’’یہ پاترا بہت مفید ہے۔ ہمارا پاڑہ (بستی) ابھی بھی اندھیرے میں ہے۔ اس لیے میں آج مارچ کر رہی ہوں۔ کم از کم اب تو ہمیں بجلی دے دو،‘‘ ۴۷ سالہ منگل گھڈگے نے ۲۰-۲۱ فروری کو ناسک میں کسانوں کی ریلی میں اپنے سر پر ٹیبلیٹ سائز کی سولر پلیٹ کو متوازن کرتے ہوئے کہا، ’’سورج کی روشنی پاترا (دھات) پر سیدھی پڑتی ہے اور گرمی کو جمع کرتی ہے۔ ہم اس کا استعمال شام کو موبائل فون یا ٹارچ کو چارج کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اس نے ہمیں کچھ راحت دی ہے۔‘‘

منگل (سب سے اوپر کور فوٹو میں) کی طرح ان کے کئی پڑوسی، ناسک ضلع کے ڈنڈوری تعلقہ کے شندواڑ گاؤں سے تقریباً آدھا کلومیٹر دور، ۴۰ گھروں کی بستی میں سولر پلیٹوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اس پاڑہ کے سبھی باشندے مہادیو کولی برادری کے ہیں، جو کہ ایک درج فہرست ذات ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ جنگلاتی زمین پر دھان، راگی اور ارہر کی کھیتی کرتے ہیں۔ ۲۰۱۸ میں خراب بارش کے سبب اُن سبھی نے اپنی فصلیں کھو دیں یا انھیں بہت کم پیداوار ملی ہے۔

منگل نے ایک سال پہلے سولر پلیٹ خریدی تھی۔ ’’میرے پاڑہ میں سے کسی نے ایک پاترا خریدا۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ میرے لیے بھی ایک لا دیں۔ اس کے بعد کئی دیگر لوگوں نے بھی اسے خریدنا شروع کر دیا۔ اس کی قیمت ۲۵۰ روپے ہے – یعنی ہمارے جیسے لوگوں کے لیے ایک دن کی مزدوری،‘‘ انھوں نے کہا۔

A man smiling during the march .
PHOTO • Jyoti Shinoli
Two men during the march
PHOTO • Jyoti Shinoli

جانو ٹوکرے (بائیں) اور پون سونو (دائیں): ’ہمارے بچے اندھیرے میں کیسے پڑھیں گے؟‘

منگل کے گھر پر ایک ریچارج ایبل لیمپ ہے، جس کا استعمال ان کا بیٹا رات میں پڑھتے وقت کرتا ہے، وہ اب ۱۰ویں کلاس میں ہے۔ ’’اس پاترا سے وہ کم از کم مطالعہ کر سکتا ہے۔ اس اندھیرے میں کم از کم اس سے کچھ امید تو ہے،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں۔

کسانوں کی ریلی میں کئی دیگر لوگ بھی اپنے سر پر یا ہاتھوں میں اسی طرح کی سولر پلیٹ یا پینل لے کر چل رہے تھے۔ ان میں ۱۰۸ گھروں والے پایرپاڑہ گاؤں (مردم شماری ۲۰۱۱) کے ۲۸ سالہ پون سونو اور ۳۰ سالہ جانو ٹوکرے بھی تھے۔ انھوں نے پانی کی کمی اور فصل بربادی کی بھی بات کہی۔

’’ہماری ۱۲ جھونپڑیاں گاؤں کے باہری علاقے میں ہیں۔ گاؤں کے اندر تو بجلی ہے، لیکن ہمارے یہاں نہیں ہے۔ ہمارے بچے اندھیرے میں کیسے پڑھیں گے؟‘‘ پون نے پوچھا۔ ’’ہمیں راشن پر مہینے میں دو لیٹر مٹی کا تیل (کیروسین) ملتا ہے۔ ہم کھانا پکانے میں کتنا استعمال کریں اور لیمپ جلانے میں کتنا؟ سرکار نہ تو ہمیں ہماری زمین کا حق دے رہی ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ ہمیں اپنی چھوٹی موٹی کمائی سے اس طرح کی چیزیں [سولر پلیٹ] خرید کر خود اپنا انتظام کیوں کرنا چاہیے؟‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jyoti Shinoli

جیوتی شِنولی ممبئی میں مقیم ایک صحافی اور پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی کانٹینٹ کوآر ڈی نیٹر ہیں؛ وہ اس سے پہلے ’می مراٹھی‘ اور ’مہاراشٹر۱‘ جیسے نیوز چینلوں کے لیے کام کر چکی ہیں۔

Other stories by Jyoti Shinoli