’’ایک کسان کے طور پر میں نے ۲۱ برسوں کے دوران کبھی بھی اس قسم کے بحران کا سامنا نہیں کیا ہے،‘‘ چھتر کاڈو گاؤں کے تربوز کے ایک کسان، اے سریش کمار کہتے ہیں۔ اس علاقے کے کئی دیگر کسانوں کی طرح، ۴۰ سالہ کمار بنیادی طور پر دھان اُگاتے ہیں، لیکن تمل ناڈو کے چینگل پٹّو ضلع کے چتھامور بلاک میں ۱۸۵۹ لوگوں کی آبادی والے اس گاؤں میں اپنے پانچ ایکڑ کھیت کے ساتھ ساتھ اپنے دوستوں اور فیملی سے پٹّہ پر لیے گئے ۱۸ء۵ ایکڑ کھیت میں سردیوں کے مہینوں میں تربوز کی کھیتی کرتے ہیں۔

’’تربوز ۶۵ سے ۷۰ دنوں میں تیار ہو جاتے ہیں۔ ۲۵ مارچ کو جب لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا، تب ہم سبھی ان پھلوں کو توڑنے اور انہیں تمل ناڈو، بنگلورو اور کرناٹک کے دیگر حصوں میں مختلف خریداروں تک بھیجنے کے لیے تیار تھے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’اب وہ سڑنے کی دہانے پر ہیں۔ ہمیں خریداروں سے عام طور پر ۱۰ ہزار روپے فی ٹن ملتے ہیں، لیکن اس سال کسی نے بھی ۲۰۰۰ روپے سے زیادہ کی پیشکش نہیں کی ہے۔‘‘

تمل ناڈو میں، تربوز کی بوائی صرف تمل کیلنڈر کے مہینوں – مرگاژی اور تھائی کے دوران کی جاتی ہے، جو دسمبر سے فروری کے درمیان کی مدت کے آس پاس پڑتے ہیں۔ اس موسم میں یہ فصل اس علاقے میں اچھی طرح اُگتی ہے، اور چلچلاتی جنوبی گرمی شروع ہوتے ہی کٹائی کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ تمل ناڈو تربوز کی پیداوار کرنے والی تمام ریاستوں میں آٹھویں مقام پر ہے، جہاں ۶ء۹۳ ملین ہیکٹیئر میں ۱۶۲ء۷۴ ہزار میٹرک ٹن تربوز پیدا ہوتا ہے۔

’’میں نے اس طرح سے روپائی کی ہے کہ میرے کھیت کے مختلف حصوں میں یہ فصلیں دو ہفتے کے وقفہ پر پک کر تیار ہوں گی۔ اگر آپ ان کے تیار ہونے کے کچھ دنوں کے اندر ہی کٹائی نہیں کرتے، تو یہ پھل برباد ہو جائیں گے،‘‘ کمار (اوپر کے کور فوٹو میں) کہتے ہیں۔ ’’ہمیں کسی بھی لاک ڈاؤن کے بارے میں بتایا نہیں گیا تھا، اس لیے جب میری پہلی فصل [مارچ کے آخری ہفتہ میں] تیار ہو گئی، تو اسے لے جانے کے لیے کوئی خریدار یا ٹرک ڈرائیور نہیں ملا۔‘‘

کمار کا اندازہ ہے کہ چتھامور بلاک میں تربوز کی کھیتی کرنے والے کم از کم ۵۰ کسان ہیں۔ اب ان میں سے بہت سے کسان اس بات کے لیے مجبور ہیں کہ یا تو اپنی فصل کو سڑنے کے لیے چھوڑ دیں یا پھر بہت ہی کم قیمتوں پر اسے فروخت کریں۔

Left: In Kokkaranthangal village, watermelons ready for harvest on M. Sekar's farm, which he leased by pawning off jewellery. Right: A. Suresh Kumar's fields in Chitharkadu village; there were no buyers or truck drivers to move his first harvest in the  last week of March
PHOTO • Rekha Sekar
Left: In Kokkaranthangal village, watermelons ready for harvest on M. Sekar's farm, which he leased by pawning off jewellery. Right: A. Suresh Kumar's fields in Chitharkadu village; there were no buyers or truck drivers to move his first harvest in the  last week of March
PHOTO • S Senthil Kumar

بائیں: کوکّرن تھانگل گاؤں میں، ایم سیکر کے کھیت میں تربوز کی فصل کٹائی کے لیے تیار ہے۔ اس کھیت کو انہوں نے اپنے زیورات گروی رکھ کر پٹّہ پر لیا تھا۔ دائیں: چتھرکاڈو گاؤں میں ایس سریش کمار کا کھیت؛ مارچ کے آخری ہفتہ میں تیار ہو چکی اپنی پہلی فصل کو بیچنے کے لیے کوئی خریدار یا باہر بھیجنے کے لیے کوئی ٹرک ڈرائیور نہیں ملا

اس کے سبب سب سے زیادہ پریشانی اُن کسانوں کو جھیلنی پڑ رہی ہے، جنہوں نے قرض لے رکھے تھے۔ انہیں میں سے ایک ہیں ۴۵ سالہ ایم سیکر، جو چتھرکاڈو سے تین کلومیٹر دور، کوکّرن تھانگل گاؤں میں رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں نے اپنی تین بیٹیوں کے لیے بچاکر الگ رکھے گئے زیورات کو گروی رکھ کر کھیتوں کا پٹّہ چکانے اور ساتھ ہی چار ایکڑ کھیت میں تربوز اُگانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اب، جب کہ فصل کاٹنے کا وقت آ چکا ہے، کوئی خریدار نہیں ہے۔ دیگر فصلوں کے برعکس، اگر ہم انہیں اگلے کچھ دنوں کے اندر لوڈ کرکے باہر بھیج نہیں دیتے ہیں، تو میری پوری فصل برباد ہو جائے گی۔‘‘

کمار اور سیکر، دونوں نے سود کی اعلیٰ شرحوں پر پرائیویٹ ساہوکاروں سے قرض لیا ہے۔ اور دونوں کا اندازہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے اس فصل کے لیے اپنی کل زمین پر ۶-۷ لاکھ روپے لگائے ہیں، جس میں زمین کے پٹّہ کی لاگت، بیج کی قیمت اور فصل کی نگرانی کے ساتھ ساتھ زرعی مزدوروں کو ادائیگی کرنا شامل ہے۔ سیکر جہاں تین سال سے تربوز کی کھیتی کر رہے ہیں، وہیں کمار اسے گزشتہ ۱۹ برسوں سے اُگا رہے ہیں۔

’’میں اس کی کھیتی اس لیے کرنے لگا کیوں اس سے ہونے والا منافع میری بیٹیوں کی تعلیم اور مستقبل کے لیے مددگار ہوگا،‘‘ سیکر کہتے ہیں۔ ’’لیکن اب میرے پاس ان کے زیورات بھی نہیں بچے ہیں۔ عام طور پر، سبھی لاگتیں گھٹانے کے بعد ہمیں تقریباً ۲ لاکھ روپے کا منافع ہوتا تھا۔ لیکن، اس سال ہمیں اپنی لاگت کا کچھ ہی حصہ واپس ملے گا، منافع کی بات تو بھول ہی جائیے۔‘‘

کوکّرن تھانگل گاؤں میں تربوز کے ایک دیگر کسان، ۴۱ کسان ایم مُروگاویل کہتے ہیں، ’’میں اتنی کم قیمت پر بیچنے کے لیے اس لیے تیار ہوں، کیوں کہ میں نہیں چاہتا کہ اتنے اچھے پھل سڑ جائیں۔ اس کی وجہ سے میرا پہلے سے ہی کافی نقصان ہو چکا ہے۔‘‘ مُروگاویل نے تربوز کی کھیتی کے لیے ۱۰ ایکڑ زمین پٹّہ پر لی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اگر یہی صورتحال بنی رہی، تو پتہ نہیں آگے کیا ہوگا۔ میرے گاؤں میں ایسے اور بھی کئی کسان ہیں، جنہوں نے اتنی ہی سرمایہ کاری کی ہے اور اپنے سبھی کھیتوں کو سڑنے کے لیے چھوڑ دیا ہے، کیوں کہ اب کوئی بھی خریدار اس پھل کو خریدنے لائق نہیں بچا ہے۔‘‘

A farmer near Trichy with his watermelons loaded onto a truck. A few trucks are picking up the fruits now, but farmers are getting extemely low prices
PHOTO • Dept of Agriculture-Tamil Nadu
A farmer near Trichy with his watermelons loaded onto a truck. A few trucks are picking up the fruits now, but farmers are getting extemely low prices
PHOTO • Dept of Agriculture-Tamil Nadu

تریچی کے پاس کا ایک کسان، جس کے تربوز ٹرک پر لادے جا رہے ہیں۔ کچھ ٹرک اب ان پھلوں کو اٹھا رہے ہیں، لیکن کسانوں کو بہت ہی کم قیمت مل رہی ہے

محکمہ زراعت (تمل ناڈو) کے ایگرکلچرل پروڈکشن کمشنر اور پرنسپل سکریٹری، گگن دیپ سنگھ بیدی کہتے ہیں، ’’ہمیں ان کسانوں سے واقعی ہمدردی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ لاک ڈاؤن کے پہلے کچھ دنوں میں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ تھا۔ ہم نے اس پر فوراً کارروائی کی اور اب ہم یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ پھلوں کو ریاست کے تمام بازاروں اور، جب ممکن ہو تو، پڑوسی ریاستوں میں پہنچایا جائے۔‘‘

بیدی کے ذریعے مہیا کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق، ۲۷ مارچ سے ۲ اپریل تک تمل ناڈو کے مختلف بازاروں میں ۹۷۸ میٹرک ٹن تربوز پہنچایا جا چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’مجھے اس کی وجہ کا تو علم نہیں، لیکن اس بحران کے دوران تربوز کی فروخت کافی متاثر ہوئی ہے، اس لیے یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن ہم مدد کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

کسانوں کو اس سے جو بھاری نقصان ہونے والا ہے، کیا ریاست انہیں اس کا کوئی معاوضہ فراہم کرے گی؟ ’’ابھی تو ہم اس کے نقل و حمل کے انتظام پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں،‘‘ بیدی جواب دیتے ہیں۔ ’’معاوضہ کے بارے میں بعد میں سوچا جائے گا، کیوں کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ ہم اس بحران سے باہر نکلنے میں کسانوں کی مدد کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔‘‘

چتھامور کے کسان بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ٹرک ان کی فصل لینے آ رہے ہیں، حالانکہ ان کی تعداد کم ہے۔ سریش کمار کہتے ہیں، ’’وہ کچھ پھل بھلے ہی لے جائیں، لیکن باقی تو سڑ ہی رہے ہیں۔ اور جتنے بھی لے جائے جا رہے ہیں، ان کے ہمیں بہت ہی معمولی پیسے مل رہے ہیں۔ شہروں میں جہاں لوگ کورونا کے سبب بیمار پڑ رہے ہیں، وہیں ہم اس کی وجہ سے اپنی آمدنی کھو رہے ہیں۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Sibi Arasu

سِبی اراسو بنگلورو میں مقیم ایک آزاد صحافی ہیں۔ @ sibi123

Other stories by Sibi Arasu