ویڈیو دیکھیں: ’۔۔۔۔۔ یہ بندنا تہوار ہے، ہم اسے سوہرائی کہتے ہیں۔۔۔۔۔‘

بانکا ضلع میں چرچریا سنتالوں کی ایک بستی ہے، جس میں تقریباً ۸۰ گھر ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر کنبوں کے پاس اپنے چھوٹے چھوٹے کھیت اور مویشی ہیں۔ یہاں کے مرد عام طور سے آس پاس کے شہروں اور گاؤوں میں جا کر کھیتوں پر مزدوری کرتے ہیں یا پھر عمارتوں کی تعمیر میں مستری کا کام کرتے ہیں۔

’’یہ بارہ روپی گاؤں ہے، یعنی تمام ذاتیں یہاں رہتی ہیں،‘‘ چرچریا کے ایک محترم بزرگ، سدھ مرمو بتاتے ہیں۔ ’’سنتالوں کی کئی ذاتیں ہیں – میں مرمو ہوں، اس کے علاوہ بسرا، ہیم برم، ٹوڈو۔۔۔۔۔۔ ہیں۔‘‘

میں نے سدھ سے کہا کہ کیا وہ اور دوسرے لوگ اپنی کوئی کہانی یا کوئی کہاوت ان کی اپنی زبان، سنتالی میں سنا سکتے ہیں۔ جواب میں وہ کہتے ہیں، ’’ہم گاکر سنائیں گے۔‘‘ وہ ساز منگاتے ہیں – دو مانہر، ایک دیگھا اور ایک جھال۔ یہ ساز جیسے ہی بجنا شروع ہوتے ہیں کھیٹا دیوی، بڑکی ہیم برم، پکو مرمو، چٹکی ہیم برم اور دیگر عورتیں تیزی سے وہاں پہنچ جاتی ہیں۔ تھوڑی دیر منانے کے بعد، یہ عورتیں آپس میں اپنے ہاتھوں کو پکڑ لیتی ہیں اور پھر ایک سریلا گانا گانے لگتی ہیں۔

یہاں پر دیے گئے گانے میں، وہ اپنی طرزِ زندگی اور سوہرائی تہوار کے بارے میں گا رہی ہیں۔ جنوری میں ۱۲ دنوں تک چلنے والے اس تہوار میں فصل کی کٹائی کا جشن منایا جاتا ہے۔ اس مہینہ میں سنتال اپنے مویشیوں کی پوجا کرتے ہیں اور اپنے دیوتاؤں سے زمین کی زرخیزی کی دعا مانگتے ہیں۔ اس کے بعد، بڑے پیمانے پر کھانے پینے کی دعوت ہوتی ہے، گانے اور رقص ہوتے ہیں۔

PHOTO • Shreya Katyayini

چرچریا کے ایک محترم بزرگ، سدھ مرمو اور ان کی بیوی کھیٹا دیوی، اپنی بیٹی کے ساتھ

دیکھیں: سوہرائی کے نغمہ کا فوٹو البم

تصویریں: شریا کاتیاینی

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Shreya Katyayini

شریا کاتیاینی پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی ویڈیو ایڈیٹر، اور ایک فوٹوگرافر اور فلم ساز ہیں۔ انھوں نے ۲۰۱۶ کے شروع میں ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز، ممبئی سے میڈیا اینڈ کلچرل اسٹڈیز میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔

Other stories by Shreya Katyayini