وہ ہتھوڑے، چھینی، پانا اور دیگر آلات سے اپنی موسیقی بناتے ہیں۔ اور یہ ٹھوکر دار بینڈ اپنی محنت سے فرصت کے وقت میں پرفارم نہیں کرتا، بلکہ اپنے کام کے حصہ کے طور پر کرتا ہے، اپنی موسیقی کو اپنی محنت کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ کیرل میں چونکہ ۴۴ ندیاں ہیں، اس لیے یہاں کے پانی کے راستوں پر کشتیوں کی آمدو رفت زمانہ قدیم سے چلی آ رہی ہے۔ لیکن یہاں بڑے پیمانے پر سڑکوں کا جال بچھانے کی وجہ سے اور وہ بھی مشین کے ذریعے، کشتی بنانے کی صنعت میں لیبر فورس تیزی سے گھٹا ہے۔ کشتیوں کی مرمت کرنے والے ماہر استادوں کی تعداد کافی گھٹی ہے، حالانکہ جو لوگ بھی بچے ہیں وہ اپنی درازی عمر کے باوجود اپنے ہنر کے کمال کے ساتھ اس صنعت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس فلم میں وہ اپنی کہانی بتا رہے ہیں۔

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

V. Sasikumar

وی ششی کمار تھیرووننتا پورم میں مقیم فلم ساز ہیں، جن کا فوکس ہے دیہی، سماجی اور ثقافتی مسائل۔ انھوں نے یہ ویڈیو ڈاکیومینٹری اپنی ۲۰۱۵ پاری فیلوشپ کے تحت بنائی ہے۔

Other stories by V. Sasikumar