’’یہاں نہیں ہے کوئی نوکر... ہم بچے ہیں اس زمین کے۔ اس زمین کے خوش قسمت بچے۔‘‘

یہ الفاظ ہیں ان بچوں کے جو گاؤں کے اسکول میں گا رہے ہیں۔ ایک سطح پر، صورتحال نہایت خستہ ہے۔ گاؤں دیہات کے ان اسکولوں کو وہ سہولیات، رقم اور مواقع کبھی نہیں فراہم کیے جاتے جو شہر کے اسکولوں کو میسر ہیں۔ ان اسکولوں میں نہایت کم تنخواہ پر ایڈہاک ٹیچر مقرر کیے جاتے ہیں۔ ان اسکولوں کے استاد پوری طرح سے بے صلاحیت ہوتے ہیں – کچھ ریاستوں نے ٹیچرس ایبلٹی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) کی لازمیت ختم کر دی ہے، تاکہ وہ پوری طرح سے ناقابل، کم تر تنخواہ والے ٹیچروں کی بھرتی کر سکیں۔ بہت سارے اسکول ایسے بھی ہیں جن میں ٹیچر کبھی رکھے ہی نہیں گئے اور وہ بغیر کسی ٹیچر کے زمانے سے یونہی چل رہے ہیں۔

Girls singing outside a school
PHOTO • Namita Waikar

دیہی اسکولوں کو عام طور سے نظر انداز کر دیا گیا ہے، پھر بھی یہ بچے پورے دل سے اوراعتماد کے ساتھ گا رہے ہیں

پھر بھی، پُنے ضلع کے مُلشی تعلقہ کے نند گاؤں میں واقع پرائمری اسکول کے بچے پورے دل سے اور اعتماد کے ساتھ گا رہے ہیں۔ وہ ان اصولوں میں یقین رکھتے ہیں۔ اور ہماری درخواست پر وہ اس مراٹھی نظم کو گاکر سنا رہے ہیں، جسے انھوں نے اسکول میں سیکھا ہے، اپنی چوتھی کلاس کی نصابی کتاب، بال بھارتی سے۔

یہ نظم ڈی این گانوکر (۱۹۷۱-۱۹۱۵) کی ہے، جو ایک شاعر اور فوٹوگرافر تھے، اور جو ۴۴-۱۹۴۲ میں قائم کی گئی ’لال باوتا کلا پاٹھک‘ یا ’ریڈ فیلگ کلچرل اسکواڈ‘ کے ایک رکن تھے، اس اسکواڈ کے دیگر رکن تھے عمرو شیخ اور انا بھاؤ ساٹھے۔ یہ تینوں اپنے زمانے اور بعد کے قلم کاروں کی نظر میں ’’عوام اور سنیُکت مہاراشٹر تحریک کے درمیان کی کڑی‘‘ تھے۔ (یہ تحریک مراٹھی زبان بولنے والوں کے لیے ایک علاحدہ مہاراشٹر ریاست کی تشکیل کے لیے شروع کی گئی تھی، ریاست کا قیام یکم مئی، ۱۹۶۰ کو عمل میں آیا تھا۔)

۱۹۴۰ کے عشرے میں ان ادیبوں کے گانے اور شاعری ممبئی کی کپڑا ملوں میں کام کرنے والوں اور دیگر مزدوروں کے درمیان کافی مقبول تھی۔

اس جگہ کو چھوڑے ہوئے ہمیں عرصہ ہو چکا ہے، لیکن وہ الفاظ ہمارے کانوں میں اب بھی گونج رہے ہیں: ’’ہم قائم کریں گے برابری، کبھی نہ ختم ہونے والا اتحا... کوئی بھی چھوٹا نہیں ہے، کوئی نہیں ہے غلام یہاں۔‘‘

ویڈیو دیکھیں: نندگاؤں کے پرائمری اسکول کے بچے امید اور برابری کا گانا گا رہے ہیں

ہم بچے ہیں اس زمین کے

اس زمین کے خوش قسمت بچے

 چلو میدان میں، مل کر گائیں ایک ساتھ

پرندے جیسے گا رہے ہیں جنگلوں میں

 ہم بچے ہیں اس زمین کے

اس زمین کے خوش قسمت بچے

 ہم نے محنت کی کھیت پر، سال بھر

فصلیں آج لہلہا رہی ہیں جس کے سبب

 ہم بچے ہیں اس زمین کے

اس زمین کے خوش قسمت بچے

 باجرا، جوار، موتیوں جیسے چمک رہے ہیں

ان موتیوں سے سال بھر ہم کھائیں گے بھاکری

 ہم بچے ہیں اس زمین کے

اس زمین کے خوش قسمت بچے

 ہم قائم کریں گے برابری، کبھی نہ ختم ہونے والا اتحاد

کوئی بھی مالک نہیں ہے، نہ ہی کوئی غلام یہاں

 ہم بچے ہیں اس زمین کے

اس زمین کے خوش قسمت بچے

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Samyukta Shastri

سَمیُکتا شاستری پیپلز آرکائیو آف رورول انڈیا کی کانٹینٹ کوآرڈی نیٹر ہیں۔ ان کے پاس سمبایوسِس سنٹر فار میڈیا اینڈ کمیونی کیشن، پُنے سے میڈیا اسٹڈیز کی بیچلر ڈگری، اور ایس این ڈی ٹی ویمنس یونیورسٹی، ممبئی سے انگریزی ادب میں ماسٹر کی ڈگری ہے۔

Other stories by Samyukta Shastri