ان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن ان کے والدین نے اس ابھرتی ہوئی کھلاڑی کے راستے میں آنے والی ہر پریشانی کو دور کرنے کی پوری کوشش کی۔ ’’میرے والدین نے بھوک کی تکلیف برداشت کی، تاکہ میری طاقت میں کوئی کمی نہ آئے،‘‘ بابر نے بتایا، جو چار بھائی بہنوں میں سب سے بڑی ہیں۔

دوڑنے کی شروعات انھوں نے چھوٹی عمر سے ہی کر دی تھی، جب وہ اپنے گھر سے چار کلومیٹر دور واقع اسکول دوڑتے ہوئے جایا کرتی تھیں۔ ’’شروع سے ہی میری دلچسپی کھیل میں تھی۔ پہلے میں کھوکھو کھیلا کرتی تھی، لیکن پھر انفرادی کھیل کی طرف راغب ہونے لگی۔ مجھے گھر سے اسکول اور اسکول سے گھر دوڑتے ہوئے جانا پسند تھا۔ میرے والدین سیدھے سادے انسان ہیں، جو کھیل کے بارے میں بہت زیادہ نہیں جانتے تھے۔ لیکن میرے والد کے بھائی نے میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے ٹریننگ دینی شروع کی،‘‘ انھوں نے بتایا۔

بابر نے ایتھلیٹکس کی شروعات اسکول سے کی، پھر ضلع، ریاست اور قومی سطح تک پہنچیں۔ انھوں نے پہلا گولڈ میڈل سال ۲۰۰۵ میں اَنڈر۔۲۰ قومی مقابلے میں پُنے میں جیتا۔ تبھی انھیں انڈین ریلویز کی طرف سے ٹکٹ چیکر کی نوکری کی پیشکش کی گئی۔ ’’ایک اچھی نوکری کا مطلب ہے اچھی آمدنی گھر بھیجنے کے لیے،‘‘ بابر کہتی ہیں، جو ۲۰۰۶ سے ہی بنگلورو نیشنل کیمپ میں ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں۔ اس سال ان کی نظر کامن ویلتھ اور ایشیائی کھیلوں پر لگی ہوئی ہے۔

ان کی چھوٹی بہن جے شری، جو ایک کانسٹیبل کے طور پر ممبئی ریلویز میں کام کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ ان کی بہن ہمیشہ حوصلے کا باعث رہی ہیں۔ ’’میں جب اپنی بہن کے بارے میں سوچتی ہوں، تو اپنے ذہن میں انھیں میں دوڑتی ہوئی دیکھتی ہوں۔ ان کو دیکھ دیکھ کر میری دلچسپی بھی کھیلوں میں بڑھنے لگی۔ میں پولس فورس کے ذریعے منعقد کیے جانے والے سبھی مقابلوں میں حصہ لیتی ہوں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔

للیتا کے والدین کھیت پر کام کرتے ہیں۔ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ اپنی بیٹی کو دنیا کے مختلف حصوں میں کھیلتے ہوئے اور میڈل جیتتے ہوئے وہاں جاکر دیکھ سکیں۔ ’’لیکن وہ مجھے ٹیلی ویژن پر ضرور دیکھتے ہیں۔ میری ماں نے اخباروں کی سبھی کٹنگ جمع کر رکھی ہیں۔ میں ڈیڑھ سال یا کم و بیش اتنی ہی مدت میں صرف ایک بار گھر جا پاتی ہوں، جہاں مجھے کچھ ہی دن ٹھہرنے کا موقع ملتا ہے۔ وہاں جاکر، میں اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارنے کی کوشش کرتی ہوں، لیکن گاؤں کا ہر آدمی مجھ سے ملنا چاہتا ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔


02-IMG_20140120_163733-ST-Village girl’s golden run goes on at Mumbai Marathon.jpg

ممبئی میراتھن میں ۲۰۱۴ میں گولڈ میڈل جیتنے کے دو دنوں کے اندر، للیتا بابر گھاٹ کوپر ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ کلکٹر کی اپنی نوکری پر واپس آ چکی تھیں


اَپڈیٹ

۲۰۱۶ رِیو اولمپکس کے لیے رواں: جون ۲۰۱۵ میں، للیتا بابر نے چین کے وُہان میں منعقدہ ایشین چمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیتا تھا اور ساتھ ہی اسٹیپل چیز چمپئن شپ میں 9:34.13 کا نیا ریکارڈ بھی بنایا تھا۔ انھوں نے ۲۰۱۶ رِیو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیا۔ تاہم، یہ فیصلہ ہونا اب بھی باقی ہے کہ آیا وہ اسٹیپل چیز دوڑیں گی یا میراتھن۔ انھوں نے دونوں کے لیے ہی کوالیفائی کر رکھا ہے۔ بیجنگ میں اگست ۲۰۱۵ میں منعقد ہونے والی ۱۵ویں انٹرنیشنل ایسو سی ایشن آف ایتھلیٹکس فیڈریشن ورلڈ چمپئن شپ میں انھوں نے آٹھواں رینک ملا تھا، اور انھوں نے چمئپن شپ کے فائنل راؤنڈ میں پہنچنے والی پہلی ہندوستانی ٹریک ایتھلیٹ بن کر تاریخ بھی رقم کی تھی۔

 

یہ مضمون سب سے پہلے دی ہندو اخبار میں ۲۲ جنوری، ۲۰۱۴ کو شائع ہوا تھا۔

 

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Sukhada Tatke

سُکھدا ٹٹکے ہوسٹن، ٹیکساس میں مقیم ایک فری لانس جرنسلٹ ہیں۔ وہ پہلے ممبئی میں ٹائمز آف انڈیا اور دی ہندو کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔ ان کے مضامین ٹیکساس منتھلی، ہوسٹن کرونیکل، اور اسکرول ڈاٹ اِن وغیرہ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ آپ مضمون نگار سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @ASuitableGirl

Other Stories by Sukhada Tatke