شمالی بہار میں، مانسون خوشی کا موقع ہوا کرتا تھا۔ رات بھر کی موسلا دھار بارش کے بعد، عام طور سے عورتیں صبح کو کشتیوں پر سوار ہوکر باہر نکلتیں اور سیلاب آنے پر گانے گاتیں اور خوشیاں مناتی تھیں۔ یہاں کے لوگوں کا ندیوں سے مثبت رشتہ تھا، حالانکہ بعض دفعہ پانی کی بڑھتی ہوئی سطح ان کے لیے کافی پریشانی کا باعث ہوتی ہے۔ سیلاب کے ہر پہلو سے باخبر، چاہے وہ اس کی گہرائی ہو، مدت ہو یا پھر اس کی شدت ہو، یہ لوگ اس سے نمٹنے کی پوری تیاری کر لیتے تھے۔ لیکن اب سب کچھ بدل چکا ہے۔ شمالی بہار کے لوگ اب سیلاب کے ’پجاری‘ نہیں رہے، بلکہ یہ اب سیلاب کے ’متاثرین‘ بن چکے ہیں۔


02-PARI_1_water-come-water-go_spc(Diptych)-SPC-Water-Come-Water-Go.jpg ’جب حد سے زیادہ پانی ہو، تو کوئی کیا کر سکتا ہے؟ ہم کہاں جائیں؟‘، گوبراہی گاؤں کی سینو دیوی سوال کرتی ہیں

 

یہ فلم جولائی سے ستمبر ۲۰۱۵ تک شوٹ کی گئی ہے۔ اسے سیان ٹونی پال چودھری نے ۲۰۱۵ کی اپنی پاری فیلوشپ کے تحت بنایا تھا۔

کیمرہ اور ایڈیٹنگ سمبت دتا چودھری کی ہے، جنہوں سنیماٹوگرافی اور ایڈیٹنگ خود ہی سیکھی ہے اور اب یہی کام کرتے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران وہ کاشت کاری، صحت عامہ اور تعلیم سے متعلق کہانیوں پر کام کرتے رہے ہیں۔

سیانٹونی پال چودھری ایک آزاد فوٹوگرافر اور پاری کی سال ۲۰۱۵ کی فیلو ہیں۔ ان کا کام بنیادی طور پر ہندوستان بھر میں ترقی، صحت اور ماحولیاتی امور پر مبنی مختلف موضوعات کی دستاویز بنانا ہے۔

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Sayantoni Palchoudhuri

سیانٹونی پال چودھری ایک آزاد فوٹوگرافر اور پاری کی سال ۲۰۱۵ کی فیلو ہیں۔ ان کا کام بنیادی طور پر ہندوستان بھر میں ترقی، صحت اور ماحولیاتی امور پر مبنی مختلف موضوعات کی دستاویز بنانا ہے۔

Other stories by Sayantoni Palchoudhuri