سورج جیسے ہی مشرقی گھاٹ کی گنجان پہاڑیوں کے پیچھے چھپنے لگتا ہے، قریبی جنگل میں پہاڑی مینا کی تیز چیخ و پکار نیم فوجی دستوں کے جوتوں کی بھاری آواز کے نیچے دب جاتی ہے۔ وہ ایک بار پھر گاؤں میں گشت کر رہے ہیں۔ اسی لیے وہ شام سے بہت زیادہ ڈرتی ہے۔

وہ نہیں جانتی کہ اس کا نام دیمتی کیوں رکھا گیا۔ ’’وہ ہمارے گاؤں کی ایک بے خوف عورت تھی، جس نے اکیلے ہی انگریز سپاہیوں کو مار بھگایا تھا،‘‘ ماں پرجوش ہوکر کہانی سناتیں۔ لیکن وہ دیمتی جیسی نہیں تھی – بلکہ ڈرپوک تھی۔

اور اس نے پیٹ درد، بھوک، گھر میں کئی دنوں تک بغیر پانی کے، بغیر پیسے کے، مشکوک نگاہوں، دھمکاتی آنکھوں، لگاتار ہونے والی گرفتاریوں، ظلم، مرتے ہوئے لوگوں کے درمیان رہنا سیکھ لیا تھا۔ لیکن ان سب کے ساتھ، اس کے پاس جنگل، درخت اور پانی کاچشمہ تھا۔ وہ اپنی ماں کو سال کے پھولوں میں سونگھ سکتی تھی، جنگلوں میں اپنی دادی کے گانوں کی گونج سنتی تھی۔ جب تک یہ ساری چیزیں اس کے پاس تھیں، وہ جانتی تھی کہ وہ اپنی پریشانیاں جھیل لے گی۔

لیکن اب وہ اسے بے دخل کرنا چاہتے تھے، اس کی جھونپڑی سے، اس کے گاؤں سے، اس کی زمین سے – جب تک کہ وہ کوئی ایسا کاغذ نہ دکھا دے، جو یہ ثابت کرتا ہو کہ وہ یہ سب جانتی ہے۔ ان کے لیے یہ کافی نہیں تھا کہ اس کے والد نے اسے مختلف درختوں اور جھاڑیوں، چھالوں اور پتوں کے نام سکھائے تھے، جن میں علاج کی طاقت تھی۔ وہ جتنی بار اپنی ماں کے ساتھ، پھل، اخروٹ، اور جلانے والی لکڑی جمع کرنے جاتی، اس کی ماں اسے وہ درخت دکھاتیں، جس کے نیچے وہ پیدا ہوئی تھی۔ اس کی دادی نے اسے جنگلوں کے بارے میں گانا سکھایا تھا۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ ان جگہوں پر دوڑ چکی تھی، پرندوں کو دیکھتے، ان کی آوازوں کی نقل کرتے ہوئے۔

لیکن کیا ایسا علم، یہ کہانیاں، گیت اور بچپن کے کھیل، کسی بھی چیز کے ثبوت ہو سکتے ہیں؟ وہ وہاں پر بیٹھ کر اپنے نام کا معنی، اور اس عورت کے بارے میں سوچنے لگی، جس کے نام پر اس کا نام رکھا گیا تھا۔ دیمتی نے کیسے ثابت کیا ہوگا کہ اس کا تعلق جنگل سے ہے؟

سدھنوا دیش پانڈے کی آواز میں یہ نظم سنیں

دیمتی دیئی سبر کو نواپاڑہ ضلع کے اس گاؤں کے نام پر ’سالیہان‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جہاں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ ان کی عمر ۲۰۰۲ میں ۹۰ سال کے آس پاس تھی، جب پی سائی ناتھ ان سے ملے تھے (اس اسٹوری کا لنک نیچے دیا گیا ہے)۔ ان کی بے نظیر شجاعت کی کبھی پذیرائی نہیں کی گئی اور – اور ان کے گاؤں کے باہر – اسے کافی حد تک بھلا دیا گیا، جس کے سبب انہوں نے اپنی زندگی انتہائی غریبی میں گزاری

وِشوروپ درشن*

وہ وہاں بیٹھی، ہنستی ہوئی
تصویر میں
اپنی چھوٹی سی جھونپڑی کی
مٹی کی دہلیز پر۔
یہ اس کی ہنسی تھی
جس نے رنگ دیا
لاپروائی سے لپیٹی ہوئی
کُم کُم کے رنگ کی ساڑی کو
گہرے رنگ میں۔
یہ اس کی ہنسی تھی
جس نے بنا دیا
اس کے ننگے کندھوں
اور گلے کی ہڈی کی
جلد کو
تیز، چمکدار چاندی۔
یہ اس کی ہنسی تھی
جس نے اس کے ہاتھوں پر
کھینچ دیں
ٹیٹو کی
ہری لکیریں۔
یہ اس کی ہنسی تھی
جس نے لہرا دیا
اس کے پیلے بھورے بال کے
بے ترتیب جوڑے کو
سمندر کی لہروں کی طرح۔
یہ اس کی ہنسی تھی
جس نے روشن کر دیا
اس کی آنکھوں کو
موتیابین کے پیچھے کی یادوں سے۔

دیر تک
میں نظریں جمائے دیکھتا رہا
بوڑھی دیمتی کو ہنستے ہوئے
کمزور لٹکے ہوئے دانتوں سے۔
سامنے کے دو بڑے دانتوں کے بیچ
ایک سوراخ سے
اس نے مجھے اندر کھینچا
اپنے بھوکے پیٹ کی
گہرائی میں۔

ایک خوفناک اندھیرا
جہاں تک آنکھیں دیکھ سکتی ہیں
اور اس کے آگے۔
کوئی روحانی تاج نہیں
کوئی شاہی نشان نہیں
کوئی گدا نہیں
کوئی چکر نہیں
ایک لاٹھی کے ساتھ
ہزاروں سورج کی روشنی سے چمکتا ہوا
آنکھوں کو چکاچوند کرتا
کھڑا ہے دیمتی کا کمزور ڈھانچہ
اور اس کے اندر سے نکل رہے
اور اس کے اندر غائب ہو رہے ہیں
گیارہ رودر
بارہ آدتیہ
واسو کے آٹھ بیٹے
دو اشونی کمار
اُنچاس ماروت
گندھرو گن
یکش گن
اسُر
اور سبھی کامل رِشی۔
ان سے جنم لینے والی
چالیس سالیہا لڑکیاں
آٹھ ملین چار سو ہزار چارن کنیائیں**
سبھی باغی
سبھی انقلابی
سبھی خواب دیکھنے والی
سبھی غصے اور احتجاج کی آوازیں
سبھی نہ جھکنے والے پہاڑ
اراولی
گیرنار پہاڑ۔
ان سے پیدا ہوئے
ان میں ضم ہوتے
ماں، باپ،
میری پوری کائنات!

آپ دیمتی دیئی کی پوری کہانی یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

آڈیو: سدھنوا دیش پانڈے، جن ناٹیہ منچ کے اداکار اور ہدایت کار اور لیفٹ ورڈ بکس کے ایڈیٹر ہیں۔

کور کا خاکہ: لبنی جنگی بنیادی طور پر مغربی بنگال کے نادیا ضلع کے ایک چھوٹے سے قصبہ کی رہنے والی ہیں، اور فی الحال کولکاتا کے سینٹر فار اسٹڈیز اِن سوشل سائنسز سے بنگالی مزدوروں کی مہاجرت پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ وہ خود سے سیکھی ہوئی ایک مصور ہیں اور سفر کرنا پسند کرتی ہیں۔

*وشوروپ درشن گیتا کے ۱۱ویں باب میں ارجن کے لیے کرشن کی حقیقی، روحانی شکل کا انکشاف ہے۔ یہ باب اس شکل کا بیان ایک لاکھ آنکھوں، منہ، کئی ہتھیار پکڑے ہاتھوں کے ساتھ کرتا ہے، جس میں دیوی دیوتاؤں کی تمام شکلوں، سبھی قسم کی مرئی اور غیر مرئی چیزوں سمیت لا محدود کائنات شامل ہے۔

**چارن کنیا، زویرچند میگھانی کی سب سے مشہور گجراتی نظموں میں سے ایک کا عنوان ہے۔ اس نظم میں گجرات کی چارن قبیلہ کی ایک ۱۴ سالہ لڑکی کی بہادری کا ذکر ہے، جو اپنی بستی میں حملہ کرنے آئے ایک شیر کو لاٹھی سے مار کر بھگا دیتی ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Pratishtha Pandya

پرتشٹھا پانڈیہ احمد آباد یونیورسٹی کی فیکلٹی ممبر ہیں۔ وہ ایک شاعرہ اور مترجم ہیں، جو گجراتی اور انگریزی دونوں زبانوں میں کام کرتی ہیں۔ وہ پاری کے لیے بھی لکھتی اور ترجمہ کرتی ہیں۔

Other stories by Pratishtha Pandya