کریم الحق مغربی بنگال کے جلپائی گڑی میں چائے کے ایک باغ میں کام کرتے ہیں۔ وہ ڈھالا باڑی اور پاس کے دیگر گاؤوں والوں کو اپنی موٹر سائیکل سے مفت میں اسپتال اور کلینک پہنچاتے ہیں۔ ڈھالا باڑی سے چھ کلومیٹر دور، کرانتی میں ایک پرائمری ہیلتھ سنٹر ہے، لیکن یہاں پر محدود سہولیات ہیں۔ اس علاقے میں چار پہیوں والی کوئی ریگولر ایمولینس سروِس موجود نہیں ہے۔

کریم الحق کی انوکھی ’بائک ایمولینس‘ اور موبائل نمبر (طبی مدد کے ضرورت مند لوگوں کے فون کال کے لیے) گاؤوں میں کافی مشہور ہو چکا ہے، اور ان کی اس سروِس کو مقامی ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ پولس اہل کار اور بلاک کے سرکاری اہل کار بھی جانتے ہیں۔

02-Karimu lHaque-AC & MP-Karimul's Medical Motorcycle Diaries.jpg

چائے کے باغ والی اپنی نوکری سے کریم الحق ماہانہ ۴۰۰۰ ہزار روپے کماتے ہیں۔ وہ اس تنخواہ میں سے ۲۵ فیصد اپنی بائک کے تیل اور دیگر اخراجات کے لیے الگ کر لیتے ہیں، اور دوسرا ۲۵ فیصد بینک کا قرض چکانے پر خرچ کرتے ہیں۔ کریم الحق کو مزید پیسوں کی خواہش نہیں ہے؛ ان کا ماننا ہے کہ اللہ کی طرف سے انھیں ان کے کام کا اجر ضرور ملے گا۔


03-Untitled 4-AC & MP-Karimul's Medical Motorcycle Diaries.jpg

وشوبھارتی یونیورسٹی، شانتی نکیتین کے سنٹر فار جرنلزم اینڈ ماس کمیونی کیشن کے طلبہ نے پہلے یہ فلم تب بنائی، جو کہ اُن کی اولین کوشش تھی، جب وہ سال ۲۰۱۶ کی ابتدا میں وہاں سے اپنے پہلے سیمسٹر کا کورس کر رہے تھے۔ دیگر نے کریم الحق سے ہی ملتے جلتے اور ان کے آس پاس کی دیگر تھیموں پر کام کیا ہے، جس میں ایک ایسا ورژن بھی شامل ہے، جو ایک آٹو میجر کے اشتہار سے متعلق ہے۔ اس سال جنوری میں حق کو پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔


پاری موسیقار جارج مینڈیز کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہے، جنہوں نے طلبہ کے ذریعہ بنائی گئی اس فلم میں اپنے خوبصورت ٹریک ’کولڈ‘ کو استعمال کرنے کی اجازت دی۔

 انسویا چودھری نے کریم الحق سے ٹیم کا تعارف کرایا اور اس فلم کے لیے لوکیشن منیجر کے طور پر کام کیا؛ مومیتا پُرکایستھ فلم کی ساؤنڈ منیجر ہیں۔

یہ دونوں، ساتھ ہی اس کے تین ڈائریکٹرس (جن کا نیچے ذکر ہے)، وشوبھارتی یونیورسٹی، شانتی نکیتن میں جرنلزم اینڈ ماس کمیونی کیشن میں ماسٹر ڈگری کے چوتھے سیمیسٹر کے اسٹوڈنٹس ہیں۔

 سوریہ جیت ناتھ اور ارِندم باچر فوٹوگرافی کے لیے فلم کے ڈائریکٹر اور اس کے کو۔ ڈائریکٹر ہیں؛ دیب نیتا بسواس فلم کی ایڈیٹر اور کو۔ ڈائریکٹر ہیں۔

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Souryajit Nath & Arindam Bachar & Debannita Biswas

سوریہ جیت ناتھ اور ارِندم باچر فوٹوگرافی کے لیے فلم کے ڈائریکٹر اور اس کے کو۔ ڈائریکٹر ہیں؛ دیب نیتا بسواس فلم کی ایڈیٹر اور کو۔ ڈائریکٹر ہیں۔

Other stories by Souryajit Nath & Arindam Bachar & Debannita Biswas