پینٹاپلّی راجا راؤ ہر صبح اپنی پیٹھ یا سر پر لال مرچوں کی بوری لیے آہستہ آہستہ چھ منزلوں تک سیڑھیاں چڑھتے ہیں۔ بوری کا وزن تقریباً ۴۵ کلو ہوتا ہے۔ وہ اگلے چند گھنٹوں میں اس طرح کے کئی چکر لگاتے ہیں۔ ’’۱۳۰ قدموں والی سیڑھیوں سے نیچے اترنا، اوپر چڑھنے کے مقابلے میں آسان ہوتا ہے،‘‘ ۲۹ سالہ راجا راؤ کہتے ہیں، جو ۱۹ سال کی عمر سے یہ کمر توڑ کام کر رہے ہیں۔

جب مرچوں سے بھری بوریاں وِشو کولڈ اسٹوریج کے گراؤنڈ فلور پر آجاتی ہیں، تو راؤ اور دیگر ۱۱ مزدور انہیں کمپاؤنڈ میں کھڑے ٹرک پر لاد دیتے ہیں۔ جب ٹرک پوری طرح سے لوڈ ہو جاتا ہے، تو تقریباً سات کلومیٹر دور گنٹور قصبے میں این ٹی آر زرعی مارکیٹ کمیٹی یارڈ کے لیے روانہ ہوجاتا ہے۔

’’وہ بوری کو لاری سے کولڈ اسٹوریج تک لے جانے کے لیے ہمیں ۱۵ روپے ادا کرتے ہیں، اور جب اسے واپس نیچے لا کر لاری میں لوڈ کیا جاتا ہے تو ۱۰ روپے ملتے ہیں،‘‘ راجا راؤ کہتے ہیں، جن کا تعلق شریکا کولم ضلع کے گارا منڈل کے کورنی گاؤں سے ہے۔ ’’لیکن ہمیں فی بوری صرف ۲۳ روپے ملتے ہیں۔ مِستری (سپروائزر) کمیشن کے طور پر دو روپے لیتا ہے، یعنی ایک روپیہ بوری کو اوپر لے جانے کے لیے اور ایک روپیہ نیچے لانے کے لیے۔

فروری سے مئی تک مرچوں کے بازار میں تیزی کے دنوں میں وشو کولڈ اسٹوریج صرف مرچیں رکھتا ہے، اور اس دوران راجا راؤ روزانہ تقریباً ۳۰۰ روپے کما لیتے ہیں۔ سال کے باقی دنوں کے لیے ان کی مزدوری ۱۰۰ روپے یومیہ یا اس سے کم بھی ہو سکتی ہے۔

Man standing amid sacks of chillies in cold storage
PHOTO • Rahul Maganti
A man with sack of mirchi on his head
PHOTO • Rahul Maganti

راجا راؤ کہتے ہیں، ’وہ بوری کو لاری سے کولڈ اسٹوریج تک لے جانے کے لیے ۱۵ روپے ادا کرتے ہیں، واپس نیچے لانے کے لیے ۱۰ روپے‘

راجا راؤ اور ان کے ساتھی مزدور حال ہی میں جس کھیپ کو ڈھو رہے تھے وہ پرکاسم ضلع کے اوڈوپلیم گاؤں کے کسان گارلا وینکٹیشور راؤ کی تھی۔ ’’مرچوں کی قیمت دو سالوں (۲۰۱۶-۱۷ اور ۲۰۱۷-۱۸) کے درمیان بہت کم رہی ہے، اس لیے میں نے مارچ ۲۰۱۷ سے اے سی [کولڈ اسٹوریج] میں ۴۰ کوئنٹل مرچوں کا ذخیرہ کیا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’میں امید کر رہا تھا کہ قیمتیں بڑھیں گی اور بعد میں انہیں بیچ سکوں گا۔ میں نے ۱۵ ماہ سے زیادہ مدت تک انتظار کیا، لیکن قیمتیں تقریباً یکساں رہیں۔‘‘ جولائی ۲۰۱۸ میں وینکٹیشور راؤ کو اپنی پیداوار کو ۴۵۰۰ روپے فی کوئنٹل کی شرح سے فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑا، تاکہ وہ ۲۰۱۸-۱۹ کے زرعی سیزن میں مرچوں کی فصل میں سرمایہ کاری کرسکیں۔ یہ سیزن اکتوبر سے فروری تک جاری رہتا ہے، جبکہ بازار میں مرچوں کی فروخت مئی تک جاری رہتی ہے (دیکھیں: گنٹور میں مناسب قیمتوں کا انتظار )

گنٹور اپنی مرچوں کی کھیتی کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ ضلع کی بڑی نقدی فصلوں میں سے ایک ہے۔ قیمتوں میں تبدیلی کی وجہ سے ان مرچوں کو ضلع کے ۱۲۵-۱۷۵ کولڈ اسٹوریج اکائیوں میں ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ سال ۲۰۱۶ میں شائع ایک مطالعہ کے مطابق ۲۰۱۰ میں آندھرا پردیش میں اس طرح کی ۲۹۰ اکائیاں تھیں۔ اسٹوریج مالکان، مزدوروں اور ٹریڈ یونین کے کارکنوں کو یاد ہے کہ کولڈ اسٹوریج کی پہلی اکائی ۱۹۹۰ کی دہائی کے اوائل میں تعمیر کی گئی تھی۔ کولڈ اسٹوریج کسانوں کو ان کی پیداوار کو خراب ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ معیار کو برقرار رکھنے میں مدد گار ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ میں دیگر اجناس جیسے ہلدی، سبزیاں، پھل اور سجاوٹی پھولوں کا بھی ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

کولڈ اسٹوریج مرچوں کی ۴۵ سے ۵۰ کلوگرام  کی ایک بوری کو ۱۰ مہینوں (اس مدت کے دوران کسان عام طور پر مرچوں کا ذخیرہ کرتے ہیں) تک رکھنے کے لیے ۱۷۰ سے ۲۰۰ روپے تک چارج کرتے ہیں۔ گنٹور میں کولڈ اسٹوریج اکائیوں کی گنجائش ۶۰ ہزار سے ۲ء۱ لاکھ بوریوں کے درمیان ہوتی ہے۔

Chamalla Sampath Rao
PHOTO • Rahul Maganti
A worker with his son
PHOTO • Rahul Maganti

چمالّا سمپت راؤ (بائیں) کہتے ہیں، ’آج ہم میں سے ہر ایک نے ۱۰۰ روپے سے کچھ زیادہ کمایا ہے‘، جب کہ کریمی چنّم نائیڈو (دائیں، اپنے بیٹے آکاش کے ساتھ) نے پچھلے سال سے احتجاجاً کولڈ اسٹوریج میں لوڈر کے طور پر کام کرنا چھوڑ دیا ہے

کچھ اکائیاں مرچی یارڈوں کے کمیشن ایجنٹوں کے ساتھ براہ راست تجارتی روابط رکھتی ہیں، جبکہ دیگر کچھ ایسے روابط کے بغیر ہی کام کرتی ہیں۔ ایجنٹ منڈی میں سودا طے کرانے کے عوض کسانوں سے اپنا معاوضہ لیتا ہے، ان سے کم قیمت پر پیداوار خریدتا ہے، اور پھر مارکیٹ یارڈ میں زیادہ قیمت پر سودا طے کرتا ہے اور اضافی رقم اپنے پاس رکھتا ہے۔ وینکٹیشور راؤ کہتے ہیں، ’’کمیشن ایجنٹ کی طرف سے کم قیمت پر سودا طے کرنے کا مطلب ایجنٹ اور کولڈ اسٹوریج مالکان دونوں کے لیے فائدہ۔‘‘ کسان قیمتوں میں اضافے کی امید میں اپنی پیداوار کولڈ اسٹوریج میں لے جاتے ہیں۔ گنٹور میں بہت سے کمیشن ایجنٹ وقت گزرنے کے ساتھ کولڈ اسٹوریج کے مالک بن گئے ہیں۔

کولڈ اسوریج اکائیوں کے زیادہ تر مالکان کا تعلق اونچی ذاتوں کمّا، ریڈی اور دیگر برادریوں سے ہے، جب کہ زیادہ تر لوڈر شمالی آندھرا کی پسماندہ ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ سینٹر فار انڈین ٹریڈ یونینز (سیٹو) سے وابستہ کولڈ اسٹوریج ورکرز اینڈ ایمپلائز یونین کے تخمینہ کے مطابق فروری اور مئی کے درمیان مرچ کی تجارت میں تیزی والے موسم میں اسٹوریج اکائیوں میں تقریباً ۲۵۰۰ مزدور کام کرتے ہیں۔ اسٹوریج کی گنجائش کی بیناد پر ہر اکائی فی بوری کی حساب سے ۱۲ سے ۲۵ مزدوروں کی خدمات حاصل کرتی ہے۔

’’حالانکہ کولڈ اسٹوریج اکائیوں میں کام کرنے والے ۹۵ فیصد مزدور شریکاکولم اور وجیا نگرم اضلاع سے آتے ہیں، لیکن حالیہ کچھ سالوں میں کچھ مزدور اوڈیشہ سے بھی آنے لگے ہے،‘‘ یونین کے سکریٹری اور وشو کولڈ اسٹوریج کے مِستری، ۵۰ سالہ چنتادا وشنو کہتے ہیں۔ ’’کچھ مزدور جون سے دسمبر تک مندی والے موسم میں زرعی کام کے لیے واپس اپنے گاؤں چلے جاتے ہیں۔ جب ضرورت ہوتی ہے، تو ہم انہیں فون کرلیتے ہیں۔‘‘

A man carrying heavy sack of dry mirchi on his head
PHOTO • Rahul Maganti
workers helping each other to carry heavy sack of dry mirchi
PHOTO • Rahul Maganti
workers loading sacks of mirchi
PHOTO • Rahul Maganti

فروری اور مئی کے درمیان مرچ کی تجارت میں تیزی والے موسم میں گنٹور کے کولڈ اسٹوریج اکائیوں میں تقریباً ۲۵۰۰ مزدور کام کرتے ہیں

وشنو کا تعلق پسماندہ ذات، کلنگا، سے ہے اور ان کے پاس کوئی زمین نہیں ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’زراعت میں ناکامی کی وجہ سے میں ۱۹۹۹ میں [شریکاکولم سے] یہاں آئے تھے۔ میں نے لیز پر زمین لی اور تین سال تک دھان کی کاشت کی اور آبپاشی کی سہولیات اور فصل کی بازار میں اچھی قیمتوں کی فقدان کی وجہ سے خسارے میں چلا گیا۔‘‘

کولڈ اسٹوریج لوڈر ہفتے میں پانچ دن کام کرتے ہیں اور فروری سے مئی کے کاروباری موسم میں دو دن کی چھٹی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے کام کے اوقات متعین نہیں ہوتے اور یہ مرچوں کی مانگ پر منحصر ہوتے ہیں۔ راجا راؤ کہتے ہیں، ’’جب بھی کھیپ آتی ہے ہمیں اسی وقت کام کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات صبح ۳ بجے اٹھتے ہیں اور رات تک کام کرتے ہیں۔ جب بھی دن میں وقت ملتا ہے مختصر سی جھپکی لے لیتے ہیں۔‘‘

زیادہ تر غیرشادی شدہ مزدور (تمام لوڈر مرد ہوتے ہیں) کولڈ اسٹوریج کے احاطے میں موجود ایک یا دو کمروں میں رہتے ہیں، جہاں وہ چاول اور سالن کا معمولی کھانا بناتے ہیں۔ شادی شدہ لوگ عام طور پر نزدیک میں ہی کرایے کے کمروں میں رہتے ہیں۔

’’ہم سبھی ۱۱ مزدوروں نے مل کر آج صرف ۱۵۰ بوریاں اتاری ہیں۔ مزدوری کی رقم کو ہم کام کرنے والوں کی تعداد سے تقسیم کرلیتے ہیں۔ آج ہم میں سے ہر ایک نے ۱۰۰ روپے سے کچھ زیادہ کمائی کی ہے،‘‘ چمالا سمپت راؤ کہتے ہیں، جو شریکاکولم ضلع کے گاڑا منڈل کے کورنی گاؤں سے ایک دہائی قبل کام کی تلاش میں گنٹور آئے تھے۔

workers in cold storage of mirchi
PHOTO • Rahul Maganti
Workers helping each other to carry sack of mirchi
PHOTO • Rahul Maganti

سمپت راؤ کا کہنا ہے کہ روزانہ ۴۵ سے ۵۰ کلو گرام کی بوریاں کئی منزلیں اوپر اور نیچے کرنے کی ’ساری محنت ہم کرتے ہیں‘

اس بات کو یقینی بنانے کے بعد کہ ان کا مِستری وشنو آس پاس نہیں ہے، وہ مجھ سے کہتے ہیں، ’’ساری محنت ہم کرتے ہیں۔ مِستری کبھی کوئی کام نہیں کرتا۔ وہ صرف حکم اور ہدایت دیتا ہے۔ اس کے باوجود جب بھی ہم اپنے کندھوں پر کوئی بوری اٹھاتے ہیں تو وہ اس میں سے ایک روپیہ کمیشن لیتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے بوری کو ہاتھ لگائے بغیر ہمارے برابر ہی [بوری اٹھانے کی] اجرت ملتی ہے۔‘‘

وشو کولڈ اسٹوریج میں ایک وقت میں ۲ء۱ لاکھ بوریاں رکھی جا سکتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ مِستری کو ہر سال بوری اٹھانے کی اجرت کے علاوہ مزید ۴ء۲ لاکھ روپے ملتے ہیں۔ مزدور جانتے ہیں کہ مِستری پر سوال اٹھانے کا مطلب اپنی روزی روٹی سے ہاتھ دھونا ہے۔ راجا راؤ کہتے ہیں، ’’وہ ہمیں واپس بھیج دیں گے اور کسی اور کو رکھ لیں گے۔ لہذا، ہم خاموش رہتے ہیں۔‘‘

۳۵ سالہ کریمی چِنّم نائیڈو نے ۱۳ سال بعد گزشتہ سال کولڈ اسٹوریج میں لوڈر کے طور پر کام کرنا ترک کر دیا۔ ’’میں نے دو روپے کمیشن کے خلاف احتجاج کیا اور مستری سے بحث کی۔ اس کے بعد اس نے میری زندگی حرام کر دی۔ مجھے کہیں اور کام تلاش کرنا پڑا،‘‘ نائیڈو کہتے ہیں، جو اب مرچی مارکیٹ یارڈ میں پورٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

جب میں نے وشنو سے کمیشن کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا، ’’کبھی کبھی ہم مزدوروں کو پیشگی رقم دیتے ہیں اور وہ ہمیں دھوکہ دے جاتے ہیں۔ یہ رقم ان نقصانات کی بھرپائی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ مزدوروں کو اپنی اجرت بڑھانے کے لیے کولڈ اسٹوریج مالکان سے بات کرنی چاہیے۔‘‘

مالکان سے اجرت بڑھانے کے مطالبے کا کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔ ’’جب میں نے ۱۰ سال قبل یہ کام کرنا شروع کیا تھا تو ہماری اجرت ۱۲ روپے فی بوری تھی۔ اب ۲۳ روپے فی بوری ہے، یعنی دوگنی بھی نہیں ہوئی ہے۔ اسی مدت میں کولنگ چارجز ۵۰ روپے فی بوری سے بڑھ کر ۲۰۰ روپے فی بوری [بشمول مزدوری کے اخراجات] ہو گئے ہیں،‘‘ سمپت راؤ کہتے ہیں۔ یہ رقم وہ کسان ادا کرتے ہیں جو ان اکائیوں میں اپنی پیداوار اسٹور کرتے ہیں۔

Workers
PHOTO • Rahul Maganti

زیادہ تر مہاجر مزدور کولڈ اسٹوریج کمپاؤنڈ کے اندر بنے کمروں میں رہتے ہیں اور انہیں کسی بھی وقت کام کرنے کے لیے بلا لیا جاتا ہے

کولڈ اسٹوریج مالکان کو واضح طور پر بڑا منافع حاصل ہوتا ہے۔ ان اکائیوں کو چلانے کے اخراجات زیادہ نہیں ہیں۔ وشو کولڈ اسٹوریج کے مالک شری نواس راؤ کہتے ہیں، ’’رکھ رکھاؤ کے علاوہ جو اہم اخراجات ہیں ان میں اے سی کے لیے بجلی، بجلی کٹنے کے دوران جنریٹر کے لیے ڈیزل، امونیا [ریفریجریشن میں استعمال کے لیے] اور پانی کے اخراجات شامل ہیں۔ بجلی پر تقریباً ۸ء۲ سے ۳ لاکھ روپے ماہانہ اور پانی پر تقریباً ۲۵ ہزار روپے ماہانہ خرچ ہوتے ہیں۔

سیٹو کے گنٹور شہر کے سکریٹری نلنی کانت کوٹاپتی کہتے ہیں، ’’اگر ہم یہ فرض کریں کہ کسی کولڈ اسٹوریج کو چلانے کی لاگت تقریباً ۵ لاکھ روپے ماہانہ ہے، تو بھی یہ کاروبار بہت زیادہ منافع بخش ہے۔ اس میں ہر سال ۵۰ لاکھ روپے سے زیادہ کا منافع ہوتا ہے۔‘‘

کولڈ اسٹوریج کے مزدور باضابطہ تنخواہ پر نہیں رکھے جاتے ہیں، لہٰذا انہیں لیبر قوانین کے ذریعہ لازمی تحفظات حاصل نہیں ہیں۔ انہیں کوئی میڈیکل کور، پروویڈنٹ فنڈ، ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس اسکیم کے تحت کوریج، بونس، یا کوئی اور فائدہ نہیں ملتا ہے۔ نلنی کانت کہتے ہیں، ’’کولڈ اسٹوریج والے کہتے ہیں کہ مزدوروں کو کسان مرچی چڑھانے اور اتارنے کے لیے لاتے ہیں، اس طرح وہ خود کو کسی بھی ذمہ داری سے بری کر لیتے ہیں۔‘‘

مزدور یہ کوشش کر رہے ہیں کہ یونین کے ذریعے مزید مطالبے کیے جائیں، لیکن یونین بذات خود زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ کام کی غیر رسمی نوعیت کی وجہ سے لوڈرز کو منظم کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور اگر وہ مالکان اور مستریوں سے سوال کرتے ہیں تو انہیں کام سے ہاتھ دھونے کا خوف لاحق رہتا ہے۔

راجا راؤ کہتے ہیں، ’’ہم یہاں تبھی آتے ہیں جب ہم اپنے گاؤں میں نہیں رہ سکتے [روزی روٹی نہیں حاصل کر سکتے]۔ کون اپنے عزیزوں کو چھوڑ کر غلاموں کی طرح زندگی گزارنا چاہے گا؟ لیکن ہم اپنی غلامی پر بات بھی نہیں کر سکتے۔‘‘

مترجم: شفیق عالم

Rahul Maganti

Rahul Maganti is an independent journalist and 2017 PARI Fellow based in Vijayawada, Andhra Pradesh.

Other stories by Rahul Maganti
Editor : Sharmila Joshi

Sharmila Joshi is former Executive Editor, People's Archive of Rural India, and a writer and occasional teacher.

Other stories by Sharmila Joshi
Translator : Shafique Alam

Shafique Alam is a Patna based freelance journalist, translator and editor of books and journals. Before becoming a full-time freelancer, he has worked as a copy-editor of books and journals for top-notched international publishers, and also worked as a journalist for various Delhi-based news magazines and media platforms. He translates stuff interchangeably in English, Hindi and Urdu.

Other stories by Shafique Alam