ویڈیو دیکھیں: ’مجھے چیرے دِلے شونار گور گانا پسند ہے‘، برشا کہتی ہے

برشا گرائے چار سال کی عمر سے ہی باؤل گانے کی تربیت حاصل کر رہی ہے۔ ہم نے جب اگست ۲۰۱۶ میں اس سے ملاقات کی تھی، تو وہ سات سال کی تھی (اور اب ساڑھے آٹھ سال کی ہوگی)۔ وہ باسودیب داس سے تربیت حاصل کر رہی ہے، جو ایک نامور باؤل گلوکار ہیں اور بولپور کے شانتی نکیتن علاقہ میں رہتے ہیں۔ (دیکھیں باسو دیب باؤل: بنگال کا افسانوی گیت گا رہے ہیں)

برشا اپنے استاد کے گھر سے چند منٹوں کی دوری پر، پاس کے شیام باٹی گاؤں میں رہتی ہے، جو مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع کے بولپور ڈویژن میں واقع ہے۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ رہتی ہے، جس میں ایک بڑا بھائی، اس کے والد، اور ایک پالتو بلّی، مِنی ہے۔ اس کی ماں، کرشنا کا انتقال ۲۰۱۶ میں ہو گیا تھا۔ اس کے والد، گورچندر گرائے بھی ایک باؤل موسیقار ہیں؛ وہ ڈھولک کے ساتھ ساتھ طبلہ، منجیرا اور دوتارا بجاتے ہیں۔ وہ اکثر پورے مغربی بنگال میں منعقد ہونے والے پروگراموں اور میلوں کے دوران مظاہرہ کے لیے باسو دیب باؤل کے ساتھ جاتے ہیں۔ اپنے والد اور باسو دیب داس کو سن کر، برشا کو بھی موسیقی سے دلچسپی ہو گئی۔

شیام باٹی گاؤں میں، برشا اپنے گھر پر والد گور چندر گرائے کے ساتھ

’’مجھے گانا، پڑھنا اور پینٹ کرنا پسند ہے،‘‘ برشا کہتی ہے۔ مغربی بنگال میں چھوٹی لڑکیوں کے درمیان باؤل موسیقی کا ریاض کرنا عام بات نہیں ہے – حالانکہ خواتین باؤل گلوکارہ بھی ہیں، لیکن مردوں کے مقابلے ان کی تعداد کم ہے۔ برشا اپنی عمر کی واحد لڑکی ہے جو باسو دیب داس سے تربیت حاصل کر رہی ہے۔

باؤل موسیقی صوفیانہ ہے، اسے ثقافتی ورثہ اور زندگی کے فلسفہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ باؤل حضرات خود کو باطنی سچائی کے متلاشی، اپنی سریلی دعاؤں کی پاکی کے ذریعہ حقیقی فطرت کی بازیافت، موسیقی کے ذریعہ خدا کی تلاش میں سرگرداں شخص کے طور پر دیکھتے ہیں۔ باؤل موسیقی میں غیر مشروط آسمانی محبت کا ذکر ہوتا ہے، جسم (دیہو سادھنا) اور دماغ (مونو سادھنا) کا اظہار ہے۔ ایک بچہ کے لیے یہ موضوعات نہایت گہرے ہیں، لیکن برشا اِس دنیا کے سفر پر پہلے ہی روانہ ہو چکی ہے۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Ananya Chakroborty

اننیا چکروبورتی کے پاس وشو بھارتی یونیورسٹی، شانتی نکیتن سے جرنلزم اور ماس کمیونی کیشن کی ماسٹر ڈگری ہے۔ وہ اب فری لانسر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

Other stories by Ananya Chakroborty