حال ہی میں، مہاراشٹر کے اورنگ آباد میں مدھیہ پردیش کے ۱۶ مزدور ریل کی پٹری پر سوتے ہوئے ٹرین سے کٹ کر مر گئے۔ یہ سن کر ہمارا یہ پہلا ردِ عمل کہ وہ مزدور پٹریوں پر کیوں سو رہے تھے نہ کہ ان لوگوں سے سوال کرنا جنہوں نے ان مزدوروں کو پیدل گھر جانے کے لیے مجبور کیا، یہ سوچ ہمارے بارے میں کیا کہتی ہے؟

کتنے انگریزی اخباروں نے ٹرین کے نیچے دبے ان مزدوروں کے نام بتانے کی بھی زحمت اٹھائی؟ وہ لوگ تو بس گمنام ہی اس دنیا سے چلے گئے۔ غریبوں کے تئیں ہمارا یہی رویہ ہے۔ وہی اگر کوئی ہوائی جہاز حادثہ کا شکار ہوا ہوتا، تو آپ کے پاس تفصیلات دینے کے لیے ہیلپ لائن نمبر ہوتے۔ اگر ۳۰۰ لوگ بھی اس حادثہ میں مارے گئے ہوتے، تو ان کے نام اخباروں میں شائع ہوتے۔ لیکن مدھیہ پردیش کے ۱۶ غریب لوگ، جن میں سے آٹھ گونڈ آدیواسی تھے، ان کی کسے پڑی ہے؟ وہ لوگ ریل پٹریوں کے کنارے اس لیے چل رہے تھے تاکہ انہیں راستہ ڈھونڈنے میں آسانی ہو -  ریلوے اسٹیشن تک کے لیے جہاں سے شاید انہیں گھر کے لیے ٹرین مل جائے۔ وہ لوگ پٹریوں پر اس لیے سو گئے کیوں کہ وہ بہت تھک گئے تھے اور شاید انہیں لگا کہ ان پٹریوں پر کوئی ٹرین نہیں چل رہی ہے۔

ہندوستان میں مزدوروں کی اتنی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے، سرکاروں اور مزدوروں کے درمیان رابطہ کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟

ہم نے ۱۳۰ کروڑ کی آبادی والے ملک میں لوگوں کو اپنی زندگی کے تمام کاموں کو بند کرنے کے لیے صرف چار گھنٹے دیے۔ ہمارے مشہور سول سروینٹ میں سے ایک، ایم جی دیو سہایم نے کہا تھا، ’’ایک چھوٹی سی پیدل ٹکڑی کو بھی کسی بڑی کارروائی کے لیے تعینات کرنے سے پہلے چار گھنٹے سے زیادہ کا وقت دیا جاتا ہے۔‘‘ ہم مہاجر مزدوروں سے متفق ہوں یا نہ ہوں، ان کا اپنے گھر واپس جانے کا فیصلہ درست تھا۔ انہیں معلوم ہے – اور ہر گھنٹے ہم یہ ثابت کر رہے ہیں – کہ سرکاریں، فیکٹریوں کے مالک اور ہماری طرح متوسط طبقہ کے آجر کتنے بے ایمان، بے حس اور بے رحم ہو سکتے ہیں۔ اور ان کی آمدورفت کو روکنے کے لیے ہم قانون بناکر یہ ثابت کر رہے ہیں۔

آپ نے دہشت پیدا کردی۔ آپ نے پورے ملک میں پوری طرح سے انتشار پیدا کر دیا، جس نے کروڑوں لوگوں کو شاہراہ پر لاکر کھڑا کر دیا۔ ہم آسانی سے بند پڑے شادی کے ہال، اسکولوں اور کالجوں اور عوامی مراکز کو مہاجروں اور بے گھر لوگوں کے لیے پناہ گاہ میں تبدیل کر سکتے تھے۔ ہم نے بیرونِ ملک سے آنے والوں کے لیے ستارہ ہوٹلوں کو کوارنٹائن مراکز میں تبدیل کیا تھا۔

جب ہم مہاجر مزدوروں کے لیے ٹرین کا انتظام کرتے ہیں، تو ہم ان سے پورا کرایہ لیتے ہیں۔ پھر ہم اے سی ٹرینوں اور راجدھانی کا کرایہ ۴۵۰۰ روپے کردیتے ہیں۔ صورتحال کو مزید ابتر بناتے ہوئے، آپ کہتے ہیں کہ ٹکٹ صرف آن لائن ہی بُک کروایا جا سکتا ہے، یہ مان کر کہ سب کے پاس اسمارٹ فون تو ہوگا ہی۔ کچھ لوگ اس طرح سے ٹکٹ خریدتے بھی ہیں۔

لیکن کرناٹک میں، وہ لوگ ٹرین ردّ کر دیتے ہیں کیوں کہ وزیر اعلیٰ بلڈروں سے ملتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ غلام بھاگ رہے ہیں۔ آپ جو دیکھ رہے ہیں وہ راست طور پر غلاموں کی بغاوت کا ایک نظارہ ہے۔

ہم نے ہمیشہ سے غریبوں کے لیے ایک پیمانہ رکھا اور باقی لوگوں کے لیے دوسرا۔ حالانکہ آپ لوگ جب ضروری خدمات کی فہرست بناتے ہیں تب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹروں کے علاوہ غریب ہی ہیں جو ضروری ہیں۔ بہت سی نرسیں مالدار نہیں ہیں۔ ان کے علاوہ، صفائی ملازمین ہیں، آشا کارکن، آنگن واڑی کارکن، بجلی کارکن، توانائی کارکن اور فیکٹریوں کے مزدور ہیں۔ اچانک آپ کو پتہ چل رہا ہے کہ اس ملک کا امیر طبقہ کتنا غیر ضروری ہے۔

PHOTO • Yashashwini & Ekta ,  Pallavi Prasad ,  Jyoti Patil ,  M. Palani Kumar

دہائیوں سے مہاجرت ہوتی آ رہی ہے۔ اور ان کی حالت لاک ڈاؤن سے پہلے بھی خراب تھی۔ ہم عام طور پر مہاجر مزدوروں کے ساتھ جس طرح کا سلوک کرتے ہیں، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

کئی قسم کے مہاجر ہوتے ہیں۔ لیکن آپ کو ان کے طبقاتی فرق کو سمجھنا ہوگا۔ میں چنئی میں پیدا ہوا۔ میں نے اپنی اعلیٰ تعلیم دہلی سے حاصل کی، جہاں میں چار سال رہا۔ اس کے بعد میں ممبئی چلا گیا، اور اب میں ۳۶ سالوں سے یہاں پر رہ رہا ہوں۔ ہر ہجرت سے مجھے فائدہ ہوا کیوں کہ میرا تعلق سماج کے ایک خاص طبقہ اور ذات سے ہے۔ میرے پاس سماجی پونجی اور نیٹ ورک ہے۔

کچھ مہاجر طویل مدتی ہوتے ہیں، جو ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں اور وہیں بس جاتے ہیں۔

پھر کچھ وقتی مہاجر ہوتے ہیں۔ جیسے مہاراشٹر کے گنّا مزدور، جو پانچ مہینے کے لیے کرناٹک مہاجرت کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں اس کا اُلٹا بھی ہوتا ہے – وہاں کام کرتے ہیں، پھر اپنے گھر لوٹ جاتے ہیں۔ کالا ہانڈی کے مہاجر مزدور ہیں، جو سیاحتی سیزن کے دوران رائے پور جاتے ہیں اور وہاں رکشہ چلاتے ہیں۔ کچھ مہاجر ایسے بھی ہیں، جو اوڈیشہ کے کوراپٹ سے آندھرا پردیش کے وجے نگرم جاتے ہیں اور کچھ مہینے تک وہاں کے اینٹ بھٹوں پر کام کرتے ہیں۔

دوسرے گروپ بھی ہیں – لیکن جن لوگوں کی ہمیں سب سے زیادہ فکر کرنی چاہیے، وہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ہم ’خانہ بدوش‘ مہاجر مزدور کہتے ہیں۔ ان مہاجرین کو اپنی منزل کا کوئی صحیح اندازہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ لوگ ٹھیکہ داروں کے ساتھ آئیں گے اور ۹۰ دنوں کے لیے ممبئی کے کسی تعمیراتی مقام پر کام کریں گے۔ اس مدت کے بعد ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچتا۔ اس کے بعد ٹھیکہ دار انہیں مہاراشٹر کے کسی اور علاقے کے ٹھیکہ دار سے ملوا دیتا ہے اور انہیں وہاں بھیج دیتا ہے۔ ایسی زندگی ایک مشکل زندگی ہے، جو پوری طرح اور لامتناہی طور پر غیر محفوظ ہے۔ ایسے لوگ لاکھوں میں ہیں۔

مہاجر مزدوروں کی حالت کب بگڑنے لگی؟

مہاجرت تو صدیوں سے ہوتی آ رہی ہے۔ لیکن گزشتہ ۲۸ برسوں میں یہ اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ۲۰۱۱ کی مردم شماری بتاتی ہے کہ ۲۰۰۱ سے ۲۰۱۱ کے درمیان – ہماری آزاد تاریخ میں – ہندوستان میں سب سے زیادہ مہاجرت ہوئی ہے۔

۲۰۱۱ کی مردم شماری بتاتی ہے کہ ۱۹۲۱ سے اب تک ایسا پہلی بار ہوا ہے جب دیہی ہندوستان کے مقابلے شہری ہندوستان کی آبادی زیادہ بڑھی ہے۔ شہری آبادی میں اضافے کی شرح بہت کم ہے، پھر بھی شہری ہندوستان کی آبادی میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

آپ واپس جائیں اور ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے ان حقائق پر پوری طرح سے موقوف ٹیلی ویژن پر ماہرین کے ساتھ کوئی بحث و مباحثہ یا انٹرویو ڈھونڈیں۔ ان میں سے کتنوں نے مہاجر مزدوروں اور گاؤں سے شہر کی طرف، گاؤں سے گاؤں کی طرف، یا کہیں اور تیزی سے ہونے والی مہاجرت کے بارے میں بات کی؟

PHOTO • Parth M.N.
PHOTO • Varsha Bhargavi

مہاجرت کے بارے میں کوئی بھی بحث دیہی بحران پر بات کیے بغیر ادھوری ہے، جو کہ مہاجرت کی جڑ ہے، کیا یہ صحیح ہے؟

ہم نے زراعت کو برباد کر دیا اور لاکھوں لوگوں کا ذریعہ معاش ختم ہو گیا۔ دیہی علاقوں میں ہر دوسرے معاش کو نقصان پہنچا ہے۔ ملک میں زراعت کے بعد سب سے زیادہ روزگار پیدا کرنے والے شعبے ہتھ کرگھا اور دستکاری ہیں۔ کشتی بان، ماہی گیر، تاڑی جمع کرنے والے، کھلونا بنانے والے، بنکر، رنگریز – ایک ایک کرکے سبھی کو چو طرفہ مار پڑی ہے۔ ان کے پاس کیا متبادل تھا؟

ہم سوچ رہے ہیں کہ کیا مہاجر مزدور واپس شہر لوٹ کر آئیں گے۔ وہ لوگ یہاں آئے ہی کیوں تھے؟

مجھے یقین ہے کہ کافی تعداد میں مہاجر مزدور شہر واپس لوٹ کر آئیں گے۔ اس میں لمبا وقت لگے گا، شاید۔ لیکن ہم نے گاؤں میں ان کے سبھی متبادل بہت پہلے ہی ختم کر دیے تھے، اپنے لیے سستے مزدوروں کی فوج یقینی بنانے کے لیے۔

کئی ریاستوں میں لیبر قوانین میں مجوزہ رعایت کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

سب سے پہلے، یہ آئین اور آرڈیننس کے ذریعے موجودہ قانون کی اندیکھی ہے۔ دوسرا، یہ آرڈیننس کے ذریعے ایک بندھوا مزدوری کا اعلان ہے۔ تیسرا، یہ درحقیقت مقررہ کام کے گھنٹوں پر منظور شدہ پیمانے کو ۱۰۰ سال پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں مزدوروں پر بنا ہر قانون آٹھ گھنٹے کے کام کے دن کا احترام کرتا ہے۔

آپ گجرات کے آرڈیننس کو دیکھیں۔ اس میں لکھا ہے کہ ملازمین کو اوور ٹائم (اضافی گھنٹے کام کرنے کا پیسہ) نہیں دیا جائے گا۔ راجستھان حکومت اضافی گھنٹوں کے لیے اوور ٹائم دیتی ہے، لیکن ۲۴ گھنٹے ہر ہفتے کی شرط کے ساتھ۔ ملازم دن کے ۱۲ گھنٹے کام کریں گے ہفتہ میں لگاتار چھ دنوں کے لیے۔

ان تمام چیزوں کو کارخانہ قانون میں رعایت اور استثنیٰ کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ ایک مزدور سے زیادہ سے زیادہ ۶۰ گھنٹوں کے لیے ہی کام کرنے کو کہا جا سکتا ہے – اوور ٹائم ملاکر ۱۲ گھنٹے فی دن کے حساب سے ہفتہ میں ۷۲ گھنٹوں کا حساب بنتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اضافی گھنٹوں کے لیے کام کرنا ہے یا نہیں، اس میں مزدوروں کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ زیادہ گھنٹوں تک کام کرنے سے پیداواری صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ لیکن یہ تصور پہلے کیے گئے کئی مطالعوں کے برخلاف ہے۔ پچھلی صدی کے کئی سارے کارخانوں نے آٹھ گھنٹے کے کام کے دن کو اپنایا ہے کیوں کہ ان کے سروے نے دکھایا تھا کہ اگر اضافی گھنٹوں کے لیے کام کیا جائے تو تھکان کی وجہ سے پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

اس کو چھوڑ بھی دیں، تو یہ انسانوں کے بنیادی حقوق پر حملہ ہے۔ یہ مزدوروں کو غلام بنانے کا عمل ہے۔ ریاستیں ٹھیکہ داروں کی طرح کام کر رہی ہیں، دلال تجارتی یونینوں کے لیے بندھوا مزدور لاتے ہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ اس سے سب سے کمزور طبقہ متاثر ہوگا – دلت، آدیواسی اور عورتیں سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔

ہندوستان کے ۹۳ فیصد مزدوروں کے پاس ایسا کوئی حق نہیں ہے جسے قانونی طور پر نافذ کیا جا سکے کیوں کہ وہ غیر روایتی شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ آپ یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ’’چلو ہم باقی بچے سات فیصد لوگوں کے حقوق کو بھی برباد کر دیتے ہیں۔‘‘ ریاستوں کی یہ دلیل ہے کہ مزدوروں کے قانون کو تبدیل کرنے سے سرمایہ کاری بڑھے گی۔ لیکن سرمایہ کاری انہی جگہوں پر آتی ہے جہاں بہتر بنیادی ڈھانچہ ہو، بہتر حالات ہوں اور عام طور پر ایک مستحکم سماج ہو۔ اگر اتر پردیش میں ایسا کچھ ہوتا، تو وہاں سے ملک بھر میں مہاجرت کرنے والے سب سے زیادہ مزدورنہیں ہوتے۔

PHOTO • Purusottam Thakur ,  Sanket Jain ,  Amrutha Kosuru ,  Guthi Himanth

اس قدم کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے؟

اتر پردیش اور مدھیہ پردیش نے تین سال کے لیے مزدوروں کے سبھی قوانین کو منسوخ کر دیا ہے، تین چار قوانین کو چھوڑ کر کیوں کہ وہ لوگ آئینی اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان میں تبدیلی نہیں کر پائے۔ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ حالات چاہے کتنے بھی پیچیدہ کیوں نہ ہوں، مزدوروں کو کام کرنا ہی پڑے گا۔ آپ ان لوگوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کر رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کو صاف ہوا، بیت الخلا اور چھٹی لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ آرڈیننس وزرائے اعلیٰ کے ذریعے جاری کیا گیا ہے اور اس کے پیچھے کوئی بھی آئینی طریقہ کار نہیں اپنا گیا ہے۔

آگے بڑھنے کے لیے ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے؟

ہمیں ملک میں مزدوروں کے حالات بہتر کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ یہ وبا ان لوگوں کو اس طرح سے اس لیے متاثر کرتی ہے کیوں کہ ہمارے سماج میں بہت زیادہ غیر برابری ہے۔ جو ہم کر رہے ہیں وہ ہمارے ذریعے مزدوروں کے لیے منظور شدہ کئی سارے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

بی آر امبیڈکر کو اس کا پورا اندازہ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں صرف سرکاروں کے بارے میں ہی بات نہیں کرنی ہے۔ مزدور تجارت کے رحم و کرم ہے، اس بارے میں بات کرنی ہے۔ سرکاریں ان قوانین کو منسوخ کر رہی ہیں جو امبیڈکر لائے تھے، جس کی انہوں نے بنیاد رکھی تھی۔

ہماری ریاستی حکومتوں میں لیبر ڈپارٹمنٹ ہے۔ اس کا رول کیا ہونا چاہیے؟

ریاستوں کے لیبر ڈپارٹمنٹ کا رول یہ ہونا چاہیے کہ وہ مزدوروں کے مفادات کا تحفظ کریں۔ لیکن آپ کے پاس ایک ایسے مرکزی لیبر منسٹر ہیں جو مزدوروں کے کارپوریشنوں کی بات سننے کی اپیل کر رہے ہیں۔ اگر آپ کوئی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے آپ کو اپنا سماجی ٹھیکہ بدلنا پڑے گا۔ اگر آپ اس سیارہ کے سب سے زیادہ غیر برابری والے سماجوں میں سے ایک کو مخاطب نہیں کر سکتے، تو آپ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ یہ بدتر ہوتا چلا جائے گا – اور بہت تیزی سے۔

گھر لوٹنے والے زیادہ تر مزدور نوجوان ہیں، اور غصے میں ہیں۔ کیا ہم آتش فشاں پر بیٹھے ہیں؟

آتش فشاں پھٹ رہا ہے۔ ہم اسے اندیکھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ سرکاروں، میڈیا، کارخانہ مالکوں اور سماج کے طور پر ہماری منافقت دیکھئے۔

۲۶ مارچ تک ہمیں ان مہاجر مزدوروں کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا۔ اچانک، ہم لاکھوں مزدوروں کو سڑکوں پر دیکھتے ہیں۔ اور ہمیں یہ کچوٹتا ہے کیوں کہ ہم نے ان کی خدمات کھو دیں۔ ۲۶ مارچ تک تو ہمیں فرق ہی نہیں پڑا تھا۔ ہم ان کو یکساں حقوق والے انسان ہی نہیں سمجھتے تھے۔ ایک پرانی کہاوت ہے: غریب جب علم حاصل کر لیتا ہے، تو امیر اپنی پالکی اٹھانے والے کھو دیتے ہیں۔ اچانک ہم نے پالکی اٹھانے والے کھو دیے۔

PHOTO • Sudarshan Sakharkar
PHOTO • Sudarshan Sakharkar

مہاجرت عورتوں اور بچوں کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟

عورتوں اور بچوں کے لیے یہ خاص طور سے تباہ کن ہے۔ جہاں کہیں بھی غذائیت میں کمی آتی ہے، عورتیں اور لڑکیاں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ اور وہ صحت کے نقطہ نظر سے غیر یقینی طور پر کمزور ہیں۔ نوجوان لڑکیاں اتنے قسم سے متاثر ہوتی ہیں کہ اس کے بارے میں شاید ہی کبھی سوچا جاتا ہے، ذکر کرنا تو دور کی بات ہے۔ ملک بھر کے اسکولوں میں پڑھنے والی لاکھوں لڑکیاں مفت میں سینیٹری نیپکن پانے کی حقدار ہیں – اچانک اسکول بند ہو گئے، انہیں کوئی متبادل نہیں دیا گیا۔ اس لیے اب لاکھوں لڑکیاں پرانے غیر صحت مند متبادل کا استعمال کر رہی ہیں۔

پیدل گھر لوٹنے والے مہاجر مزدوروں کی پریشانیوں کا کیا؟

مہاجر مزدور اکثر لمبی دوری پیدل طے کرتے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر، گجرات میں واقع کارخانوں یا متوسط طبقہ کے آجروں کے یہاں کام کرنے والے مہاجر مزدور جنوبی راجستھان پیدل ہی واپس جاتے ہیں۔ لیکن یہ کام وہ دوسرے حالات میں کرتے تھے۔

وہ لوگ ۴۰ کلومیٹر چلتے ہیں، پھر کسی ڈھابے یا چائے کی دکان پر رکتے ہیں، وہاں کام کرتے ہیں اور بدلے میں انہیں کھانا ملتا ہے۔ صبح وہ لوگ نکل جاتے ہیں۔ اگلے بڑے بس اسٹیشن پر – پھر ویسا ہی کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ گھر واپس جانے کے لیے راستہ بناتے ہیں۔ اب چونکہ وہ ساری جگہیں بند ہو گئیں، یہ لوگ بھوک اور پیاس، دست اور دوسری بیماریوں کے شکار بن گئے۔

مستقبل میں ان لوگوں کی حالت بہتر کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

ہم نے ترقی کی جس راہ کا انتخاب کیا ہے اس سے پوری طرح سے علاحدگی اور اسے توڑنے کی ضرورت ہے۔ مہاجر مزدوروں کی تکلیف دہ حالت نا برابری والے حالات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

ہمارے آئین میں پوشیدہ ’’سبھی کے لیے انصاف: سماجی، اقتصادی، اور سیاسی...‘‘ کی اہمیت کا احساس کیے بنا ہم یہ کام نہیں کر سکتے۔ اور یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ سماجی اور اقتصادی انصاف سیاسی انصاف سے پہلے آتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جن لوگوں نے یہ لکھا تھا ان کو ترجیحات کی واضح سمجھ تھی۔ آپ کا آئین ہی آپ کو راستہ دکھاتا ہے۔

ہندوستان کے شرفاء اور حکومت، دونوں کا یہی سوچنا ہے کہ ہم ’سب کچھ ٹھیک ہے‘ کے تصور میں لوٹ سکتے ہیں، اور یہ سوچ غیر یقینی ظلم، استحصال اور تشدد کو جنم دے گی۔

کور فوٹو: ستیہ پرکاش پانڈے

یہ انٹرویو ۱۳ مئی، ۲۰۲۰ کو فرسٹ پوسٹ میں شائع ہوا تھا۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Parth M.N.

پارتھ ایم این ۲۰۱۷ کے پاری فیلو اور ایک آزاد صحافی ہیں جو مختلف نیوز ویب سائٹس کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہیں کرکٹ اور سفر کرنا پسند ہے۔

Other stories by Parth M.N.