ایک تیسری نسل کا کمہار، بدھا دیب کمبھکر، جو مغربی بنگال کے بانکورہ ضلع کے پنچ مورہ گاؤں کے رہنے والے ہیں، اپنے کام اور زندگی کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ یہاں کے کمہار (مٹی کا برتن اور کھلونے بنانے والے) سرخ رنگ کے مٹی کے گھوڑے بنانے کے لیے مشہور ہیں۔

یہ فلم آپ کو بدھا دیب کی روزمرہ زندگی اور محنت بھرے کام کے بارے میں بتائے گی، گیلی مٹی کے ڈھیر سے کھرچنے سے لے کر، اسے اپنے پیروں سے ملانے تک، مٹی کے پیڑے سے گھوڑے کے اعضاء بنانے تک اور پھر، پورے ہنر کے ساتھ ان تمام اعضاء کو آپس میں ملا کر ایک گھوڑا بنانے تک۔ اس کے بعد وہ اس گھوڑے کو بھٹی میں پکاتے ہیں، جب تک کہ وہ سرخ نہ ہو جائے۔

اس کے بعد ان گھوڑوں کو ایجنٹوں کو بیچ دیا جاتا ہے جو کوڑیوں کے دام انھیں خریدتے ہیں اور پھر کولکاتا، بانکورہ، بشن پور، دُرگاپور، اور یہاں تک کہ دہلی کے بڑے بازاروں میں بیچ کر اونچا پیسہ کماتے ہیں۔

لیکن اس کے برعکس، بدھا دیب کو مہینہ کے اخیر میں صرف تین ہزار روپے ملتے ہیں۔

مضمون نگار: کویتا کارنیرو

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here: