’’الومینیا پاتیرم [ایلومینیم کے برتن]!
’’میرے حلق سے جو بھی آواز نکل سکتی ہے، میں اس کا استعمال کرتا ہوں۔ میں لاؤڈ اسپیکر نہیں لگاتا۔ سب کچھ میری آواز سے ہوتا ہے۔
’’میرا نام گنیشن ہے۔ میں سائیکل پر جو سامان لاد کر چلتا ہوں، وہی بیچتا ہوں۔ میں پلاسٹک اور دھات سے بنے گھریلو برتن بیچ کر اپنے بچوں کی پرورش کرتا ہوں۔ آج کھانے کے لیے ہمیں کچھ [پانی کے] گھڑے تو بیچنے ہی ہوں گے۔ چلئے، نکلتے ہیں۔‘‘
گنیشن سے میری ملاقات تمل ناڈو کے کرئی کُڈی کے پاس واقع کناڈو کاتن میں ہوئی۔ میں تصویروں کے ذریعہ کسی آدمی کی کہانی درج کرنا چاہتا تھا۔ جس دن میں ان سے ملا، ۶۱ سالہ گنیشن کوت منگلم گاؤں سے ہوکر واپس لوٹ رہے تھے۔ انہوں نے کھل کر مسکراتے ہوئے میری درخواست قبول کر لی۔





















