سنجیب داس مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع میں ہندوستانی ریلوے میں ٹھیکہ مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ پڑوس کے بولپور میں سوری پاڑہ کے کم آمدنی والے گھروں کے بچوں کے لیے بجرنگ ششو شکشا مندر اسکول چلاتے ہیں۔ ’’میں شام کو بہت سے بچوں کو سڑکوں پر آوارہ گھومتے ہوئے دیکھتا ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’اور ان میں سے زیادہ تر کسی کام کے نہیں۔ لہٰذا میں نے ان بچوں کو سیدھی راہ پر لانے کے لیے انھیں ایک طرح کی تعلیم دینے کا فیصلہ کیا۔ اسی لیے میں نے یہ اسکول بنایا ہے۔‘‘

اس اسکول میں پڑھنے والے تقریباً ۲۵ بچوں کے والدین گھریلو نوکر، ٹھیلہ کھیچنے والے اور چائی بیچنے والے ہیں۔ ’’میرا ماننا ہے کہ اگر کمیونٹی کا ایک بھی فرد پڑھانے یا محروم بچوں کا راہبر بننے کی ذمہ داری لیتا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’تو اس سے ہمارے ملک کو آگے بڑھانے میں کافی مدد ملے گی۔‘‘


02-_Colours-of-hope_Sinchita-Maji-SH-Colours-of-Hope.jpg


داس کے کچھ بچوں نے مقامی ڈرائنگ کمپٹیشن میں حصہ لیا اور انعامات جیتے: ’’کون جانتا ہے، انھیں میں سے کوئی اعلیٰ درجے کا بہترین دستکار نکلے۔ ان کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے، لیکن ان کو سکھانے والا کوئی اچھا ٹیچر نہیں ہے۔‘‘

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Sinchita Maji

سِنچِتا ماجی فری لانس فوٹوگرافر، ڈاکومینٹری فلم ساز اور پاری کی والنٹیئر ہیں۔ یہ اسٹوری انھوں نے ۱۶۔۲۰۱۵ کی پاری فیلوشپ کے تحت کی ہے۔

Other stories by Sinchita Maji