/media/uploads/Articles/P. Sainath/Death of a carpenter/death_of_a_carpenter_1.jpg


مُکُند پورم (نلگونڈا، آندھرا پردیش)

تین سالوں میں کسی نے بھی ہل بنانے کا آرڈر نہیں دیا تھا۔ نہ ہی کسی نے کلہاڑی اور پھاوڑا بنانے کو کہا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسانوں کے لیے اوزار اور آلات بنانے والے بنگارو رام چاری مشکل میں تھے۔ وہ برسوں تک مکند پورم کے بڑھئی تھے۔ ان کے پاس نہ تو کھیت تھا اور نہ ہی مویشی، وہ کسان بھی نہیں تھے۔ لیکن ان کی خوشحالی اس بات پر منحصر تھی کہ نلگونڈا کے اس گاؤں میں کھیتی کیسی چل رہی ہے۔

’’جب کھیتی کی حالت خراب ہوتی ہے،‘‘ یہاں کے ایک سیاسی کارکن، ایس شری نواس کہتے ہیں، ’’تو سب کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔ صرف کسان ہی اس سے متاثر نہیں ہوتے۔ رام چاری کی حالت بہت خراب تھی۔ ان کی موت بھوک سے ہوئی۔ اس گاؤں میں جو ناگارجن ساگر پروجیکٹ کی بائیں نہر کے کنٹرول والے علاقے میں پڑتا ہے۔ جہاں پہلے برسوں تک اچھی کھیتی ہوا کرتی تھی۔

اس زرعی بحران کے اثرات صرف کسانوں تک ہی محدود نہیں ہیں، بلکہ دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ برتن ساز، چمڑے کا کام کرنے والے، بڑھئی اور غیر زرعی کام کرنے والے دیگر بہت سے لوگ اس زرعی بحران کی چپیٹ میں آئے ہیں، جس کی وجہ سے ریاست کے کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اس شعبہ کے نازک اور پرانے رشتے اب شدید تناؤ کے دور سے گزر رہے ہیں۔

’’اس وقت میں دور تھی، وجے واڑہ کی ایک چپل کمپنی میں کام کر رہی تھی،‘‘ رام چاری کی بیوہ، ارونا بتاتی ہیں۔ ووڈرنگی (بڑھئی) ذات کی عورتیں عموماً کام کی تلاش میں ہجرت نہیں کرتیں۔ ’’میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’میں پہلے کبھی مہاجر مزدور نہیں تھی۔ لیکن یہاں پر کام ملنے کی کوئی امید نہیں تھی۔‘‘ اس لیے وہ ایک ماہ قبل ہی اپنے تین بچوں کو شوہر کے پاس چھوڑ کر چلی گئیں۔

’’رام چاری کے ۴۰ گاہک ہوا کرتے تھے،‘‘ شری نواس بتاتے ہیں۔ ’’وہ انھیں مزدوری کے بدلے دھان دیتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک نے انھیں سال میں ۷۰ کلوگرام دھان دیے۔‘‘ اس طرح سے انھیں جو ۲۸۰۰ کلو ملے، اس میں سے انھوں نے اپنی فیملی کی ضرورت کے حساب سے نکال لیا اور باقی کو بازار میں بیچ دیا۔ ’’۷۰ کلو کے انھیں ۲۵۰ روپے مل سکتے تھے۔ یاد رہے کہ یہ دھان تھا، چاول نہیں۔ ’’پھر بھی، ان کی فیملی کو جتنی ضرورت تھی اسے نکالنے کے بعد، وہ اس طریقے سے ایک سال میں ۴۰۰۰ روپے کما سکتے تھے۔‘‘

ان کے پاس پہلے اس سے بھی زیادہ گاہک ہوا کرتے تھے، لیکن پریشانیاں اس وقت شروع ہوئیں، جو کمائی کا موسم ہوتا ہے۔ گاؤں میں ۱۲ ٹریکٹروں کے آنے سے کام کم ہونے لگا۔ ’’یہ ان کو نقصان پہنچاتا ہے جو ہاتھ سے کام کرتے ہیں،‘‘ کے لِنگیّہ کہتے ہیں۔ اس کے بعد ہی اُن جیسے دوسرے بے زمین مزدوروں کی حالت خراب ہونے لگی۔ رام چاری کے لیے یہ ایک بڑا دھچکہ تھا۔ لیکن وہ اپنے کام میں لگے رہے، اور کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح زندگی چلتی رہے۔ ’’ان کے پاس کوئی اور ہنر نہیں تھا،‘‘ ارونا بتاتی ہیں۔ انھوں نے پانچویں کلاس تک پڑھائی کر رکھی تھی، جب کہ ارونا چوتھی کلاس پاس ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Death of a carpenter/death_of_a_carpenter_2.jpg


ٹریکٹر تو صرف شروعات تھی۔  ۱۹۹۰ کی دہائی میں زرعی شعبہ میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوئی، نہ تو سرکاری اور نہ ہی پرائیویٹ۔ فصلوں کی بربادی نے اسے اور خستہ کر دیا۔ کسانوں کے پاس پیسے ہی نہیں تھے، اس لیے وہ اپنے پرانے اوزاروں اور آلات سے ہی کام چلانے لگے۔ رام چاری کے لیے یہ ایک بڑی تباہی تھی۔ ’’ہم اوزاروں کو کس چیز سے بدلتے؟ ہم اس کا خرچ کہاں سے لاتے؟ نئے اوزاروں سے ہم کیا کام کرتے؟‘‘ گاؤں کے لوگ سوال کرتے ہیں۔ ساتھ ہی، پرانے اوزاروں نے بچی کھُچی کھیتی کو بھی مزید برباد کرنا شروع کر دیا۔

اب اس سے کوئی مدد نہیں ملی کہ نہر میں تھوڑا پانی ہے یا بالکل بھی نہیں ہے۔

دریں اثنا، ہر کوئی قرضدار بننے لگا۔ چونکہ کھیتی کی لاگت بڑھنے لگی اور فصل برباد، اس لیے بہت سے لوگوں نے خود کو زندہ رکھنے کے لیے قرض لینا شروع کر دیا۔ ۴۵ سالہ رام چاری، جو ایک باوقار اور ہنرمند کاریگر تھے، کو یہ راستہ پسند نہیں تھا۔ اصل میں، ان کا ۶ ہزار روپے کا قرض اس علاقے کے لیے حیران کن طریقے سے کم تھا۔

’’اس گاؤں پر صرف کوآپریٹو سوسائٹی بینک کا ۲۲ لاکھ روپے کا قرض ہے،‘‘ اس سوسائٹی کے ایک اہل کار، کے ریڈی بتاتے ہیں۔ انھوں نے گرامین بینک سے بھی ۱۵ لاکھ روپے اور اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد سے تقریباً ۵ لاکھ روپے قرض لے رکھے ہیں۔ ’’اور یہ بڑی رقم نہیں ہے،‘‘ بائیں بازو کے کارکن ایس شری نواس کہتے ہیں۔ ’’مکندپورم کا قرض اس سے بھی زیادہ ہے، وہ بھی ساہوکاروں سے لیا گیا۔‘‘ شاید تین گنا زیادہ، یہاں کے لوگ بتاتے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ ۳۴۵ خاندانوں والے اس گاؤں پر کل قرض ایک اعشاریہ ۵ کروڑ روپے کا ہے۔ وہاں کے بعد زندگی زندہ رہنے کا کھیل بن گئی، کھیتی ڈوبنا شروع ہو گئی۔ اور زمین کی قیمتیں ۱۲۰،۰۰۰ روپے فی ایکڑ سے نیچے گر کر ۶۰،۰۰۰ روپے فی ایکڑ پر آ گئی۔ ’’عموماً، لوگ اپنی زمین کھونا نہیں چاہتے ہیں،‘‘ ضلع کے رِیوتھو سَنگھم لیڈر، گنگی نارائن کہتے ہیں۔ ’’لیکن جو لوگ اسے بیچنی کی خواہش رکھتے ہیں، انھیں کوئی خریدار نہیں مل رہا ہے۔‘‘

کچھ ٹریکٹر مالکوں نے اپنی مشینیں قرض دینے والوں کی وجہ سے کھو دیں۔ اس سے رام چاری کو کوئی راحت نہیں ملی، کیوں کہ جن کسانوں کے پاس ٹریکٹر نہیں ہیں وہ بھی اپنے اوزاروں کو بدل نہیں رہے ہیں۔ ’’اب ان کے پاس سال بھر میں صرف دو یا تین گاہک ہی رہ گئے،‘‘ شری نواس بتاتے ہیں۔ اور ابھی حالیہ دنوں میں ہی، گاؤں والوں نے اپنے ۳۰ بیل بیچ دیے۔ لیکن اس سے بھی بڑھئی کا کام گھٹ گیا جو اُن کے استعمال کی بہت سی اشیاء تیار کرتے تھے۔

اس کے بعد مہاجرت کا دور آیا۔ ’’پہلے،‘‘ گنگی ریڈی کہتے ہیں، ’’۵۰۰ مزدور روزگار کی تلاش میں ہر سال یہاں آیا کرتے تھے۔ اب وہ دَور نہیں رہا۔ اب یہاں سے ۲۵۰ لوگ کام کی تلاش میں یہاں سے ہجرت کر رہے ہیں۔‘‘

پچھلے سال پورا گاؤں بھوکا تھا۔ رام چاری، دوسروں کے مقابلے کچھ زیادہ ہی۔ بدقسمتی سے، ان لوگوں نے جو دو بدترین سال گزارے، اس میں ہندوستان اِس ملک میں غریبوں کے ذریعے ادا کی جانے والی قیمت سے بھی کم قیمت پر اناج ایکسپورٹ کر رہا تھا۔ بڑھئی نے صرف ایک بار اپنے پڑوسی سے جب تھوڑا پیسہ اُدھار لیا تھا، تبھی وہ کچھ نوکالو (ٹوٹا ہوا چاول) اس سے خرید کر لے آیا تھا۔ بچا ہوا نوکالو اب بھی گھر میں پڑا ہوا ہے۔ ارونا کی ہمت نہیں ہو پا رہی ہے کہ وہ اسے پھینک دے۔

وہ جب شہر میں مٹھائی کی دکان پر گئی ہوئی تھیں، گھر میں رام چاری کو بھوک ستا رہی تھی۔ ’’ہم بچوں کے لیے اکثر کھانے کا انتظام کر دیتے تھے،‘‘ پڑوسن، مُتھما بتاتی ہیں۔ ’’لیکن خود اس طرح پیش آتے تھے جیسے وہ پوری طرح ٹھیک ہوں۔ اپنے آخری ہفتے میں انھوں نے ایک لقمہ بھی نہیں کھایا تھا، جسے قبول کرنے پر انھیں بڑا فخر تھا۔‘‘ پڑوسیوں کی حالت بھی خراب تھی۔ پھر بھی، ان کی مدد سے بچوں کا کام چلتا رہا۔ اس سال ۱۵ مئی کو، رام چاری گر پڑے۔ اس سے پہلے کہ ارونا وجے واڑا سے بھاگ کر ان کے پاس آتیں، وہ مر چکے تھے۔

رام چاری کئی پریشانیوں میں مبتلا تھے۔ انہی مسائل نے اس ریاست کے کسانوں کو خودکشی کرنے پر بھی مجبور کیا ہے۔ انھوں نے آندھرا کی زراعت کو تباہ کر دیا ہے۔ صفر سرمایہ کاری۔ اونچی لاگت۔ فصل کی بربادی۔ بڑھتا ہوا قرض۔ سرکار کی مجرمانہ اندیکھی۔ ان کے ہنر کی مانگ میں کمی۔ اور بہت سے دوسرے مسائل۔

ارونا اب اس امید پر جی رہی ہیں کہ حکومت ان کی فیملی کی مدد کے لیے آگے آئے گی۔ جیسا کہ خود رام چاری کے لیے، واحد سرکاری پروگرام جس کے لیے انھوں نے اَپلائی کیا تھا، ’آدھارنا‘ تھا۔ وہ جو کاریگروں کو نئے اوزار مہیا کراتا ہے۔ لیکن ان اوزاروں کے آنے سے پہلے ہی بڑھئی کی موت ہو چکی تھی۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Death of a carpenter/death_of_a_carpenter_3_final.jpg


اس اسٹوری کا مختصر حصہ پہلے دی ہندو میں یہاں شائع ہوا تھا:

http://www.hindu.com/2004/06/26/stories/2004062606591200.htm

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath