’’یہ بیل میری زندگی ہے،‘‘ مہادیو کھوٹ کہتے ہیں، جو ۱۵ سال کی عمر سے ہی کسان ہیں۔ مہادیو، جن کا بایاں پیر آپ تصویر میں دیکھ رہے ہیں کہ سختی سے باہر نکلا ہوا ہے، مہاراشٹر کے کولہاپور ضلع کے لکشمی واڈی گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ نو سال پہلے کھیت میں ایک زہریلے کانٹے سے جراثیم پھیلنے کے بعد اس پیر کو کاٹنا پڑا تھا۔ آج، وہ مصنوعی پیر، اور اپنے ہاتھ میں ایک چھڑی لے کر زرعی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

وہ اپنے بھائی کے دو ایکڑ کھیت پر مونگ پھلی اور کچھ جوار اُگاتے ہیں۔ ہاتکننگلے تعلقہ کے اس گاؤں سے ایک کھیت ایک اعشاریہ ۵ کلومیٹر اور دوسرا کھیت تقریباً ۳ کلومیٹر دور ہے۔

’’پچھلی دہائی میں پانی کی کمی اور میرے زخمی پیر کی وجہ سے ہماری پیداوار میں کمی آئی ہے۔ ساتھ ہی، یہ کھیت بنجر، پہاڑی علاقے میں ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ مہادیو (جو اَب عمر کے ۶۰ویں سال میں چل رہے ہیں) اپنی بیل گاڑی سے روزانہ تقریباً ۶ کلومیٹر کی دوری طے کرتے ہیں، کھیت پر جاتے ہیں اور اپنے مویشی کے لیے چارہ لاتے ہیں۔ ’’یہی مجھے مختلف مقامات پر لے کر جاتا ہے، اور اگر یہ رک گیا، تو میری زندگی بھی رک جائے گی۔‘‘

’’۱۹۸۰ کی دہائی میں، مجھے ۱۲ گھنٹے کام کرنے کے ۱۰ روپے ملا کرتے تھے – تب میں دوسرے کے کھیتوں پر اتنی دیر میں ایک ٹن گنّے کاٹتا تھا،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔ آج ایسا کرکے وہ ۲۰۰ روپے کما رہے ہوتے۔ لیکن ان کے زخم کی وجہ سے یہ سب ختم ہو گیا۔ پچھلے سال اپنے بھائی کے کھیت سے بھی انھیں بہت فائدہ نہیں ہوا۔ جانوروں نے زیادہ تر فصل کو برباد کر دیا۔ ’’آخر میں، میرے پاس مونگ پھلی کے ۳۵۔۳۵ کلوگرام کے صرف دو بورے بچے تھے۔ میں نے اسے بیچا نہیں کیوں کہ مجھے اسے اگلے موسم کے لیے رکھنا تھا اور اس میں سے کچھ اپنے رشتہ داروں کو بھی دینا تھا۔‘‘

’’میری بیوی شلا بائی اس کھیت میں، اور پھر دوسرے کے کھیتوں میں زرعی مزدور کے طور پر کام کرتی ہے اور پھل بھی بیچتی ہے،‘‘ مہادیو بتاتے ہیں۔ شلا بائی کا سخت دن صبح میں ۵ بجے شروع ہوتا ہے، اور اس میں پھل جمع کرنے کے لیے پہاڑی علاقوں کے چکر بھی لگانے پڑتے ہیں۔ لکشمی واڈی کے قریب علامہ پربھو ڈونگر (پہاڑی) پر واقع کھیت میں مہا دیو کا کام صبح میں تقریباً ۱۰ بجے شروع ہوتا ہے۔ شلا بائی کی مزدوری اور معذوری کے لیے انھیں ملنے والے ۶۰۰ روپے کے پنشن سے ہی ان دونوں کی زندگی چل رہی ہے۔

شلا بائی کھوٹ، جن کا ماننا ہے کہ وہ اپنی عمر کے آخری ۵۰ویں سال میں چل رہی ہیں، کہتی ہیں، ’’ان کے آپریشن سے پہلے میں دن میں چار گھنٹے کام کرتی تھی۔ اب میں اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روزانہ ۱۰ گھنٹے سے زیادہ کام کرتی ہوں۔‘‘ وہ سال میں تقریباً ۴۵ دن پھل بیچتی ہیں (جس کی شروعات اکتوبر میں ہوتی ہے)۔ ’’یہ کرنے کے لیے، مجھے نرانڈے گاؤں [۳ کلومیٹر دور] پیدل چل کر جانا پڑتا ہے اور کام پر صبح چھ بجے نکلنا ہوتا ہے۔‘‘ وہ قریب کے سوارڈے، آلٹے اور نرانڈے گاؤوں میں زرعی مزدور کے طور پر محنت کرتی ہیں۔ سات گھنٹوں کے مجھے ۱۰۰ سے ۱۵۰ روپے کے بیچ مزدوری ملتی ہے، جب کہ مردوں کو ۲۰۰ روپے ملتے ہیں۔ عورتیں کھیتوں میں زیادہ کام کرتی ہیں، لیکن مردوں کو ہمیشہ زیادہ مزدوری ملتی ہے،‘‘ وہ مزید کہتی ہیں۔

ان کے دونوں بیٹے لکشمی واڈی چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ایک وقتی مزدور ہے۔ دوسرا، کسی اور گاؤں میں کاشت کار ہے۔ ’’مجھے اپنے آپریشن کے لیے ۱۲۰۰۰ روپے قرض لینا پڑا تھا، کیوں کہ آپریشن کی لاگت تھی ۲۷۰۰۰ روپے۔ میرے بیٹوں نے چند سالوں میں اس قرض کو ادا کر دیا۔ وہ اب بھی بعض دفعہ ہماری مالی مدد کرتے ہیں،‘‘ مہا دیو بتاتے ہیں۔

تصویر اور خاکہ: سنکیت جین

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Sanket Jain

سنکیت جین، مہاراشٹر کے کولہا پور میں مقیم ایک آزاد دیہی صحافی اور پاری والنٹیئر ہیں۔

Other stories by Sanket Jain