تٹّا لکشمی اور پوتھاڈا لکشمی خسارے میں چل رہی ہیں۔ سرکار نے ٹی لکشمی کی مزدوری کا پیسہ پی لکشمی کے بینک کھاتہ میں ٹرانسفر کر دیا ہے – اور پوتھاڈا لکشمی کا پیسہ آندھرا پردیش کے مُناگاپک منڈل میں ٹٹا لکشمی کے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے کھاتہ میں چلا گیا ہے۔

لہٰذا ایک طرف جہاں ٹی لکشمی اپنے تقریباً ۱۶ ہزار روپے کا اب بھی انتظار کر رہی ہیں، وہیں دوسری طرف پی لکشمی اپنے ۹ ہزار روپے کا۔ دونوں ہی عورتیں دلت ہیں، ان دونوں کے پاس اپنی کوئی زمین نہیں ہے، اور دونوں ہی منریگا مزدور کے طور پر کام کرتی ہیں – ٹی لکشمی مُناگاپک گاؤں میں اور پی لکشمی اسی منڈل کے گن پارتھی گاؤں میں۔

سال ۲۰۱۶-۱۷ کے دوران، ٹی لکشمی نے مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ (منریگا) کے تحت پروجیکٹوں پر ۹۵ دنوں تک کام کیا۔ انھیں ان کی مزدوری نہیں ملی ہے (وہ بھی فیلڈ اسسٹنٹس کے ذریعہ کل ۹۵ دنوں کی مزدوری نہیں جوڑی گئی ہے) کیوں کہ سرکار نے اپریل ۲۰۱۵ سے تمام مزدوروں کے لیے یہ لازمی کر دیا ہے کہ وہ منریگا جاب کارڈ سے اپنے آدھار کارڈ کو جوڑیں۔

’’مُناگاپک منڈل میں ۱۸ عدد کے جاب کارڈ نمبر اور ۱۲ عدد کے آدھار نمبر کو ڈیجیٹائز کرتے وقت کمپیوٹر آپریٹر کی غلطی کی وجہ سے، مجھے جو پیسہ ملنے والا تھا [اب، ان کی کل مزدوری کا تقریباً آدھا] وہ گن پارتھی گاؤں کی پی لکشمی کو منتقل کر دیا گیا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔

A woman showing her Aadhar card
PHOTO • Rahul Maganti
A woman showing her Aadhaar card
PHOTO • Rahul Maganti

ٹی لکشمی (بائیں) اور پی لکشمی (دائیں) کی منریگار مزدوری آدھار کی تکنیکی خامیوں کے سبب ایک دوسرے کے پاس چلی گئیں اور مل نہیں سکیں

’’لیکن ہم دونوں میں سے کوئی بھی کم از کم عارضی استعمال کے لیے [دوسرے کا] پیسہ نہیں نکال سکتے، کیوں کہ ہمارے بینک کھاتے بھی آدھار اور جاب کارڈس سے جڑے ہوئے ہیں،‘‘ وہ مزید کہتی ہیں۔ لکشمی (۳۴)، جب کھیتوں میں کام دستیاب ہوتا ہے تو یومیہ مزدوری تقریباً ۱۵۰-۲۰۰ روپے کماتی ہیں، اور جب وشاکھاپٹنم ضلع کے ان کے گاؤں میں منریگا کا کام دستیاب ہوتا ہے، تو روزانہ ۲۰۳ روپے یومیہ مزدوری حاصل کرتی ہیں۔

تقریباً ۱۰ ہزار کی آبادی والے مُناگاپک گاؤں کے تقریباً ۷۰۰ منریگا مزدور، اپریل ۲۰۱۵ سے ہی مجموعی طور سے ۱۰ لاکھ روپے کی مزدوری کا انتظار کر رہے ہیں۔ اور تقریباً ۲۲۰۰ کی آبادی والے گن پارتھی گاؤں کے ۲۹۴ مزدوروں کو ۴ لاکھ روپے سے زیادہ کی مزدوری ابھی تک نہیں ملی ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار گاؤں کے لوگوں اور مقامی کارکنوں نے آر ٹی آئی (حق اطلاع قانون) درخواستوں، منریگا فیلڈ اسسٹنٹس اور محکمہ ڈاک کے پورٹل سے جمع کیے ہیں۔

اس منڈل کی ۲۰ پنچایتوں میں، کم از کم ایک کروڑ روپے کی ادائیگی ۶۰۰۰ مزدوروں کو ابھی کی جانی باقی ہے – ان میں سے ۱۲ پنچایتیں اب بھی محکمہ ڈاک سے پیسے حاصل کرتی ہیں، اور ۲۰۱۵ کے بعد، آٹھ پنچایتوں میں یہ ادائیگیاں بینک کھاتوں میں آنے تھیں۔

’’مجھے بینک اہلکاروں سے صرف یہ سننے کے لیے ڈیڑھ کلومیٹر جانا اور پھر ڈیڑھ کلومیٹر واپس آنا پڑتا ہے کہ کل آنا،‘‘ ٹی لکشمی کہتی ہیں، جو اپنا پیسہ حاصل کرنے کی امید میں کئی بار بینک جا چکی ہیں، بعض دفعہ ایسا کرتے وقت انھیں دن بھر کی زرعی مزدوری بھی چھوڑنی پڑتی ہے۔ مارچ ۲۰۱۶ تک، ان کے پیسے پوسٹ آفس کے ذریعہ تقسیم کیے گئے تھے، جہاں وہ اپنے ڈاٹا کو اپنے آدھار بایو میٹرکس سے میچ کرانے میں کامیاب رہیں۔ ان کی پریشانیاں تب شروع ہوئیں، جب پیسے بینک میں منتقل کر دیے گئے۔ ’’وہ بار بار یہی کہتے ہیں کہ کچھ ’تکنیکی ںے خامی‘ ہے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ وہ مسئلہ آخر ہے کیا۔‘‘ لہٰذا لکشمی – ان کے شوہر بھی غیر مسلسل کام کرنے والے یومیہ مزدور ہیں – اپنے بیٹے پر منحصر ہیں، جو اچیوتاپورم منڈل میں کپڑے کی ایک کمپنی میں کام کرتا ہے، جہاں پر وہ ماہانہ ۶۰۰۰ روپے کماتا ہے۔

Labourers working in MGNREGA work sites on the outskirts of Munagapaka village
PHOTO • Rahul Maganti
Labourers in MGNREGA work sites taking part in land development work on the outskirts of Munagapaka village
PHOTO • Rahul Maganti

ڈیجیٹائزیشن، دیری اور مایوسی: وشاکھاپٹنم ضلع میں مُناگاپک گاؤں کے ٹھیک باہر منریگا کے ایک مقام پر کام  کرتے مزدور

مُناگاپک منڈل کا کمپیوٹر آپریٹر، ببلو، جو ریکارڈوں کو ڈیجیٹائز کرتا ہے، وہ بھی مزدوروں کے آدھار نمبروں کو ان کے منریگا کارڈوں سے نہ جوڑے جانے کے لیے ’تکنیکی خامیوں‘ کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ وہ مجھ سے کہتا ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ یہ خامیاں کیا ہیں اور مجھ سے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی مُناگاپک برانچ سے رابطہ کرنے کے لیے کہتا ہے۔ بینک اہلکار مجھ سے کمپیوٹر آپریٹر سے رابطہ کرنے کے لیے کہتے ہیں۔

سرکاری ریکارڈوں کے مطابق، وشاکھاپٹنم ضلع کے ۱۴۰۷۰ مزدوروں کے جاب کارڈوں کو ان کے آدھار نمبروں سے جوڑنا ابھی باقی ہے – جب کہ (جنوری ۲۰۱۸) تک پورے آندھرا پردیش کے کل ۱۷۴۷۵۵ مزدوروں کے لیے یہ کام ہونا ابھی باقی ہے۔

مُناگاپک منڈل کے ڈاکخانوں میں، انگلیوں کے نشان کے ساتھ یہ خامیاں بڑے پیمانے پر ہیں۔ ’’ڈاکخانہ یہ کہتے ہوئے ہمیں واپس لوٹاتا رہتا ہے کہ ہماری انگلیوں کے نشان [جسے ڈاکخانہ اس وقت ریکارڈ کرتا ہے جب کوئی مزدور اپنی مزدوری لینے جاتا ہے] ان کے [آدھار] ڈاٹا بیس سے میل نہیں کھا رہے ہیں،‘‘ نوکاراجو بتاتے ہیں، جو گن پارتھی میں منریگا سائٹوں پر کام کرتے ہیں۔ وہ لمبے عرصے سے اپنے ۲۲ ہزار روپے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ’’ہم مٹی کے سپوت ہیں اور اپنے ہاتھوں سے کام کرتے وقت ہم روزانہ مٹی کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ وزیر اعظم صاحب ملک کے تمام مسائل کا حل آدھار اور ڈیجیٹائزیشن کو بتا رہے ہیں، لیکن حقیقت میں اس نے ہمارے منھ سے نوالہ چھین لیا ہے۔‘‘

A portrait of a woman sitting
PHOTO • Rahul Maganti

’وہ ہمیں کام اور پیسہ نہ دینے کا کوئی بھی موقع نہیں چھوڑتے،‘ چینا تلّی گڈی کہتی ہیں

پیسے ملنے میں اس دیری کی وجہ جہاں تکنیکی خامیاں، انگلیوں کے نشانوں کا میل نہ کھانا اور غلط طریقے سے آدھار کو جوڑنا ہے، وہیں اس کی ایک بڑی وجہ فنڈ کی شدید کمی بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مرکزی حکومت کو اپریل ۲۰۱۵ سے کرائے گئے کام کے عوض آندھرا پردیش کے لیے ۱۹۷۲ کروڑ روپے جاری کرنے تھے، لیکن اس نے نومبر ۲۰۱۷ میں صرف ۴۲۰ کروڑ روپے ہی جاری کیے۔ بہت سارے لوگوں کی دلیل ہے کہ یہ سب مرکز کی بھارتیہ جنتا پارٹی اور ریاست کی تلگو دیشم پارٹی کے درمیان سیاسی رسہ کشی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

’’قانون [منریگا ایکٹ، ۲۰۰۵] کہتا ہے کہ کام مکمل ہونے کے بعد ۱۴ دنوں کے اندر مزدوری ادا ہو جانی چاہیے، ورنہ مزدوروں کو معاوضہ دینا ہوگا [۱۴ سے ۲۱ دنوں کی دیری ہونے پر مزدوری کا ۲۵ فیصد بڑھا کر، اور ۲۲ دنوں سے زیادہ کی دیری پر ۵۰ فیصد زیادہ]،‘‘ بالو گڈی کہتے ہیں، جو آندھرا پردیش ویاوسائے وروتھی دارولو (زراعت اور اس سے متعلقہ پیشے) یونین کے ایک کارکن ہیں۔ ’’لہٰذا اس منڈل کا ہر مزدور معاوضہ کا حقدار ہے۔ لیکن ابھی تک کسی کو بھی معاوضہ نہیں ملا ہے۔ اس کے برعکس وہ اپنی حقیقی مزدوری کا اب بھی انتظار کر رہے ہیں۔‘‘

بالو کی ماں چِنا تلّی (۵۰) بھی ایک منریگا مزدور ہیں، جنہوں نے مالی سال ۲۰۱۷-۱۸ میں ۱۰۰ دن کام کیے۔ ’’جب میں مزید دنوں کے کام کے لیے پوچھتی ہوں، تو اہلکار مجھ سے کہتے ہیں کہ ایک گھر کو زیادہ سے زیادہ صرف ۱۰۰ دنوں کا کام ملے گا۔ لیکن قانون کہتا ہے کہ ایک گھر کو کم از کم ۱۰۰ دنوں کا کام ملنا چاہیے۔ وہ ہمیں کام اور پیسے نہ دینے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے،‘‘ چنا تلّی کہتی ہیں۔ انھیں ابھی بھی ۱۲۰۰۰ روپے ملنا باقی ہے جو کہ اپریل ۲۰۱۶ سے مزدوری کی شکل میں جمع ہو چکا ہے۔ جن اہلکاروں سے میں نے بات کی، ان کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے ہو رہا ہے، کیوں کہ ان کا آدھار نمبر ان کے جاب کارڈ اور بینک کھاتہ سے جڑا نہیں ہے۔

ڈیجیٹائزیشن اور دیری کے اس چکر میں، بہت سے مزدور اپنے کم از کم ۱۰۰ دنوں کے کام کے بارے میں اس لیے نہیں بول رہے ہیں، کیوں کہ وہ اپنے ذریعہ پہلے ہی کیے جا چکے کام کی مزدوری نہ ملنے کے مسئلہ کو حل کرانے میں مصروف ہیں۔ مالی سال ۲۰۱۷-۱۸ کے لیے فی گھر دیے گئے اوسط کام کے دن مُناگاپک گاؤں کے لیے اب تک صرف ۵۹ دن ہی تھے۔ پورے آندھرا پردیش کے لیے کام کے یہ دن رہے ۴۷۔

ان دنوں میں، ٹی لکشمی، پی لکشمی، نوکا راجو اور چنا تلی نے دیگر منریگا مزدوروں کے ساتھ، معاون نہروں کی تعمیر کی، تالاب کی کھدائی کی، جھاڑیوں کو صاف کیا، اور زمینی ترقی کے دیگر کام کیے ہیں۔ لیکن یہ سبھی آدھار کی دیوار کو توڑنے میں ناکام رہے۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Rahul Maganti

راہل مگنتی آندھرا پردیش کے وجیہ واڑہ میں مقیم ایک آزاد صحافی ہیں۔

Other stories by Rahul Maganti