’’سبھی بوڈو لڑکیوں کی طرح، میں بھی اپنی ماں کو بُنائی کرتے دیکھ بڑی ہوئی،‘‘ ساما برہما کہتی ہیں۔ وہ نچلے آسام میں، بوڈولینڈ کے چرانگ ضلع میں ایئی ندی کے کنارے، ہرے دھان کے کھیتوں کے درمیان واقع ایک چھوٹے سے گاؤں، کھُجرابگوری نمبر ۲ میں اپنے گھر کے برآمدے میں، بانس کے پیڈل والے کرگھے پر بیٹھی ہیں۔

سب سے قریبی شہر، بونگائی گاؤں، تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور ہے۔ ندی کا ریتیلا ساحل، ۸۷ گھروں والے ان کے گاؤں کے راستے میں، کچھ حصے تک، سڑک کا کام کرتا ہے؛ ایک جگہ ٹوٹا ہوا بانس کا پل ہے، جسے پیدل چلتے ہوئے احتیاط کے ساتھ پار کرنا پڑتا ہے۔

آسام کے گاؤوں میں، بوڈو برادری کے ہر گھر میں کرگھا ہوتا ہے۔ اس برادری (آسام میں ’بورو‘) کو درج فہرست قبائل کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ بُنائی کو خواتین، اور آئندہ بننے والی دلہن میں بیش قیمتی ہنر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لیکن، صرف ساما جیسی کچھ خواتین نے ہی اس روایتی ہنر کا استعمال پیسہ کمانے کے لیے کیا ہے۔

’’میں نے ۱۵ سال کی عمر سے پہلے ہی بُنائی شروع کر دی تھی، اور سلا ماتا کپڑا [سادہ کپڑے] کی بُنائی کرکے اپنی تکنیک کو بہتر کیا ہے،‘‘ ۴۲ سالہ ساما کہتی ہیں۔ ’’جیسے جیسے میرا اعتماد بڑھتا گیا، میں گوموسا [شال جیسا لباس] اور بیڈ شیٹ (چادر) جیسی روزمرہ استعمال کی چیزیں بُننے لگی۔ لیکن مجھے سب سے زیادہ مزہ ڈاکھونا [جو ساڑی جیسا ہوتا ہے] کی بُنائی کرنے میں آیا، خاص طور سے پیچیدہ پھولوں کی ڈیزائن کے ساتھ۔‘‘

Sama seated at her bamboo pedal loom
PHOTO • Anne Pinto-Rodrigues
Sama seated at her bamboo pedal loom
PHOTO • Anne Pinto-Rodrigues

بوڈولینڈ کے کھُجرابگوری نمبر ۲ گاؤں میں، ساما برہما اپنے بانس کے پیڈل والے کرگھا (دائیں) پر روزانہ ۶-۸ گھنٹے بُنائی کرتی ہیں، اور کبھی کبھار ہی ایک دن کی چھٹی کرتی ہیں

میں جب ان کے گھر جاتی ہوں، تو ساما بات کرنے کے لیے کچھ وقت نکال لیتی ہیں۔ ان کا گھر بانس کے کھمبوں سے بنا ہوا ہے، جس کے اوپر مٹی کا پلاسٹر اور ٹن کی چھت ہے۔ آج ان کی چھٹی ہے، انھیں مڈ ڈے میل پکانے کے لیے پاس کے لوور پرائمری اسکول جانا نہیں پڑے گا۔ وہ پیر سے جمعہ تک، صبح ۱۰ بجے سے دوپہر ۱ بجے تک یہ کام کرتی ہیں، جس کے انھیں ۱۰۰۰ روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ کبھی کبھی، چاول کی بیئر بھی بناتی اور بیچتی تھیں۔ تب وہ صرف اپنے اور اپنی فیملی کے استعمال کے لیے بُنائی کرتی تھیں۔

ساما ۲۰۰۰ کی دہائی کی شروعات میں، آگور ڈاگرا افاد نامی مقامی بُنائی گروپ میں شامل ہو گئیں (بوڈو زبان میں، ان الفاظ کا مطلب ہے، ’ڈیزائن‘، ’بُنکر‘ اور ’تنظیم‘)۔ اس کا نظم و نسق بنکروں کے ذریعے کیا جاتا ہے، اور یہ مقامی خواتین کو روایتی بُنائی کے ان کے علم سے آمدنی حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ ساما رنگے ہوئے سوتی دھاگے آگور سے لیتی ہیں اور پھر اس سے کپڑے بُنتی ہیں۔ اس کے بعد ہاتھ سے بُنے ہوئے ان کپڑوں کو تنظیم کے ذریعے جمع کرکے ان سے لباس بنائے جاتے ہیں، جنہیں نمائش میں اور ہندوستان کی کچھ دکانوں پر بیچا جاتا ہے۔

اس کام سے ساما کی لگاتار کمائی ہوتی ہے – ہر میٹر کپڑے کے انھیں ۷۵ روپے ملتے ہیں۔ ایک اچھے مہینے میں، جب وہ ۴۵-۵۰ میٹر بُنائی کرتی ہیں، تو انھیں تقریباً ۴۰۰۰ میٹر ملتے ہیں۔ ’’آگور چونکہ مجھ سے صرف سادے کپڑے کی بُنائی کرواتے ہیں [بغیر کسی ڈیزائن کے]، اس لیے میں یہ کام تیزی سے کر لیتی ہوں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔

ساما بُنائی کرنے والی تقریباً ۸۰ خواتین کے اس گروپ میں سب سے اعلیٰ مقام پر ہیں، جنہوں نے ۲۰۱۴ سے اب تک، لگاتار تین سالوں میں سب سے زیادہ کپڑوں کی بُنائی کی ہے۔ ان کا مقصد بالکل واضح ہے: وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانا چاہتی ہیں۔ ’’مجھے اپنی سب سے بڑی بیٹی، ۲۱ سالہ مینوکا کے بارے میں سوچ کر بہت دکھ ہوتا ہے، جسے ۶ویں کلاس میں اسکول چھوڑنا پڑا،‘‘ وہ روتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’تب، ہمارے پاس اسے پڑھانے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ لیکن، میں اپنے دوسرے بچوں کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دوں گی۔‘‘

Sama tinkering with the warping drum that has recently been installed at her home. The warping drum is used to prepare the vertical yarn known as ‘warp’, which is later loaded on the loom
PHOTO • Anne Pinto-Rodrigues
Sama shares a joke with her daughter Sulekha
PHOTO • Anne Pinto-Rodrigues

حال ہی میں قائم تانا والے ڈرم (بائیں) کو ٹھیک کرتے ہوئے، جس کا استعمال افقی ’تانا‘ والا دھاگہ تیار کرنے میں کیا جاتا ہے، جسے بعد میں کرگھا پر لوڈ کیا جاتا ہے۔ ساما اپنی بیٹی سلیکھا کے ساتھ (دائیں)

ان کا ۱۵ سال کا بیٹا، سورانگ اور ۱۲ سال کی بیٹی، لکشمی ابھی بھی اسکول میں ہیں۔ اور ۱۸ سالہ سلیکھا، ایک آرٹس کالج میں ۱۲ویں کلاس میں پڑھ رہی ہے۔ ’’سلیکھا گریجویٹ کی اپنی پڑھائی پوری کرنے کے لیے پرجوش ہے،‘‘ ساما کہتی ہیں۔ ’’اور میں اپنی استعداد بھر پوری کوشش کر رہی ہوں کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو۔ اسی کی وجہ سے میں اتنی بُنائی کرتی ہوں۔ میں اپنے درد اور تکلیف کو اس کے راستے میں آڑے نہیں آنے دوں گی۔‘‘

ساما نے (بوڈو میڈیم کے ایک اسکول میں) صرف دوسری جماعت تک پڑھائی کی، ان کی اپنی فیملی میں بھی کسی کے پاس کالج کی ڈگری نہیں ہے۔ ان کے گاؤں میں، عام طور پر صرف لڑکے ہی گریجویٹ ہوتے تھے۔ اس لیے وہ اس دن کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہیں جب ان کی بیٹی بھی بی اے کی ڈگری حاصل کر لے گی۔ ’’میں بُنائی اس لیے کرتی ہوں تاکہ میری بیٹی ہمارے گاؤں سے گریجویٹ کرنے والی پہلی لڑکی بن سکے۔‘‘

صبح ۵ بجے اٹھنے اور لمبے وقت تک گھر کا کام کرنے کے بعد، ساما دن میں ۶-۸ گھنٹے تک بُنائی کرتی ہیں۔ وہ اپنے کرگھا پر روزانہ کام کرتی ہیں، کبھی کبھار ہی آرام کرنے کے لیے ایک دن کی چھٹی لیتی ہیں۔ بانس کے جس کرگھا کو وہ استعمال کرتی ہیں، اسے ان کے شوہر دھنیشور برہما نے بنایا تھا۔ وہ اپنے گاؤں یا آس پاس کے گاؤوں میں کھیتوں پر کام کرتے ہیں اور تقریباً ۳۰۰ روپے یومیہ مزدوری پاتے ہیں۔ ان کی آمدنی سے گھریلو خرچ میں مدد ملتی ہے۔ ساما کی زیادہ تر کمائی ان کے بچوں کی تعلیم پر خرچ ہوتی ہے۔ ’’مجھے سلیکھا کے لیے ایک سائیکل خریدنی پڑی یہ یقینی بنانے کے لیے کہ وہ اپنے کالج پہنچ سکے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ قریبی کالج تقریباً ۲۵ کلومیٹر دور، بجنی شہر میں ہے۔ سلیکھا منگولیائی بازار تک پہنچنے کے لیے، پہلے پانچ کلومیٹر تک سائیکل چلاتی ہیں۔ وہاں سے وہ بجنی کے لیے ایک مشترکہ رکشہ لیتی ہیں۔

Doing the household chores forms a big part of Sama’s day
PHOTO • Anne Pinto-Rodrigues
Sama heads to the market on her bicycle
PHOTO • Anne Pinto-Rodrigues

ساما کے ذریعے گھریلو کاموں کا وقت کرگھا سے بُنائی کے وقت میں گزار دیا جاتا ہے؛ بازار جانے اور دیگر کاموں کے لیے، وہ اپنی سائیکل کا استعمال کرتی ہیں

لیکن نوجوان نسل جیسے جیسے تعلیم حاصل کرکے نوکریوں کی طرف بڑھ رہی ہے، بوڈو لوگوں کی بُنائی کا یہ ہنر دھیرے دھیرے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ’’میں اس روایت کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے حصے کا کام کر رہی ہوں،‘‘ ساما مسکراتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’میں نے اپنی دونوں بڑی بیٹیوں کو بُنائی کا ہنر سکھایا ہے۔ مینوکا پیچیدہ ڈیزائنوں کی بنائی کرنے میں اہل ہے، جب کہ سلیکھا اپنی تکنیک کو درست کر رہی ہے اور سادہ کپڑے بُنتی ہے۔‘‘

ہاتھ سے بُنے ہوئے کپڑوں کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ ’’کچھ سال پہلے، مغربی بنگال کے مشین سے بنے ڈاکھونا کی بازار میں بھرمار تھی۔ وہ ۲۵۰-۳۰۰ روپے فی پیس کے حساب سے سستے تو تھے، لیکن گھٹیا کوالٹی کے تھے،‘‘ ساما کہتی ہیں۔ ’’آج ہاتھ سے تیار ڈاکھونا واپس آ چکے ہیں اور لوگ اسے بنانے میں لگنے والی محنت کی تعریف کر رہے ہیں۔ وہ اس کے لیے ۶۰۰ روپے تک، اور کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ دینے کو تیار ہیں۔‘‘

ہم ساما کی سائیکل کی طرف بڑھتے ہیں – وہ اس کا استعمال بازار جانے اور دیگر کاموں کے لیے کرتی ہیں – اور میں انھیں الوداع کہتی ہوں۔ ساما کی فیملی کے لیے پیسہ بھلے ہی ایک چنوتی بنا ہوا ہے، لیکن کمانے اور اپنے بچوں کو پڑھانے کا موقع ملنے سے وہ خوش ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں یقین ہے کہ سلیکھا کی نسل کا مستقبل تابناک ہوگا۔

اس انٹرویو کو ممکن بنانے اور بوڈو سے ترجمہ کرنے کے لیے، آگور ڈگرا افاد کے منیجر، رحیمل نرظری کا خصوصی شکریہ۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Anne Pinto-Rodrigues

اینی پنٹو راڈرِگس نیدرلینڈ میں مقیم قلم کار اور فوٹوگرافر ہیں۔ ان کے کام کو www.annepintorodrigues.com پر دیکھا جا سکتا ہے۔

Other stories by Anne Pinto-Rodrigues