بھگوتی کہتی ہیں، ’’اس جھاڑو کو سات مراحل میں بنایا جاتا ہے۔‘‘
حالانکہ بھگوتی صرف ۲۰ سال کی ہیں، لیکن وہ اپنے ہنر میں ماہر ہیں، جسے انہوں نے اپنی ماں اور دوسرے رشتہ داروں سے سیکھا تھا۔ انہوں نے اس رپورٹر کو بتایا، ’’پہلے ہم کھجور کی پتیوں کو درمیان سے پھاڑتے ہیں اور پھر پتیوں کے سرے کو اس سے الگ کر لیتے ہیں۔‘‘
وہ پتیوں کے سرے کو ’’ٹکڑے ٹکڑے‘‘ کہہ کر بلاتی ہیں، جو ایسے پتّے ہیں جو ایک بڑے پنکھ جیسے پتّے کا حصہ ہوتے ہیں۔ جھاڑو بنانے والے ہر پتّے کو کاٹتے ہیں اور پھر انہیں بنڈل میں باندھتے ہیں۔ اس کے بعد ان پتّوں کو بانس کی چھڑی پر کس کر پنّی سے لپیٹا جاتا ہے۔ آخر میں پتّوں کو پتلا کیا جاتا ہے اور کنارے کاٹے جاتے ہیں۔ بھگوتی جھاڑو بنانے کے مراحل بتاتی ہیں اور بیچ بیچ میں ان کی بہن دیولی بھی اپنی باتیں جوڑتی رہتی ہیں۔
دونوں خالہ زاد بہنوں کی عمر بیس کے آس پاس ہے اور انہیں جھاڑو بنانے کے تمام مراحل زبانی یاد ہیں۔ پنجاب کے ملوٹ میں بھگوتی اپنی ماں سونی دیوی اور دیولی کے ساتھ ایک فٹ پاتھ پر گھیرا بنا کر بیٹھی ہوئی ہیں۔ کسی خوبصورت رقص کی طرح وہ ہر مرحلہ کو بخوبی مکمل کرتی ہیں، باری باری سے اپنے حصہ کا کام نمٹا کر دوسرے کو اگلے مرحلہ کا کام سونپ دیتی ہیں۔
دیولی بڑی لگن کے ساتھ یہ روایتی کام کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’بچپن سے ہمیں جھاڑو بنانے میں بہت من لگتا تھا۔ اور اب بھی لگتا ہے۔‘‘ انہیں یہ ہنر ان کی ماں رکھمنی نے سکھایا تھا اور اب وہ تین چھوٹے بھائی بہنوں کو یہی کام سکھانے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔
بھگوتی بھی پورے جوش سے اس کام کو کرتی ہیں، لیکن اپنی بہن کے مقابلے وہ کہیں زیادہ پروفیشنل ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’کیوں کہ جب محنت کریں گے تبھی تو کھانے کو ملے گا، اور محنت نہیں کریں گے تو کیا کھائیں گے؟‘‘ وہ اپنی ماں سونی دیوی سے ہمیشہ یہ سنتے ہوئے بڑی ہوئی ہیں، ’’اگر جھاڑو نہیں بنائیں گے تو ہم کھائیں گے کیا؟‘‘ یہی جذبہ جھاڑو بنانے والے دوسرے خاندانوں میں بھی ہے جو راجستھان کے میواڑ علاقہ سے پنجاب آئے ہیں۔





















