اس ۳۱ جنوری، ۲۰۰۸ کی تصویر میں، لوک راج سنگٹھن کے ممبران، پنجاب میں جن کسانوں نے خودکشی کر لی تھی ان کے اہل خانہ کی قیادت میں، نئی دہلی کے اندر مرکزی اور پنجاب حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ فوٹو: وی سدرشن


کفکا نے ہوسکتا ہے اسکرپٹ پر رشک کیا ہو۔ دہلی میں، مرکزی وزیر زراعت شرد پوار نے ۷ مئی کو راجیہ سبھا کو بتایا کہ جنوری سے اب تک وِدربھ میں صرف چھ کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ اسی دن، اسی وقت مہاراشٹر میں وزیر اعلیٰ اشوک چوہان نے کہا کہ یہ عدد ۳۴۳ ہے۔ یعنی، مسٹر پوار سے ۵۷ گنی زیادہ تعداد۔ مسٹر چوہان وِدربھ میں بول رہے تھے۔ مسٹر پوار کی تعداد پارلیمنٹ کے ایک سوال کے تحریری جواب میں آئی۔ یہ دونوں اسٹوری پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) نے کی۔ ایک ہی دن کے کام میں۔

آپ کنفیوژ ہیں؟ اسے کرکے دیکھئے: پانچ دن قبل، وزیر مملکت برائے زراعت کے وی تھامس نے جنوری سے اب تک وِدربھ میں خودکشیوں کی تعداد ۲۳ بتائی۔ اسی ہفتہ، اسی راجیہ سبھا میں۔ اور مسٹر تھامس نے کہا کہ ان کا ذریعہ ’’حکومت مہاراشٹر‘‘ ہے۔ جہاں کے وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ یہ تعداد ۳۴۳ ہے۔ دریں اثنا، مسٹر پوار کے ذریعہ چار مہینوں میں ’صرف چھ‘ عدد بتانے سے پہلے، وِدربھ میں حکومت کے وسنت راؤ نائک فارمرس سیلف ریلائنس مشن نے بتایا کہ صرف جنوری میں یہ تعداد ۶۲ تھی۔

کیا کسانوں کی خودکشی کی یہ تعداد ۵۵۰۰ فی صد مختلف ہو سکتی ہے، جب کہ سبھی سرکاری تعداد ہیں؟ (مسٹر چوہان کی تعداد مسٹر پوار سے اتنی زیادہ ہے)۔ لیکن یہ سلسلہ یہی نہیں رکتا۔ مہاراشٹر کے وزیر مالیات نارائن رانے نے اپریل میں ریاستی اسمبلی کو بتایا کہ سال ۲۰۰۶ سے وِدربھ میں ۵۵۷۴ خودکشیاں ہوئی ہیں۔ لیکن پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ اس سال جنوری سے اب تک صرف چھ خودکشیاں ہوئی ہیں۔ مسٹر رانے کے مطابق، سال ۲۰۰۶ سے  پوری ریاست میں کل ۷۷۸۶ خودکشیاں ہوئی ہیں۔ جو کہ مسٹر پوار کے ذریعے گزشتہ تین برسوں میں ملک بھر میں ہونے والی کل خودکشیوں کی نئی تعداد، ۳۴۵۰ سے دو گنی تعداد ہے۔

بڑی عجیب سی بات ہے ۔ پورے ملک کے لیے ۳۴۵۰؟ تین برسوں میں؟ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (این سی آر بی) نے گزشتہ تین برسوں میں یہ تعداد تقریباً ۵۰۰۰۰ بتائی ہے۔ یعنی سال ۲۰۰۶، ۲۰۰۷ اور ۲۰۰۸ (آخری سال جس کا ڈاٹا دستیاب ہے)۔  قومی سطح پر این سی آر بی کا ڈاٹا زرعی خودکشی کا واحد ذریعہ ہے۔ اس کا ڈاٹا ہمیں یہ بھی دکھاتا ہے کہ سال ۱۹۹۷ سے ۲۰۰۸ کے درمیان تقریباً ۲۰۰۰۰۰ کسانوں نے اپنی جان دے دی۔ تو پارلیمنٹ کو کس کی عدد بتائی جا رہی ہے؟ اور ہمارے پاس اتنے مختلف اعداد کیسے آئے؟ اور وہ بھی تب، جب کہ اس ملک میں مستند ڈاٹا کا ایک ہی ادارہ ہے۔ اور یہ سب اکثر و بیشتر صرف مہاراشٹر کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے؟

کیوں کہ ملک میں مہاراشٹر کے اعداد سب سے خراب ہیں۔ اس ریاست نے سال ۱۹۹۷ سے اب تک ۴۱۴۰۴ کسانوں کی خودکشیاں دیکھی ہیں۔ ان میں سے ۱۲۴۹۳ نے ۰۸۔۲۰۰۶ میں خودکشی کی۔ اس لیے یہاں پر اس تعداد کو چھپانے کی کوشش دوسری جگہوں کے مقابلے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

تشویش کبھی بھی کسانوں کو لے کر نہیں رہی۔ وزیر اعظم نے ۲۰۰۶ میں جب وِدربھ کا دورہ کیا تھا، اس سے پہلے ریاست کے بڑے وزراء اس ایشو پر بدحال گاؤں کبھی نہیں گئے۔ ان میں سے زیادہ تر نے آج تک خودکشی کرنے والے کسی بھی کسان کے گھر کا دورہ نہیں کیا ہے۔ لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، اس کی پرواہ انھیں بہت کم ہے۔ لیکن، انھیں نئی دہلی میں بیٹھے اپنے ہائی کمانڈ کی ناراضگی کا ڈر ضرور تھا، جو خودکشی کی بڑھتی تعداد سے تب تک محتاط ہو چکا تھا۔ اسی لیے انھوں نے تعداد کو الٹنا پلٹنا شروع کر دیا۔

اول، اس کا مطلب ہے اشاریے کی اتنی ناممکن تعداد بتانا، جس سے زرعی خودکشی کا پتہ ہی نہ لگایا جا سکے۔ جون ۲۰۰۵ میں دیگامبر اگوسے کی خودکشی کے بعد ہم وہاں پہنچے، تو مالواگاڈ، یوت مال کے لوگ اس پروسیس کا مضحکہ اڑا رہے تھے۔ ’’اب ہم چین سے خودکشی بھی نہیں کر سکتے،‘‘ قبرستان کے مذاق کے ساتھ اگوسے کے ایک پڑوسی نے ہنستے ہوئے کہا۔ ’’ان فارموں کو پڑھے بغیر نہیں، جنہیں اہلکاروں نے یہ دیکھنے کے لیے بنایا ہے کہ ہم نے اسے ٹھیک ڈھنگ سے سمجھ لیا ہے۔‘‘ دوسرے نے کہا: ’’ان کی انکوائری لسٹ میں ۴۰ شقیں ہیں۔ ان سب کا اطلاع ہونا چاہیے۔‘‘ مختصر میں، اگر آپ خود کو مارتے ہیں، تو اسے ٹھیک سے سمجھ لیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ پروفارما کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ہی آپ کی فیملی معاوضہ کے لیے ’اہل‘ ہوگی۔

سینکڑوں لوگوں کو زرعی خودکشی کی فہرست سے اس بنیاد پر باہر کردیا گیا کہ وہ کسان نہیں تھے۔ ’’ان کے نام پر کوئی زمین نہیں ہے،‘‘ اہلکاروں کا کہنا تھا۔ زمینی سطح پر، اس کا مطلب تھا ان تمام خواتین کسانوں کو باہر نکال دینا جو اپنی جانیں لے رہی تھیں۔ اس میں وہ بڑے بیٹے بھی شامل تھے جو درحقیقت کھیتی کو چلا رہے تھے، جب کہ زمین ان کے بزرگ والد کے ناموں پر تھی۔ ان فہرستوں سے ان متعدد دلت اور آدیواسی کسانوں کے نام بھی غائب تھے، جن کا زمین پر مالکانہ حق شاید ہی کبھی واضح ہو۔

اور اس کے باوجود تعداد بڑھتی رہی۔ اس ایشو کی رپورٹنگ وہاں تکلیف دہ تھی جہاں اس کے معنی تھی: دہلی میں۔ تو تعداد کو کم کیسے کیا جائے؟ پرجوش نوکرشاہوں نے آگے قدم بڑھایا، نئی درجہ بندی کے لیے۔ ’اہل‘ اور ’نااہل‘ خودکشیاں۔ صرف اول الذکر کو ’’زرعی خودکشیاں‘‘ گنا جائے گا۔ ایک سرکاری دستاویز نے یہ ٹرینڈ ۲۰۰۶ میں شروع کیا۔

اس نے بہت سے نئے کالموں کے ساتھ ایک ٹیبل تیار کیا۔ ان میں سے ہر ایک میں، تعداد گھٹنے لگی۔ کیسے؟ جمع یا زرعی خودکشیوں کے بعد، ایک نیا گروپ آیا: ’’فیملی ممبران کی خودکشیاں۔‘‘ اس کا مطلب ہے کہ جن فیملی ممبران نے کھیت پر خود کو مار لیا ہے انھیں کسانوں کے طور پر نہیں گنا جاتا۔ اس نے عدد کو مزید گھٹانے میں کافی مدد کی۔ اس کے بعد، ’’جانچ کیے جا چکے معاملے‘‘ کالم آیا، جس میں یہ تعداد اور بھی نیچے آ گئی۔ آخری کالم تو واقعی میں شاندار تھا ۔ ’’اہل خودکشیاں۔‘‘ یعنی، وہ لوگ جنہیں حکومت نے معاوضہ کے لائق سمجھا۔ اور اس طرح، سال ۲۰۰۵ کے لیے خودکشیوں کا کالم جو ۲۴۲۵ پر شروع ہوتا ہے، وہ ۲۷۳ پر ختم ہو جاتا ہے۔ (ٹوٹل کا ۱۲ فیصد سے بھی کم)۔ یہ کاٹی ہوئی تعداد ہی سرکاری زرعی خودکشیوں کی اصل تعداد بن جاتی ہے۔ اور ایک ’کمی‘ ثابت ہو جاتی ہے۔

اور پھر ’نااہل خودکشیوں‘ کا نمبر آیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ آدمی کم مرا تھا۔ یا اس نے خود کو مارا نہیں تھا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ حکومت اس کی موت کو قبول نہیں کر سکتی تھی کہ اس نے قرض کی وجہ سے یا بے بسی کے عالم میں خودکشی کی ہے۔ (حالانکہ اس قسم کی بعض خودکشیاں انہی وجوہات سے کی گئی تھیں۔) بحران والے ضلعوں میں اس بات کی جانچ کرنے کے لیے کمیٹیاں بنائی گئیں کہ کیا یہ خودکشیاں ’حقیقی‘ تھیں۔ ان کمیٹیوں کو جلد ہی غصہ آنے لگا، انھوں نے اکثر و بیشتر ہر مہینہ میں کی جانے والی ہر ایک خودکشی کو ’غیر حقیقی‘ کہنا شروع کر دیا۔ ان کی اس تیز و تند نوکری کا مطلب ہے کہ کچھ ہی کنبے جنہوں نے خودکشی کی وجہ سے اپنی روزی روٹی کمانے والے کو کھو دیا ہو، انھیں حکومت سے کچھ معاوضہ ملے۔

اور یہ کام اب بھی اسی طرح چل رہا ہے۔ ریاستی اسمبلی میں ایک سوال کے جواب میں مسٹر رانے کا جواب تھا کہ چار سالوں کے دوران ’نااہل خودکشیوں‘ کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

تاہم، این سی آر بی کے ڈاٹا کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔ بددیانتی کرنا ان کے ہاتھوں  میں نہیں ہے۔ جلد ہی ایسی مذموم حرکتیں کرنے والے زمینی سطح پر این سی آر بی کے ڈاٹا میں بھی گڑبڑی کر دیں گے۔ لیکن، یہاں تو ہر وقت سیاست کا یہی حال ہے۔ یہاں تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے این سی آر بی کے ڈاٹا کو نظر انداز کر دینا۔ اس لیے پارلیمنٹ میں وزیر کے تحریری جواب میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ آپ ماضی سے انحراف دیکھ سکتے ہیں۔

انھوں نے ۲۰۰۷ میں جو ڈاٹا پیش کیا تھا، وہ ہوبہو وہی تھا جو این سی آر بی کا ہے کہ ۱۹۹۷ سے ۲۰۰۵ کے درمیان تقریباً ڈیڑھ لاکھ خودکشیاں ہوئیں۔ راجیہ سبھا میں سوال نمبر ۲۳۸ کے جواب میں (۳۰ نومبر، ۲۰۰۷) مسٹر پاسوان نے جو تعداد پیش کی تھی، ان کی آخری عدد اس سے ملتی تھی جسے دو ہفتے قبل دی ہندو (۷۱ ۔ ۱۲ نومبر) میں رپورٹ کیا گیا تھا۔ دی ہندو کی رپورٹس اس وقت مدراس انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کے پروفیسر کے ناگ راج کے ذریعے زرعی خودکشیوں کے سرکاری ڈاٹا کے جامع مطالعہ پر مبنی تھیں۔ انھوں نے جس ڈاٹا کا جائزہ لیا تھا، وہ این سی آر بی کا تھا۔ یہ ہر سال اس ڈاٹا کو اپنی ’ہندوستان میں حادثاتی اموات اور خودکشیاں‘ (اے ڈی ایس آئی) رپورٹ میں شائع کرتا ہے۔ این سی آر بی مرکزی وزارتِ داخلہ کے ماتحت کام کرنے والا واحد ادارہ ہے، جو ملک بھر میں تمام زمروں میں ہونے والی خودکشیوں کا پتہ لگاتا ہے۔

ڈاکٹر ناگ راج کے مطالبہ کے بعد، دی ہندو نے تازہ ترین این سی آر بی رپورٹس کو دیکھ کر ہر سال کی زرعی خودکشی کو اپڈیٹ کیا۔ (یہ تمام رپورٹیں ان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ مثال کے طور پر، ’’سیلف ایمپلائیڈ (فارمنگ/ایگریکلچر)‘‘ کی کیٹیگری میں ۲۰۰۸ کا ڈاٹا بتاتا ہے کہ اس سال ۱۶۱۹۶ کسانوں نے خودکشی کی۔ (آپ خود چاہیں تو اسے http://ncrb.nic.in/ADSI2008/table-2.11.pdf پر دیکھ سکتے ہیں)۔ لیکن، راجیہ سبھا میں اس مئی میں مسٹر پوار کے جواب میں یہ تعداد ۱۲۳۷ ہے (کوئی حوالہ نہیں دیا گیا ہے۔ کم از کم پی ٹی آئی کی رپورٹ میں تو نہیں ہے)۔ آج تک، نہ تو مرکزی حکومت اور نہ ہی ریاستی حکومت نے این سی آر بی پر مبنی ڈاکٹر ناگ راج اور دی ہندو کی تعداد کو جھٹلایا نہیں ہے۔ بلکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کی تعداد کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں۔

آسان لفظوں میں کہا جائے تو، حکومتیں وہی کر رہی ہیں جو وہ غریبی کے اعداد و شمار کے ساتھ کرتی رہی ہیں۔ بی پی ایل کی تعداد، اے پی ایل نمبر، راشن کارڈس وغیرہ کی تعداد۔ زرعی خودکشیوں میں حقیقی انسانی اموات شامل ہوتی ہیں۔ اس تعداد کو کم کرنے کا دباؤ کسانوں کی خستہ حالی پر عوام کی شدید ناراضگی کی وجہ سے بڑھتا رہا ہے۔

پھر بھی، ۲۰۱۱ کی مردم شماری اس صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ یہ ہمیں بتائے گی کہ ہر ریاست میں حقیقی کسانوں کی تعداد کتنی ہے۔ مہاراشٹر جیسی ریاستوں میں، یہ تعداد اس سے کافی کم ہو سکتی ہے جو ۲۰۰۱ میں تھی۔ (۲۰۰۱ کی مردم شماری میں یہ بتایا گیا تھا کہ ۱۹۹۱ سے ۸۰ لاکھ لوگ کاشت کاری چھوڑ چکے ہیں)۔ آج تک، ڈاکٹر ناگ راج نے زرعی خودکشیوں کی جو شرح نکالی ہے (ہر ایک لاکھ کسانوں پر کی گئی خودکشیاں) وہ ۲۰۰۱ کی مردم شماری پر مبنی ہے۔ مہاراشٹر میں خودکشی کی یہ شرح، مثال کے طور پر، ۲۹ اعشاریہ ۹ ہے۔ نئی مردم شماری میں جب حقیقی کسانوں کی تعداد کا پتہ چلے گا، تو یہ تصویر اور خراب ہو سکتی ہے، اور خودکشیاں مزید سامنے آ سکتی ہیں۔ لیکن مذموم حرکتوں اور چھیڑ چھاڑ کا معاملہ یوں ہی جاری رہے گا۔

یہ مضمون سب سے پہلے دی ہندو میں شائع ہوا تھا:

http://www.thehindu.com/opinion/lead/article428367.ece

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath