ہمیں دیر ہو گئی تھی۔ ’’گن پتی بالا یادو آپ سے ملنے کے لیے، اپنے گاؤں سے پہلے ہی دو بار آ چکے ہیں،‘‘ شِر گاؤں میں ہمارے ایک صحافی دوست، سمپت مورے نے بتایا۔ ’’وہ دونوں ہی بار اپنے گاؤں، رام پور لوٹ گئے۔ آپ کے پہنچنے کی خبر دینے پر وہ تیسری بار یہاں آئیں گے۔‘‘ ان دونوں گاؤوں کے درمیان کی دوری پانچ کلومیٹر ہے اور گن پتی یادو سائیکل سے یہ دوری طے کرتے ہیں۔ لیکن تین چکر لگانے کا مطلب ہوا ۳۰ کلومیٹر طے کرنا، وہ بھی مئی کے وسط میں، یعنی گرمی کے دن میں دھول سے بھری ’سڑک‘ پر، پچیس سال پرانی سائیکل سے۔ اور سائیکل چلانے والے کی عمر ہے ۹۷ سال۔

مہاراشٹر کے سانگلی ضلع کے کاڈے گاؤں بلاک کے شرگاؤں میں، ہم جیسے ہی مورے کے دادا کے گھر پر دوپہر کا کھانا کھانے جا رہے تھے، تبھی اچانک گن پتی بالا یادو اپنی سائیکل سے وہاں پہنچے۔ میں نے جب معذرت چاہی کہ میری وجہ سے انھیں اتنی دھوپ میں کئی چکر لگانے پڑے، تو وہ مسکرانے لگے۔ ’’کوئی بات نہیں،‘‘ انھوں نے نرم لہجہ اور پیاری مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ ’’میں کل دوپہر کو ایک شادی میں ویٹا گیا تھا۔ وہاں بھی، سائیکل سے ہی گیا تھا۔ میں اسی طرح چلتا رہتا ہوں۔‘‘ رام پور سے ویٹا آنے جانے کا مطلب ہے ۴۰ کلومیٹر کا چکر لگانا۔ اور گزشتہ کل کچھ زیادہ ہی گرمی تھی، جب درجہ حرارت ۴۰ سیلسیس کے درمیان پہنچ گیا تھا۔

’’ایک یا دو سال پہلے، وہ پانڈھر پور تک اسی طرح گئے اور آئے تھے۔ تقریباً ۱۵۰ کلومیٹر،‘‘ سمپت مورے کہتے ہیں۔ ’’اب وہ اتنی دوری طے نہیں کرتے ہیں۔‘‘

ان کا عام کردار ایک کوریئر کا تھا۔ لیکن گن پتی بالا یادو اُن ٹیموں کا بھی حصہ تھے، جنہوں نے جون ۱۹۴۳ میں ستارا کے شنولی میں لوٹنے کے لیے ایک ٹرین کو روکنے کا عظیم کارنامہ انجام دیا تھا

ویڈیو دیکھیں: گن پتی یادو ایک انقلابی کے طور پر اپنے قابل ذکر کارناموں کو یاد کر رہے ہیں

۱۹۲۰ میں پیدا ہوئے گن پتی یادو، طوفان سینا کے ایک مجاہدِ آزادی تھے۔ یہ ستارا، مہاراشٹر کی پرتی سرکار یا عارضی، زیر زمین حکومت کی مسلح شاخ تھی، جس نے ۱۹۴۳ میں برطانوی حکومت سے آزادی کا اعلان کر دیا تھا۔ پرتی سرکار کے ماتحت تقریباً ۶۰۰ (یا اس سے زیادہ) گاؤوں تھے۔ انھوں نے راج (برطانوی حکومت) کے خلاف طوفان سینا کی بغاوت میں حصہ لیا تھا۔ ’’میں زیادہ تر ڈاکیہ کا کام کیا کرتا تھا، جنگلوں میں چھپے انقلابیوں کو پیغام اور کھانا پہنچاتا تھا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لمبی، خطرناک دوریاں میں نے پیدل چل کر طے کیں؛ بعد میں سائیکل سے ان جگہوں پر گیا۔

گن پتی یادو پہلے بھی ایک سرگرم کسان تھے اور اب بھی ہیں۔ حالیہ ربیع کے موسم میں، انھوں نے اپنے آدھے ایکڑ کھیت میں ۴۵ ٹن گنّے کی پیداوار کی۔ کسی زمانے میں ان کے پاس تقریباً ۲۰ ایکڑ زمین ہوا کرتی تھی، لیکن بہت پہلے انھوں نے اسے اپنے بچوں میں تقسیم کر دیا۔ جس جگہ وہ رہتے ہیں وہاں ان کے بیٹوں نے اسی زمین پر اچھے گھر بنا لیے ہیں۔ لیکن گن پتی یادو اور ان کی ۸۵ سالہ بیوی وتسلا – ابھی بھی ایک سرگرم گھریلو خاتون ہیں جو روزانہ کھانا پکاتی اور صفائی کرتی ہیں – کو ایک مرکزی کمرے والے گھر میں رہنا پسند ہے۔ ہم جب وہاں پہنچے اس وقت وتسلا گاؤں سے کہیں باہر گئی ہوئی تھیں۔

گن پتی یادو کی عام زندگی کے سبب ان کے بچوں نے دیر سے جانا کہ وہ ایک مجاہدِ آزادی تھے۔ ان کا بڑا بیٹا، نیوروتی، کھیت پر ہی بڑا ہوا، لیکن ۱۴ سال کی عمر میں انھوں نے پہلے ایروڈ میں اور پھر تمل ناڈو کے کوئمبٹور میں سونار بننے کی ٹریننگ لی۔ ’’میں جنگ آزادی میں ان کے رول کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’مجھے اس کے بارے میں تب پتہ چلا، جب جی ڈی باپو لاڈ [پرتی سرکار کے ایک عظیم لیڈر] نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں اپنے والد کی بہادری کے بارے میں جانتا ہوں۔‘‘ گن پتی یادو کہتے ہیں کہ باپو لاڈ ان کے استاد اور رہنما تھے۔ ’’انھوں نے میرے لیے ایک دلہن ڈھونڈی، ہماری شادی کرائی،‘‘ وہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔ ’’بعد میں، میں شیتکری کامگار پکش [ہندوستان کے کسانوں اور مزدوروں کی پارٹی] میں ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔ ہم ان کے آخری دنوں تک ان کے ساتھ رہے۔‘‘

’’میں جب ساتویں کلاس میں تھا، تو میرے دوست نے مجھے ان کی بہادری کے بارے میں بتایا تھا،‘‘ ان کے دوسرے بیٹے، مہادیو بتاتے ہیں۔ ’’اس وقت، میں یہی کہتا تھا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ انھوں نے کسی انگریز سپاہی یا پولس کو نہیں مارا۔ بعد میں جا کر مجھے پتہ چلا کہ ان کا رول کتنا اہم تھا۔‘‘

Ganpati Bala Yadav and family
PHOTO • P. Sainath

گن پتی یادو اپنے پوتے پوتیوں اور فیملی کے دیگر ممبران کے ساتھ، جس میں ان کے بیٹے نیوروتی (پیچھے بائیں طرف)، چندرکانت (سامنے بائیں طرف) اور مہا دیو (سامنے دائیں جانب، چشمہ پہنے) بیٹھے ہوئے ہیں

ان کا عام معمول ایک کوریئر (ڈاکیہ) کا تھا۔ لیکن گن پتی بالا یادو ان ٹیموں کا بھی حصہ تھے، جنہوں نے جون ۱۹۴۳ میں باپو لاڈ اور طوفان سینا کے بانی ’کیپٹن بھاؤ‘ کی قیادت میں، ستارا کے شینولی میں ٹرین لوٹنے کے عظیم واقعہ کو انجام دیا تھا۔

’’ٹرین پر حملہ کرنے سے صرف چار دن پہلے، ہمیں بتایا گیا کہ ہمیں پٹریوں پر پتھروں کے ڈھیر لگانے ہیں۔‘‘

کیا حملہ کرنے والی پارٹی کو معلوم تھا کہ یہ ریل گاڑی انگریزوں (بامبے پریزیڈنسی) کی تنخواہ لے جانے والی ہے؟ ’’ہمارے قائدین کو اس بارے میں پتہ تھا۔ جو لوگ [ریلوے اور سرکار میں] کام کر رہے تھے، انھوں نے یہ جانکاری دی تھی۔ ہمیں تب پتہ چلا، جب ہم نے ٹرین کو لوٹنا شروع کیا۔‘‘

اور وہاں کتنے حملہ آور تھے؟

’’اس وقت کون گنتی کرتا؟ کچھ ہی منٹوں میں، ہم نے پٹریوں پر چٹانوں اور پتھروں کے انبار لگا دیے، جسے ہم وہاں پہلے ہی جمع کر چکے تھے۔ پھر جب ٹرین رکی، تو ہم نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ جب ہم ٹرین کو لوٹ رہے تھے، تو اندر بیٹھے لوگوں میں سے نہ تو کوئی ہلا اور نہ ہی کسی نے کوئی مخالفت کی۔ برائے کرم یاد رکھیں کہ ہم نے یہ سب راج کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا تھا، پیسے کے لیے نہیں۔‘‘

ایسی حملہ آور کارروائیوں سے باہر، ایک کوریئر کی شکل میں بھی گن پتی بالا یادو کا رول کافی مشکل تھا۔ ’’میں نے [جنگل میں چھپے] اپنے لیڈروں کو کھانا پہنچایا۔ میں اُن سے رات میں ملنے جایا کرتا۔ عام طور پر، لیڈر کے ساتھ ۱۰-۲۰ لوگ رہا کرتے تھے۔ برطانوی راج نے ان زیر زمین مجاہدین کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم جاری کر رکھا تھا۔ ہمیں اُن تک پہنچنے کے لیے چھپ کر لمبے، گھماؤدار راستوں سے جانا پڑتا تھا۔ ورنہ، پولس والے ہمیں بھی گولی مار سکتے تھے۔‘‘

Ganpati Bala Yadav on his cycle
PHOTO • P. Sainath

’ایک یا دو سال پہلے، وپ پانڈھر پور تک گئے اور آئے، تقریباً ۱۵۰ کلومیٹر...‘ اور آج بھی وہ کبھی کبھار روزانہ کئی کلومیٹر تک سائیکل چلاتے ہیں

ہم نے اپنے گاؤوں میں پولس کے مخبروں کو بھی سزا دی،‘‘ گن پتی یادو کہتے ہیں۔ اور تفصیل سے یہ بتانے لگے کہ پرتی سرکار، یا عارضی حکومت کا نام ’پرتی سرکار‘ کیسے پڑا۔ مراٹھی لفظ پرتی کا، اس پس منظر میں، مطلب ہے لکڑی کا ڈنڈا۔ ’’ہمیں جب ان پولس ایجنٹوں میں سے ایک کا پتہ چلا، تو ہم نے رات میں اس کے گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ ہم اُس مخبر اور اس کے ایک ساتھی کو گاؤں کے باہر لے جاتے۔

’’ہم اس مخبر کے ٹخنوں کے بیچ میں لکڑی کا ڈنڈا رکھ کر اسے باندھ دیتے۔ اس کے بعد اسے الُٹا لٹکا دیا جاتا اور پھر ڈنڈوں سے اس کے پیر کے تلووں پر پٹائی کی جاتی۔ ہم اس کے جسم کے کسی دوسرے حصے کو نہیں چھوتے تھے۔ صرف تلووں پر مارتے تھے۔ وہ کئی دنوں تک ٹھیک سے چل نہیں سکتا تھا۔‘‘ ایک زبردست ناراضگی۔ اور اس لیے پرتی سرکار نام پڑا۔ ’’اس کے بعد ہم اسے اس کے ساتھی کی پیٹھ پر لاد دیتے، جو اسے گھر لے جاتا۔

’’ہم نے بیلاوڈے، نیواری اور تڈسر جیسے گاؤوں میں مخبروں کو سزائیں دیں۔ نانا صاحب نامی ایک مخبر تڈسر گاؤں میں ایک بڑے بنگلہ میں رہتا تھا، جسے ہم نے رات میں توڑ دیا۔ ہم نے پایا کہ وہاں صرف عورتیں سو رہی ہیں۔ لیکن پھر ہم نے ایک عورت کو ایک کونے میں دیکھا، جو خود کو ایک چادر سے ڈھکے ہوئی تھی۔ یہ عورت الگ کیوں سو رہی تھی؟ یہ وہی تھا، اور ہم اسے اسی چادر میں اٹھا کر لے گئے۔‘‘

نانا پاٹل (عارضی حکومت کے سربراہ) اور باپو لاڈ ان کے ہیرو تھے۔ ’’نانا پاٹل کیا آدمی تھے، لمبے چوڑے، ہٹے کٹھے، بے خوف۔ کیا زبردست تقریر کرتے تھے! انھیں اکثر یہاں کے بڑے لوگوں کے ذریعے مدعو کیا جاتا تھا، لیکن صرف چھوٹے گھروں میں جاتے تھے۔ ان بڑے لوگوں میں سے کچھ انگریزوں کے ایجنٹ تھے۔‘‘ لیڈروں نے ’’ہمیں سرکار سے خوف نہ کھانے کو کہا؛ کہ اگر ہم متحد ہو کر بڑی تعداد میں لڑائی میں شامل ہوں گے، تو ہم خود کو راج سے آزاد کر سکتے ہیں۔‘‘ گن پتی یادو اور اس گاؤں کے تقریباً ۱۰۰-۱۵۰ دیگر لوگ طوفان سینا میں شامل ہو گئے۔

Ganpati Bala Yadav
PHOTO • P. Sainath
Vatsala Yadav
PHOTO • P. Sainath

گن پتی یادو اور ان کی ۸۵ سالہ بیوی وتسلا – ایک سرگرم گھریلو خاتون ہیں جو آج بھی روزانہ کھانا پکاتی اور صفائی کرتی ہیں – دونوں ایک پرانے گھر میں رہتے ہیں

اس وقت بھی، انھوں نے مہاتما گاندھی کے بارے میں سنا تھا، حالانکہ ’’مجھے انھیں کبھی دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ میں نے ایک بار جواہر لعل نہرو کو دیکھا تھا، جب [صنعت کار] ایس ایل کرلوسکر انھیں اس علاقے میں لے کر آئے تھے۔ اور، ظاہر ہے، ہم سبھی نے بھگت سنگھ کے بارے میں سن رکھا تھا۔‘‘

گن پتی بالا یادو کی پیدائش ایک کسان خاندان میں ہوئی تھی، اور ان کی صرف ایک بہن تھی۔ بچپن میں ہی ان کے والدین کا انتقال ہو گیا تھا جس کے بعد وہ ایک رشتہ دار کے گھر چلے گئے تھے۔ ’’میں نے شاید اسکول میں پہلے ۲-۴ سال ہی گزارے اور پھر کھیتوں میں کام کرنے کے لیے پڑھائی چھوڑ دی۔‘‘ اپنی شادی کے بعد، وہ دوبارہ اپنے والدین کے ٹوٹے پھوٹے گھر اور ان کے چھوٹے کھیت پر واپس آ گئے۔ ان کے پاس اپنی ابتدائی زندگی کی کوئی تصویر نہیں ہے، کیوں کہ فوٹو کھنچوانے کے لیے تب اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے۔

پھر بھی، انھوں نے بہت محنت کی – اور ۹۷ سال کی عمر میں، ابھی بھی کرتے ہیں۔ ’’میں نے گُڑ بنانا سیکھا اور اسے ضلع بھر میں بیچا کرتا تھا۔ ہم نے اپنے بچوں کی پڑھائی پر یہ پیسے خرچ کیے۔ تعلیم یافتہ ہونے کے بعد، وہ ممبئی چلے گئے اور کمانا شروع کر دیا اور ہمیں پیسے بھی بھیجنے لگے۔ اس کے بعد میں نے گڑ کا کاروبار بند کر دیا اور کھیتی میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے لگا۔ دھیرے دھیرے ہمارے کھیت لہلہانے لگے۔‘‘

لیکن گن پتی یادو اس بات سے ناخوش ہیں کہ آج کے کسان قرض کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں۔ ’’ہمیں سوراج [آزادی] تو ملا، لیکن چیزیں ویسی نہیں ہیں جیسا ہم چاہتے تھے۔‘‘ انھیں لگتا ہے کہ مرکز اور ریاست کی موجودہ حکومتیں پچھلی سرکاروں سے بدتر ہیں، جو بہت بری تھیں۔ ’’کوئی نہیں بتاتا کہ وہ آگے کیا کریں گے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

Ganpati Bala Yadav with his cycle outside a shop
PHOTO • P. Sainath

’سائیکل ہمارے زمانے میں ایک نئی چیز ہوا کرتی تھی‘، گن پتی یادو کہتے ہیں۔ اس نئی دلفریب تکنیک پر گاؤں میں لمبی بحث ہوا کرتی تھی

طوفان سینا کے کوریئر کے زیادہ تر کام وہ پیدل چل کر ہی کیا کرتے تھے، گن پتی یادو نے ’’۲۰-۲۲ سال کی عمر میں سائیکل چلانا سیکھا تھا۔‘‘ یہ بعد میں چل کر ان کے زیر زمین کام کے لیے آنے جانے کا ایک ذریعہ بن گیا۔ ’’سائیکل ہمارے زمانے میں ایک نئی چیز ہوا کرتی تھی۔‘‘ اس نئی دلفریب تکنیک پر، گاؤں میں لمبی بحث ہوا کرتی تھی، وہ بتاتے ہیں۔ ’’میں نے سائیکل چلانا خود سے سیکھا، اور سیکھتے وقت بے شمار دفعہ گرا۔‘‘

شام کا وقت ہو چلا ہے اور ۹۷ سالہ گن پتی یادو صبح کے ۵ بجے سے ہی یہاں موجود ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ گھنٹوں بات کرنے میں انھیں مزہ آیا اسی لیے ان کے اندر تکان ذرہ برابر نہیں ہے۔ ان کی تیوری ایک بات تب ضرور چڑھی تھی، جب میں نے ان سے پوچھا کہ ان کی سائیکل کتنی پرانی ہے۔ ’’یہ والی؟ تقریباً ۲۵ سال۔ پچھلی والی میرے پاس تقریباً ۵۰ برسوں سے تھی، لیکن کسی نے چُرا لی،‘‘ وہ غم زدہ ہوکر بولے۔

واپس جانے کے لیے ہم جیسے ہی کھڑے ہوئے، وہ زور سے میرے ہاتھوں کو پکڑ لیتے ہیں اور مجھے تھوڑی دیر انتظار کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ وہ مجھے کچھ دینا چاہتے ہیں۔ اپنے چھوٹے سے گھر کے اندر جاتے ہیں، وہاں سے ایک چھوٹا سا برتن لے کر آتے ہیں، اسے کھولتے ہیں اور پھر اس کے اندر سے تازہ دودھ سے بھرا ایک پیالہ نکال کر مجھے دیتے ہیں۔ جب میں پی لیتا ہوں، تو وہ پھر سے میرے ہاتھوں کو زور سے پکڑ لیتے ہیں۔ اس بار ان کی آنکھیں آنسوؤں سے گیلی ہو چکی ہیں۔ میری بھی آنکھیں نم ہو رہی ہیں۔ اب کسی لفظ یا بولنے کی ضرورت نہیں رہی۔ ہم ایک دوسرے سے جدا ہو رہے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی، ہم گن پتی بالا یادو کی عظیم کارناموں والی زندگی کا حصہ بنے۔

سمپت مورے، بھرت پاٹل، نمیتا وائیکر اور سمیکتا شاستری کا ان کے قیمتی اِن پُٹ کے لیے بہت شکریہ۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath