’’چارپائیاں بنانا میرے خون میں شامل ہے،‘‘ چارپائی بُننے والی تیسری نسل کی کرشناوتی مسکراتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’میری شادی بھی ایسے شخص سے ہوئی ہے جسے اس ہنر سے محبت ہے!‘‘ تھارو قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والی ۴۵ سالہ خاتون ہمیں بتاتی ہیں۔
تقریباً تین دہائیوں سے کرشناوتی اور ان کے شوہر چندرپال سنگھ رانا رسی والی چارپائیاں بنا رہے ہیں، جن میں لکڑی کے تختوں کی جگہ رسی کا جال بُنا جاتا ہے۔ وہ چارپائی کے پائے لکڑی سے تراشتے اور تیار کرتے ہیں، پھر اس پر رسی بُنتے ہیں۔
گرمیوں میں، جب درجۂ حرارت بڑھ جاتا ہے، لوگ بستروں کے بجائے چارپائیوں کو ترجیح دیتے ہیں، اسی لیے یہ کاریگر مئی سے ستمبر تک کام کرتے ہیں؛ باقی سال وہ زرعی مزدوری کرتے ہیں۔ کرشناوتی روزانہ ۳۵۰ روپے کماتی ہیں جب کہ چندرپال ان سے سو روپے زیادہ پاتے ہیں۔ انہیں سال بھر میں تقریباً ۱۲۰ سے ۱۵۰ دن کام ملتا ہے۔















