شیتل واگھمارے آنے والے فون کال کی آواز سے ڈرے رہتے ہیں۔ وہ کئی دنوں سے، تب راحت کی سانس لے رہے تھے جب انہیں ایک نمبر – جو کہ ایک چھوٹے مالیاتی ادارہ (ایم ایف آئی) کے ساتھ کام کرنے والے ایک ریکوری ایجنٹ کا تھا، جس سے وہ بچنا چاہتے تھے – کے علاوہ کسی اور نمبر سے فون آتا تھا۔ ’’انہیں کورونا وائرس کی کوئی پرواہ نہیں ہے،‘‘ ۳۱ سالہ شیتل کہتے ہیں۔ اتفاق سے، ایک ہفتہ پہلے اس نمبر سے کال آنی بند ہو گئی۔ شیتل کو نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہوا۔ لیکن، وہ کہتے ہیں، ’’فون آنا پھر سے شروع ہو سکتا ہے...‘‘

واگھمارے کی فیملی کے رکن یومیہ مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں، اور مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ کے زرعی علاقے، عثمان آباد میں رہتے ہیں۔ جولائی ۲۰۱۹ میں، شیتل کی ماں، منگل، نے جن لکشمی فنانشیل سروسز نامی ایک ایم ایف آئی سے ۶۰ ہزار روپے قرض لیے تھے۔ ’’ہم نے ایک سلائی مشین خریدی، اور میں نے بلاؤز کی سلائی اور کڑھائی وغیرہ کرنے کا کام شروع کیا،‘‘ ۵۳ سالہ منگل کہتی ہیں۔ ’’میرے شوہر اور میرا بیٹا زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ہمارے پاس اپنی زمین نہیں ہے۔‘‘

تب سے، واگھمارے فیملی ۲۴ فیصد شرحِ سود پر ۳۲۳۰ روپے فی ماہ کی ایک بھی قسط ادا کرنے سے نہیں چوکی ہے۔ ’’لیکن لاک ڈاؤن کے بعد سے ہم نے ایک بھی پیسہ نہیں کمایا ہے،‘‘ شیتل کہتے ہیں۔ ’’ہمارے آس پاس کسی کے بھی پاس کوئی پیسہ نہیں ہے۔ لاک ڈاؤن [جو کہ مہاراشٹر میں ۲۳ مارچ کو شروع ہوا تھا] کے دوران سبھی لوگوں کی سامان خریدنے کی صلاحیت کم ہو ئی ہے۔ مزدور کے طور پر ہمیں کوئی بھی کام پر نہیں رکھ رہا ہے، اور کسی میں بھی کپڑے سلوانے کی طاقت نہیں بچی ہے۔‘‘

لیکن ایم ایف آئی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے اور وہ حالات کی پرواہ کیے بنا اپنے قرضداروں کو قسط جمع کرنے کے لیے فون کرتے رہتے ہیں۔ ’’انہوں نے ہم سے کہا کہ ادائیگی کرنی ہی ہوگی چاہے جو ہو جائے،‘‘ شیتل بتاتے ہیں۔ ’’انہوں نے کہا کہ آپ کو جو کرنا ہے کیجئے، لیکن مہینہ کے آخر تک ادائیگی کرنی ہی ہوگی۔‘‘

Sheetal Waghmare's home: the family has not missed a single instalment of the 24 per cent interest loan. 'But we have made absolutely no money since the lockdown', says Sheetal
PHOTO • Sheetal Waghmare

شیتل واگھمارے کا گھر: یہ فیملی ۲۴ فیصد شرح سود پر لیے گئے قرض کی ایک بھی قسط ادا کرنے سے نہیں چوکی ہے۔ ’لیکن ہم نے لاک ڈاؤن کے بعد سے ایک بھی پیسہ نہیں کمایا ہے،‘‘ شیتل کہتے ہیں

منگل (اوپر کے کور فوٹو میں) کو ۲۴ مہینے کے لیے قسطوں کی ادائیگی کرنی ہے – اور وہ دو سال کے آخر تک ۷۷۵۲۰ روپے ادا کر چکی ہوں گی۔ حالانکہ انہیں، ایم ایف آئی کے ذریعے پروسیسنگ فیس اور دیگر اخراجات کاٹنے کے بعد، صرف ۵۳ ہزار روپے کا قرض ہی حاصل ہوا تھا (جب کہ قرض لی گئی رقم ۶۰ ہزار روپے ہے)۔

۵۳ ہزار روپے کے بدلے ۷۷۵۲۰ روپے ادا کرنے کا مطلب ہے قرض لی گئی رقم سے ۴۶ فیصد زیادہ کی ادائیگی۔ لیکن بہت سے لوگ اس قسم کے قرض کے لیے اس لیے درخواست کرتے ہیں کیوں کہ یہ آسانی سے مل جاتا ہے، سوابھیمانی شیتکری سنگٹھن کے بانی اور کسانوں کے لیڈر، راجو شیٹی کہتے ہیں۔ ان کا اور دیگر لوگوں کا ماننا ہے کہ چھوٹے مالیاتی ادارے مدد کی پیشکش کے بہانے غریبوں کا استحصال کرتے ہیں۔ یہ ادارے – جو ریزرو بینک آف انڈیا کے ماتحت کام کرتے ہیں – عام طور پر کم آمدنی والے ایسے کنبوں اور افراد کو قرض مہیا کرتے ہیں، جو اپنا خود کا کچھ شروع کرنا چاہتے ہیں۔

’’ایم ایف آئی بے زمین مزدوروں، چھوٹے ٹھیکہ داروں، غریب کسانوں وغیرہ کو نشانہ بناتے ہیں،‘‘ شیٹی کہتے ہیں۔ ’’بینک عام طور پر انہیں قرض اس لیے نہیں دیتے کیوں کہ ان کے پاس ثابت کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ ایم ایف آئی صرف شناخت کا ثبوت مانگتے ہیں اور پیسے فوراً جاری کر دیتے ہیں۔ عام لوگ جب نئی راہ پر چلنے کا منصوبہ بناتے ہیں، تو وہ بے چین اور پر امید ہوتے ہیں۔‘‘

واگھمارے فیملی کی بھی ایسی ہی امیدیں تھیں۔ وہ قسطوں کی ادائیگی کرنے میں بھی کامیاب رہے۔ ’’لیکن وبائی مرض کو آتے ہوئے کون دیکھ سکتا تھا؟‘‘ شیتل کہتے ہیں، جن کے والد امراض قلب میں مبتلا ہیں۔ ’’دو سال پہلے ان کی اینجیو پلاسٹی ہوئی تھی، اور آج بھی پابندی کے ساتھ دوا لینی پڑتی ہے۔ وہ پورا دن گھر پر بیٹھ کر خبریں دیکھتے ہیں۔ کورونا وائرس کے سبب ماحول تناؤ سے بھرا ہوا ہے۔ لاک ڈاؤن کے سبب لوگوں کو کام ملنے کی فکر لاحق ہے۔ اور ہم باہر نہیں جا سکتے کیوں کہ اگر ہمیں وائرس لگ گیا، تو میرے والد مشکل میں پڑ جائیں گے۔‘‘

شیتل اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنی فیملی، خاص کر اپنے والد کی حفاظت کرنا کتنا اہم ہے۔ یہ فیملی – ان کا تعلق مہار برادری سے ہے – دلت بستی میں رہتی ہے۔ یہ بستی جنوبی عثمان آباد میں ضلع اسپتال کے ٹھیک بغل میں ہے – لیکن یہاں پر پیچیدہ معاملوں کو سنبھالنے کی کوئی سہولت نہیں ہے اور یہ مریضوں کو تقریباً ۷۰ کلومیٹر دور، سولاپور شہر کے ضلع اسپتال میں بھیج دیتا ہے۔ ’’آپ جانتے ہی ہیں کہ دیہی علاقوں میں طبی سہولیات کیسی ہیں،‘‘ شیتل کہتے ہیں۔ ’’اور اسپتالوں کی ترجیح اس وقت کورونا وائرس سے لڑنے کی ہے۔‘‘

Archana Hunde seeks an extension on paying her loan instalments
PHOTO • Sheetal Waghmare

ارچنا ہُنڈے چاہتی ہیں کہ قرض کی قسطیں ادا کرنے کی تاریخ آگے بڑھا دی جائے

سولاپور ضلع میں کووڈ- ۱۹ کے تقریباً ۱۰۰ معاملے درج کیے گئے ہیں۔ معاملے بڑھنے کے بعد اہلکاروں نے ۲۴ اپریل کو آدھی رات میں ضلع کو تین دنوں کے لیے سیل کر دیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ عثمان آباد میں اگر معاملے بڑھتے ہیں [ابھی تک کچھ ہی ہیں]، تو مریض سولاپور جانے میں بھی اطمینان محسوس نہیں کریں گے،‘‘ شیتل کہتے ہیں۔ ’’لیکن ریکوری ایجنٹوں کے لیے یہ چیزیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔‘‘ مہاراشٹر کے سابق وزیر زراعت انل بونڈے نے مجھے فون پر بتایا کہ پورے مہاراشٹر میں تقریباً ۴۲ ایم ایف آئی کام کر رہے ہیں۔ شیٹی کا اندازہ ہے کہ ان کا قرض ہزاروں کروڑ میں چلتا ہے۔

’’ان کا ماضی ڈرانے-دھمکانے، عورتوں کو پریشان کرنے کا رہا ہے،‘‘ بونڈے کہتے ہیں۔ ’’وہ اپنے قرضداروں کے ٹریکٹر اٹھا لے جانے، یا ان کی زرعی پیداوار کو ضبط کرنے تک کی دھمکی دیتے ہیں۔ ریاست کو اس بات کا کوئی جائزہ لینا چاہیے کہ مہاراشٹر میں کتنے ایم ایف آئی برسرکار ہیں اور وبائی مرض کے دوران ان کے کام کو بند کرنا چاہیے۔

گزشتہ ایک دہائی میں، مہاراشٹر میں کوآپریٹو بینکوں – ان میں سے زیادہ تر، ضدی بقایہ داروں اور بدنظمی کے سبب قرض تقسیم کرنے کے اہل نہیں ہیں – کے ذریعے بنائے گئے خلا میں ایم ایف آئی کا فروغ ہوا ہے۔ چونکہ دوسرا متبادل زیادہ شرح سود والے ساہوکار ہیں، اس لیے ایم ایف آئی کو بیچ کے راستہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، آل انڈیا ایمپلائیز بینک ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری دیوی داس تلجا پورکر کا کہنا ہے۔ ’’آر بی آئی نے قصداً چھوٹے مالیاتی اداروں کو پھلنے پھولنے اور صورتحال کا فائدہ اٹھانے کا موقع دیا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’وہ سزا سے بے فکر ہیں، اپنے بقایہ داروں کو دھمکاتے ہیں، اور سسٹم کے ذریعے مستند ساہوکاروں کے طور پر کام کرتے ہیں۔‘‘

ہندوستان کے پرائیویٹ اور قومی دونوں ہی بینکوں نے ۷ اپریل کو، کورونا وائرس کے سبب شروع ہوئی (متنازع) اقتصادی کساد بازاری کو دیکھتے ہوئے، تین مہینے کی مہلت کی پیشکش کی تھی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایم ایف آئی اپنا کام حسب معمول کر رہا ہے۔

عثمان آباد میں جن لکشمی فائننس کے نمائندہ نے اس رپورٹر کے کئی فون کال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

منگل جیسے قرضداروں کے سیلف ہیلپ گروپ میں ارچنا ہُنڈے بھی ہیں، یہ بھی درج فہرست ذات کی مہار برادری سے ہیں۔ ان کے شوہر، ۴۰ سالہ پانڈو رنگ، ایک چھوٹے ٹھیکہ دار ہیں، جو عثمان آباد شہر میں تعمیر کی جگہوں پر کچا مال اور مزدور سپلائی کرتے ہیں۔ اب لاک ڈاؤن کے سبب تعمیر کے مقامات بند ہیں، اور پانڈو رنگ کے پاس کوئی کام نہیں ہے۔ ’’ہم باقاعدگی سے قرض چکاتے رہے ہیں،‘‘ ۳۷ سالہ ارچنا کہتی ہیں، جن کی قسط اور قرض کی رقم اتنی ہی ہے جتنی منگل کی۔ ’’ہم قرض معافی کے لیے نہیں کہہ رہے ہیں۔ ہم ان سے صرف ادائیگی کی مدت تین مہینے آگے بڑھانے کے لیے اپیل کر رہے ہیں۔ سبھی قسطیں دو سال میں چکانے کے بجائے، ہمیں دو سال اور تین مہینے میں ادا کرنے کی اجازت دیں۔ کیا اتنی سی مانگ کرنا بھی زیادہ ہے؟‘‘

The Waghmare family lives in the Dalit basti right next to the district hospital in south Osmanabad
PHOTO • Sheetal Waghmare

واگھمارے فیملی جنوبی عثمان آباد میں ضلع اسپتال کے ٹھیک بغل میں، دلت بستی میں رہتی ہے

ارچنا کا کہنا ہے کہ دلت بستی میں رہنے والے کنبے صرف اس لیے لاک ڈاؤن کے دوران بھوکے نہیں مر رہے ہیں کیوں کہ انہیں حکومت کی طرف سے ایک مہینے کا پیشگی راشن – گیہوں اور چاول ملا ہے۔ ’’ورنہ، ہم غذائی اشیاء بھی نہیں خرید پاتے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’ہاتھ میں کچھ نقدی حاصل کرنے کی بے قراری اتنی زیادہ ہے کہ وزیر خزانہ نے جب ۲۶ مارچ کو اعلان کیا تھا کہ عورتوں کے جن دھن کھاتوں میں ۵۰۰ روپے جمع کیے جائیں گے، تبھی سے لوگ صبح سے ہی قطار میں لگے رہتے ہیں۔ بینکوں میں روزانہ بھیڑ ہوتی ہے۔‘‘

عثمان آباد شہر سے تقریباً ۵۸ کلومیٹر دور، لاتور کے کھُنٹے پھل گاؤں میں بھی لوگ ایم ایف آئی سے نمٹنے کے لیے کافی فکر مند ہیں۔ ایک مقامی کسان کارکن کا کہنا ہے کہ پڑوسی ماتے پھل گاؤں کے ساتھ ساتھ اس گاؤں کے بھی بہت سے لوگوں نے ایم ایف آئی سے قرض لے رکھا ہے۔ انہیں میں سے ایک ۳۵ سالہ وکاس شندے ہیں، جنہوں نے اس سال فروری میں ۵۰ ہزار روپے کا قرض لیا تھا۔ ’’میرے پاس ۱ء۵ ایکڑ زمین ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’زندہ رہنے کے لیے یہ مشکل سے کافی ہے، اس لیے میں مزدوری بھی کرتا ہوں۔ دو مہینے پہلے، میں نے گائے خریدنے اور ڈیئری کا کام شروع کرنے کے لیے یہ قرض لیا تھا۔‘‘

اب، لاک ڈاؤن کے سبب، وکاس، جو اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ رہتے ہیں، ۳۲۰۰ روپے کی ماہانہ قسط ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ’’لاک ڈاؤن کے سبب، میں اپنی ربیع کی فصل نہیں فروخت کر سکا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’گیہوں ابھی بھی کھیت میں پڑا ہوا ہے۔ منڈی میں اپنی فصل کو پہنچانا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ اب ہم کیا کریں؟‘‘

شیٹی کہتے ہیں کہ ریاستی حکومت کو یہ یقینی بنانے کے لیے مداخلت کرنی چاہیے کہ وبائی مرض کے دوران کسانوں اور مزدوروں کو ڈرایا دھمکایا اور لوٹا نہ جائے۔ ’’ایم ایف آئی کے لوگ کوئی اور زبان نہیں سمجھیں گے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’انہیں ٹھیک کرنے کے لیے قانون کا استعمال کیا جانا چاہیے۔‘‘

مہاراشٹر کے وزیر زراعت، دادا بھُسے نے مجھے فون پر بتایا کہ ریاست ہمیشہ یہ یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ لوگ روایتی مالیاتی اداروں (جیسے کوآپریٹو بینکوں) سے قرض لے سکیں۔ ’’لیکن یہ سچ ہے کہ کئی لوگ ایم ایف آئی سے قرض حاصل کرتے ہیں کیوں کہ وہ انہیں آسانی سے پیسے جاری کر دیتے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’میں ضلعوں کے کلکٹروں سے کہوں گا کہ وہ اسے دیکھیں اور بتائیں کہ کیا کیا جا سکتا ہے۔‘‘

حالانکہ تب تک، شیتل اور ارچنا اور وکاس جیسے قرضدار ایم ایف آئی ریکوری ایجنٹ کے کال سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ فون کبھی بھی بج سکتا ہے۔

مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Parth M.N.

پارتھ ایم این ۲۰۱۷ کے پاری فیلو اور ایک آزاد صحافی ہیں جو مختلف نیوز ویب سائٹس کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہیں کرکٹ اور سفر کرنا پسند ہے۔

Other stories by Parth M.N.