آندھرا پردیش کی حکومت اس وقت کرشنا ندی کے کنارے واقع ۲۹ گاؤوں کی زرعی زمینوں کو بڑے پیمانے پر اپنی تحویل میں لے رہی ہے، تاکہ وہ ندی کے کنارے اپنی راجدھانی کی تعمیر کر سکے۔ اس راجدھانی کا نام ہوگا ’امراوتی‘، لیکن اس خطہ میں نئے ’شہریوں‘ کے طور پر ہجرت کرکے آنے والے چار پیروں والے ہیں۔

حکومت کے ذریعہ زمین پر قبضہ کرنے کی وجہ سے کاشت کاری رُک گئی ہے، کھیت چراگاہ بن چکے ہیں، اور کھیتوں پر کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے، کیوں کہ وہ راجدھانی والے اس شہر کا انتظار کر رہے ہیں، جو بن بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ دریں اثنا، بکریاں چرانے والے گڈریے، اپنے ہزاروں مویشیوں کے ساتھ، ان زمینوں کو روند رہے ہیں، جو اتنی زرخیز ہے کہ ان پر ایک سال میں تین فصلیں اُگائی جا سکتی ہیں۔ ’’میں نے اخباروں میں پڑھا کہ کسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کھیتی کرنا چھوڑ دیں، تاکہ حکومت ایک شہر بنا سکے،‘‘ بکریاں چرانے والے ایک گڈریہ، گوری پارتھی لاڈھر بابو نے بتایا۔


02-IMG_0022-AS & SLA-The four-legged ‘first citizens’ of Amaravati.jpg

آندھرا پردیش کی مجوزہ راجدھانی، امراوتی کے چند اولین ’مہاجرین‘


آئندہ بننے والے اس شہر تک پہنچنے کے لیے ۳۴ سالہ اس چرواہے نے پاس کے کرشنا ضلع میں واقع اپنے گاؤں، ملّا پلّی سے ۹ دیگر لوگوں کے ساتھ ۱۵۰ کلومیٹر کا سفر شاہراہوں اور گلی محلوں سے ہو کر طے کیا ہے، جب کہ ان کے ساتھ ایک ہزار بکریاں بھی ہیں۔ اگر یہ شہر بن کر تیار ہوا، چاہے جب بنے، تو اس کا وسیع تر راجدھانی خطہ ۸۶۰۳ مربع کلومیٹر پر محیط ہوگا۔

فی الوقت، یہ آندھرا پردیش کی شاید سب سے بڑی چراگاہ ہے۔

’’یہاں تک پہنچنے میں ہمیں ۱۵ روز لگے،‘‘ ایک دوسرے چرواہے، گوری پارتھی شیو رام کرشن نے بتایا۔ ’’ہمارے گاؤں سے سب سے پہلے کچھ لوگ یہاں کا معائنہ کرنے آئے تھے، جنھوں نے واپس آکر بتایا تھا کہ یہاں خالی زمینیں پڑی ہوئی ہیں، جن پر مویشیوں کو چرایا جا سکتا ہے۔‘‘


03-IMG_0001-AS & SLA-The four-legged ‘first citizens’ of Amaravati.jpg

مستقبل میں بننے والے اس شہر تک پہنچے کے لیے چرواہوں کو شاہراہوں اور گلی محلوں سے ہوتے ہوئے ۱۵ دنوں تک پیدل سفر کرنا پڑا


’’لینڈ پولنگ‘‘ اسکیم کے چلتے فصلوں کو کاٹنا مشکل ہوگیا ہے۔ حکومت کو کسانوں سے ان کی زمین لینے کے لیے ’’لینڈ پولنگ‘‘ اسکیم کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے۔ چونکہ تحویل اراضی قانون ۲۰۱۳ کے بعد سرکاروں کے لیے زمینوں کو براہِ راست اپنی تحویل میں لینا کافی مشکل ہو گیا ہے، اس لیے احتجاج و مخالفت کو روکنے کے لیے آندھرا پردیش حکومت نے نایاب طریقہ نکالا ہے: راجدھانی کے لیے ضروری زمین کو سب سے پہلے ’’جمع‘‘ کیا جائے گا، اور جو لوگ اپنی مرضی سے خود آگے آکر حکومت کو زمین دیں گے، انھیں بعد میں ان کی زمین میں سے ۳۰ فیصد حصہ واپس لوٹا دیا جائے گا۔ اس کا دعویٰ تب کیا جا سکے گا، جب ان کی زمین پرقیاتی کام مکمل ہو چکا ہوگا اور تب اس کی قیمت موجودہ بازی قیمت سے کئی گنا زیادہ ہو چکی ہوگی۔

اس پولنگ سسٹم (زمین جمع کرنے کے طریقہ) میں شرکت کرنا، حالانکہ ’رضاکارانہ‘ مانا جا رہا ہے، لیکن پریس سے ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ مقامی انتظامیہ اس کے لیے کسانوں اور مقامی باشندوں پر دباؤ بنا رہی ہے۔ حکومت نے بھی ’’جمع کی گئی‘‘ زمین پر، جہاں کبھی بھی سبزہ زار موجود ہیں، وہاں بھاری مشینیں لگاکر ان کی صفائی شروع کر دی ہے۔ بہت سارے کسانوں، جو اَب بھی اپنی زمینوں کے مالک ہیں، نے فصلیں اگانی چھوڑ دی ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ امراوتی کی اُن زمینوں کا ہے، جو زرخیز ہیں، جہاں بکریوں اور بھیڑوں کی اتنی بڑی تعداد نے دوسری بڑی پریشانی کھڑی کر دی ہے۔


04-IMG_9925-AS & SLA-The four-legged ‘first citizens’ of Amaravati.jpg

زراعت کا کام رک گیا ہے اور کھیتوں پر کام کرنے والے ان ہزاروں کسانوں کا مستقبل بیچ میں لٹک گیا ہے، جو راجدھانی کے اس شہر کے بننے کا انتظار کر رہے ہیں، جس کے بارے میں ابھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ بنے گا بھی یا نہیں


امراوتی میں چونکہ مویشیوں نے ایک ماہ قبل سے ہی آنا شروع کر دیا ہے، لہٰذا کسانوں کو اپنے کھیتوں اور فصلوں کے چاروں طرف باڑ لگوانے پر مزید پیسے خرچ کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ سے اب کسانوں اور گلہ بانوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے۔ بہت سے کسانوں، جنہوں نے پولنگ کے لیے اپنی زمین نہیں دی ہے، اور اگر وہ چاہیں تو اب بھی فصل اُگا سکتے ہیں، نے کھیتی کرنا بند کر دیا ہے، بھلے ہی کچھ دنوں کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی وجہ سے وجے واڑہ کے جنوب میں واقع جو زمین کبھی زرخیز ہوا کرتی تھی، اب وہ بنجر ہو چکی ہے اور اس میں گھاس پھوس بڑی مقدار میں اُگ آئی ہے۔

کسانوں کی طرح ہی، بکریوں کے گلہ بانوں کا بھی مستقبل غیر یقینیت کا شکار ہو گیا ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں نئے شہر کا سنگِ بنیاد رکھنے سے عین قبل، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی شرکت کی تھی، تمام گلہ بانوں سے اس علاقہ کو فوراً خالی کر دینے کے لیے کہا گیا تھا۔ ’’ہم میں سے کچھ لوگ کرشنا ندی کے کنارے بنے ریت کے ٹیلوں کے پیچھے چھپ گئے تھے۔ باقی گلہ بان آس پاس کے گاؤوں کی طرف چلے گئے تھے،‘‘ شیو رام کرشن ہمیں بتاتے ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ تقریب سے کئی دن پہلے، شاہراہیں بکریوں اور بھیڑوں سے جام ہو گئی تھیں۔


05-IMG_0114-AS & SLA-The four-legged ‘first citizens’ of Amaravati.jpg

بکریوں کے گلہ بانوں کا مستقبل بھی اندھیرے میں ہے، جب کہ کسانوں کی طرح وہ بھی امراوتی شہر کے بننے کا انتظار کر رہے ہیں


فی الحال، گلہ بان اپنی زندگی کو حسب معمول چلانے کے لیے امراوتی واپس لوٹ آئے ہیں۔ وہ صبح سویرے سو کر اٹھ جاتے ہیں اور سات بجے سے ہی اپنی بکریوں کو چرانے لگتے ہیں۔ گلہ بانوں میں سے زیادہ تر کی عمر ۲۰ سے ۳۰ سال کے درمیان ہے۔ وہ ۱۰ سے ۱۵ آدمیوں کے گروپ میں ساتھ چلتے ہیں اور ان کے پاس ایک ہزار بکریاں ہوتی ہیں۔ ان کی مشترکہ پہچان یہ ہے کہ وہ ایک ہی گاؤں کے رہنے والے ہیں اور خانہ بدوش کے طور پر زندگی گزارتے ہیں۔

یہ گلہ بان مہینوں تک جب اپنے اپنے گاؤوں سے دور ہوتے ہیں، تو کھلے آسمان کے نیچے ہی سوتے اور کھاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اپنے مویشیوں کی باری باری دیکھ بھال کرنے کے لیے وہ آپس میں وقت مقرر کر لیتے ہیں۔ ’’ہمیں ہر وقت الرٹ رہنا پڑتا ہے۔ حال ہی میں رات کے وقت ہماری کچھ بکریاں اس لیے غائب ہوگئیں، کیوں کہ ہم میں سے کوئی سو گیا تھا،‘‘ شیو رام کرشن کہتے ہیں۔

چونکہ ایک اچھی، موٹی تازی اور جوان بکری کی قیمت ۴۵۰۰ روپے ہے، اس لیے ایک کے بھی غائب ہوجانے کا مطلب ہے بڑا نقصان۔ گرمیوں کے موسم میں، گلہ بان اپنے اپنے گاؤوں کو لوٹ جاتے ہیں۔ ’’یہ وہ موسم ہوتا ہے جب کھیتوں میں کوئی فصل نہیں ہوتی اور وہ ان کھیتوں میں اپنے مویشیوں کو چرا سکتے ہیں،‘‘ کوکالا رام کوٹیشور راؤ بتاتے ہیں۔ ’’سال کے باقی دنوں میں، کھیت ہری مرچ کے پودوں سے بھرے رہتے ہیں۔‘‘


06-IMG_9984-AS & SLA-The four-legged ‘first citizens’ of Amaravati.jpg

ایک جوان بکری کی ۴۵۰۰ روپے میں ملتی ہے، اس لیے گلہ بان اس بات پر نظر رکھتے ہیں کہ کہیں کوئی بکری کو چرا نہ لے جائے


ہر سال جب ان کے آبائی گاؤوں کے کھیتوں میں فصلیں بو دی جاتی ہیں، تو یہ گلہ بان جنوب کا رخ کرنے لگتے ہیں، کرشنا ندی کے اُس پار چراگاہوں کی تلاش میں۔ پہلے، ان میں سے زیادہ تر گلہ بان اپنی بکریوں کو ویلم پلّی جنگل میں لے جایا کرتے تھے، جو کہ امراوتی کے نئے بننے والے راجدھانی شہر سے مزید ۸۰ کلومیٹر دور جنوب کی سمت میں ہے۔


07-IMG_9963-AS & SLA-The four-legged ‘first citizens’ of Amaravati.jpg

’کون جانتا ہے کہ جب وہ اس شہر کو بنانا شروع کریں گے، تب کیا ہوگا؟‘


’’ہمیں ان جنگلات کو استعمال کرنے کے لیے معمولی فیس ادا کرنی پڑتی تھی،‘‘ کیشور راؤ بتاتے ہیں۔ ’’ابھی تو ہم اور ہماری بکریاں اسی زمین پر زندگی بسر کر رہے ہیں، جس پر راجدھانی بننی ہے۔ کون جانتا ہے کہ اس وقت کیا ہوگا، جب یہ شہر بننا شروع ہوگا؟‘‘

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Ajai Sreevatsan and Sri Lakshmi Anumolu

اجے شری وتسن ایک آزاد صحافی ہیں؛ وہ پہلے ’دی ہندو‘ کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ شری لکشمی انومولو ایک کارکن ہیں جو آندھرا پردیش میں تحویل اراضی کے ایشو پر کام کر رہے ہیں۔ دونوں فی الحال ینگ انڈیا فیلو ہیں، جو اشوکا یونیورسٹی، سونپت کے ذریعہ جاری کی گئی فیلوشپ کے تحت تفویض کی گئی ہے۔

Other stories by Ajai Sreevatsan and Sri Lakshmi Anumolu