/media/uploads/Articles/Jaideep Hardikar/Alone in her own shadow Ujjwala/ujjwala5.jpg


کرزادی، وردھا:

پیچھے دیکھتے ہوئے، اُجّولا پیٹھکر حیران ہیں کہ انھوں نے مشکل وقتوں کو کیسے جھیل لیا!

ایک دہائی پہلے ان کے کسان شوہر، پربھاکر نے خود اپنی جان لے لی تھی، اور اس طرح وہ مہاراشٹر کے وِدربھ علاقے میں خودکشی کرنے والے کسانوں کی طویل ہوتی فہرست میں شامل ہوگئے تھے۔ شوہر کی خود کشی کے بعد ۴۰ سال کے آس پاس عمر کی بیوہ اُجّولا اپنی اور اپنی فیملی کی زندگی کو دوبارہ جوڑنے میں لگی ہوئی ہیں۔

کچھ ہے جو انھیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ’’ہوسکتا ہے،‘‘ وہ تھوڑی دیر ٹھہرنے کے بعد کہتی ہیں، ’’یہ میرے بچوں کی وجہ سے ہو۔‘‘

اُجّولا کے پاس نہ تو ماتم کرنے کا وقت تھا، نہ آرام کرنے کی آسائش اور نہ ہی کسی کا سہارا تھا۔ جس وقت پربھاکر نے کیڑے مارنے کی دوا پی کر اپنی جان لی تھی، تب ان کی عمر تیس سال کے آس پاس تھی۔ اس کے بعد ساری ذمہ داری ان پر آن پڑی: اپنے کھیت کی دیکھ بھال کرنے سے لے کر قرض کی ادائیگی تک، جو انھوں نے اپنے بچوں کو پالنے کے واسطے لیے تھے۔ اپنی پچھلی دہائی کے بارے میں سوچتے ہوئے اُجّولا اپنے آنسوؤں کو روکنے کی زبردستی کوشش کر رہی ہیں اور ساتھ ہی چنے کی اپنی فصل کو کاٹ بھی رہی ہیں۔ یہ ان کا کھیت ہے، کرزادی میں پانچ ایکڑ زمین، ۲۰۰۰ لوگوں کی آبادی والا یہ گاؤں وَردھا شہر سے ۲۰ کلومیٹر دور واقع ہے۔ تپتے ہوئے سورج نے موسم بہار کا اعلان کر دیا ہے، لیکن یہ ان کو کھیت پر کام کرنے سے روک پانے میں قاصر ہے۔ ’’اگر میں کام نہیں کروں گی، تو میرے بچوں کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا، میں ان کے لیے کسی بھی وقت تک کام کر سکتی ہوں۔‘‘

تنِ تنہا زندگی گزارنے والی، اُجّولا جدوجہد کرنے والی ایک کسان عورت ہیں، لیکن پوری طرح باعزم بھی۔ وہ ایک ثابت قدم کسان عورت کی تصویر ہیں، سینکڑوں کسان بیواؤں کی ایک تصویر، فیملی کے بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے اور کھیتی کے بحران سے لڑتی ہوئی، جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے مطابق، ۱۹۹۵ سے ۲۰۱۳ کے درمیان تقریباً ۳ لاکھ کسانوں نے خودکشی کر لی۔ اُجّولا کے شوہر نے ۲۰۰۳ میں اپنی جان لی، جب وِدربھ میں کپاس کا بحران پیدا ہو رہا تھا۔


/static/media/uploads/Articles/Jaideep Hardikar/Alone in her own shadow Ujjwala/dscn4784.jpg

/static/media/uploads/Articles/Jaideep Hardikar/Alone in her own shadow Ujjwala/dscn4788.jpg


’’زراعت عورتوں کے لائق نہیں ہے،‘‘ اُجّولا کہتی ہیں۔ ’’جب میں بینک جاتی ہوں، تو وہاں کے کلرک مجھے سنجیدگی سے نہیں لیتے؛ جب میں بازار جاتی ہوں، تو مرد مجھے اس طرح گھورتے ہیں جیسے کوئی اجنبی ان کے گھر میں گھُس آیا ہو،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’کسان مزدور، یہاں تک کہ عورتیں بھی آسانی سے میرے کھیت پر نہیں آتیں۔‘‘

زراعت میں عورتوں کے بڑھتے ہوئے رول کو دیکھیے: اُجّولا اپنے کھیت پر دن بھر کام کرتی ہیں، ہر موسم میں، کپاس، سویابین، مکئی، چنا اور گیہوں پیدا کرنے کے لیے۔ کڑی چنوتیوں کے باوجود وہ اس گرمی میں بھی آپ کی پلیٹ میں کھانا ڈال رہی ہوں گی؛ ان کی گیہوں کی فصل جب تیار ہوتی ہے تو وہ اسے کاٹیں گی، جمع کریں گی اور اسے بازاروں تک پہنچائیں گی۔

’’اگر میرے شوہر زندہ ہوتے، تب بھی میں اپنے کھیت پر کام کر رہی ہوتی، لیکن تب اس کی اقتصادیات کے بارے میں نہیں جان پاتی،‘‘ پانچ فٹ لمبی اُجّولا کہتی ہیں، انھوں نے اپنی پیشانی پر رومال لپیٹ رکھا ہے، وہ گیہوں کی کھڑی فصل کا معائنہ کر رہی ہیں، جو اَب تیار ہونے والی ہے۔

اُجّولا اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ایک خاتونِ خانہ سے کسان اور پھر گھر کی سربراہ تک کا ان کا سفر آسان نہیں تھا۔ ’’اپنے شوہر کی موت کے بعد میں نے لوگوں کا حقیقی چہرہ دیکھا،‘‘ وہ بتاتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’کوئی آپ کی مدد نہیں کرتا، یہاں تک کہ قریبی رشتہ دار بھی نہیں۔ یہی میں نے سیکھا ہے۔ اس دنیا میں، میں بالکل اکیلی ہوں۔‘‘


/static/media/uploads/Articles/Jaideep Hardikar/Alone in her own shadow Ujjwala/dscn4816.jpg


وہ تلخی سے کہتی ہیں کہ مدد کی پیشکش، ’’ایک نقاب ہے، جو لوگوں کی بری خواہشوں کو چھپائے رہتا ہے۔‘‘ مدد کی پیشکش کرنے والے لوگوں سے وہ چوکس رہتی ہیں۔ ’’میں کسی سے بھی یہ نہیں چاہتی؛ میں اپنی پریشانیوں کا سامنا خود کرتی ہوں، اپنے کھیتوں میں کام کرتی ہوں اور اپنے بچوں کی اچھی سے اچھی دیکھ بھال کرنے کی کوشش کرتی ہوں؛ بس اور کچھ نہیں!‘‘ اُجّولا کو اپنی بیٹی وروشالی پر فخر ہے، جو اپنے والد کی موت کے وقت دس سال کی تھی، اور اب ایک با اعتماد نوجوان کام کرنے والی خاتون۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد وروشالی نرس کی ٹریننگ لینے ناگپور چلی گئی تھی۔ وہ ایک پرائیویٹ اسپتال میں کام کرتی ہے اور اب خود اپنے پیروں پر کھڑی ہو چکی ہے۔ ان کے ۱۷ سالہ بیٹے، پرشیل نے پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑ دی تھی اور اب ایک مزدور کے طور پر کام کرتا ہے، کبھی کبھار اپنی ماں کا بھی ہاتھ بٹاتا ہے۔

اُجّولا، جن کے کسان والدین نے ۱۹ سال میں ہی ان کی شادی کر دی تھی، نے کھیتی کی اے بی سی خود سے سیکھی، بالکل ابتدا سے: یعنی فصل کے انتخاب سے لے کر کھاد خریدنا، بینک سے لین دین کرنا اور اصلی کھیتی سے لے کر اس کی مارکیٹنگ تک۔ ’’میں کچھ نہیں جانتی تھی۔‘‘ آج، وہ ایک اچھی کسان ہیں، فصل بدل بدل کر اُگاتی ہیں؛ نئے نئے تجربے کرتی ہیں اور مالی حساب کتاب بھی رکھتی ہیں۔ ’’کھیتی ایک مشکل کام ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔

اپنے کھیتوں پر مختلف قسم کے تجربے کرنے کے بعد اُجّولا کو یہی بات سمجھ میں آئی کہ مختلف النوع زراعت ہی نقصان کو کم کرنے اور آمدنی کو بڑھانے کا بہترین طریقہ ہے۔ ’’میں نے کھیت پر یہ دیکھنے کے لیے گنّے لگائے کہ کیا ہم اس کی کھیتی کر سکتے ہیں؛ پیداوار اچھی نہیں رہی، اس لیے میں نے آگے قدم نہیں بڑھایا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/Jaideep Hardikar/Alone in her own shadow Ujjwala/ujjwala4.jpg


اُجّولا بتاتی ہیں کہ پربھاکر کے مرتے ہی سسرال والوں نے ان سے دوری اختیار کر لی۔ وہ کہتی ہیں کہ زمین ان کی واحد ملکیت ہے۔ ’’جب میرے شوہر زندہ تھے، تب ہم نے قرض دینے والوں کے ہاتھوں اپنی ساڑھے چار ایکڑ زمین گنوا دی،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’میں اس زمین کو واپس چھڑانے میں ناکام رہی ہوں، یہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔‘‘

دوپہر کا وقت ہے، اور اُجّولا کو چنے کے بھوسے جمع کرنا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس سال قحط کی وجہ سے فصلیں اچھی نہیں رہیں۔ ’’میرا کافی نقصان ہوا ہے اور میں دوبارہ قرضدار ہو گئی ہوں،‘‘ وہ عجیب سی ہنسی کے ساتھ کہتی ہیں۔

نقصان اور قرض نے ہی ان کے شوہر کی جان لے لی۔ ’’ان کی جب موت ہوئی تب ہمارے اوپر دو لاکھ روپے کا قرض تھا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’میں ان قرضوں کو قسط وار واپس ادا کر رہی ہوں؛ پرائیویٹ قرض دینے والوں اور بینکوں کو مجھے ایک لاکھ روپے سے زیادہ ادا کرنا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’میں ان سے مزید وقت مانگ رہی ہوں۔‘‘ ایک فلسفی کی مانند وہ کہتی ہیں کہ موت بحران سے باہر نکلنے کا راستہ نہیں ہے۔ ’’ہمیں یہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے؛ تکلیفیں تو زندگی کا حصہ ہیں؛ میرے شوہر نے ہمارے بارے میں سوچے بغیر اپنی جان دے دی۔‘‘


/static/media/uploads/Articles/Jaideep Hardikar/Alone in her own shadow Ujjwala/ujjwala1.jpg

 

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Jaideep Hardikar

جے دیپ ہاردیکر ایک صحافی، مصنف، محقق، کرکٹ شائق اور ’پاری‘ والنٹیئر ہیں۔ وہ انگریزی روزنامہ ’دی ٹیلی گراف‘ کے وسطی ہندوستان کے خصوصی نامہ نگار اور ’اے وِلیج اویٹس ڈومس ڈے‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔

Other stories by Jaideep Hardikar