زندگی بھر کا جھکنا

PHOTO • P. Sainath


وژیا نگرم میں، دوپہر کی شدید دھوپ سے پریشان ہو کر، وہ تھوڑی دیر کے لیے رکی۔ لیکن، ویسے ہی جھکی رہی۔ وہ جانتی تھی کہ چند لمحوں میں ہی اسے اپنا کام دوبارہ شروع کرنا ہوگا – اسی طرح جھکے ہوئے۔

PHOTO • P. Sainath


کاجو کے انہیں کھیتوں پر، اس کے گاؤں کی عورتوں کی دو الگ جماعت بھی کام کر رہی تھی۔ ایک جماعت، کھیت سے دو کلومیٹر دور، اپنے گھر سے دوپہر کا کھانا اور پانی ساتھ لائی تھی۔ دوسری جماعت، مخالف سمت سے کام کر رہی تھی۔ کام کرتے وقت سبھی عورتیں جھکی ہوئی تھیں۔

اڑیسہ کے رائے گڑھ میں، کھیت میں مرد بھی موجود تھے۔ لینس کی آنکھوں سے دیکھنے پر، یہ ایک قابل دید نظارہ تھا۔ سبھی مرد کھڑے تھے، جب کہ تمام عورتیں جھکی ہوئی تھیں۔ اڑیسہ کے نواپاڑہ میں، گھاس پھوس نکالتی اس عورت کو بارش بھی نہیں روک پائی۔ کمر سے جھکی ہوئی، وہ اپنا کام کیے جا رہی تھی۔ ایک ہاتھ میں چھاتہ لیے ہوئے۔

ہاتھ سے روپائی، بوائی اور گھاس پھوس نکالنا کڑی محنت کا کام ہے۔ ایسا کرتے وقت، درد کی حالت میں گھنٹوں جھکے رہنا پڑتا ہے۔

ہندوستان میں ۸۱ فیصد عورتیں کاشت کاری، مزدوری، جنگلی پیداوار جمع کرنے اور مویشیوں کی نگرانی کا کام کرتی ہیں۔ کاشت کاری جنسی امتیاز بڑے پیمانے پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ عورتوں کے ہل جوتنے پر پابندی ہے۔ لیکن زراعت کے بقیہ کام وہی کرتی ہیں، خصوصی طور پر بیج کے پودے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لگانا، گھاس پھوس نکالنا، فصلوں کی کٹائی، اناج کی صفائی اور فصل کی کٹائی کے بعد کے دیگر سبھی کام۔

PHOTO • P. Sainath


ایک تجزیہ کے مطابق، زرعی کاموں میں لگنے والی کل افرادی قوت میں سے:

۳۲ فیصد عورتیں ہیں، جو کھیتی کے لیے زمین کو تیار کرتی ہیں۔

۷۶ فیصد عورتیں ہیں، جو بیج بونے کا کام کرتی ہیں۔

۹۰ فیصد عورتیں ہیں، جو بیج کے پودوں کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ پر لگاتی ہیں۔

۸۲ فیصد عورتیں ہیں، جو کاٹی گئی فصل کو کھیت سے گھر تک ڈھوتی ہیں۔

۱۰۰ فیصد عورتیں ہیں، جو کھانا پکانے کا کام کرتی ہیں۔ اور

۶۹ فیصد عورتیں ہیں، جو دودھ سے وابستہ کام کرتی ہیں۔

PHOTO • P. Sainath


ان میں سے زیادہ تر سرگرمیوں کا مطلب ہے دیر تک جھکے رہنا یا آلتی پالتی بیٹھ کر کام کرنا۔ اس کے علاوہ، کھیتی میں استعمال ہونے والے زیادہ تر آلات و اوزار عورتوں کی سہولت کے حساب سے نہیں بنائے گئے ہیں۔

کھیتوں میں کام کرتے وقت، عورتوں کو جھک کر یا بیٹھے ہوئے لگاتار آگے کی طرف بڑھنا پڑتا ہے۔ اسی لیے، ان کی پیٹھ اور ٹانگوں میں اکثر شدید درد رہتا ہے۔ اکثر پنڈلی تک گہرے پانی میں کھڑے ہو کر بیج کے پودے لگانے سے، انھیں جلد سے متعلق بیماریوں کا خطرہ بھی لاحق رہتا ہے۔

اوپر سے اُن اوزاروں سے زخم لگنے کا خطرہ، جو مردوں کو نظر میں رکھ کر بنائے گئے ہیں، عورتوں کو نہیں۔ ہنسیا اور درانتی سے ہونے والے زخم عام ہیں، جب کہ طبی نگرانی کا انتظام بھی نہیں ہوتا۔ ٹیٹنس کا خطرہ ہمیشہ بنا رہتا ہے۔

زراعت میں اس قسم کے کام سے بچوں کی اعلیٰ شرحِ موت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پر، پودکاری کے دوران، عورتیں دن کے زیادہ تر وقت میں جھکی یا آلتی پارتی مار کر بیٹھی رہتی ہیں۔ مہاراشٹر میں کیے گئے ایک مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ یہی وہ دور ہے، جس میں اسقاطِ حمل اور بچوں کی موت کے زیادہ تر واقعات سامنے آتے ہیں۔ دیر تک آلتی پالتی مار کر بیٹھنے سے تکان یا تناؤ پیدا ہوتا ہے، جس سے عورتیں اکثر وقت سے پہلے ہی بچوں کو جنم دے دیتی ہیں۔

PHOTO • P. Sainath


اس کے علاوہ، خواتین مزدوروں کو مناسب کھانا بھی نہیں ملتا ہے۔ ایسا ان کی عام غریبی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اوپر سے یہ روایت کہ فیملی کو پہلے کھانا کھلا نا ہے عورتیں سب سے آخر میں کھائیں گی، حالات کو مزید خستہ بنا دیتا ہے۔ حاملہ عورتوں کو بہتر کھانا نہیں ملتا، حالانکہ انھیں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ مائیں خود ہی کم غذائیت کی شکار ہوتی ہیں، اس لیے وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے بھی اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ وہ زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ پاتے۔

لہٰذا خواتین کاشت کار بار بار حاملہ ہونے اور بچوں کی اعلیٰ شرح اموات کے جال میں پھنسی رہتی ہیں، جو اُن کی صحت کو اور بگاڑ دیتا ہے۔ دورانِ حمل یا بچے کی پیدائش کے دوران، ایسی عورتوں کی شرحِ اموات بہت زیادہ ہے۔

PHOTO • P. Sainath


PHOTO • P. Sainath

مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath