/media/uploads/Articles/Shalini Singh/Goa Tiger Count/tiger_killed_at_keri_-_sattari.jpg


ایک مقبول عام بیداری مہم کے ذریعہ ہندوستان بھر میں جس ۱۴۱۱ چیتوں کے ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا اور جس پر خود وزارتِ ماحولیات و جنگلات (ایم او ای ایف) نے سوالیہ نشان لگایا تھا، ایسا لگتا ہے کہ اس دعوے میں جو ریاست تنازع کے گھیرے میں ہے، وہ گوا ہے۔

وزارتِ ماحولیات و جنگلات کے تحت کام کرنے والے وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ڈبلیو آئی آئی) کے قمر قریشی کے مطابق، سال ۰۶۔۲۰۰۵ میں سرکاری طور پر چیتوں کی جو گنتی کی گئی تھی، اس میں ریاست گوا میں چیتوں کی تعداد کا اندازہ بھی نہیں لگایا گیا تھا۔ ایسے میں ظاہر ہے، قومی سطح پر ان کی تعداد کا جو آنکڑا سامنے آیا ہے، اس میں گوا شامل ہی نہیں ہوگا۔ اس ریاست میں چیتوں کی گنتی، پچھلے سال شمالی گوا کی مہا دیئی وائلڈ لائف سینکچوری میں چیتا کے شکار کے مشہور واقعہ کے بعد شروع ہوئی، جس میں معروف ماہر ماحولیات راجندر کیرکر (جو گزشتہ ۳۰ برسوں سے مہادیئی بچاؤ ابھیان کے جنرل سکریٹری ہیں) جو اس واقعہ کو منظر عام پر لے کر آئے تھے، کو ہی ریاست کے محکمہ جنگلات نے اس جرم کا معاون بنا دیا اور یہ کہتے ہوئے پورے معاملہ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی کہ گوا میں تو چیتے ہیں ہی نہیں۔ ’’مجھے اپنے ذرائع کا راز کھولنے پر مجبور کیا گیا اور میرا کمپیوٹر تحویل میں لیا جا ئے گا، ایسا مجھ سے کہا گیا۔ لیکن میں نے ساری اطلاع تحریری شکل میں دی کہ چیتے کا شکار کرنے کی خبر مجھے کیسے ملی،‘‘ کیرکر بتاتے ہیں۔ معاملے کی جانچ کا حکم دیا گیا اور آخر کار پچھلے ہفتہ جو فارینسک رپورٹ آئی، اس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ چیتے کا شکار کیا گیا تھا، کیوں کہ اس کے جو سات نمونے بھیجے گئے تھے، اس میں سے ایک اُس شکار کیے گئے چیتے سے میل کھا گیا۔ اس کی تصدیق کرتے ہوئے، گوا کے وزیر جنگلات اور آبی وسائل، فلپ نیری راڈرِگز کہتے ہیں، ’’ہمیں ڈبلیو آئی آئی سے فائنل رپورٹ مل چکی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بھیجے گئے نمونوں میں سے ایک اُس چیتا سے ملتا ہے۔ اس کی بنیاد پر، ہم شکاریوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کریں گے۔ گوا میں اس قسم کے واقعات نہیں ہونے چاہئیں۔ بہت سی این جی اوز بھی کہہ رہی ہیں کہ ہندوستان میں ۱۴۱۱ سے زیادہ چیتے ہو سکتے ہیں۔‘‘

کیرکر کی حمایت میں پچھلے ہفتہ ہونے والی ایک پبلک میٹنگ میں، مہادیئی سے بھیم گڑھ تک کے علاقے کو ’ٹائیگر ریزرو‘ اعلان کرنے کا مطالبہ کرنے والوں میں سے ایک، گوا فاؤنڈیشن کے کلاڈ ایلورس نے کہا، ’’ان مقامات کو دیکھئے، جن کے نام چیتوں پر رکھے گئے ہیں۔ سرکاری گنتی میں کہا گیا ہے کہ گوا میں چیتے نہیں ہیں، جب کہ ان مقامات کے نام چیتوں پر ہی رکھے گئے ہیں۔ خود چیتے کا شکار اس بات کو ثابت کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک بھر میں جن ۱۴۱۱ چیتوں کے ہونے کی بات کہی جا رہی ہے، یہ تعداد اور بڑی ہو سکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ محکمہ جنگلات ان علاقوں میں کانکنی کی حفاظت میں زیادہ لگا ہوا اور اسے وائلڈ لائف کی حفاظت کی کوئی پروا نہیں ہے۔‘‘ برطانیہ میں مقیم کارکن کیمن میرانڈا (گوا کے مشہور و معروف کارٹونسٹ ماریو میرانڈا کی بہن)، جو’ویسٹرن گھاٹوں‘ کو بچانے کی تحریک سے لمبے عرصے سے جڑی ہوئی ہیں، اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ گوا میں جن جن جگہوں پر کانکنی کو ’مضبوط‘ بنایا گیا ہے، وہاں سے انھیں دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیری گاؤں کی باشندہ رما ویلپ نے، محکمہ جنگلات کے اس قدم کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’’وہ کہتے ہیں کہ گوا میں کوئی چیتا نہیں ہے، یہ بات صحیح نہیں ہے۔ کانکنی کی وجہ سے ان کی پناہ گاہیں چونکہ اجڑ گئی ہیں، اس لیے چیتے ہمارے گاؤوں میں آتے ہیں اور یہاں کے مویشیوں کو مار دیتے ہیں۔‘‘

کیرکر کا دعویٰ ہے کہ فیلڈ ورک کے دوران انھیں پتہ چلا کہ پچھلے سال جہاں پر چیتا کا شکار کیا گیا تھا، اس علاقہ میں ایک شیرنی اپنے بچوں کے ساتھ رہ رہی تھی۔

اسٹرائپے جیسا لگتا ہے، بچہ کسی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

ٹائم لائن

۔ مارچ ۲۰۰۹ ۔ کیرکر کو مہادیئی وائلڈ لائف سینکچوری میں چیتا کے شکار کیے جانے کی خبر ملی۔

۔ اپریل ۲۰۰۹ ۔ انھوں نے اپنے ذرائع سے شکار کی تصویریں حاصل کیں۔ چیتا کے شکار کے بارے میں ان کے ذریعہ تحریر کردہ ایک نیوز رپورٹ اور فوٹوگراف ایک مشہور روزنامہ میں شائع ہوئے۔ اس رپورٹ کے بعد، محکمہ جنگلات نے جانچ شروع کی۔

۔ جنوری ۲۰۱۰ ۔ ڈبلیو آئی آئی کے ذریعہ جاری کردہ فارینسک رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ چیتا کا شکار کیا گیا ہے۔ کیرکر کی حمایت میں سرکردہ ماہرینِ ماحولیات نے ایک پبلک میٹنگ بلائی، مطالبہ کیا کہ مہادیئی سے لے کر بھیم گڑھ تک کے علاقے کو ’ٹائیگر ریزرو‘ ہونے کا اعلان کیا جائے، وہاں پر ہونے والی کانکنی سے متعلق سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے۔


یہ مضمون، جسے سال ۲۰۱۰ میں سی ایس ای میڈیا فیلوشپ کے تحت لکھا گیا، سب سے پہلے انگریزی روزنامہ ’ہدنوستان ٹائمز‘ میں شائع ہوا، جس کا لِنک یہ ہے: http://www.hindustantimes.com/india-news/now-goa-may-contribute-to-the-national-tiger-count/article1-510840.aspx

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Shalini Singh

شالی سنگھ دی ویک میگزین سے وابستہ صحافی ہیں اور دہلی میں رہتی ہیں۔ وہ عورت و مرد کے مسائل، ثقافت، سماجی تبدیلیوں اور حالاتِ حاضرہ پر لکھتی ہیں۔ وہ ’پاری‘ کی بانی ٹیم کا حصہ ہیں۔ آپ مضمون نگار سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Shalininess

Other Stories by Shalini Singh