’میرے الفاظ،

میرے غم،

اور وہ شاعری جو اِن دونوں کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے

یہی میرا واحد تعارف ہے‘

سویَش کامبلے اپنی نظموں کے مجموعہ سے متعارف کراتے وقت، اسی انداز سے اپنے بارے میں بتاتے ہیں۔ بیس سال کی عمر میں، وہ ایسی ۴۰۰ نظمیں لکھ چکے ہیں، ان کے طاقتور الفاظ ان کے غصے اور ناراضگی، ان کے عقائد اور امیدوں کو بیان کر رہے ہیں۔

سویش اپنی نظموں کو ’’انقلابی‘‘ کہتے ہیں اور ان کی تخلیق کا مرکزی تھیم ہے ذات پر مبنی امتیاز اور تشدد۔ ’’دلت (مہار) گھر میں پیدا ہونے کی وجہ سے مجھے سماج میں پیوست ذات کی جڑوں کو دیکھنے کا موقع ملا، جو آزادی کے ۷۱ سال بعد بھی موجود ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’معاشرہ میں کسی آدمی کا مقام اس کی ذات سے طے ہوتا ہے۔‘‘

ان کی بہت سی نظمیں ذاتی آزادیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی پر بڑھتے حملے، اور دلت دانشوروں کی مخالفت کا ردِ عمل ہیں۔ دیگر نظمیں بھی وسیع معنی پر محیط ہیں – جیسے عورتوں پر ظلم، ستمبر ۲۰۱۷ میں ممبئی کے ایلفنسٹن اسٹیشن پر بھگدڑ، نریندر دابھولکر اور گووند پانسرے کا قتل۔

ان کے والد، شام راؤ کامبلے (۵۷)، ایک کسان ہیں۔ ان کی فیملی مہاراشٹر کے کولہاپور ضلع کے شیرول تعلقہ کے شِردواڑ گاؤں میں رہتی ہے۔ اپنی ایک اعشاریہ ۷۵ ایکڑ زمین پر وہ ۱۵ مہینوں کے وقفہ سے ۶۰-۵۵ ٹن گنا کی پیداوار کر لیتے ہیں، بعض دفعہ لاگت پوری کرنے کے لیے وہ قرض بھی لیتے ہیں، اور پیداوار پر ہلکا سا منافع کماتے ہیں۔ شام راؤ گاؤں کے اندر اور باہر چھوٹی پاور لوم فیکٹریوں میں مزدور کے طور پر بھی کام کرتے ہیں، اور آٹھ گھنٹے کام کرنے کے بعد روزانہ ۲۵۰ روپے کما لیتے ہیں۔

Portrait of a man standing in front of a wall
PHOTO • Sanket Jain

سویش کے والد، شام راؤ کامبلے، اپنے بیٹے کو ملک بھر کے دلت قلم کاروں کی تصانیف اور دلت تحریکوں سے متعارف کرا رہے ہیں

سویش کی ماں، شکنتلا (۵۵)، خاتونِ خانہ ہیں؛ ان کا بھائی، بدھ بھوشن (۲۴)، ممبئی کے ایک لاء کالج میں تعلیم حاصل کر رہا ہے، اور دوسرا بھائی، شوبھم (۲۲) اِچلکرنجی ٹاؤن میں تعمیراتی مقامات پر مزدور کے طور پر کام کرتا ہے۔

سویش اپنے گاؤں سے ۱۲ کلومیٹر دور، اِچلکرنجی کے ایک نائٹ کالج میں ۱۲ویں کلاس میں پڑھتے ہیں۔ فیملی کی آمدنی میں ہاتھ بٹانے کے لیے وہ دن میں الیکٹریشین کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس سے ان کی ماہانہ ۲۵۰۰ روپے کی کمائی ہو جاتی ہے۔ ’’الیکٹریشین کا کام کرنے والے کو کئی گھروں کے چکر لگانے ہوتے ہیں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’سب سے پہلے لوگ مجھ سے یہی پوچھتے ہیں کہ تمہارا نام کیا ہے، اس کے بعد دوسرا سوال ہوتا ہے: تمہارا لقب کیا ہے؟ اس کے بعد وہ کئی بار مجھ سے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا میں دلت ہوں۔‘‘

سویش بتاتے ہیں کہ ایک بار انھیں شِردواڑ کی ایک اونچی ذات کی فیملی کے گھر میں جانا پڑا، جہاں ان کو گھر کے اندر بنے ایک مندر کی فٹنگ کو درست کرنا تھا۔ ’’میری ذات کے بارے میں پوچھنے کے بعد، انھوں نے فوراً ہی دیوی دیوتاؤں کی مورتیوں کو کپڑے سے ڈھک دیا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ایک اور جگہ پر، وہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ’’مجھ سے میری ربڑ کی چپل (جسے وہ بجلی کے کسی جھٹکے سے بچنے کے لیے پہنتے ہیں) کو اتارنے کے لیے کہا گیا، حالانکہ تب مجھے چھت پر چڑھ کر کام کرنا تھا۔ جب میں نے منع کیا، تو وہاں موجود خاتون نے کہا، ’کیا تمہیں گھر پر کچھ نہیں سکھایا گیا؟ تم دلت لوگ کبھی نہیں سدھروگے‘۔‘‘

اور، وہ بتاتے ہیں، ’’عام طور سے، اونچی ذات کے دوسرے مزدوروں کو کھانا اور پانی دھات کے برتنوں میں دیا جاتا ہے، لیکن مجھے ہمیشہ استعمال کے بعد پھینک دیے جانے والے پلٹیوں میں ملتا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو میں ہر روز دیکھتا ہوں۔ میں نے ذات پر مبنی اس قسم کے امتیازات کا کئی بار تجربہ کیا ہے۔ اب ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں۔‘‘

یہ سویش کے والد شام راؤ ہی تھے، جنہوں نے سب سے پہلے اپنے بیٹے کا تعارف انقلابی شاعر نام دیو ڈھسال سے کرایا، جنہوں نے ۱۹۷۲ میں دلت پینتھرس کی بنیاد ڈالی تھی۔ وقت جیسے جیسے گزرتا رہا، سویش کا مطالعہ بھی وسیع ہوتا رہا، اس دوران وہ کئی دیگر شعراء کے کلام سے متاثر ہوئے، مثال کے طور پر دیا پوار، شرن کمار لِمبالے، نارائن سُروے، لکشمن مانے، ایکناتھ آوہاڑ اور اشوک پوار۔ ایک طرف جہاں سویش کے والد دلت لیڈروں کی قیادت میں ملک بھر میں ہونے والی تحریکوں کی کہانی سناتے، وہیں سویش نے بھی ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی کتابیں پڑھنی شروع کر دیں۔ یہ نوجوان شاعر اب پانچ لائبریریوں کا ممبر ہے؛ ان میں سے دو اس کے گاؤں میں ہیں، ایک پڑوس کے گاؤں شیو ناکواڑی میں، اور دو اِچلکرنجی ٹاؤن میں۔

سویش نے ۱۶ سال کی عمر سے ہی شعر لکھنا شروع کر دیا تھا۔ وہ انھیں ہاتھ سے مراٹھی میں لکھتے ہیں، اور اب تک ۱۸۰ صفحات والی چھ ڈائریاں بھر چکے ہیں۔ ’’جب کبھی پریشان کرنے والا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، میں نظم لکھتا ہوں۔ میں اپنے جذبات کا بہتر طریقے سے اظہار شاعری کے ذریعہ ہی کر سکتا ہوں۔ میری شاعری ان سماجی حقائق پر مبنی ہے جس کا میں مشاہدہ کرتا ہوں، کہ کس طرح نچلی ذاتوں کو کنگال کر دیا گیا۔ میں جب تک نظمیں نہ لکھ لوں اور ان مسائل کا اظہار نہ کردوں، تب تک مجھے اندر سے سکون نہیں ملتا۔‘‘

A man sitting on the floor and writing in a book. A copy of the book 'Baluta' is lying next to him
PHOTO • Sanket Jain
Books on Dalit literature lined up against a wall
PHOTO • Sanket Jain

سویش اپنی نظموں سے کئی ڈائریاں بھر چکے ہیں، جو ذات اور ذات سے متعلق مسائل پر مبنی ہیں؛ وہ پانچ لائبریریوں کے ممبر ہیں، اور ان کے پاس بڑی مقدار میں دلت لٹریچر موجود ہے

سویش کی ابتدائی نظمیں ’’انقلابی‘‘ نہیں تھیں، جیسا کہ وہ خود بتاتے ہیں، ’’لیکن بابا صاحب کی کتاب ’ذات کی بربادی‘ (Annihilation of Caste) پڑھنے کے بعد، میرا لہجہ بدل گیا۔‘‘ امبیڈکر کی دوسری کتاب ’ہندوازم کے معمے‘ (Riddles in Hinduism) نے سویش کو مزید متاثر کیا۔ ’’اب، میری نظمیں دلتوں کے ذریعہ برداشت کیے جانے والے مظالم پر مبنی ہیں۔ لوگ ریزرویشن سسٹم کو ختم کرنے کی باتیں کرتے ہیں، ذات کے نظام کو ختم کرنے کی بات کوئی کیوں نہیں کرتا؟‘‘ وہ سوال کرتے ہیں۔ ’’کون کہتا ہے کہ آج کے ہندوستان میں چھوا چھوت نہیں ہے؟ ہم اسے روز جھیلتے ہیں۔ روز روز ذات پات کو دیکھ کر میں بے چین ہو جاتا ہوں۔ اور جب یہ بے چینی حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے، تو میں شعر لکھتا ہوں۔‘‘

یکم جنوری، ۲۰۱۸ کو سویش کورے گاؤں بھیما میں تھے، جو اُن کے گاؤں سے تقریباً ۲۹۰ کلومیٹر دور، پُنے ضلع کے شیرور تعلقہ میں ہے۔ برطانوی فوج میں ملازمت کرنے والے مہار سپاہیوں کے ذریعہ اونچی ذات کے پیشوا کی قیادت والی مراٹھا فوج کو شکست دینے کی یاد میں، ہر سال دلت گروپس بڑی تعداد میں اس دن یہاں جمع ہوتے ہیں۔ ’’میں (دلت) تحریک میں شامل ہوں، اور کورے گاؤں بھیما ہمیں ہر سال یہ حوصلہ فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی برادری کے لیے کچھ اچھا کام کریں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

اس سال، ایک مخالف سیاسی جماعت نے کورے گاؤں بھیما جانے والے دلتوں کو راستے میں روکا؛ اس کے بعد پرتشدد ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ سویش نے اس پر اپنے غصہ کا اظہار ’اے پتھروں کے ملک‘ عنوان سے ایک اثر انگیز نظم لکھ کر کیا۔ (اس مراٹھی نظم کو اس کے اردو ترجمہ کے ساتھ نیچے پیش کیا گیا ہے۔)

سویش اپنے نظموں کی کتاب شائع کرنا اور ایک صحافی بننا چاہتے ہیں۔ ’’ہمیں ایسے دلت رپورٹروں کی ضرورت ہے جو ہماری برادری کے بارے میں لکھ سکیں۔ اس تکلیف کو صرف ایک دلت ہی بہتر طریقے سے سمجھ سکتا ہے اور اس کے بارے میں ٹھیک سے لکھ سکتا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’جمہوریت کے چوتھے ستون پر آج سرکار کا قبضہ ہے۔ میڈیا سیاست دانوں کی کٹھ پتلی بن چکا ہے۔ لیکن ایک اچھا صحافی کبھی خاموش نہیں بیٹھے گا۔‘‘

اے پتھروں کے ملک

اے پتھروں کے ملک ... ہمیشہ کی طرح، کل بھی ہمیں پتھر کھانا پڑا!

جن کے سر پتھروں سے بھرے ہوئے ہیں

ہم معصوموں پر حملہ کر دیا ...

ذات کا یہ زہریلا پودا

کہاں پر لگایا گیا ہے، میں پوچھتا ہوں...

پیدائشی طور پر ان خاردار عناصر سے

یہ زمین خود کو خوش قسمت کیسے کہہ سکتی ہے!

جب اپنی آنکھوں میں صرف سچائی لیے

یہ مجمع آگے کو بڑھا؛

تب اچانک اسے منتشر ہونا پڑا،

جب دشمن کی قوتِ برداشت پر قحط پڑ گیا اور اس کی عقل صالح گم ہو گئی...

پھر نتیجہ کیا نکلتا ہے....

ہر ایک معصوم پر ملک دشمن ہونے کا شک!

پھر غیر ارادتاً، میں بھی بات کرنے لگتا ہوں... اندھیرے کو روشنی سے ہٹانے کے بارے میں!

برے کاموں کا ردِ عمل!

اور ان کے درمیان تصادم سے

جو حالت پیدا ہوئی

اسے، زیادہ تر لوگوں نے، فساد کہا...

لوگ عام طور سے اسے یونہی بیان کرتے ہیں!

لیکن ہمارا ذاتی تجربہ اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے!

جب انسان دوسرے انسانوں کو جلانے لگتے ہیں...

یا بعض دفعہ، وہ گاڑیاں جلاتے ہیں، ان پر اشوک چکر کے نشان دیکھنے پر...

اے پتھروں کے ملک!

لیکن میں تمہیں یہ سب کیوں بتا رہا ہوں؟

پتھروں کے اس ملک میں... انسان کے دل بھی پتھر کے ہو چکے ہیں، میں کہتا ہوں...

عورتوں اور لڑکیوں پر پتھر پھینکنا،

انھیں جانوروں کی طرح پیٹنا،

ان کے زخموں سے رستے ہوئے خون کو دیکھنا...

مجھے ایسا لگا کہ انگلی مال* دوڑ رہا ہے، ہاتھ میں ہتھیار لیے، پرسکون بدھ پر حملہ کرنے کے لیے، جو آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے...

اور بعض دفعہ...

’کیا اب بولو گے ’’جے بھیم‘‘ پوچیا؟‘ کہتے ہوئے جس نے پوچی رام** پر کلہاڑی سے حملہ کیا تھا!

اس دل دہلا دینے والے واقعہ کی یاد سے ...

جل اٹھتا ہے، خون سے ہی، میرے اندر کا ’چندر‘

تب پھر میں نے بھی ایک پتھر اٹھایا اور اسے قدامت پرستی کی طرف اچھا ل دیا...

اس ذات پات کی طرف جو انسانوں کو انسان نہیں سمجھتی!

عوامی چوراہے پر ان کی کڑک، ستم رسیدی، کینہ پروری کو نکالتے ہوئے

میں بھی سڑک پر کود پڑا، منو اسمرتی کے ٹھیکہ داروں کی گہری سازش کا پردہ فاش کرنے!

چاروں سمت سے آنے والے پتھر... میرے جسم کو چھوکر اڑ گئے... اور وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے،

’ہمیں بتاؤ، کیا تم اسے پھر دوہراؤگے؟‘

’ہندوستان میرا ملک ہے...

سبھی ہندوستانی میرے بھائی اور بہن ہیں...‘

... اے پتھروں کے ملک... تم نے اور صرف تم نے،

مجھے پتھر اٹھانے پر مجبور کیا!

مجھے پتھر اٹھانے پر مجبور کیا!

نوٹس: * انگلی مال سے مراد اہمساکا ہے، جسے اس کے ٹیچر نے سلسلہ وار تشدد کرنے کے لیے بہکایا تھا؛ اسے ۱۰۰۰ لوگوں کا قتل کرکے گنتی کے طور پر ان کی انگلی کاٹ کر اپنے ٹیچر کو گرو دکشنا دینا تھا۔ اس نے ان انگلیوں کی مالا پہنی، اسی لیے اسے ’انگلی مال‘ کہا جاتا ہے۔

** پوچی رام کامبلے اور ان کے بیٹے چندر کی موت، اورنگ آباد یونیورسٹی کا نام بدل کر بابا صاحب امبیڈ کر یونیورسٹی کرنے کے لیے چلائی جانے والی دلت تحریک کے دوران ہونے والے تشدد میں ہوئی تھی۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Sanket Jain

سنکیت جین، مہاراشٹر کے کولہا پور میں مقیم ایک آزاد دیہی صحافی اور پاری والنٹیئر ہیں۔

Other stories by Sanket Jain