’’یہاں گاؤں کے اسکول میں، تعلیم کا معیار اچھا نہیں ہے۔ اس لیے میں اپنی بیٹیوں کو وارانسی لے گیا۔ کون جانتا تھا کہ مجھے شہر کے اسکول میں داخلہ کے تین مہینے کے اندر ہی انہیں گاؤں واپس لے جانا پڑے گا؟‘‘ ارون کمار پاسوان کہتے ہیں، جو اترپردیش کے وارانسی شہر میں ایک ریستراں کے باورچی خانہ میں کام کرتے اور ۱۵۰۰۰ روپے مہینہ کماتے تھے، لیکن یہ کووڈ-۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب مارچ میں بند ہو گیا۔

مئی کی ابتدا میں، جب ان کی فیملی کے لیے کھانا خریدنا ممکن نہیں تھا، تو پاسوان نے وارانسی سے تقریباً ۲۵۰ کلومیٹر دور، بہار کے گیا ضلع میں واقع اپنے گاؤں، مایاپور واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ ’’میں کل صبح ۳ بجے اپنی فیملی اور کچھ دیگر لوگوں کے ساتھ یہاں سے نکلوں گا،‘‘ پاسوان نے مجھے ۸ مئی کو فون پر بتایا۔ ’’ہم [یوپی-بہار] سرحد تک پیدل چلیں گے اور بس پکڑیں گے۔ لگتا ہے کہ وہاں سے بسوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ اگر ہمیں راستے میں کوئی ٹرک ملتا ہے، تو ہم انہیں سرحد تک چھوڑنے کے لیے کہیں گے۔‘‘

پاسوان اور ان کی بیوی، ۲۷ سالہ سبیتا، اپنے تین چھوٹے بچوں – دو بیٹیوں ۸ سالہ رولی اور ۶ سالہ رانی، اور ۳ سالہ بیٹے آیوش – کے ساتھ اگلی صبح نکل گئے۔ وہ ۵۳ کلومیٹر دور، ریاست کی سرحد کے پار، کرم ناسا چیک پوسٹ تک پیدل گئے۔ وہاں، انہیں بس میں سوار ہونے سے پہلے، بہار کی کیمور ضلع انتظامیہ کے ذریعے قائم کیے گئے طبی کیمپ میں تھرمل اسکیننگ کرانی پڑی۔ ’’خوش قسمتی سے، وہاں سے ہمیں ریاستی حکومت کے ذریعے چلائی جانے والی بس مل گئی، جس نے ہمیں گیا تک پہنچایا،‘‘ انہوں نے مجھے ۱۱ مئی کو مایاپور پہنچنے کے بعد بتایا۔ گیا پہنچنے کے بعد، انہیں گاؤں جانے کے لیے دوسری بس کا انتظار کرنا پڑا۔ گاؤں میں پہنچنے کے بعد وہ خود کو دوسروں سے الگ تھلگ کیے رہے۔

پاسوان بتاتے ہیں کہ رانی تو اپنے پرانے گھر میں لوٹ کر خوش تھی، لیکن رولی شکایت کرتی ہے کہ اسے اپنے ’شہر والے اسکول‘ کی وردی یاد آتی ہے۔

وارانسی کا ریستراں، جہاں پاسوان اگست ۲۰۱۹ سے کام کر رہے تھے، پہلے ۲۲ مارچ کو جنتا کرفیو کے لیے، اور پھر ۲۵ مارچ کو ملک گیر لاک ڈاؤن کے بعد بند کر دیا گیا۔ انہیں اپنی آخری تنخواہ مارچ کے وسط میں ملی تھی، لیکن اپریل کے دوسرے ہفتہ تک حالت مشکل ہو گئی۔ انہیں وارانسی میں ضلع انتظامیہ کے ذریعے تقسیم کیے جا رہے کھانے کا پیکٹ لینے کے لیے دن میں دو بار لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا تھا۔

لیکن ۸ مئی کو، پاسوان نے مجھ سے کہا تھا، ’’ہمیں گزشتہ چار دنوں سے کھانے کے پیکٹ نہیں مل رہے ہیں۔ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ ہمارے پاس یہاں سے جانے کے علاوہ کوئی اور مبتادل نہیں ہے۔‘‘

ویڈیو دیکھیں: وارانسی سے گیا تک کا لاک ڈاؤن سفر

ارون پاسوان اور کامیشور یادو کو گھر پہنچنے کے لیے تقریباً ۲۵۰ کلومیٹر کی دوری طے کرنی پڑی، جب کہ امرت مانجھی ۲۳۸۰ کلومیٹر دور، تمل ناڈو میں پھنسے ہوئے ہیں

کامیشور یادو کو بھی گیا کے گُرارو بلاک کے گھاٹیرا گاؤں میں واقع اپنے گھر پہنچنے میں دو دن لگ گئے۔ وہ وارانسی سے تقریباً ۱۷ کلومیٹر دور، پڑوس کے چندولی ضلع میں واقع پنڈت دین دیال اپادھیائے نگر (ڈی ڈی یو نگر؛ جسے پہلے مغل سرائے کے نام سے جانا جاتا تھا) کے ایک ریستراں میں چیف باورچی تھے۔

یادو نے ڈی ڈی یو نگر سے ۱۵ اپریل کو چلنا شروع کیا، جب لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلہ کو آگے بڑھایا گیا تھا۔ ’’ریستراں کے بند ہونے سے میری بچت ختم ہو گئی اور یہاں میری فیملی کا راشن بھی ختم ہونے لگا تھا۔ مجھے جلد از جلد ان کے پاس پہنچنا تھا۔‘‘ تقریباً ۲۰۰ کلومیٹر کا دو دنوں کا سفر، زیادہ تر پیدل اور بقیہ ٹرک پر، کے بعد یادو ۱۷ اپریل کو اپنے گاؤں پہنچے۔

یوپی نے جب ۲۳ مارچ کو اپنی سرحدیں سیل کردیں، تو یادو تین دیگر ساتھی کارکنوں کے ساتھ ریستراں چلے گئے، جہاں ان کے آجر نے انہیں کھانا فراہم کیا۔ لیکن وہ اپنے بچوں – ۱۰ سالہ سندھیا، ۸ سالہ سگندھا اور ۳ سالہ ساگر – کے بارے میں فکرمند تھے، جو ان کی بیوی ریکھا دیوی، اور ان کے والدین کے ساتھ گھاٹیرا میں تھے۔ ’’میرے بچے فون پر روتے تھے۔ لاک ڈاؤن آگے بڑھا دیا گیا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ لمبا انتظار کرنا پڑے گا،‘‘ یاد کہتے ہیں۔

وہ فیملی کے ۳ بیگھہ (۱ء۹ ایکڑ) کھیت میں اُگائے جانے والے چنا اور گیہوں پر بھروسہ کیے ہوئے تھے، جس کی دیکھ بھال ریکھا دیوی اور ان کے والدین کر رہے تھے۔ لیکن اپریل کے شروع میں ہوئی بارش نے فصل کو تباہ کر دیا۔ بارش سے گیہوں کی فصل بھی متاثر ہوئی، جس سے ممکنہ پیداوار تقریباً ۷۰ کلو سے گھٹ کر ۴۰ کلو ہو گئی – جسے انہوں نے اپنی فیملی کے استعمال کے لیے الگ رکھا ہے۔ ’’اب میری ساری امیدیں جون میں کٹنے والی مونگ سے وابستہ ہیں،‘‘ یادو کہتے ہیں۔

Left: Arun and Sabita Paswan and their children in Varanasi before the lockdown. Right: Kameshwar Yadav with his son and nephew in Ghatera
PHOTO • Arun Kumar Paswan
Left: Arun and Sabita Paswan and their children in Varanasi before the lockdown. Right: Kameshwar Yadav with his son and nephew in Ghatera
PHOTO • Kameshwar Yadav

بائیں: لاک ڈاؤن سے پہلے ارون اور سبیتا پاسوان اور ان کے بچے وارانسی میں۔ دائیں: گھاٹیرا میں اپنے بیٹے اور بھتیجے کے ساتھ کامیشور یادو

پاسوان اور یادو کو گھر تک پہنچنے کے لیے نسبتاً کم دوری، ۲۵۰ کلومیٹر طے کرنی پڑی، لیکن گیا کے باشندے امرت مانجھی اپنے ضلع کے ۲۰ دیگر مہاجرین کے ساتھ ابھی بھی ۲۳۸۰ کلومیٹر دور، تمل ناڈو میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ۲۸ سالہ مانجھی تمل ناڈو کے تیروپور ضلع کے تعلقہ ہیڈکوارٹر، اویناشی میں چھت کی چادر بنانے والی ایک فیکٹری میں کام کرنے کے لیے، بارہ چٹی بلاک کے اپنے گاؤں، تُلا چک سے اکتوبر ۲۰۱۹ میں گئے تھے۔

فیکٹری میں وہ ۸۰۰۰ روپے کماتے تھے، جہاں بہار کے تقریباً ۱۵۰ دیگر مہاجر مزدور بھی برسرکار تھے؛ یہ سبھی فیکٹری کے مالکوں کے ذریعے فراہم کیے گئے کمروں میں رہتے تھے۔

۱۲ مئی کو، مانجھی اور نو ساتھی کارکن (اوپر کے کور فوٹو میں) پیدل ہی گھر کے لمبے راستے پر نکل پڑے۔ لیکن وہ مشکل سے ۲-۳ کلومیٹر ہی چلے ہوں گے کہ پولس نے انہیں روک دیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہیں پیٹا گیا اور پھر واپس ان کے کمروں پر لاکر چھوڑ دیا گیا۔ ’’پولس نے کہا کہ ہم لاک ڈاؤن [ضابطوں] کی خلاف ورزی کرر ہے ہیں، اور ہم پر جرمانہ لگایا۔ پٹائی کی وجہ سے ہمارے گروپ کے ارکان میں سے ایک کے ہاتھ میں بری طرح چوٹ لگ گئی اور اس کا علاج کرانے پر ہمیں ۲۰۰۰ روپے خرچ کرنے پڑے،‘‘ مانجھی نے مجھے ۱۶ مئی کو بتایا۔

’’ہماری پٹائی کرنے کے بجائے، پولس ہمیں ہمارے ہوم ٹاؤن تک پہنچنے میں رہنمائی کر سکتی تھی۔ ہمیں کوئی مدد نہیں ملی ہے، نہ فیکٹری کے مالک سے اور نہ ہی مقامی انتظامیہ سے،‘‘ مانجھی کہتے ہیں۔ اس وقت، انہیں اور دیگر مزدوروں کو مہاجر مزدوروں کے لیے تمل ناڈو سے بہار کے درمیان چلنے والی ’اسپیشل ٹرینوں‘ کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ ’’کسی نہ کسی طرح ہمیں گھر جانا ہی ہے۔ اب ہم کورونا وائرس یا گرمی سے نہیں ڈرتے۔ اس میں ۱۴ دن لگ سکتے ہیں، لیکن ہم چلیں گے،‘‘ انہوں نے کہا۔

گھر پر، تُلا چک میں، مانجھی اپنے تین بھائیوں کے ساتھ اپنی فیملی کے کھیت پر کام کر رہے ہوتے، جہاں وہ عام طور پر گیہوں اور مکئی اُگاتے ہیں۔ لیکن ۲ بیگھہ (۱ء۲ ایکڑ) زمین میں ان کا حصہ تیرپور میں ان کی کمائی سے کم ہوتا – یہی وجہ ہے کہ وہ کام کرنے کے لیے گھر سے چلے گئے تھے، وہ کہتے ہیں۔ مانجھی کی غیر موجودگی میں، ان کی ۲۶ سالہ بیوی، کرن دیوی ان کے کھیت کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔

Amarit Manjhi in Tiruppur, Tamil Nadu (left), where he's been stuck along with others from Gaya (right) during the lockdown
PHOTO • Amarit Manjhi
Amarit Manjhi in Tiruppur, Tamil Nadu (left), where he's been stuck along with others from Gaya (right) during the lockdown
PHOTO • Amarit Manjhi

تمل ناڈو کے تیروپور میں امرت مانجھی (بائیں)، جہاں وہ لاک ڈاؤن کے دوران گیا کے دیگر لوگوں (دائیں) کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں

مانجھی اور ان کے ساتھی کارکن کی حالت میں تب تھوڑی بہتری آئی، جب فیکٹری کے مالکوں نے انہیں ۱۹ مئی سے راشن بھیجنا شروع کیا۔ ان کے پاس صرف ۵۰۰ روپے بچے ہیں، اور وہ فیکٹری کے دوبارہ کھلنے کی امید کر رہے ہیں، تاکہ وہ پھر سے کما سکیں اور پیسے گھر بھیج سکیں۔

اُدھر گھاٹیرا گاؤں میں، یادو وہیں ٹھہرنے کے متبادل پر غور کرر ہے ہیں۔ ’’میں [دیہی روزگار گارنٹی اسکیم] کے مقامات پر نریگا کا کام تلاش کرنے کی کوشش کروں گا، جو یہاں پر شروع ہونے والا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

وارانسی میں، دی فلیورس کے مالک اور یادو کے آجر، ابھیشیک کمار کا کہنا ہے کہ ان کے سبھی ۱۶ ملازم بہار اور تمل ناڈو کے اپنے ہوم ٹاؤن لوٹ چکے ہیں۔ ’’زیادہ تر باورچیوں نے واپس آنے سے انکار کر دیا ہے۔ میں جلد ہی کاروبار کو دوبارہ شروع نہیں کر پاؤں گا، بھلے ہی لاک ڈاؤن اٹھا لیا جائے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

پاسوان بھی مایاپور میں شروع ہونے والے منریگا مقامات پر کام ملنے کا انتظار کر رہے ہیں، اور وہ مقامی ہوٹلوں میں کام تلاش کریں گے۔ مایاپور میں ان کی فیملی کے کھیتوں میں ان کا حصہ – یہ آمدنی ان کی مشترکہ فیملی کے ۱۰ ممبران میں تقسیم ہوتی ہے – ان کی فیملی کے خرچے کے لیے بہت کم ہے، وہ کہتے ہیں۔

وہ ایک ایسے موقع کے بارے میں پر امید ہیں، جو انہیں وارانسی واپس لے جا سکے۔ وہ اور سبیتا وہاں کرایے کے مکان میں اپنا سامان چھوڑ آئے ہیں۔ ’’مکان مالک نے کرایے کا پیسہ چھوڑنے سے منع کر دیا ہے۔ جب میں واپس جاؤں گا، تو مجھے اسے اپنی غیر موجودگی کے دوران کے بھی ہر مہینے کے ۲۰۰۰ روپے دینے ہوں گے،‘‘ پاسوان کہتے ہیں۔

تب تک، وہ سڑک بنانے کا کام کریں گے یا گڑھا کھو دیں گے۔ ’’کیا میرے پاس کوئی اور متبادل ہے؟‘‘ وہ پوچھتے ہیں۔ ’’مجھے اپنے بچوں کو کھلانے کے لیے جو بھی کام مل رہا ہے، اسے کرنا پڑے گا۔‘‘

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Rituparna Palit

ریتو پرنا پلت ایشین کالج آف جرنلزم، چنئی کی ایک طالبہ ہیں۔

Other stories by Rituparna Palit