’’اپنے سر کو بچاکے چلنا،‘‘ محمد الیاس متنبہ کرتے ہیں، جب وہ اور شبیر حسین ہُندرمن بروق کے مکانوں کے اندر میری رہنمائی کر رہے ہیں۔ ہم اس ویران بستی میں، جو کہ لداخ کے کرگل بازار سے آٹھ کلومیٹر کی چڑھائی پر واقع ہے، تنگ گھماؤدار سڑک سے سفر کرتے ہوئے آئے ہیں جس کے تیز موڑ سے آپ کو چکر آ سکتا ہے۔

چار صدی قبل، اس کی زرخیزی، پانی کے بے شمار ذرائع اور بلند و بالا ہمالیہ کے درمیان اس کے جائے وقوع سے متاثر ہو کر، کرگل کے دو گاؤوں، پوئین اور کرکیچو (مردم شماری میں یہ پوین اور کارکت کے نام سے درج ہیں) سے تقریباً ۳۰ کنبے بروق (بلتی زبان میں اس لفظ کا مطلب ہے گرمیوں میں جانور چرانے کی جگہ) آ کر بس گئے۔ پتھر، لکڑی، مٹی اور بھوسے سے چھ سیڑھیوں یا سطحوں کی بستی بنائی گئی۔ تقریباً ایک دوسرے سے متصل پورے ڈھانچہ کا وزن پہاڑ سے ٹکا ہوا ہے، جو کہ ۲۷۰۰ میٹر کی اونچائی پر پتھروں کی چھت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

یہاں کا ہر ایک مکان پیچیدگی کے ساتھ دوسرے سے جڑا ہوا ہے، تاکہ سخت سردیوں کے مہینے میں دسمبر سے مارچ تک، جب ۵ سے ۷ فٹ تک برف پڑتی ہے، یہاں کے باشندوں کو باہر کم سے کم جانا پڑے۔ ’’پرانے زمانے میں گھروں کی چھت، دروازے اور کھڑکیاں چھوٹی اور نیچی رکھی جاتی تھیں تاکہ جہاں تک ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ گرمی حاصل کی جائے۔ ہر منزل کی چھت پر بید کی لکڑی سے بنی ایک ہوادار دیوار والے کمرے ہوتے تھے، تاکہ اس سے ہوا پاس ہو سکے اور گرمی کے دنوں میں ٹھنڈی ہواؤں کا لطف لیا جا سکے،‘‘ الیاس بتاتے ہیں، جس وقت وہ ہمیں پتھر سے بنی ٹوٹی سیڑھیوں سے ایک چھت پر گھما رہے ہوتے ہیں۔

PHOTO • Stanzin Saldon
PHOTO • Stanzin Saldon

ہُندر من بروق کی ساخت مقام کے لحاظ سے مخصوص اور لچکدار ہے۔ ہوا پاس ہونے کے لیے ہر منزل پر بید کی شاخوں سے بنی ایک دیوار ہے

الیاس اور شبیر، جو اپنی عمر کے ابتدائی ۳۰ویں سال میں ہیں، نے اس گاؤں میں اپنا بچپن گزارا ہے۔ الیاس اب کرگل میں ایک چھوٹا پرنٹنگ پریس چلاتے ہیں اور شبیر ایک ٹیکسی چلاتے ہیں – اسی ٹیکسی سے ہم یہاں پہنچے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں، ہُندرمن بروق (جو سرکاری ریکارڈ میں، پوئین گاؤں کی ایک بستی ہے) میں رہنے والے دو کو چھوڑ کر باقی سبھی کنبے مزید اوپر جا کر، زیادہ کھلے علاقے میں بس گئے ہیں، تقریباً ایک کلومیر کی بلندی پر – جس کی پہلی وجہ تھی ۱۹۷۱ کی ہند-پاک جنگ، پھر بڑھتے ہوئے کنبوں کی رہائش کا مسئلہ بھی تھا (مردم شماری ۲۰۱۱ کے مطابق، یہاں کی مجموعی آبادی ۲۱۶ افراد پر مبنی ہے) اور سردی کے موسم میں پہاڑ کے ٹوٹ کر گرنے کے خطرہ سے بچنے کے لیے۔ نئی آبادی کا نام بھی ہُندرمن ہی ہے۔

بروق، یعنی پرانی بستی کو پہلے مویشیوں کی پناہ گاہ اور اسٹور ہاؤس کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا، لیکن چھ سال پہلے کرگل کے ایک سول انجینئر نے اس کے تاریخی اور ثقافتی خزانوں کی دریافت کی۔ اس نے کرگل کے ایک مشہور باشندہ اور میوزیم کے محافظ، اعجاز حسین منشی کی توجہ اس جانب مبذول کرائی، جنہوں نے نئی بستی کے کچھ باشندوں کو اس کی سیاحتی اہمیت کے بارے میں بتایا۔ ساتھ مل کر، ان لوگوں نے ہُندرمن بروق کو ایک ہیریٹیج سائٹ کے طور پر فروغ دینا شروع کیا، اور تین کمروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا میوزیم بنایا جس میں پرانے اور حالیہ دنوں کے ثقافتی نمونے رکھے ہوئے ہیں۔ یہ جگہ، جسے اب یادداشتوں کا میوزیم کہا جاتا ہے، پتھر کے بنے پرانے مکانوں میں سے ایک، نیچی چھت والا آپو حسن کا آبائی گھر ہے، وہ اب نئی بستی میں رہتے ہیں، جہاں پر وہ جَو اور سبزیوں کی کھیتی کرتے ہیں۔

ہم جس وقت میوزیم کو دیکھ رہے تھے، تبھی بروق میں حرکت ہوتی دیکھ، محمد موسیٰ تیزی سے ایک منزل نیچے آتے ہیں اور ہمیں مسکراتے ہوئے ’السلام علیکم‘ کہتے ہیں۔ ’’کیا آپ پہاڑ کے اوپر قدم کے اس نشان کو دیکھ رہے ہیں؟‘‘ موسیٰ پوچھتے ہیں، جو ایک سابق قلی ہیں اور اپنی عمر کے ابتدائی ۵۰ویں سال میں ہیں، وہ اب محکمہ بجلی میں بطور ایک مزدور کام کرتے ہیں۔ ’’میرے بچپن میں، ہُندرمن کے ’سسٹر‘ گاؤں، برولمو میں واقع اسکول پہنچنے کے لیے بچے ایک یا دو گھنٹے تک پیدل چلتے تھے۔ یہ گاؤں اب پاکستان میں ہے۔‘‘

PHOTO • Sharmila Joshi
PHOTO • Stanzin Saldon

’ان جنگوں کے دوران میں نے یہیں زندگی گزاری ہے،‘ محمد موسیٰ کہتے ہیں۔ دائیں: شبیر حسین، محمد الیاس اور اعجاز منشی ہُندرمن میں پتھر کی ایک چھت پر بیٹھے ہوئے ہیں

ہُندرمن جاتے ہوئے اونچے پہاڑی ہوادار راستوں پر، بلند و بالا پہاڑی سلسلے میں ایک خوبصورت مقام سے، وادی کے اس پار، تقریباً پانچ کلومیٹر دور، برولمو کے کچھ حصوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ بستیاں کرگل سے شمال کی جانب، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول کے ساتھ بنی ہوئی ہیں۔ اسی لیے، یہاں پر ہمیشہ فوج موجود رہتی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق، برولمو کی طرح ہی بروق کو بھی شروع میں ہُندرمو کہا جاتا تھا؛ مقامی باشندے کہتے ہیں کہ بعد میں ہندوستانی فوج کے میجر مان بہادر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اسے ہُندرمن کے نام سے جانا جانے لگا، جنہوں نے ۱۹۷۱ میں پاکستانی فوج کو اس علاقہ سے پیچھے دھکیلنے میں سب سے اہم رول ادا کیا تھا۔ یہ علاقہ ۱۹۶۵ تک پاکستان کا حصہ تھا۔ ہند-پاک کے درمیان ہونے والی ۱۹۶۵ کی جنگ کے بعد، اس جگہ پر کسی کا قبضہ نہیں رہا۔ سال ۱۹۷۱ میں جا کر ہُندر من کو سرکاری طور پر ہندوستان کا حصہ قرار دیا گیا، جب کہ برولمو، بیلارگو اور اولڈِنگ پاکستان کے قبضے میں چلے گئے۔

’’اس علاقے کے بہت سے مسلم کنبوں نے ۱۹۷۱ میں پاکستان چلے جانے کا فیصلہ کیا،‘‘ موسیٰ بتاتے ہیں۔ ’’جو لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے، انھوں نے یہیں رکنے کا فیصلہ کیا۔‘‘ اس طرح کبھی ایک ساتھ رہنے والے یہ کنبے دو ملکوں کی دشمنی کی وجہ سے سرحدوں میں تقسیم ہو گئے۔

الیاس سرحد پار اپنی چچیری بہن کی شادی کی کچھ تصویریں کھوج کر نکالتے ہیں۔ ’’دیکھو، یہ میرے چچا ہیں اپنی بیٹیوں کے ساتھ۔ ہم ان کی بیٹی کی شادی میں نہیں جا سکے۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ ان کے گھر جانے کے لیے رسمی کارروائیوں کو پورا کرنے میں اب مہینوں لگ جاتے ہیں، جب کہ پہلے یہاں سے وہاں تک جانے میں صرف ایک دن لگتا تھا۔ اسی طرح دوسرے کنبے بھی ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، جغرافیائی لحاظ سے ایک دوسرے کے اتنے قریب ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے کافی دور ہیں۔‘‘

PHOTO • Stanzin Saldon
PHOTO • Stanzin Saldon

وادی کے اس پار ہے ’سسٹر ولیج‘ برولمو، پاکستان میں (بائیں)۔ میوزیم میں رکھی چیزوں میں شامل ہیں خطوط اور پرانے زمانے کے پاکستانی پاسپورٹ

’’چھ سال پہلے تک، فوج سے خصوصی منظوری لیے بغیر کسی بھی مسافر یا سیاح کو ہُندر من آنے کی اجازت نہیں تھی،‘‘ کرگل کے میوزیم محافظ، اعجاز منشی بتاتے ہیں (انھوں نے کرگل میں جو منشی عزیز بھٹ میوزیم تیار کیا ہے اس کی کہانی الگ سے پیش کی جائے گی) جس وقت ہم ہُندر من میوزیم کے دروازے پر دھوپ سینک رہے ہوتے ہیں۔ ’’تاہم، اس مقام کی سیاحتی اہمیت اور بیش قیمتی وراثت کو دیکھتے ہوئے، آرمی سے یہ درخواست کی گئی کہ وہ باہری دنیا کو اس ہیریٹیج سائٹ تک پہنچنے کی اجازت دے۔‘‘ اس میں کافی وقت لگا اور انھیں بہت منانے کی ضرورت پڑی۔

کرگل کے شمال کے ایک سرحدی گاؤں میں – جہاں سیاحت ایک نیا خیال ہے – باز تعمیر کے لیے ماحول تیار کرنے سے اقتصادی اور ثقافتی رکاوٹیں بھی دور ہوئیں۔ اب تک یہ وسائل رضاکارانہ کام اور انفرادی عطیوں سے آئے ہیں۔ گاؤں کے کچھ لوگ شروع میں اس کی مزاحمت کر رہے تھے کہ اس سے ان کے ثقافتی اور مذہبی اقدار خطرے میں پڑ جائیں گے۔ ’’یہاں سیاحت کے لیے تحفظ اور مرمت کے کام کی اہمیت لوگوں اور انتظامیہ کو بتانا پہلے بھی چنوتی بھرا تھا اور اب بھی ہے،‘‘ مزمل حسین کہتے ہیں۔ وہ کرگل میں روٹس کلیکٹو چلاتے ہیں، جو تحفظ، ثقافت اور دیگر امور پر کام کر رہی ہے، اور ہُندرمن پروجیکٹ کو چلانے والے اداروں میں سے ایک ہے۔ ’’شروع میں وہ حیران ہوئے کہ لوگ ان پرانے، ٹوٹے گھروں میں دلچسپی لیں گے۔ باہری دنیا کے اثرات کو لے کر بھی لوگوں میں منفی سوچ تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں نے اسے قبول کرنا شروع کر دیا، خاص کر نوجوانوں نے، اور اب یہ ہماری کوششوں میں مزید تعاون کر رہے ہیں۔‘‘

سال ۲۰۱۵ میں، گجرات اور مہاراشٹر کے اسٹوڈنٹ آرکیٹیکٹ کے ایک گروپ نے، فرانس اور جرمنی کے دیگر طلبہ کے ساتھ مل کر، بروق کی باز تعمیر کے لیے ایک ساختیاتی پلان بنانے میں گاؤں والوں کی مدد کی۔ تبھی سے، یادداشتوں کا یہ میوزیم دھیرے دھیرے پرانی زندگی کا اسٹور ہاؤس بن چکا ہے۔ نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں ثقافتی نمونے (پہاڑی گاؤں کے گھروں سے) جیسے باورچی خانہ کے پرانے برتن، اوزار، کپڑے اور روایتی گھریلو کھیل۔ ہند- پاک جنگوں کی یادداشتیں ہیں، جس میں شامل ہیں پاکستانی فوجیوں کے ذریعہ چھوڑے گئے ذاتی استعمال کے سامان، اور گاؤں کے ان لوگوں کی تصویریں جو سرحد پار جا چکے ہیں۔ خطوط بھی نمائش کے طور پر رکھے ہوئے ہیں – ایک، الیاس کے چچا کے ذریعہ لکھا ہوا ہے،  جس میں یہاں رہ گئی ان کی فیملی کی خیریت دریافت کی گئی ہے، اور اس میں وہ ہندوستان میں اپنے لوگوں کو دعائیں دیتے ہیں۔

PHOTO • Stanzin Saldon
PHOTO • Stanzin Saldon
PHOTO • Stanzin Saldon

میوزیم میں رکھے ہوئے ہیں باورچی خانہ کے پرانے سامان، روایتی گھریلو کھیل، اور ہند- پاک جنگوں میں استعمال ہونے والی میزائلوں کی باقیات

گولیاں، میزائلوں کی باقیات، بندوقیں اور پستول بھی یہاں ہیں، جو کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگوں میں استعمال ہونے والی اشیاء ہیں۔ ’’میں نے یہ تمام جنگیں دیکھی ہیں، تقریباً ۳۰ سال اسی آبادی میں رہا،‘‘ موسیٰ کہتے ہیں۔ ’’میرے والد نے، ہماری بستی کے زیادہ تر مردوں کی طرح ہی، پاکستانی فوج کے لیے قلی کا کام کیا، جب کہ میں اور میری عمر کے زیادہ تر مردوں نے ہندوستانی فوج کے لیے یہ کام کیا ہے۔ ہر قسم کی سپلائی [کھانا، گولی باردو، دوائیں، اور متعدد دیگر سامان] میرے خچر کی پیٹھ پر لاد کر پہاڑ کے اوپر لائی گئی ہے۔ اس میوزیم میں بہت سی یادگاری چیزیں رکھی ہوئی ہیں جن کی حفاظت کی جانی چاہیے، تاکہ لوگ اپنے ماضی سے جڑ سکیں۔ مجھے اچھا لگے گا اگر لوگ یہاں آئیں گے اور ہُندر من اور اس کے لوگوں کی کہانی جاننے کی کوشش کریں گے۔‘‘

میوزیم کے محافظوں نے متعدد آگے کے پلان تیار کیے ہیں۔ ’’ہم لوگ مستقبل میں پڑھنے کی جگہ تیار کرنے، دھیان لگانے کے کمرے بنانے، اور ایک ریستوراں کی تعمیر کا منصوبہ بنا رہے ہیں جس میں میوزیم کے ساتھ لداخی پکوان پروسے جا سکیں،‘‘ اعجاز منشی کہتے ہیں، ’’لیکن ہم اس کے لیے کہیں سے کسی مدد کا انتظام کرنے میں ابھی تک ناکام رہے ہیں۔‘‘

تاہم، گاؤں کی اقتصادیات دھیرے دھیرے بدل رہی ہے۔ اس جگہ کو سیاحوں کے لیے کھول دینے کی وجہ سے، یہاں کھیتی، مویشی پالن اور نقل و حمل کے علاوہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی دکانیں بنائی جا رہی ہیں، جہاں گاؤں کے لوگ مقامی مصنوعات اور کھانے پینے کے سامان بیچتے ہیں۔ شبیر، جو ہم سب کو یہاں لے کر آئے ہیں، کہتے ہیں، ’’میں یہاں گزشتہ نو سال سے ٹیکسی چلا رہا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ ہُندر من آنے والوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ گرمی کے پیک سیزن میں، میں سیاحوں [مقامی باشندوں، ہندوستانیوں، غیر ملکیوں] کو کرگل مارکیٹ سے بروق تک لانے کے لیے روزانہ کم از کم تین چکر لگاتا ہوں، اور ایسا کرنے والا میں اکیلا نہیں ہوں۔‘‘

گاؤں والوں کو یہ امید تو ہے ہی کہ ان کی فیملی کی تاریخیں اور ہُندر من بروق کی یادداشتیں اب کرگل کے آگے کی دنیا تک پہنچیں گی، انھیں یہ تشویش بھی ہے کہ اگر ان چیزوں کی حفاظت نہیں کی گئی، تو یہ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے گم ہو کر رہ جائیں گی۔ ’’ہمیں تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ باز تعمیر کے کام کو شروع کرنے میں گرمیوں کے جتنے دن برباد کیے جائیں گے، سردیوں میں اتنی ہی تباہی آئے گی،‘‘ الیاس کہتے ہیں۔ اور ہندوستان اور پاکستان کی لڑائیوں کے بیچ میں دہائیوں سے پھنسے ہونے کے بعد، گاؤں کے دیگر باشندوں کی طرح، وہ بھی امن چاہتے ہیں۔ ’’ہم اور لڑائی نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہاں پر امن ہو تاکہ ہمارا یہ خواب – ہیریٹیج سائٹ کا – حقیقت میں تبدیل ہو سکے۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Stanzin Saldon

اسٹینزِن سیلڈون لیہ، لداخ سے 2017 کی پاری فیلو ہیں۔ وہ پیرامل فاؤنڈیشن فار ایجوکیشن لیڈر شپ کے اسٹیٹ ایجوکیشنل ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کی کوالٹی اِمپروومنٹ منیجر ہیں۔ وہ امیریکن انڈیا فاؤنڈیشن کی ڈبلیو جے کلنٹن فیلو (16-2015) رہ چکی ہیں۔

Other stories by Stanzin Saldon