مگالو (ہاتھ سے چلائے جانے والے کرگھے) کی ’ٹک ۔ ٹک‘ آوازوں کو صاف سُنا جا سکتا ہے جب ہم ہفتہ کی ایک دوپہر کو پیڈانا کی رام لکشمی بنکر کالونی کے قریب پہنچتے ہیں۔ تقریباً ۱۴۰ کنبے یہاں رہتے اور کام کرتے ہیں، ایسا یہاں کے باشندوں کا اندازہ ہے۔ زیادہ تر بنکر ۶۰ سال کے ہیں۔ ہمیں دیکھ کر کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہوئی کہ ہم سرکاری اہل کار ہیں جو اُن کے ل یے ماہانہ ایک ہزار روپے کا پنشن لے کر آئے ہیں۔ انھیں یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ میں ایک رپورٹر ہوں۔

’’نوجوان لوگ ذریعہ معاش اور کام کی تلاش میں باہر جا چکے ہیں،‘‘ ۷۳ سالہ ویدومتلا کوٹا پائیلیہ میرے اس سوال کے جواب میں اپنے مگم (ایک لوم) پر کام کرتے ہوئے دیتے ہیں، جب میں نے ان سے سوال کیا کہ اتنے سارے بنکر بزرگ کیوں ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ زیادہ تر نوجوان پیڈانا کے آس پاس اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرس، ماچلی پٹنم میں زرعی یا تعمیراتی مزدور ہیں۔

پائیلیہ کا بڑھاپے کا پنشن، حالانکہ بہت کم ہے، لیکن ان کی بیوی کے پنشن کو ملا کر اس سے ان کا گھر چل جاتا ہے۔ بُنائی سے ہونے والی ان کی آمدنی ناکافی ہے، ایک دن میں وہ صرف ۱۰۰ روپے کماتے ہیں۔ ’’اگر میں ایک ساڑی کو مکمل کرنے کے لیے لگاتار تین دنوں تک ۱۰ سے ۱۲ گھنٹے کام کروں، تو ۳۰۰ سے ۴۰۰ روپے کما سکتا ہوں۔ میں اسے (پیڈانا میں) استاد بُنکروں کی دکان پر بیچتا ہوں، جو ہر ایک ساڑی کو بیچ کر ۶۰۰ سے ۷۰۰ روپے کا منافع کماتے ہیں۔ صرف بُنائی کرنے سے اب ہمارا گزر بسر نہیں ہوگا ۔۔۔‘‘


02-IMG_20160903_125917_HDR-RM-A muted ‘maggam’, a bleeding block print.jpg

ویدومتلا کوٹا پیلیہ، ۷۳، رام لکشمی بنکر کالونی کے اپنے دو کمروں والے گھر میں اپنے مگم پر کام کر رہے ہیں


پیلیہ کہتے ہیں کہ پاورلوم پروڈکٹس کی وجہ سے ہاتھ سے بُنے کپڑوں کی ڈیمانڈ تیزی سے گھٹ رہی ہے۔ ’’اس لیے نوجوان ایسی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں، جس سے انھیں اپنا گھر چلانے میں مدد مل سکے۔ اگر ہماری عمر ہمارا ساتھ دیتی، تو ہم بھی کام کی تلاش میں باہر نکل چکے ہوتے۔ لیکن مجھے کوئی دوسرا کام نہیں آتا ۔۔۔۔‘‘

پیڈانا قصبہ آندھرا پردیش کے کرشنا ضلع کے مچالی پٹنم ساحلی شہر سے تقریباً ۱۰ کلومیٹر دور ہے۔ یہ دو صنعتوں کا گہوار ہے ۔ ہینڈلوم بُنائی اور قلم کاری بلاک پرنٹنگ۔ یہاں کی ہینڈلوم سوتی ساڑیاں زیادہ دنوں تک چلنے اور اپنی بناوٹ کی وجہ سے کافی مشہور ہیں، جب کہ پاورلوم سے بنی سوتی ساڑیوں پر قلم کاری پرنٹس اپنے انوکھے رنگ اور ڈیزائن کی وجہ سے مشہور ہیں۔

آندھرا پردیش کے کل ۳۶۰۰۰۰  ہینڈلوم ورکروں (ریاست کے ڈپارٹمنٹ آف ہینڈلومس اینڈ ٹیکسٹائلس کے مطابق) میں سے تقریباً ۵ ہزار سے ۱۰ ہزار بُنکر پیڈانا میں رہتے ہیں۔ کوٹھا پَلّی ییلا راؤ، ۸۵، انہیں میں سے ایک ہیں، جو اُن چند لوگوں میں سے ہیں جو اَب بھی ’اچھو‘ پر کام کرتے ہیں۔ اچھو ایک پروسیس ہے جس کے ذریعے دھاگوں کو آپس میں جوڑا جاتا ہے، ایک ایک کرکے، تاکہ اس سے فیبرک بنایا جا سکے۔ کپڑا بنانے کے لیے بعد میں اسے مگم سے گزارا جاتا ہے۔ یہاں کے دیگر بہت سے لوگوں کی طرح ہی، ییلا راؤ بھی ۱۹۶۰ کی دہائی میں اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ مشرقی گوداوری ضلع سے ہجرت کرکے پیڈانا آگئے تھے۔ وہ اپنی فیملی کے آخری آدمی ہیں، جو گزربسر کے لیے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے بیٹے کنسٹرکشن ورکرس ہیں، ان کے پوتے الیکٹریشین ہیں۔


03-RM-A muted ‘maggam’, a bleeding block print.jpg

کوٹھا پلّی ییلا راؤ، ۸۵، (جو اوپر کی تصویر میں ہیں) پیڈانا کے ان چند لوگوں میں سے ہیں جو اب بھی اچھو (بائیں) پر کام کر رہے ہیں، اس پروسیس میں فیبرک بننے کے لیے فریم کا استعمال ہوتا ہے؛ چند دنوں قبل انھوں نے لکڑی کا چرخہ (دائیں) استعمال کرنا چھوڑ دیا تھا 


میرے سوالوں کے جواب میں ان کا رد عمل عالمانہ ہے، وہ جواب دیتے وقت اکثر شروع میں ۱۷ویں صدی کے تیلگو شاعر، ویمان کے اشعار پڑھتے ہیں۔ ’’میں نے زمین کا یہ چھوٹا ٹکڑا ۱۹۷۰ میں ۳۰۰ روپے میں خریدا تھا۔ اس وقت میں ایک روپیہ ہاؤس ٹیکس کے طور پر دیا کرتا تھا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’اب میں، ۸۴۰ روپے ادا کرتا ہوں۔ سال ۱۹۷۰ میں روزانہ ایک روپے سے کم کماتا تھا۔ اب میں روزانہ ۱۰۰ روپے سے کم کماتا ہوں۔ آپ خود ہی حساب لگا لیجئے ۔۔۔‘‘

ہینڈلوم انڈسٹری چونکہ زوال کی شکار ہے، اس لیے بُنائی کا کام چھوڑنے والے مزدوروں کے لیے اب ترجیحی کام قلم کاری ہو گیا ہے۔ پیڈانا کے زیادہ تر قلم کاری ورکرس سابق بنکر ہیں ۔ ان میں سے زیادہ تر کا کہنا ہے کہ وہ کھیتی اور عمارتوں کی تعمیر کے بجائی قلم کاری کو اس لیے ترجیح دے رہے ہیں، کیوں کہ انھیں اس آرٹ اور بُنائی اور قلم کاری کے کاموں پر فخر ہے۔


04-IMG_20160903_152907_HDR-RM-A muted ‘maggam’, a bleeding block print.jpg

قلم کاری پرنٹس کو خوبصورت رنگ اور بناوٹ عطا کرنے کے لیے فیبرِک کو کچھی پتیوں کے ساتھ اُبلے پانی میں ڈبویا جاتا ہے 


آندھرا پردیش میں پرنٹنگ کی اس شکل کے دو مراکز میں سے ایک پیڈانا ہے؛ دوسرا مرکز چتور ضلع کے سری کلا ہستی میں ہے۔ یہاں کے لوگوں کا اندازہ ہے کہ تقریباً ۱۵ ہزار سے ۲۰ ہزار قلم کاری ورکرس پیڈانا میں رہتے ہیں۔ ان نمبروں کی تصدیق کرنا مشکل ہے، کیوں کہ اس شہر کے بنکروں اور پرنٹروں کے پاس اب بھی ریاستی حکومت کے ذریعے جاری کردہ آرٹسٹ شناختی کارڈ نہیں ہیں۔ ان کارڈوں سے انھیں یونین بنانے، قرض لینے، اور سرکاری اسکیموں اور فنڈس تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

یہاں کے ورکرس کہتے ہیں کہ پیڈانا کی قلم کاری اور ہینڈلوم صنعتیں آزادی سے پہلے کی ہیں۔ سال ۲۰۱۳ میں، ریاستی حکومت نے قلم کاری کو ’جغرافیائی نشان‘ (جی آئی) تک عطا کیا تھا ۔ کسی سامان پر جی آئی نشان کا مطلب ہے  کہ اس کی کوئی مخصوص بنیاد ہے، اور اسی بنیاد کی وجہ سے اس کے اندر خصوصیات موجود ہیں اور اسے شہرت حاصل ہے۔ (حالانکہ جی آئی نے نقلی قلم کاری ساڑیوں کو بھی جنم دیا ہے، اور اس نے اصلی قلم کاری ساڑیوں کی شناخت پر برا اثر ڈالا ہے)۔

پیڈانا میں قلم کاری شیڈس کے مالکان پاس کے مچالی پٹنم کے ہول سیلرس سے پاورلوموں سے بنی ساڑیاں بڑی تعداد میں لاتے ہیں۔ وہ جن ورکروں سے کام کرواتے ہیں، وہ لکڑی کے بلاکس اور چمکیلے قدرتی رنگوں کے استعمال سے مختلف قسم کے پرنٹس بناتے ہیں، پھول پتیوں سے لے کر مذہبی قسم تک کے۔ پاورلوم پرنٹیڈ یہ ساڑیاں پیڈانا میں زیادہ محنت سے ہینڈلوموں سے تیار کی گئی ساڑیوں کے مقابلے سستی ہوتی ہیں۔ ماسٹر بنکروں کی مقامی دکانوں پر ان میں سے ہر ایک کو تقریباً ۵۰۰ روپے میں بیچا جاتا ہے۔


05-RM-A muted ‘maggam’, a bleeding block print.jpg

قلم کاری کے ڈیزائن، لکڑی کے ان بلاکس اور چمکیلے قدرتی رنگوں سے تیار کیے جاتے ہیں 


یہاں کی اکثریتی ذات، دیونگی سے تعلق رکھنے والے ۵۳ سالہ دائیواپو کوٹیشور راؤ مغربی گوداوری ضلع سے پیڈانا آئے تھے۔ وہ ۱۹۷۴ سے بُنائی کر رہے ہیں، لیکن انھوں نے جتنا پیسہ کمایا اس سے اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کی مدد نہیں کر سکے۔ انھوں نے ۱۹۸۸ میں بُنائی کا کام چھوڑ دیا اور ۱۰ روپے روزانہ کی اجرت پر ایک دوسرے دیونگی کی قلم کاری شیڈ کو جوائن کر لیا۔ اب یہ اجرت بڑھ کر ۳۰۰ روپے ہو چکی ہے۔

چونکہ یہاں کے زیادہ تر مرد کام کے لیے دوسرے قصبوں اور شہروں کی طرف ہجرت کر چکے ہیں، اس لیے قلم کاری ورکشاپوں میں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ ۳۰ سالہ پدما لکشمی حال ہی میں بیوہ ہوگئیں۔ ان کی دو بیٹیاں اسکول جاتی ہیں، ایک پانچ سال کی ہے اور دوسری چھ سال کی۔ یہ اب اپنی بیوہ ماں کے ساتھ رہتی ہیں، جو ایک بڈّی کوٹّو چلاتی ہیں، یہ ایک چھوٹی دکان ہے جس میں مٹھائیاں، سگریٹ، پان اور دیگر سامان فروخت ہوتے ہیں۔


06-IMG_20160903_154601_HDR-RM-A muted ‘maggam’, a bleeding block print.jpg

پیڈانا کے ایک ورکشاپ میں قلم کاری کے آرٹسٹ بلاک پرنٹس بنا رہے ہیں 


لکشمی کے والدین ۵۰ سال پہلے مشرقی گوداوری ضلع سے ہجرت کرکے آئے اور یہ ۱۲ سال کی عمر سے ہی قلم کاری کا کام کر رہی ہیں۔ ’’تب روزانہ کی مزدوری ۴۰ روپے ہوا کرتی تھی۔ اب میں صرف ۲۰۰ روپے کماتی ہوں، ۱۸ سال کے بعد بھی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’مرد جو مجھ سے کم تجربہ کار ہیں انھیں ۳۰۰ روپے یا اس سے زیادہ ملتے ہیں۔ ہم جب مالکوں سے پوچھتے ہیں، تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ مردوں کے مقابلے عورتیں کم کام کرتی ہیں۔ لیکن ہم عورتیں ان سے زیادہ نہیں تو ان کے برابر ہی کام کرتی ہیں۔ میں ایک مہینہ میں ۳۵۰۰ سے ۴۰۰۰ روپے سے زیادہ نہیں کما پاتی۔ ہم میں سے زیادہ تر کو نہایت اعلیٰ شرحِ سود پر ساہوکاروں سے پیسے قرض لینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔‘‘

پیڈانا کے قلم کاری ورکرس کا اپنا کوئی مزدور یونین نہیں ہے۔ (ہینڈلوم ورکرس کی ایک یونین تھی، لیکن اس کے ممبر پھیلے ہوئے تھے)۔ یونین بنانے کی ان کی کوششوں کی مخالفت قلم کاری دکانوں کے مالکوں کی طرف سے ہوئی، بعض دفعہ تشدد اور پیسے کے سہارے، ایسا ان کا کہنا ہے۔ ’’حکومت کو کم از کم تمام قلم کاری ورکرس اور ہینڈلوم بنکروں کو آرٹسٹ شناختی کارڈ جاری کرنا چاہیے،‘‘ قلم کاری ورکر، ۴۰ سالہ رودراکشولو کہتے ہیں، جو اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے کبھی کبھار بنائی بھی کر لیتے ہیں۔ ’’اس سے ہمیں خود کو منظم کرنے اور اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے میں مدد ملے گی۔‘‘


07-IMG_20160903_131115_HDR-RM-A muted ‘maggam’, a bleeding block print.jpg

بارش کے دن سنسان ایک قلم کاری ورک شیڈ: کام صرف دھوپ کے دن ہی ممکن ہوتا ہے، کیوں کہ خشک کرنے کا عمل بلاک پرنٹنگ پروسیس کا ایک اہم حصہ ہے 


ریاستی حکومت نے کئی بار بنکروں سے یہ وعدہ کیا کہ وہ ان کے روایتی آرٹ کو زندہ کرے گی۔ اسی قسم کا ایک وعدہ مئی ۲۰۱۴ میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے وقت کیا گیا تھا کہ ہینڈلوم لون معاف کر دیا جائے گا۔ لیکن پیڈانا کے بنکروں کے لیے آندھرا پردیش حکومت کے ذریعے مجموعی طور پر جو ۱۱۱ کروڑ منظور کیے گئے تھے، اس میں سے صرف ڈھائی کروڑ روپے کا قرض معاف کیا گیا۔

سال ۲۰۱۴ میں، بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے ان روایتی آرٹس کے تحفظ کے لیے بنیادی ڈھانچہ اور ٹکنالوجی تیار کرنے کے لیے ایس ایف یو آر ٹی آئی (اسکیم آف فنڈ فار ری جنریشن آف ٹریڈیشنل انڈسٹریز) کی شروعات کی تھی، پیڈانا کی ہینڈلوم انڈسٹری کے لیے (ہر ضلع میں دو کلسٹر منتخب کیے گئے تھے)۔ یہ اسکیم نوکرشاہی کے جھمیلوں میں پھنسی ہوئی ہے۔

ماسٹر بنکر، پیچوکر بھیمالنگم، ۷۳، جو پیڈانا ہینڈلوم ویورس اینڈ قلم کاری آرٹسٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سابق اہل کار ہیں، کہتے ہیں، ’’استاد بنکر اب پوری طرح خوشحال ہیں۔ دستکاروں اور کاریگروں کی حالات خستہ ہے، جن کی طرف ریاستی حکومت کو دھیان دینا چاہیے۔ حکومت کو اپنے سبھی وعدے پورے کرنے چاہئیں، اسے ایک ہینڈلوم انسٹی ٹیوٹ قائم کرنا چاہیے اور تمام ضروری فنڈس جاری کرنے چاہئیں۔ وہ یہ کام تمام کاریگروں کو شناختی کارڈ جاری کرکے شروع کر سکتی ہے، جس سے انھیں اپنے مالکوں سے اچھی مزدوری حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘

تب تک، پیڈانا کا مگم دھیمی رفتار سے چل رہا ہے، جب کہ قلم کاری کے دستکار لکڑی کے اپنے پرنٹنگ بلاکس کے ساتھ جدو جہد کر رہے ہیں۔

تصویریں: راہل ماگنتی

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Rahul Maganti

راہل مگنتی آندھرا پردیش کے وجیہ واڑہ میں مقیم ایک آزاد صحافی ہیں۔

Other stories by Rahul Maganti