’’اے سی کمروں میں منعقد ہونے والی نمائشیں، جو یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ محروم اور حاشیے پر رہنے والی برادریوں کی نمائندگی کرتی ہیں، درحقیقت ان لوگوں کے لیے خوش آئند نہیں ہوتیں جن کی زندگیوں اور مسائل کو ان کا فن بیان کرتا ہے۔ ایک بار مجھے اپنے کورس کی ضرورت کے تحت دہلی میں ایک آرٹ نمائش دیکھنے جانا پڑا۔ وہاں ہال میں تصاویر، مجسمے اور پینٹنگز موجود تھیں جو محروم لوگوں کی زندگیوں پر مبنی تھیں، مگر پورے ماحول میں اشرافیہ (ایلیٹ) کی ایسی جھلک تھی کہ میں خود کو وہاں بہت اجنبی اور الگ تھلگ محسوس کر رہی تھی،‘‘ ۲۲ سالہ حیرالنشاء اپنی خلوص سے بھری آواز میں کہتی ہیں۔
’’ذرا سوچیں، اگر کسی ایسی برادری سے تعلق رکھنے والا شخص، جو پہلے سے ہی سماجی طور پر نظرانداز کیا جاتا رہا ہے، وہاں پہنچ جائے تو وہ کیسا محسوس کرے گا؟ مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس جگہ کو اپنا سمجھ سکے گا۔ اگر میں کبھی کوئی نمائش منعقد کروں، تو میں اسے بالکل مختلف انداز میں پیش کروں گی۔ صرف دیواروں پر تصاویر آویزاں کرنے اور کسی کے ان کے بارے میں گفتگو کرنے تک محدود نہیں رہوں گی۔ میں ان حقیقی لوگوں کو بھی وہاں لاؤں گی جن کی زندگیوں کو یہ تصاویر بیان کرتی ہیں، تاکہ وہ دوسروں سے براہِ راست بات چیت کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی میں نمائش کی جگہ کو ان مناظر اور ماحول سے بھی جوڑوں گی جن کی عکاسی یہ تصاویر کرتی ہیں۔‘‘ وہ تیزی سے اپنے خیالات پیش کر رہی ہیں۔ حیرالنشاء کے پاس صرف ۲۰ منٹ ہیں، اس کے بعد انہیں یونیورسٹی کے ایک پروگرام میں واپس جانا ہے جہاں وہ نظامت کے فرائض انجام دینے والی ہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی تعلیم حاصل کرنے والی حیرالنشاء شمالی چنئی کے ایک مسلم خاندان سے تعلق رکھنے والی اپنے خاندان کی پہلی طالبہ ہیں جنہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں اپنے علاقہ سے پہلی لڑکی ہوں جو اتنی دور آکر تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ ہماری برادری میں خواتین کو عموماً گھر تک محدود رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور انہیں گریجویشن کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ جیسے ہی میری عمر ۱۸ سال ہوئی، مجھ پر شادی کرنے کا دباؤ بڑھنے لگا۔ لیکن میں وہاں سے نکل آئی۔ فوٹوگرافی نے مجھے یہ احساس دلایا کہ اس دنیا کے باہر بھی ایک بہت بڑی دنیا موجود ہے۔‘‘
















