سنجیب داس مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع میں ہندوستانی ریلوے میں ٹھیکہ مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ پڑوس کے بولپور میں سوری پاڑہ کے کم آمدنی والے گھروں کے بچوں کے لیے بجرنگ ششو شکشا مندر اسکول چلاتے ہیں۔ ’’میں شام کو بہت سے بچوں کو سڑکوں پر آوارہ گھومتے ہوئے دیکھتا ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’اور ان میں سے زیادہ تر کسی کام کے نہیں۔ لہٰذا میں نے ان بچوں کو سیدھی راہ پر لانے کے لیے انھیں ایک طرح کی تعلیم دینے کا فیصلہ کیا۔ اسی لیے میں نے یہ اسکول بنایا ہے۔‘‘

اس اسکول میں پڑھنے والے تقریباً ۲۵ بچوں کے والدین گھریلو نوکر، ٹھیلہ کھیچنے والے اور چائی بیچنے والے ہیں۔ ’’میرا ماننا ہے کہ اگر کمیونٹی کا ایک بھی فرد پڑھانے یا محروم بچوں کا راہبر بننے کی ذمہ داری لیتا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’تو اس سے ہمارے ملک کو آگے بڑھانے میں کافی مدد ملے گی۔‘‘

PHOTO • Sinchita Maaji

داس کے کچھ بچوں نے مقامی ڈرائنگ کمپٹیشن میں حصہ لیا اور انعامات جیتے: ’’کون جانتا ہے، انھیں میں سے کوئی اعلیٰ درجے کا بہترین دستکار نکلے۔ ان کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے، لیکن ان کو سکھانے والا کوئی اچھا ٹیچر نہیں ہے۔‘‘

یہ ویڈیو اور اسٹوری سنچیتا مانجی کی ۲۰۱۵-۱۶ پاری فیلوشپ کے حصہ کے طور پر کی گئی تھی۔


محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Sinchita Maji

سنچیتا ماجی پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی ویڈیو کو آرڈی نیٹر، اور ایک فری لانس فوٹوگرافر اور ڈاکیومینٹری فلم میکر ہیں۔

Other stories by Sinchita Maji