چند ماہ قبل جب موہن چندر جوشی کے چھوٹے بھائی کی نوکری ہندوستانی فوج میں لگی، تو انھوں نے الموڑہ ڈاکخانہ میں اپنے ایک جاننے والے سے فوراً کہا کہ وہ تقرری کے اس خط کو اپنے پاس ہی رکھیں۔ ’’اسے ہمارے گھر مت بھیجیں،‘‘ انھوں نے کہا۔ موہن چندر اپنے بھائی کو فوج میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش نہیں کر رہے تھے، بلکہ انھیں اس بات کا خدشہ تھا کہ کہیں یہ لیٹر دیر سے نہ پہنچے یا شاید پہنچے ہی نہیں۔ اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ کے بھنولی گنٹھ گاؤں کے باشندوں کے ساتھ ایسا اکثر ہوتا ہے۔ ان کا سب سے قریبی ڈاکخانہ دوسرے ضلع میں پڑتا ہے۔

’’یہاں کے زیادہ تر لوگوں کو نوکری اس لیے نہیں مل پائی، کیوں کہ انٹریو لیٹر انھیں بہت دیر سے ملا۔ ڈاکیہ (پوسٹ مین) اکثر انٹرویو کی تاریخ گزر جانے کے بعد خط لے کر پہنچتا ہے۔ اس جیسے دور دراز مقام پر، جہاں نوکری کا کوئی انتظام نہیں ہے، بھلا کون ایسا خط موصول کرنا نہیں چاہے گا، اور وہ بھی سرکاری نوکری کے لیے؟‘‘ موہن چندر سوال کرتے ہیں، اور بات کرتے ہوئے اپنی آنکھوں کو اِدھر اُدھر گھماتے ہیں۔

موہن اس خط کو لینے کے لیے، ۷۰ کلومیٹر دور واقع الموڑہ کے اس جنرل پوسٹ آفس (ڈاکخانہ) میں خود چل کر گئے۔ ’’ہاں، میں جانتا ہوں کہ ہمیں پوسٹ آفس جاکر خط نہیں لینا چاہیے۔ ان خطوط کو ہمارے گھروں تک پہنچانے کی ذمہ داری پوسٹ مین کی ہے۔ لیکن ہم اس آسانی کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اگر ہم خود ہی وہاں جاکر یہ خط نہیں لیں گے، تو انھیں موصول کرنے میں ہمیں ایک مہینہ تک کا وقت لگ سکتا ہے (اگر وہ واقعی ہم تک پہنچے تو)۔ تب تک تو آرمی (فوج) کو جوائن کرنے (شامل ہونے) کی ہمارے بھائی کی تاریخ نکل چکی ہوتی،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

موہن چندر اور چند دیگر لوگ ہم سے اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ ضلع کے بھنولی گنٹھ (جسے بھنولی سیرا بھی کہتے ہیں) میں چائے کی ایک دُکان پر بات کر رہے ہیں۔ علاقہ کے کم از کم پانچ گاؤوں میں ڈاک کا یہی حال ہے، جہاں خطوط یا تو دیر سے پہنچتے ہیں یا پہنچتے ہی نہیں ہیں۔ یہ گاؤوں ہیں سیرا عرف بڈولی، سر ٹولہ، چاؤنا پٹال، نائلی اور بڈولی سیرا گنٹھ۔


02-The last post – and a bridge too far-AC.jpg

بھنولی گنٹھ میں چائے کی دُکان پر۔ بائیں سے دائیں: نیرج دھُوال، مدن سنگھ، مدن دھوال اور موہن چندر جوشی


یہ گاؤوں الموڑہ اور پتھوراگڑھ ضلعوں کی سرحد پر واقع ہیں۔ سرحد کی نشاندہی سریو ندی کے سیرا گھاٹ پر بنے لوہے کے پُل سے کی گئی ہے۔ یہ سبھی چھ گاؤوں حالانکہ پتھوراگڑھ کے گنگولی ہاٹ بلاک میں پڑتے ہیں، لیکن ان کے ڈاکخانے پُل کے اُس پار واقع ہیں۔ یعنی، پانچ کلومیٹر دور، الموڑہ ضلع کے بھاسیاچھن بلاک میں۔ وہاں سے ڈاک آنے میں ۱۰ دن لگ جاتے ہیں، جب کہ خود ان کے ضلع کے ہیڈکوارٹرس سے ایک خط کے یہاں تک پہنچے میں ایک مہینہ تک لگ سکتا ہے۔ ’’اتنی بڑی مصیبت،‘‘ مدن سنگھ اپنے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے ہوئے بولتے ہیں۔ ’’وہ ہمیں اب بھی پتھورا گڑھ کا نہیں مانتے ۔ ہم یہاں رہتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہمارا پتہ الموڑہ کا ہے۔‘‘

۵۶ سال پہلے پتھوراگڑھ کو اس سے الگ کرکے ایک نیا ضلع بنایا گیا تھا، لیکن اِن گاؤوں کے ۲،۰۰۳ باشندے اب بھی خود کو الموڑہ سے الگ نہیں کر سکے ہیں، جسے کبھی وہ اپنا گھر کہتے تھے۔ وہ الموڑہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرس سے ۷۰ کلومیٹر دور ہیں، لیکن پتھوراگڑھ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرس سے صرف ۱۳۰ کلومیٹر دور۔ الموڑہ کے بھاسیاچھن میں واقع ڈاکخانہ سب سے قریبی ڈاکخانہ ہے۔

سال ۲۰۱۴ میں گاؤوں والوں نے جو آدھار کارڈ بنوائے، ان میں ان کے پتہ کے طور پر لکھا تھا ڈاکخانہ بھاسیاچھن، پتھوراگڑھ۔ ’’جب ہم نے شکایت کی، تو اسے درست کر دیا گیا اور کارڈس ۱۲ کلومیٹر دور گنائی ڈاکخانہ کو بھیجے گئے۔ لیکن وہاں سے کوئی بھی ڈاکیہ ہمارے گاؤں میں نہیں آتا ہے۔ ہمارے خطوط تو صرف بھاسیاچھن کے ڈاکیے لے کر آتے ہیں، جو کہ پُل کے دوسری جانب واقع ہے۔ اس لیے، ہمیں اپنے آدھار کارڈس لانے کے لیے گنائی جانا پڑا۔‘‘ یہ باتیں سرٹولہ گاؤں کے باشندہ چندن سنگھ نوبال نے بتائیں۔ 


03-The last post – and a bridge too far-AC.jpg

چندن سنگھ نوبال کہتے ہیں کہ ڈاک جمع کرنا اذیت کا کام ہے؛ یہاں پر وہ سرٹولہ میں اپنی فیملی کے ساتھ گھر پر ہیں۔ دائیں: سُریش نِیولیا اور موہن جوشی بھنولی میں ان سے اتفاق کرتے ہیں۔


بڈولی سیرا گنٹھ میں حالت اور بھی خراب ہے۔ یہ تقریباً ۱۴ گھروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ گاؤں کے باشندوں میں زیادہ تر عورتیں اور بوڑھے مرد ہیں۔ اور ہم ایک قطار میں بیٹھی ہوئی ۱۰ عورتوں سے باتیں کر رہے ہیں، اس گاؤں میں کل اتنی ہی عورتیں ہیں۔ ان کے بیٹے اور شوہر ان سے دور ہیں اور الموڑہ، ہلدوانی، پتھوراگڑھ، لکھنؤ یا دہرہ دون جیسے بڑے شہروں یا قصبوں میں کام کرتے ہیں۔ وہ سال میں ایک بار گھر آتے ہیں، لیکن ہر مہینے پیسے اپنے گھر ضرور بھیجتے ہیں۔ ’’منی آرڈر بھی ہمیں دیر سے ہی ملتے ہیں۔ ہمیں پیسوں کی سخت اور فوری ضرورت ہوتی ہے، تب بھی ہمیں ڈاکیہ کے آنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے،‘‘ کملا دیوی بتاتی ہیں، جو کہ اس گاؤں کی ایک کسان اور یہیں کی باشندہ ہیں۔ 


04-The last post – and a bridge too far-AC.jpg

بڈولی سیرا گنٹھ کی پاروَتی دیوی، جو ۷۰ کی عمر میں چل رہی ہیں اور تین مہینے میں صرف ایک بار ڈاکخانہ کا چکّر لگا سکتی ہیں۔


ستّر سالہ ان کی پڑوسن پاروَتی دیوی مشکل سے چل پاتی ہیں، لیکن انھیں ۸۰۰ روپے کا اپنا بیوہ پنشن لینے کے لیے گنائی پوسٹ آفس جانا پڑتا ہے۔ انھیں پیسوں کی بے حد ضرورت ہوتی ہے، لیکن خراب صحت کی وجہ سے وہ ہر مہینہ ڈاکخانہ کا چکّر نہیں لگا سکتیں۔ اس لیے وہ تین مہینے میں صرف ایک بار وہاں جاتی ہیں، تب ان کے ہمراہ دو اور بوڑھی عورتیں ہوتی ہیں۔ ’’جیپ سے گنائی تک جانے میں ۳۰ روپے لگتے ہیں۔ اگر میں ہر مہینے اپنا پنشن لانے پر ۶۰ روپے خرچ کردوں، تو میرے پاس بچے گا کیا؟‘‘ پاروَتی دیوی سوال کرتی ہیں۔ اپنی اس عمر میں وہ خطوط اور منی آرڈرس دیر سے پانے کی عادی ہو چکی ہیں اور محکمۂ ڈاک کے تئیں کافی تحمل کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ لیکن، دوسری عورتیں ان کے جتنی متحمل نہیں ہیں۔ ’’جب انٹرنیٹ پر ایک خط سیکنڈوں میں پہنچ جاتا ہے، تو ہمیں اسے گھر پر موصول کرنے میں ایک مہینہ کیوں لگ جاتا ہے؟‘‘ سریش چندر نیولیا، جو کہ ایک ریٹائرڈ سرکاری نوکر ہیں، سوال کرتے ہیں۔

مہربان سنگھ، جو بھاسیاچھن ڈاکخانہ میں ملازم ہیں اور ان چھ گاؤوں تک ڈاک پہنچانے کی ذمہ داری انھیں کی ہے، کہتے ہیں، ’’اِن تمام جگہوں پر روزانہ جانا ناممکن ہے۔‘‘ کچھ گاؤوں میں تو سڑک تک نہیں ہے، اور وہاں تک روزانہ آنے جانے کا مطلب ہے ۱۰۔۱۲ کلومیٹر تک پیدل چلنا۔ ۴۶ سالہ مہربان سنگھ ۲۰۰۲ سے ڈاکیہ کا کام کر رہے ہیں۔ ’’میں ہفتہ میں ایک بار ان میں سے ہر ایک گاؤں جاتا ہوں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

سنگھ اپنے گھر سے روزانہ صبح ۷ بجے کام کی شروعات کرتے ہیں۔ ’’دوپہر تک، میں خطوط پہنچانے کے بعد ڈاکخانہ پہنچتا ہوں۔ وہاں پر میں تین بجے تک دوپہر بعد آنے والے خطوں کا انتظار کرتا ہوں۔ ڈاک جمع کرتا ہوں اور پھر اپنے گھر کے لیے روانہ ہو جاتا ہوں۔‘‘ وہ ڈاک لے کر اپنے گھر اس لیے جاتے ہیں، کیوں کہ صبح کے ۱۰ بجے ڈاکخانہ کے کھلنے سے تین گھنٹے پہلے ہی وہ اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔ کافی عرصے سے وہ بھاسیاچھن ڈاکخانہ میں واحد ڈاکیہ تھے۔ جس کا مطلب تھا ۱۶ گاؤوں کی ڈاک کو گھروں تک پہنچانا۔ ابھی حال ہی میں وہاں ایک اور آدمی کو رکھا گیا ہے، جس سے سنگھ کا بوجھ کچھ کم ہوا ہے۔ 


05-The last post – and a bridge too far-AC.jpg

گنگولی ہاٹ بلاک کے سرٹولہ گاؤں میں کماؤنی قسم کا ایک ویران گھر


نیولیا نے بتایا کہ گاؤوں والوں نے پتھوراگڑھ کے جنرل پوسٹ آفس سپرنٹنڈنٹ سے اس بابت کئی بار شکایت کی، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ’’ایک بار بیری ناگ پوسٹ آفس نے سروے کرایا، لیکن ان کی ٹیم تمام گاؤوں تک نہیں پہنچی،‘‘ نیولیا نے بتایا۔ ’’ہمارے پاس پینے کا پانی نہیں ہے، روزگار نہیں ہے اور ڈاک کا نظام خستہ ہے۔ ہمارے گاؤں میں کون رہنا چاہے؟‘‘ کچھ سال پہلے تک، بڈولی سیرا میں ۲۲ کنبے رہائش پذیر تھے۔ آج، یہاں اور سرٹولہ گاؤں میں متعدد روایتی کماؤنی گھر، جو اَب خالی پڑے ہوئے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ پہلے یہاں روز کتنی چہل پہل ہوا کرتی تھی۔

جب راقم السطور نے اس مسئلہ پر ٹائمز آف انڈیا، دہرہ دون (۱۷ دسمبر، ۲۰۱۵) میں ایک رپورٹ لکھی، تو اتراکھنڈ حقوقِ انسانی کمیشن (یو ایچ آر سی) نے اُس نیوز رپورٹ کا اسی دن خود سے نوٹس لیا۔ اس نے پتھوراگڑھ اور الموڑہ کی ضلع انتظامیہ کو حکم صادر کیا کہ وہ اس بابت حقیقی رپورٹ جمع کرائیں، ساتھ ہی اس نے پوسٹ ماسٹر جنرل، دہرہ دون کو بھی اس مسئلہ کو حل کرنے کے بارے میں ایک تجویز بھیجی۔ حقوقِ انسانی کمیشن نے کہا کہ ’’اس ضلع کو بنے ہوئے ۵۰ سال سے زیادہ ہو چکے ہیں۔‘‘ بقول اس کے، انتظامیہ کو بہت پہلے ہی ان شکایتوں کو دور کر دینا چاہیے۔ کمیشن کی رکن، ہیم لتا ڈھونڈیال کے دستخط والی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’پتھوراگڑھ صرف اس ریاست کا ہی سرحدی ضلع نہیں ہے، بلکہ ملک کا بھی ہے اور یہاں کے لوگ دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں، جن کا رابطہ صرف ڈاکخانوں کے توسط سے ہی بنا ہوا ہے۔ لہٰذا، ان کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘


06-The last post – and a bridge too far-AC.jpg

گاؤوں اور آبادیوں کے پنچایت آفس کے ذریعہ ہاتھ سے بنایا گیا نقشہ۔ دائیں: ان میں سے چند مقامات کی فہرست، ان کی آبادی اور ڈاکخانہ سے ان کی دوری


اتراکھنڈ حقوقِ انسانی کمیشن کے ذریعہ ۳ مئی، ۲۰۱۶ کو کی گئی پہلی سماعت کے دوران، پتھوراگڑھ پوسٹ آفس سپرنٹنڈنٹ جی سی بھٹ نے کہا کہ گاؤوں والوں نے پہلے ان سے اس کے بارے میں کبھی شکایت نہیں کی۔ ’’جلد ہی بڈولی سیرا گنٹھ میں ایک نیا برانچ آفس کھولا جائے گا،‘‘ انھوں نے کہا۔ حقوقِ انسانی کمیشن نے پوسٹ ماسٹر جنرل، دہرہ دون سے کہا کہ وہ جتنا جلد ممکن ہو سکے، اس مسئلہ کو حل کریں۔ ایسا نہ کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کرنے کی بھی وارننگ دی گئی۔

ایک ماہ سے کچھ زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد، پتھوراگڑھ جنرل پوسٹ آفس کو منظوری نامہ بھیجا گیا۔ اور اس طرح ۳۰ جون، ۲۰۱۶ کو بڈولی سیرا گنٹھ میں ایک نیا برانچ پوسٹ آفس کھولا جائے گا۔ پوسٹ ماسٹر اور پوسٹ مین کے دو عہدوں پر تقرری کو بھی منظوری مل چکی ہے۔

مہربان سنگھ کافی خوش ہیں، کیوں کہ اب انھیں لگتا ہے کہ آئندہ ڈاک پہنچانے میں دیر نہیں ہوا کرے گی۔ اپنے کندھوں پر خطوں سے بھرا ہوا ایک تھیلا اٹھائے ہوئے وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں، ’’بھاسیاچھن کے دو ڈاکیوں میں سے ایک اب اِن چھ گاؤوں میں، نئے آدمی کے آنے تک خطوط پہنچایا کرے گا۔‘‘

موہن چندر، مدن سنگھ، نیولیا اور کملا دیوی بھی اس بات سے خوش ہیں کہ ان کے گاؤوں کے لیے جلد ہی ایک نیا پوسٹ آفس کھلنے والا ہے۔ لیکن انھیں اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ کہیں یہ بھی دوسرے سرکاری وعدوں کی طرح ہی ثابت نہ ہوں، جن کا اعلان تو ہو جاتا ہے، لیکن ان پر عمل کبھی نہیں ہوتا۔


07-The last post – and a bridge too far-AC.jpg

سریو ندی کے سیرا گھاٹ پر بنا یہ پل پتھورا گڑھ اور الموڑہ ضلع کے درمیان سرحد کی نشاندہی کرتا ہے۔ دائیں: مہربان سنگھ، جو لمبے عرصے سے بھاسیاچھن کے ڈاکیہ کے طور پر بوجھ اٹھا رہے ہیں

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

Arpita Chakrabarty

اَرپِتا چکربرتی الموڑہ، اتراکھنڈ میں مقیم فری لانس جرنلسٹ ہیں۔ وہ ٹائمز آف انڈیا، ڈاؤن ٹو اَرتھ اور کانٹری بیوٹوریا کے لیے لکھتی ہیں۔ آپ اُن سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @eveningdrizzles

Other Stories by Arpita Chakrabarty