اوکھی طوفان کے گزر جانے کے ہفتوں بعد بھی اَلیل، جان پال دوئم اسٹریٹ پر واقع اپنے گھر کے برآمدہ میں کھڑا ہے۔ دو سال کا یہ بچہ وہاں سے گزرنے والے ہر شخص کو دیکھ کر مسکراتا ہے، اور گھر تک آنے والے کچے راستے کو بار بار دیکھتا رہتا ہے، اس امید میں کہ اس راستے سے آنے والا اگلا آدمی اس کے والد، یسو داس ہو سکتے ہیں۔

اس سڑک پر واقع کچھ گھروں کو ستاروں اور قمقموں سے سجایا گیا ہے۔ لیکن اجی کُٹّن (گھر والے پیار سے الیل کو اسی نام سے پکارتے ہیں) اندھیرے میں کھڑا ہے۔ اس کی ماں اجیتھا (۳۳)، جو ایک خاتونِ خانہ ہیں، گھر کے اندر موجود ہیں اور رو رہی ہیں؛ وہ کئی دنوں سے بستر پر پڑی ہوئی ہیں۔ اجی کُٹّن بار بار ان کے پاس آکر انھیں گلے لگا لیتا ہے اور پھر برآمدہ میں واپس لوٹ جاتا ہے۔

یہ کرسمس ۲۰۱۷ سے کچھ دن پہلے کی بات ہے۔ اس کی ماں نے اس چھوٹے بچہ کو یقین دلایا تھا کہ یسو داس کرسمس کے دن آ جائیں گے، اور اپنے ساتھ نئے کپڑے اور کیک بھی لائیں گے۔ لیکن الیل کے والد نہیں لوٹے۔

یسو داس شِمایوں (۳۸)، ان ماہی گیروں میں سے ایک تھے، جو ۳۰ نومبر کو طوفان کے آنے کے وقت کیرالہ کے ترواننت پورم ضلع کے نیٹ ٹنکارا تعلق میں واقع کروڈ گاؤں کے اپنے تین کمروں والے گھر سے روانہ ہوئے تھے۔ وہ اپنے چار ساتھیوں کے ہمراہ، ۲۹ نومبر کی شام کو سمندر میں گئے تھے۔ ان میں سے ایک ان کا پڑوسی الیگزنڈر پوڈی تھمپی (۲۸) تھا، جب کہ باقی تین تمل ناڈو کے تھے۔ الیگزنڈر اور ان کی بیوی جیسمن جان (۲۱) کی ایک ۱۰ ماہ کی چھوٹی بچی، اَشمی الیکس ہے۔

A young boy sitting on a chair and holding a framed photograph of his family
PHOTO • Jisha Elizabeth
Woman sitting on sofa holding her sleeping child
PHOTO • Jisha Elizabeth

دو سالہ اجی کُٹّن (بائیں) نے اپنے والد کو کھو دیا اور جیسمن (دائیں) نے اپنے شوہر کو؛ دونوں ۲۹ نومبر کو سمندر میں گئے تھے لیکن واپس نہیں لوٹے

یہ گروپ عام طور سے چھ سات دنوں تک مچھلی پکڑنے کے بعد کنارے پر آتا تھا۔ اس کے بعد یہ لوگ مچھلی کی بولی لگاتے اور اگلے دن دوبارہ سمندر میں چلے جاتے۔ یہی ان کا معمول تھا۔ لیکن ’اسٹار‘ نام کی ان کی کشتی کا کچھ پتہ نہیں چلا، اس کے بارے میں ابھی تک کوئی جانکاری نہیں ملی ہے۔ تقریباً ۳۲ ہزار لوگوں کی آبادی والے اس بڑے گاؤں، کروڈ کی پوژی یور بستی سے کم از کم ۱۳ ماہی گیر لاپتہ ہیں۔

اُس شام کو کیرالہ اور تمل ناڈو سے، ڈیڑھ ہزار سے زائد ماہی گیر سمندر میں گئے ہوئے تھے۔ ان کے گھر والوں نے میڈیا کو بتایا کہ انھیں کسی بھی سرکاری ایجنسی سے اس بات کی احتیاطی وارننگ نہیں دی گئی تھی کہ سمندری طوفان آنے والا ہے۔

میبل اڈیما کے شوہر شیلو (۴۵) اور ان کا بیٹا منوج (۱۸) بھی لاپتہ لوگوں میں شامل ہیں۔ یہ بھی اس دن سمندر کی طرف گئے تھے، یہ دونوں ہمیشہ ایک ساتھ وائر لیس سیٹ والی کشتی، وَلّار پاد تھمّا سے سمندر میں جایا کرتے تھے۔ کشتی کے مالک، کیجن باسکو، جو کروڈ گاؤں کی پارو تھیور بستی کے رہنے والے ہیں، کو ۳۰ نومبر کو ایک بار میسیج ملا کہ سمندر کی حالت بہت خراب ہے۔ اس کے بعد سِگنل غائب ہو گیا۔

تلاش کرنے والی ٹیموں کو بعد میں دو لاشیں ملیں – شیلو اور منوج کے ساتھیوں کی – اس کشتی سے؛ انھوں نے پانی کے اوپر اور بھی لاشوں کو تیرتے ہوئے دیکھا، لیکن اونچی لہروں کی وجہ سے انھیں واپس نہیں لا سکے۔ ’’ہم نے سمندر میں کشتی، جال اور دیگر سبھی سامان کھو دیے،‘‘ باسکو نے بتایا۔ ’’ہمیں کل ۲۵ لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ راحت رسانی ٹیم کشتی کو واپس نہیں لا سکی۔ لیکن سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے دوستوں کو کھو دیا اور ان کے کنبوں کو جو نقصان ہوا ہے، اس کی تلافی نہیں کی جا سکتی۔‘‘

Woman sitting on the floor holding a framed photograph of her husband and son
PHOTO • Jisha Elizabeth

میبل اڈیما کے شوہر اور ان کا بیٹا، دونوں ماہی گیر، کا بھی کوئی پتہ نہیں چلا

میبل کی ایک ۱۵ سال کی بیٹی ہے پرنسی، جو دسویں کلاس میں پڑھ رہی ہے۔ اپنے لاپتہ شوہر اور بیٹے کا غم تو انھیں پہلے سے ہی ہے، اب وہ پرنسی کی تعلیم اور اس فیملی نے اپنا گھر بنانے کے لیے جو ۴ لاکھ روپے قرض لیے تھے، اسے لے کر فکرمند ہیں۔

بحر ہند میں آنے والا زبردست طوفان، اوکھی (بنگالی میں اس لفظ کا مطلب ہے ’آنکھ‘)، نے سری لنکا میں ۲۹ نومبر کو دستک دی، اس کے بعد یہ ۳۰ نومبر کو دوپہر میں کیرالہ اور تمل ناڈو کے ساحلوں سے ٹکرایا۔ یہ خاص کر تمل ناڈو کے کنیا کماری ضلع اور کیرالہ کے ترو اننت پورم ضلع میں شدید تھا، جہاں اس نے کولام، الپوژا اور ملاپورم ضلعوں کو نقصان پہنچایا۔

’’مجھے اب اونچی لہروں سے ڈر لگتا ہے۔ میں سمندر میں دوبارہ کبھی نہیں جاؤں گا۔ میں نہیں جا سکتا،‘‘ کلیمنٹ بنجی لاس (۶۵) کہتے ہیں، جن کا چہرہ پیلا پڑ چکا ہے۔ ترو اننت پورم تعلقہ کے مُتّ تھارا گاؤں کی پون تھُرا بستی کے ماہی گیر، کلیمنٹ ۱۲ سال کی عمر سے ہی کشتیوں کی سواری کرتے رہے ہیں۔ وہ ۲۹ نومبر کو شام میں ۳ بجے، دو دیگر لوگوں کے ساتھ سمندر میں گئے تھے۔ وہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ رات بالکل پرسکون تھی۔ لیکن اگلی صبح کو ۵ بجے، جب وہ کنارے لوٹ رہے تھے، تب موسم خراب ہونا شروع ہوا، خوفناک ہوا چلنے لگی، اور ان کی کشتی اچانک پلٹ گئی۔ کلیمنٹ (جو ترواننت پورم کے پریس کلب میں بول رہے تھے) نے بتایا کہ انھوں نے کشتی سے ایک رسی کھینچی اور اپنے جسم سے پلاسٹک کے ایک ڈبہ کو باندھ لیا، تاکہ پانی کے اوپر تیرنے میں مدد مل سکے۔ بھاری بارش اور بڑی بڑی لہروں کے ان کے جسم کے اوپر سے گزرنے کے باوجود، وہ سمندر میں تقریباً چھ گھنٹوں تک زندہ رہے۔ اس کے بعد ایک دوسری کشتی آئی، جس نے انھیں بچایا۔

وزیر اعظم اور کیرالہ کی وزیر برائے ماہی گیری جے مرسی کُٹی اما نے طوفان سے متاثرہ گاؤوں والوں سے وعدہ کیا کہ وہ کرسمس سے پہلے لاپتہ لوگوں کو ان کے گھر واپس لائیں گے۔ انڈین نیوی، کوسٹ گارڈ اور ایئر فورس کے ذریعے چلائے جانے والے آپریشن میں ۸۰۰ سے زیادہ ماہی گیروں کو بچایا گیا، وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے ۲۷ دسمبر کو پارلیمنٹ میں بتایا – ان میں سے ۴۵۳ لوگ تمل ناڈو، ۳۶۲ کیرالہ اور ۳۰ لوگ لکشدیپ اور منی کوئے جزیروں کے تھے۔

لیکن سرکاری ایجنسیوں نے کرسمس سے دو دن پہلے تلاش اور بچاؤ کی کارروائی روک دی۔ لوگوں نے جب پرزور احتجاج کیا، جو ۲۵ دسمبر کے بعد تلاش کا کام دوبارہ شروع کیا گیا – اور یہ آج تک جاری ہے۔

کیرالہ حکومت کے مطابق، ریاست کے ۱۴۳ افراد لاپتہ ہیں؛ جب کہ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تعداد ۲۶۱ ہے۔ اور ترواننت پورم ضلع نے ۲۴۳ نام جمع کیے ہیں، جب کہ تمل ناڈو کے ۴۴۰ لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔

People holding candles at Christmas
PHOTO • Jisha Elizabeth

کیرالہ کے ساحلی علاقوں کے لوگ، جن میں لاپتہ افراد کے رشتہ دار بھی شامل ہیں، کرسمس کی شام کو ترواننت پورم کے شنکوموگام ساحد پر جمع ہوئے

اوکھی کے بعد، نیشنل فِش ورکرس فورم اور کیرالہ انڈیپنڈنٹ فِش ورکرس فیڈریشن نے مرکزی حکومت کے ذریعہ تشکیل کردہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیم کو مطالبات کی ایک فہرست سونپی ہے۔ اس میں یہ مطالبات شامل ہیں: متاثرہ کنبوں کو مالی امداد؛ جن ماہی گیروں کے ساز و سامان کھو گئے ہیں، انھیں مالی مدد؛ گہرے سمندر میں مچھلی پکڑنے والی کشتیوں کے درمیان لائسنس والے سیٹلائٹ وائرلیس اور سیٹلائٹ ریڈیو تقسیم کیے جائیں؛ گہرے سمندر میں جانے والے سبھی ماہی گیروں کو لائف سیونگ سی سیفٹی کٹس اور نیوی گیشنل ایکوپمنٹ؛ کیرالہ اور تمل ناڈو کے تمام ساحلی ضلعوں کے لیے میرن ایمبولینس؛ اور تباہ کاریوں کی روک تھام اور بازآبادکاری سے متعلق فیصلوں میں ماہی گیروں کی شرکت۔

اور دسمبر ۲۰۰۴ کے بعد تلخ تجربہ کی وجہ سے – جب فنڈ کا استعمال شفافیت کے بغیر اور صحیح طریقے سے نہیں کیا گیا – اوکھی سائیکلون ریلیف پیکیج کے لیے مختص کیے گئے فنڈ کا استعمال سختی سے صرف کیرالہ اور تمل ناڈو کے متاثرہ ماہی گیر گاؤوں کے لیے کیا جائے۔

دریں اثنا، متعدد سیاسی پارٹیوں کے ممبران کروڈ آئے اور یسو داس کی فیملی اور دیگر کنبوں سے ملاقات کی ہے۔ انھوں نے انھیں امداد کی یقین دہانی کرائی ہے اور اجی کُٹن کی بہن عالیہ (۱۲)، اور بھائی ایلن (۹) کی اسکولنگ کا خرچ اٹھانے کی بھی پیشکش کی ہے۔

لیکن حکومت نے جب ۲۳ دسمبر کو یہ اعلان کیا کہ تلاش کا کام روک دیا گیا ہے، تو برادری کے لوگوں نے اجیتھا سے ان کے شوہر کی آخری رسومات ادا کرنے کا مشورہ دیا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی، وہ اس کے لیے راضی ہو گئیں۔ ان کی آخری رسومات، گاؤں کے دیگر لاپتہ ماہی گیروں کے ساتھ، اسی دن مقامی سینٹ میری میگڈالین چرچ میں ادا کی گئیں۔

فیملی کی امید ویسے اب بھی باقی ہے۔ ’’ہم انتظار کر رہے ہیں،‘‘ تھڈیوس میری کہتی ہیں۔ ’’ہم ان کے لیے کچھ اور دن انتظار کریں گے۔‘‘

اس اسٹوری کا ایک ورژن ۲۴ دسمبر، ۲۰۱۷ کو مادھیمم میں شائع ہوا تھا۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Jisha Elizabeth

جیشا اِلیزابیتھ ترواننت پورم میں مقیم، ملیالم روزنامہ ’مادھیمم‘ کی سب ایڈیٹر/ نامہ نگار ہیں۔ وہ کئی ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں، جس میں شامل ہے ۲۰۰۹ میں حکومت کیرالہ کا ڈاکٹر امبیڈکر میڈیا ایوارڈ، ایرنا کولم پریس کلب سے لیلا مینن وومن جرنسلٹ ایوارڈ، اور ۲۰۱۲ میں نیشنل فاؤنڈیشن فار انڈیا فیلوشپ۔ جیشا کیرالہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کی منتخب ایگزیکٹو ممبر ہیں۔

Other stories by Jisha Elizabeth